Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 14
آئزہ بنا کسی کوبتاے ہی وہاں سے چلی جانا چاہتی تھی اسنے زریش کیطرف دیکھا
.. تم اپنے گھر چلی جاو… “اسنے پیار سے کہا…
مگر وہ چھوٹے چوہدری… مجھے دوبارہ یہاں قید کر لیں گے آپ نہ جائیں” زریش رونے کو تھی…
ہمت کرو زریش جتنا کمزور ہو گی تمھیں یہ لوگ اتنا اپنی بے حسی کا نشانہ بنائیں گے”آئزہ عاجز آ کر بولی زریش کچھ بھی نہیں بول سکی.. جبکہ آئزہ پہلی بار گھر سے نکلتے ہوئے بری طرح خوف زدہ تو تھی لیکن وہ یہاں رکنا ہی نہیں چاہتی تھی..
ابھی ہال روم سے نکل کر دہلیز ہی پار کی تھی کہ.. زریش نے ولی کی جانب دیکھا جو اسے بری طرح گھور رہا تھا.. وہ سہم ہی گئ… ولی دادی کے کمرے میں جانے کے ارادے سے آگے بڑھا کہ ائزہ کو دیکھ کر اسکے تن بدن میں آگ کے شعلے سے اٹھنے لگے…
کہاں جا رہی ہو تم”وہ چنگھاڑتا ہوا اس تک پہنچا…
ائزہ ڈر گئ… اسکی کلائ ولی کی فولادی گرفت میں تھی…
چھوڑیں مجھے لالا” وہ خود کو سمبھالتی بولی…
تاکہ وہ نیچ سادام تمھیں اپنی قید میں کر کے مجھے کمزور کرے “وہ پھنکارہ تو… ائزہ نےا فسوس سے اسکیطرف دیکھا..
اپکو صرف اپنے انتقام اور دشمنی کی پڑی ہے… سمھجے اور میں جیتا جاگتا وجود ہوں.. اور اس دشمنی سے میرا کوی لینا دینا نہیں ہے.. مجھے جانے دیں” وہ اپنا ہاتھ جھٹکتی بولی…
جبکہ ولی نے اسکی اچانک گردن دبوچ لی.. یہ احساس ہی سواہان روح تھا کہ اگر وہ نہ دیکھتا تو وہ یہاں سے نکل جاتی اور اسکی کوی کمزوری سادام کے ہاتھ لگ جاتی…
بولو آگے بولو کیا بولنا ہے سن رہا ہوں میں سب تم میرے بھائ کی بیوی ہو.. سمھجی اس سے آگے ایک لفظ بھی کچھ نہیں “وہ دھاڑا.. جبکہ پیچھے سے زریش جو کانپ رہی تھی.. شہریار کو تیر کیطرح اسکیطرف بڑھتے دیکھا… اسکا دل خوف سے پھٹنے کو تھا…
شہریار نے ولی کا وہی ہاتھ جکڑا اور اسے پرے دھکیلا..
جرت کیسے ہوی تمھاری اسے ہاتھ لگانے کی” وہ اسکا گریبان پکڑتا چلایا….
ولی نے بنا ریسپونس کے اسکیطرف
اور اسکا ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹکا..
بھاگ رہی تھی یہاں سے… بھاگ جاتی تو ڈھونڈتے رہتے ساری زندگی اسے سمبھال کر رکھو اگر اس حرامی کے ہاتھ میں میری ایک بھی کمزوری گئ تو وہیں کھڑے کھڑے.. اسے.. گولی سے آڑا دوں گا.. سمھجے تم”وہ اسے گھورتا وہاں سے گیا.. جبکہ زریش کو وہیں کانپتے دیکھ اسکا اگلا نشانہ زریش تھا..
تو تو بھاگا رہی تھی…” وہ اتنی نفرت سے بولاکہ زریش کا رنگ پھیکا پڑ گیا گویا وہ ابھی گیر کر بے ہوش ہو جائے گی…
اس سے پہلے وہ اس تک بڑھتا…. زریش بھاگ اٹھی…
جبکہ وہ منہ ہی منہ میں غلیظ گالی سے نوازتا… دادی کے کمرے میں چلا گیا….
آئزہ کا کھانس کھانس کر برا ہال تھا
تم ٹھیک ہو “شہریار نے اسکو تھامنا چاہا.. جبکہ آئزہ جیسے دیوانی سی ہو گئ.. اسنے اسے شدت سے دور دھکیلا اور.. اپنے نازک ہاتھ کو جزباتی پن میں وہ اسکے گال پر زور سے مار گئ..
