No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 3
نہر کے کنارے شمائلہ کے ساتھ بیٹھی پانی میں ہاتھ ڈال کر پھر سردی محسوس کرتے ہی نکالتی .. وہ اس کھیل سے کافی محظوظ ہو رہی تھی…
شمائلہ اسنے اچانک شمائلہ کو پکارہ..
جی بی بی” شمائلہ بولی.. جبکہ ڈراے فروٹ چھیل کر اسکی جانب بھی بڑھائے. جن میں سے ایک دو لے کر وہ سامنے فاصلے پر اسطبل کا دروازہ گھورنے لگی….
یہ چوہدریوں کا استطبل ہے نہ” اسنے اسکیطرف دیکھا..
جی جاناں بی بی خان جی نے تو نہر کنارے بیٹھنے سے بھی روکا ہے… بس اپکی ضد ہے ورنہ خان جی تو ہمارا حشر بگاڑ دیں” شمائلہ کچھ خوفزدہ ہوئ..
چپ کرو تم… میری بات کا جواب دو… یہاں پر چوہدریوں کا وہ گھوڑا بھی ہے جو.. گھڑ مقابلے میں حصہ لے رہا ہے” اسنے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا..
جی جاناں بی بی”شمائلہ نہ سمھجی سے اسے دیکھنے لگی..
تو اس نہر کو پار کرنے کا کوئ راستہ ہے” اسنے اٹھتے ہوے پوچھا..
جاناں بی بی.. کیا ارادے ہیں آپکے” شمائلہ بھی گھبرا کر اٹھی..
ان گاوں والوں نے بے رحمی سے میرے کبوتر مارے اور اب میں بدلہ بھی نہ لوں” وہ بال جھٹکتی سفید سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی چھوٹی سی ناک پر ضد غصہ سوار تھا…
خدا کو مانیے بی بی.. خان جی”
چپ کرو.. لالا کو کوئ نہیں بتاے گا اور ویسے بھی وہ تو خوش ہوں گے میں نے یہ کام سرانجام دیا ہے اب تم مجھے نہر.. کو پار کرنے کا طریقہ بتاو “وہ پرجوش سی بولی آپنے دماغ کا خلل پورا کرنے کے لیے وہ کافی پر جوش تھی….
شمائلہ کو چار نچار اسے نہر سے کافی فاصلے پر بنے خوفیہ راستے کا پتہ بتانا پڑا جو… درخت کی ایک ڈال سے جوڑتا تھا.. درخت کی ایک لمبی اور موٹی ڈال جو کہ کافی بڑی تھی کہ دو تین بندے ایک ساتھ آرام سے اسپر سے گزر جائیں… نہر کے اسطرف تک جاتی تھی. . جسے آگے لگے درختوں کے جھرمٹ نے ڈھانپ رکھا تھا…
ویسے تو سب ہی جانتے تھے مگر ان دونوں کے لیے یہ خوفیہ راستہ ہی تھا….
جاناں اس راستے پر چلتی بلکل بے خوف تھی… کیونکہ اس گاوں کا ایک فرد اسکے کبوتروں کا قاتل تھا…
راستہ پار کر کے… ایکدم اسکے اندر خوف اترا تھا یہ انکا علاقہ نہیں تھا…
یہاں اسکو کوئ دیکھ لیتا تو قید بھی کر سکتا تھا….
یہ کچھ اور یہ لالا ہی کو پتہ چل جاتا تو.. وہ اسے گھر میں قید کر لیتے… مگر اب تو وہ راستہ پار کر چکی تھی…
اور گھوڑے کو سمبھالنا اسکے لیے مشکل نہیں تھا وہ بچپن سے.. جانوروں کے بہت قریب تھی…
اس وقت اس حصے میں کوئ ایک آدمی بھی نظر نہیں آ رہا تھا..
