50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 12
ولی کے فون پر بیل مسلسل بج رہی تھی کہ اسکی انکھ کھلی اور نیندوں میں ہی اسنے فون اٹھا لیا……
کون “وہ پھاڑ کھانے کو دوڑا….
تمھارا موت” مقابل کی سنجیدہ آواز ابھری جبکہ ولی کا قہقہ نکل گیا…
اوو اچھا یعنی سالے صاحب یار میسج پر ہی بتا دیتے کون سی میرے ساتھ سوٹ کر رہی ہے… “وہ سیدھا ہو کر مزے سے بولا…
اس کو اپنا جیت سمھجہ کر تم ہمیں بیوقوف لگے گا” وہ سرد لہجے میں بولا..
نہیں نہیں تمھیں کمزور تو میں نے کبھی نہیں سمھجا اور ہلکا بھی کبھی نہیں لیا…. “اب بھی اسکی ٹانگیں کہاں ٹھیک ہوئ تھیں..
بس تمھاری کمزوری کو مٹھی میں مسلنا تھا… میرا مطلب اب وہ مجھ سے پیار کرتی ہے میں اس سے کرتا ہوں ہم راتوں میں ملتے ہیں.. میں اسکے کمرے میں ہوتا ہوں… تمھیں تکلیف کیا ہے…
تم بڑے بے غیرت نکلے ہو” وہ اسکو سلگاتا بولا….
اچھا” سادام طنزیہ ہنسا….
اگر ہم کہے… کہ ہم اب بھی جاناں کا شادی تم سے نہیں کرے گا تو تم. کیا کرے گا “وہ دانت پیس کر بولا…
جبکہ ولی پھر خباثت سے ہنسا..
وہ تمھاری معشوقہ کافی زبردست….
ولی” وہ دھاڑا ولی کو سکون ملا…..
تمھارا حویلی میں تمھارا قبر خود دے گا ہم “اسکے لہجے سے اسکی تڑپ واضح ہو رہی تھی…
ولی خاموش ہو گیا….
رات تمھاری بہن کو لینے آ رہا ہوں مزید ہم دونوں کے بیچ مت او “اسنے صاف کہا….
اور فون بند کر دیا… جبکہ سادام…. کے غصے کا شکار ایک اور موبائل ہو چکا تھا…
اسکا بس نہیں چلا اپنے بال نوچ دیے…..
اسکی بہن کو بھی اس عورت جیسا نکلنا ضروری تھا….
وہ ڈیرے پر موجود کمرے کی ایک ایک چیز تہس نہس کر چکا تھا….
……………….
شام کے سائے پھیلنے لگے… اور ولی جاناں کو لینے پورے گاوں سمیت انکی دہلیز پر تھا گو اسکا وجود پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا….
مگر پھر بھی وہ پورے اہتمام سے سرپنچ کے ساتھ آیا تھا.. شہریار بھی اسکے ساتھ تھا مگر مقابل سواگت کو فقت… فضل خان تھا اور سواگت. کو کیا… ولی کی جیت پر کڑہتا.. اپنی بیٹی کی بیوقوفی پر ماتم کرتا بیٹے کی ضد سے ہارتا….
کھڑا تھا…..
کیا ہوا فضل خان تمھاری دشمنی کا آج خاتمہ ہو رہا ہے… رشتے داری ہو رہی ہے… “سرپنچ انکو گلے لگاتے کہنے لگے جبکہ ولی مکروہ ہنسا..
کس کو پتہ تکلیف کا نیا سرا کھلنے والا تھا….
وہ کچھ نہیں بولے….
ولی اندر قدم رکھتا کہ… سادام کی دھاڑ سنائ. دی…
ہمارا حویلی میں قدم رکھے گا تو.. ان قدموں کو چلنے قابل بھی نہیں چھوڑے گا.” پورے گاوں کے سامنے اسنے ولی کو دو ٹکے کا کر دیا تھا…
ولی. نے قدم واپس لیے جبکہ سادام کی حیران نگاہ تیار شیار پیچھے عورتوں میں کھڑے وجود پر تھی جس آنکھوں میں التجا تھی مگر وہ دشمنوں کی ہو چکی تھی نفرت سی اسکے دل میں کندی…
اور اسنے ولی کو دیکھا….