گاوں میں دسمبر غضب بن کر اترتا تھا.. دھند نے تقریبا.. ہر چیز کو ہی دھندلایا ہوا تھا…
تبھی وہ چھپ گئ شمائلہ اسکو مسلسل روک رہی تھی…
جاناں بی بی چلتے ہیں بس.. “وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی… کہ جاناں نے ہاتھ چھڑایا.. اور… اسطبل کے پیچھلے دروازے کیطرف آ گئ.. حالانکہ اس وقت دوپہر کا وقت تھا یہ الگ بات تھی کہ… سردی نے دوپہر کو دوپہر رہنے نہیں دیا تھا پھر بھی اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئ صرف ایک ملازم کے سوا وہاں کوئ نہیں تھا جو… چارپائ پر پڑا سو رہا تھا….
جاناں نے فتح مند نظروں سے شمائلہ کو دیکھا… جیسے جیتا رہی ہو قسمت بھی اسکے ساتھ ہے….
وہ اندر ائ تو اسطبل کا دوسری طرف والا دروازہ بند تھا جبکہ اندر آگ جل رہی تھی اور جانور بھی خاموشی سے بیٹھے.. گرمائش کو محسوس کر رہے تھے..
وہ بنا آواز کیے.. چارپائ کے پاس سے گزری.. جبکہ شمائلہ دور کھڑی کانپ رہی تھی… اگر غلطی سے بھی یہاں کوئ آ جاتا تو کیا بنتا….
جاناں نے چارو اطراف میں دیکھا مختلف نسلوں کے گھوڑے تھے… مگر اسکی نظر ایک سفید گھوڑے پر ٹک گئ.
بے حد خوبصورت گھوڑے کی کشش اسے اسکے پاس لے گئ….
وہ اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی….
اور.. اسکا جوش اتنا بڑھا کہ.. اپنا موبائل جو کہ بس تصویریں کھنچنے کے لیے تھا… نکال کر.. اسکے ساتھ وہ پوز بنا کر تصویری لینے لگی.
جاناں بی بی”شمائلہ حیرت زدہ تھی..
جاناں اسکیطرف دیکھتی کہ.. ایکدم اسطبل کا دروازہ کھلا…
دونوں نیچے جھک گئ… شمائلہ اس سے فاصلے پر تھی… تبھی… وہ جانوروں کے کھانے پینے کے سامان کے پیچھے چھپ گئ جبکہ جاناں.. کی سانس اٹک گئ.. اور وہیں اسکے آنسو شروع ہو گئے….
وہ کہاں جاتی….
گھوڑے کی گھاس کے بڑے سارے ڈھیر.. کے پیچھے چھپتے ہوئے اسے یقین تھا وہ پکڑی جائے گی….
تمھیں انگھنے کے لیے یہاں رکھا ہے “ولی ملازم پر چیخا.. تو ملازم ہڑبڑا کر اٹھا… اور جاناں کی اسکی اواز سے ہی جان نکل گئ تھی….
معافی چوہدری جی” ملازم نے جلدی سے کہا.. تو.. وہ نخوت سے اسے دیکھتا.. اپنے گھوڑے کیطرف ایا…
جبکہ جاناں… کی سسکیاں بندھنے کو تھیں جنھیں وہ ہتھیلی دانتوں تلے دبا کر روک رہی تھی….
وہ کچھ دیر…. وہاں کھڑا گھوڑے کو دیکھتا رہا… اور اسکی اس سے پہلے خوراک چیک کرتا….
پیچھے سے ملازم نے.. شہریار کا بلاوا دیا وہ بدمزہ سا ہو ا.. اسکا ارادہ آج اس گھوڑے پر سواری کا تھا…
وہ.. گھوڑے کی پیٹھ تھپتھپا کر اسطبل سے باہر نکلا
… اسکے پیچھے ملازم بھی نکلا.. تو شمائلہ روتی ہوئ جاناں تک پہنچی..