جو سنجیدہ کھڑا تھا….
ہمارا طرف سے دشمنی آخری سانس تک نہیں ختم ہو گا…. “اسنے سرپنچ کو گھورا…
گستاخ ہے تمھارا بیٹا” سرپنچ کو یہ بات ناگوار گزری. سادام نے کوئ خاص اثر نہیں لیا جبکہ فضل خان نے بھی…
ہاد فیروز بھی وہیں کھڑے تھے..
سادام بہن کا معملہ ہے آنے دو انھیں “اور فیروز کے لفظ وہیں جم گئے جب اسنے گن اسکی کنپٹی پر رکھ دی.. وہ پاگل ہو رہا تھا اور دنیا اسکاپاگل پن دیکھ رہی تھی..
لالا” ہاد آگے بڑھا جسے اسنے جھٹکا..
کوئی ہمارا بات میں بولا.. تو یہیں گاڑ دے گا اسکو “وہ سختی سے بولا… اور ولی کی جانب بندوق کر لی…
محفل کے چہرے سے گویا رنگ اڑ گئے.. ایک پل کو ولی بھی گھبرایا تھا…
جبکہ شہریار اسکے آگے آ گیا..
کیا کر رہے ہو یہ.. “
تمھارا بھائ کو مار کر سکون ملے گا.. تمھارا باپ تو زلیل ہو کر گیا تھا سالہ (گالی) اپنا جان سے گیا تھا یہ تمھارا بھائ بھی زیادہ اچھلتا ہے…جان سے جائے گا.” اسنے مسکراتے ہوئے جان بوجھ کر ولی کو اکسانے کو اسکے باپ کا زکر کیا تھا ولی جبڑے بھینچے پھر بھی خاموش کھڑا رہا…
شہریار نے سرپنچ کیطرف دیکھا..
قابو میں کروو فضل خان اپنے بیٹے کو…”. وہ غصے سے بولے..
ایسا کیسے… اگر ہمارے گھر سے انکا گھر لڑکی جا رہا ہے.. تو ا نکا گھر سے ہمارا گھر بھی انکا خاندان کا لڑکی آئے گا ابھی” وہ اپنا فیصلہ سناتا… شان سے صوفے پر بیٹھ گیا….
جبکہ کسی کی بے بس نگاہیں خود پر محسوس کر لیں تھیں…
فضل خان کا دم جو کچھ دیر پہلے نکل چکا تھا جیسے روح سی بھر گئ…
جبکہ جاناں اس کاروبار کو ہوتا.. اپنے کمرے سے دیکھ رہی تھی..
جی سرپنچ جی.. یہ ہمارا دشمن ہے ہم اس پر ایسا یقین کیسے کر لے”فضل خان نے کہا..
تو تمھاری بیٹی کی عاشقی کے ثبوت دیکھے ہیں ہم نے” سرپنچ نے گولی جیسے دونوں کے سینوں میں اتاری…
تو ہم بھی کہہ دیتا ہے اور ثبوت لا دیتا ہے انکا لڑکی تو ہمارا ساتھ ہمارا ڈیرے پر
بس “ولی چلایا تو سب اسکیطرف متوجہ ہوئے جبکہ اب مسکرانے کی باری سادام کی تھی..
منظور ہے “وہ بولا….
سب حیران ہو گئے.. شہریار کو سب سے بڑا جھٹکا لگا.. کیونکہ انکی حویلی میں ایک ہی لڑکی تھی اور وہ اسکی بیوی تھی…
یہ. ہمارے گاوں کی لڑکی ہے ہماری عزت ہے “ولی نے. اس وقت سادام کی چاہت پوری کرنی چاہی جبکہ سادام کا قہقہ ابھرا….