بی بی اٹھیں اسنے جلدی سے… جاناں کو اٹھایا…
تو وہ بھی اٹھی مگر انسو اب بھی نکل رہے تھے اور ان آنسوں میں وہ اپنا دوپٹہ اور موبائل.. کہاں چھوڑ رہی ہے بھول بھال کر وہاں سے فرار ہونے لگی…
باہر نکلتے ہی اس درخت کو پار کرتے ہوے سکون محسوس ہوتے ہی اسے پیچھے رہ جانے والی چیزوں کا خیال آیا…
شمائلہ میرا موبائل میرا دوپٹہ.. “وہ گلے کو ٹیٹولتی.. بولی.. تو شمائلہ نے سر تھامہ..
بی بی… گھوڑے کا پاو رکھا گیا تو موبائل تو اپنے آپ ہی ختم ہو جائے گا اور اتنی گندگی تھی جگہ پر لال دوپٹہ بھی گندہ ہو جائے گا… یہ ہو چکا ہو گا.. اب کوئ فائدہ نہیں …” وہ افسوس سے اسے تسلی دیتی بولی..
تم پاگل ہو… وہ میرا موبائل ہے کتنی مشکلوں سے لالا کو منایا تھا وہ بھی انھوں نے سیم نکال کر دیا… اور اس میں میرے کبوتروں کی تصویریں تھیں” وہ.. دوبارہ رونے کے لیے تیار ہوئ..
اللہ کی قسم جاناں بی بی اب پلٹ کر جانا خطرے سے باہر نہیں میں… اپنے ابا سے بات کروں گی.. شاید وہ کچھ کر سکیں.. اپ اب گھر چلیں” وہ اسے گھسیٹتی ہوئ.. وہاں سے لے گئ جبکہ جاناں مسلسل رو رہی تھی..دوسری بار اسکا دوسرا نقصان ہوا تھا…
…………….
وہ شہرایار کی بات سن کر دوبارہ اپنے گھوڑے کے پاس ایا… اور اسکی خوراک دیکھنے لگا…
لال دوپٹہ.. اور.. کچھ دور پڑے موبائل کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئ..
یہ یہاں کیسے آیا “وہ دونوں چیزیں اچک کر غور سے دیکھنے لگا…
دوپٹے پر.. جگہ کی گرد لگی تھی.. جس کو دو بار جھٹک کر اسنے صاف کیا…
اور.. موبائل کو کھولا تو… وہی چہرہ وہی آنکھیں اسکے روبرو تھیں…..
وہ مسکرا دیا… کہانی کچھ کچھ اسکے پلے پڑی تھی..
ان (گالی) کی عورتیں بھی بدلے کی قائل ہیں… “تصویر پر بے دردی سے انگوٹھا پھیرتا.. وہ کچھ سوچنے لگا…
اور پھر.. موبائل… اپنی جیب میں ڈال کر.. وہ دوپٹہ لیے… ندی کے پاس ایا.. اور ندی میں دوپٹے کو چھوڑ کر.. وہ سامنے دشمنوں کے گاوں کو گھور کر رہ گیا…
نہ جانے اسوقت اسکے شاطر دماغ نے کیا کیا سوچ لیا تھا…
ملازم خاص کی آہٹ پیچھے پاتے ہی.. اسنے.. اسکیطرف دیکھا…
اور موبائل جیب سے نکال کر اسکیطرف.. بڑھایا….
پتہ کرو یہ لڑکی کون ہے… “اسنے سکون سے کہا.. تو ملازم بھی چونکا..
چوہدری صاحب یہ تو جاناں بی بی ہیں.. فضل خان کی بیٹی اور نواب سادام فضل خان کی بہن” وہ بولا… اور نگاہ پھیر لی..
ولی نے شدید حیرت سے دوبارہ تصویر کو دیکھا…
اور اچانک وہ ہنس دیا…
طنزیہ
…. بہت خوب “موبائل بند کر کے.. وہ ہاتھ جھاڑتا اٹھا.. اور.. قریب آتے گھوڑے پر سوار ہو گیا…..
…………….
ائزہ نے اماں کیطرف دیکھا جو.. شام سے رات ہونے کو ائ تھی.. وہیں اسکے پاس بیٹھیں تھیں وجہ وہ جانتی تھی… شہریار کے انے کا وقت قریب تھا.. اور وہ باہر نکل کر.. اسکے پاس جاتی کہ اماں پہلے ہی اسکے کمرے میں بیٹھ گئیں…
اپنے دماغ سے یہ شہریار نامی خیال نکال دے ائزہ میں تیری طلاق کراوں گی اس سے.. “
اماں کیسی باتیں کر رہیں ہیں” وہ حیران ہوئ…
بلکل درست بات کر رہیں ہوں اور تو میرے خلاف جانے کی کوشش کرے گی تو.. میرا مرا منہ دیکھے گی..
جتنی جلدی تیرا زہن اس بات کو قبول کر لے اتنا اچھا ہے “وہ زہرخوند لہجے میں بولی..
اماں شہریار ویسے نہیں ہیں.. اور آپ نے میرا نکاح انکے ساتھ کرایا ہی کیوں تھا جب.. بعد میں طلاق کرانی تھی” وہ رونے لگی…
زیادہ بڑ بڑ مت کر.. یہ سب تیری دادی کے کام ہیں…
اور میں صاف کہہ رہی ہوں.. سکندر سے ہی تیری شادی ہو گی… اس کے آگے.. ایک لفظ بھی نہیں.. کل تیرے باپ کو کہا ہے وکیل کو بلائیں تاکہ یہ معملہ جلد از جلد ختم ہو…” وہ سر جھٹکتے اٹھنے لگی..
شہریار مجھے کبھی طلاق نہیں دیں گے” وہ انکی طرف دیکھتی یقین سے بولی کہ.. انھوں نے بنا لحاظ کے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا….
تیرے کہنے سے تو دے گا نہ…..
تو ہی اس سے کہے گی.. وہ تجھے طلاق دے.. اور تب بھی نہ دی.. تو خلع کا نوٹس تو ویسے ہی.. ہم بھیج دیں گے اسکو… دیکھتی ہوں کیسے نہیں دیتا… ” وہ… اسکے سسکتے وجود کو غصے سے دیکھتی.. باہر نکل گئیں…
نہیں میں نہیں لوں گی کبھی نہیں لوں گی” ائزہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی.. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بات ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہی تھی اج اماں نے اپنے حق میں ابا جی کو کیا تھا کل کو دادی کو بھی کر لیتیں تو… کیا بنتا….
وہ آنسو پونچتی اٹھی…
اور کچن میں آ گئ.. اسکے لیے چاے بنانے…
جبکہ ملازمہ ولی کے لیے بھی چائے ہی بنا رہی تھی..
ولی لالا آ گئے”اسنے ملازمہ کیطرف دیکھا..
ائزہ بی بی اپکا چہرہ سرخ ہو رہا ہے..” وہ سمھجہ گئ تھی کہ چھوٹی بیگم نے اسکومارا ہو گا..کیونکہ چہرے پر انگلیوں کے صاف نشان تھے…
میں ولی لالا کا پوچھ رہیں ہوں “وہ زرا سختی سے بولی آج پہلی بار…
ملازمہ حیران ہوئ.. تو دوسری طرف اسنے اثبات میں سر ہلایا..
جی شہریار صاحب بھی ا گئے ہیں.. “
اسنے کہا اور اپنے کام میں جت گئ جبکہ ائزہ ہمت کرتی اسکے کمرے تک ا گئ…
دروازہ بجایا.. تو اندر سے اسکی اجازت ملتے ہی… وہ دروازہ جھجھکتے ہوئے کھولتی اندر داخل ہوئ آج پہلی بار وہ نکاح کے بعد اسکے کمرے میں ائ تھی…
جھجھک الگ محسوس ہوئ…
سکینہ یہ کاغزات ولی کو “وہ رک گیا… حیرانگی سے اسکاسرخ چہرہ دیکھنے لگا…
اور دو دن پہلے کی بات دماغ میں ائ..