آ آ تم ہمکو بیوقوف سمھجتا ہے کہ ان نیچ زاتوں سے بھیاے گا…
تمھارا گھر کا لڑکی… “وہ تپا… جبکہ ولی نے مٹھیاں بھینچی..
اور ائزہ نے زریش کا ہاتھ تھام لیا..
کتنی آرام سے اسے زلیل کیا جا رہا تھا…
مگر.. “سرپنچ بولے…
منظور ہے” چچی کی اواز پر.. گویا سب پر بم گیرہ تھا…
شہریار تو پھاڑ کھانے کو دوڑا…
میری بیٹی کی عدت پوری ہونے میں ابھی وقت ہے اسکے بعد آپ برات لے آئیے گا “مردوں میں عورت کی اواز اٹھی تھی…
شہریار اپنے ہی بناے گئے جال میں بری طرح پھنسا تھا..
ائزہ اور زریش دونوں جیسے آدھ موی ہو چکیں تھیں..
سانپ سنگھ گیا تھا سب کو. .
سادام نے مسکرا کر سر ہلایا…
عقل مند لگتا ہے” وہ بولی تو.. سادام نے اوپر کی جانب دیکھا..
جاناں کی التجا کرتی نظریں اسپر اٹھیں…
جنھیں وہ نظر انداز کرتا وہاں سے نکل گیا کیونکہ وہ ولی سے اسکی شادی نہیں دیکھ سکتا تھا جبکہ اسکے نکلتے ہی بامجبوری ہی صیحی رسمیں ادا کی جانے لگیں جس میں دماغی طور پر کون حاضر تھا.
رخصتی سے پہلے ہی فضل خان بھی کمرے میں چلے گئے وہ اسے اسطرح جاتا نہیں دیکھ سکتے تھے جبکہ ہاد کے گلے لگتی جاناں وہاں کھڑی تمام عورتوں کو رولاگئ..
ہاد نے اسکو پیار کیا فیروز نے کیا.. جبکہ اسکی ماں نے بھی کیا جسے ولی نے غور سے دیکھا یہ ہی وہ عورت تھی جس کی وجہ سے اسکا باپ مرا تھا….
تبھی ماں اندر داخل ہوئیں اور پیار سے جاناں کو لے کر.. وہ سب اپنے گاوں کی. جانب چل. دیے…
جبکہ ڈیرے پر وہ آج دوسری بار شراب پی کر دنیا سے خود کو غافل کردینا چاہتا تھا….
محبت نہ عزت… اسکے حصے میں صرف انتقام رہ گیا تھا…
………………..
خان”عنایت نے شہاب خان کے انے کی اسے اطلاع دینی تھی مگر وہ تو نشے میں تھا…
اسنے عنایت کیطرف نگاہ اٹھای…
جاناں رخصت ہو گیا” وہ پوچھنے لگا آنکھوں میں کرچیاں چبھنے والی تھیں…
عنایت نےا فسوس سے سر ہلایا… تو سادام نے آنکھیں بند کر لیں.. یہ اسکی ہار تھی..
ہاں اسکی ہار…
خان وہ شہاب خان آ چکے ہیں” عنایت کی بات پوری ہونے ے پہلے ہی…
شاندار پرسنیلٹی کا مالک وہ جولی اور کچھ کچھ عاشقانہ مزاج کا شہاب اندر داخل ہوا اور سادام کو دیکھ کر ہنسا
ارے شراب تیار ہے تو شباب کہاں ہے خان صاحب شباب کے بن شراب کا لطف لے رہے ہو” وہ اسکا ہاتھ مظبوطی سے جکڑتا.. اسے ایک جھٹکے سے کھینچ کر… اسکے بغل گیر ہوا.. سادام بھی گرم جوشی سے ملا.
اور دونوں بیٹھ گئے شہاب تو مزے سے شراب پی رہا تھا جبکہ اس سے مزید یہ اور نہیں پی جا رہی تھی جبکہ وہ اپنا سفر اپنا ملک.. اور گوریوں کے بارے میں بتا رہا تھا..
سادام کا دماغ جاناں اور زریش میں پھنسا ہوا تھا…
نکاح کرنا ہے ہمیں “وہ اچانک شہاب کے ٹیپ کی طرح چلتے منہ پر چیپ لگا گیا….
وہ اسے دیکھ کر عنایت کو دیکھنے لگا..
عنایت نے سر جھکا لیا
لڑکی اتھا لو.. عنایت بادشاہ…. برداشت نہیں ہو گا” وہ بڑا سا گھونٹ بھر کر بولا تو عنایت فورا حکم بجا لانے لگا..
جو حکم خان”وہ فورا حرکت میں ایا.. تو شہاب نے انکی طرف دیکھا..
کوئ مجھے کچھ بتاے گا. “شہاب نے پوچھا….
اور سادام نے عنایت کو اشارہ کیا گویا سب بتانے کا حکم دیا اور وہ سب بتاتا گیا..
شہاب کو بھی ولی سخت زہر لگتا تھا…
کیونکہ اکثر وہ اور سادام شکار پر جاتے تو.. وہ بھی وہاں فقت انکو زیچ کرنے کو پہنچ جاتا تھا اور ہر اس شکار کو لے نکلتا جس پر شہاب نظر رکھتا جبکہ سادام تو صرف حرن کا شکار کرتا تھا…
شہاب نے سر ہلایا..
ہو جاے گا خان… لڑکی کی شکل دیکھا بس “اسنے کہا تو سادام نے اسکیطرف دیکھا…
پھر عنایت کیطرف..
شہاب باو میں جانتا ہوں انھیں..” وہ بولا تو شہاب سمھجہ گیا.. کہ وہ اسے دیکھا ا نہیں چاہتا…
اور سادام اسکے بعد پیچھے گیر گیا جبکہ عنایت اور شہاب نے افسوس سے اسے دیکھا.. اور سارا پلین سوچنے لگے….
……………….
جاناں گھر میں داخل ہوی تو پتے کیطرح کانپ رہی تھی کوئ بھی سواگت خوشی کچھ نہیں تھا.. یہاں کے تو لوگ بھی اس سے نفرت کرتے تھے کے انکے گاوں سے پلٹتے ہی سب پشت پھیر گیے وہی دو مہربان ہاتھ اب بھی اسے تھامے کھڑے تھے جبکہ اسکے کانوں میں دو لوگوں کے دھاڑنے کی اواز سنائ دے رہی تھی…
جس میں سے ولی بھی تھا..
وہ سمھجتا کیا ہے اور کس لیے آپ نے ہامی بھری”ولی پھاڑ کھانے کو دوڑا
میری بیٹی ہے میری مرضی اور جب علیحدگی ہو چکی یے تو کس خوشی میں میں اپنی بیٹی کو بیٹھا کر بوڑھا کروں” چچی بدلحاظی سے بولیں..
شہریار ایزہ کو بری طرح گھور رہا تھا جبکہ وہ سر جھکائے زریش کا اب بھی ہاتھ تھامے کھڑی تھی….. دونوں کے ہی ہاتھ کانپ رہے تھے….
ایسا نہیں ہو گا…. سمھجی آپ.. ائزہ صرف شہریار کی ہے بھلے کیسے بھی…”
انف”اس سے پہلے وہ… آگے بولتا…. ایزہ چلای…
جان سے مار دیں آپ سب لوگ مجھے “وہ بری طرھ رونے لگی..
کوی میرے بارے میں فیصلہ نہیں کرے گا.. میں خود کر سکتی ہوں اپنے لیے فیصلہ اور.. میں کل ہی یہاں سے جا رہی ہوں” وہ دو ٹوک بات کہتی سب پر نگاہ ڈالتی وہاں سے چلی گئ..
جبکہ زریش کو بھی اپنے ساتھ لے گی تھی..
دوسری طرف کھڑا وجود….
ولی کا ہاتھ اپنے ہاتھ پر محسوس کر کے… جیسے ڈول گیا…اور اس مہربان عورت کی بانہوں میں ہی گیر گئ…
جاری ہے
See translation