وہ جانتی تھی اسکی ماں نے کتنی تلخ کلامی کی تھی اور پھر اسنے اسے کمرے میں آنے کا کہا تھا مگر اسنےا پنی ماں کی مانی.. اور کمرے میں آنا الگ بات اسنے دو دن سے اپنا چہرہ بھی نہیں دیکھایا تھا…
شہریار خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ کر ان کاغزات میں ایسے محو ہوا جیسے کوئ دوسرا تو ہے ہی نہیں….
اپ.. اپ کی چائے”اسنے آگے بڑھ کر.. سائیڈ ٹیبل پر چائے کا کپ رکھا.. شہریار نے اب بھی جواب نہیں دیا…
اپ ناراض ہیں” وہ خود سے اس سے سوال کرنے لگی..
ائزہ میں مصروف ہوں تم جاو “وہ چائے کا سیپ لیتا بولا… جبکہ ائزہ نے اپنے آنسو صاف کیے.. وہاں اماں اور یہاں شہریار…
اسنے ہمت کر کے.. اسکے اگے سے کاغزات اٹھاے… شہریار نے غصے سے اسکیطرف دیکھا اور ابھی وہ کچھ کہتا ہی کہ… ائزہ اسکے سینے سے لگ گئ…
اپ
. آپ ناراض مت ہوئیں پلیز… ” وہ سسک رہی تھی…
جبکہ شہریار تو وہیں تھم گیا…. وہ پہلی بار اسکے اتنا قریب تھی کہ اسکی قربت کی خوشبو اسے مسحور کر گئ.. جبکہ ائزہ… جو سن کر ائ تھی اسکے غم میں سب بھلائے ہوئ تھی…
شہریار مدھم سا مسکرایا.. اور اسکے گرد حق سے حصار باندھا…
اب اتنا قریب آ کر مناو گی تو… کون کافر نہیں مانے گا “اسکے بالوں پر لب رکھ کر وہ جھک کر اسکا چہرہ دیکھنے لگا.. اور اسکے چہرے پر انگلیوں کے نشان.. دیکھ کر وہ اسے خود سے دور کر کے اسکا گال دیکھنے لگا…
چچی نے مارا ہے تمھیں” وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا..
جبکہ ائزہ نے نفی کی…
جھوٹ مت بولیں “وہ اچانک ہی غصے سے بولا….
ائزہ اپنی بے اختیاری پر پشتا گئ مگر وہ اسے ناراض کیسے چھوڑ دیتی..
وہ.. وہ ماں ہیں میری”وہ سر جھکاے بولی..
ماں ہیں تو کچھ بھی کریں گی.. کیا جائز ناجائز سب مانو گی انکی.. کہتی کیوں نہیں تم کہ تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو “وہ غصے سے بھڑک رہا تھا…
شہریار… میں “ائزہ سے.. کچھ بولا ہی نہیں گیا..
ٹھیک ہے چلودادی کے پاس. بس آج ہی تمھاری رخصتی… ہو جاے گی.. “وہ اٹھ کر اسکا ہاتھ تھامے… کمرے سے باہر نکلتا کہ ائزہ نے خوفزدہ ہو کر اسکاہاتھ پکڑا…
پلیز شہریار… آپ… آپ غصہ نہ کریں میں امی سے بات کروں گی… “وہ اسے روکنے لگی…
کہ شہریار.. نے غصے سے.. اسکی گردن پکڑی.. اور اسے دروازے سے چیپکا دیا….
سیدھی شرافت سے ائزہ میرے کمرے میں ہمیشہ کے لیے آ جاو ورنہ میں وہ کروں گا کہ اسکے بعد تم یہ تمھاری ماں کچھ نہیں کر سکے گی….” وہ جتاتی ہوئ نظروں سے اسے گھور کر کمرے کا دروازہ کھول گیا…
ائزہ نے ایک نظر اسکیطرف دیکھا جس کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی تھی اور باہر نکل گئ…
وہ بے بس تھی نہ اماں جے سمانے کچھ بولنے کی ہمت تھی نہ.. شہریار کو خفا کر سکتی تھی.. مرے مرے قدموں سے اپنے کمرے میں ہو لی…
……………….
جاری ہے