دور رہیں مجھ سے مجھے آپ نے نفسیاتی بنا دیا ہے” وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورنے لگی جبکہ اپنی ہتک پر شہریار کا غصے سے خون کھول گیا…
تمھارے نفسیاتی پن کا ہی علاج کرتا ہوں میں” وہ دانت کچکاتا بولا…
اور اسکی کلائ اپنی فولادی گرفت میں جکڑ کر اپنے ساتھ اسے گھسیٹنے لگا..
چھوڑو مجھے “آئزہ چلائ…
جبکہ شہریار نے گویا دانت پر دانت جما لیے تھے..
اسکی چیخ و پکار اور رونا سسکنا سن کر سب ہی اپنے کمروں سے باہر نکلے یہاں تک کے جاناں بھی اپنی اداس آنکھوں کو اسپر ڈالے کھڑی تھی…
کیا کر رہے ہو تم میری بیٹی کے ساتھ” چچی نے اسکو آئزہ سے دور کرنا چاہا…
بس انف” شہریار نے ہاتھ اٹھا کر کسی بھی عمل سے انھیں باز رہنے کی دھمکی دی وہ اسکے تیور دیکھ کر حیران رہ گئیں کچھ بھی ہو جاتا تھا مگر وہ کبھی بدلحاظ نہیں ہوا تھا…
کیا کر رہے ہو یہ تم… تم نے آئزہ کو طلاق دے دی ہے.. اور اب نہ وہ تمھارے کمرے میں جانے کا حق رکھتی ہے اور نہ ہی.. تم کسی بھی حق سے اسے اپنے کمرے میں لے جا سکتے ہو”چوہدری سکندر نے اسکے ہاتھ کی گرفت سے اپنی بیٹی کی کلائ آزاد کرانا چاہی.. مگر شہریار کو آج.. کوئ نہیں روک سکتا تھا…
وہ سرد نظروں سے سب کو دیکھتا رہا..
مجھے نہیں سمھجہ آتا کہ سب بیوقوف ہیں یہ مجھے سمھجتے ہیں….
یہ میری بیوی ہے.. تھی اور رہے گی.. نہ میں نے اسے طلاق دی اور نہ ہی آخری سانس تک کوئ مجھے اس سے جدا کر سکتا.. اسکے ایک کاغز پر سائن کرنے سے.. نہ ہی طلاق ہوئ ہے اور نہ ہو سکتی.. سمھجے آپ لوگ…. اور اج ابھی اور اسی وقت پورے حق سے آپکی بیٹی کو اپنے کمرے میں لے جا رہا ہوں….
جس نے جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لے”وہ لفظ اپنے چاچا چاچی کے منہ پر مارتا غڑاپ سے کمرے میں گھس گیا جبکہ…
آئزہ کو کمرے کے وسط میں ایک جھٹکے سے چھوڑ کر چٹخنی چڑھا کر وہ پلٹا تو… آئزہ نے اسکی خونخوار آنکھوں کو دیکھا…
میں اس کمرے میں نہیں رہو گی” وہ مچلی.. جبکہ شہریار نے اسکو اپنی سخت گرفت میں جکڑ لیا…
اگر تم… چاہتی ہو.. کہ تمھارے ماں باپ اس حویلی میں سلامت رہیں تو آئندہ.. اس کمرے سے جانے کی بات مت کرنا.. ورنہ تم صرف ابھی میری اچھائ جانتی ہو… برائ دیکھو گی.. تو اپنے والدین کو بھکاریوں کی طرح سڑکوں پر پاو گی کیونکہ یہ سب میرے باپ کا ہے اور میرا ہے تمھارے باپ کا اس میں ایک روپیہ بھی نہیں…
اسے یہاں رکھا ہوا ہے احسان سمھجو… “اسکے کان میں پھنکارتا… وہ اسپر اصلیت واضح کرتا اسے بیڈ پر دھکیل گیا.. جبکہ آئزہ تو یہ سن کر ہی منجمند رہ گئ….
………………..
زریش کی دوبارہ ہمت نہیں پڑی.. کہ وہ باہر جاے جبکہ جاناں یہ سب سہمی ہوئ نظروں سے دیکھ رہی تھی….
؛ولی بھی دوبارہ دادی کے پاس چلا گیا
. جبکہ.. وہ مہربان لمس اسے اپنے شانے پر محسوس ہوا…
بیٹا ٹھیک ہو”انھوں نے پیار سے پوچھا..
جبکہ جاناں جو نازوں سے پلی بڑھی تھی..
یہ سب برداشت نہیں کر پا رہی تھی اسنے کبھی اپنے باپ بھائ کو اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سناتھا.. ولی کے اسکی زندگی میں آنے سے پہلے….
اور یہاں تو لڑائ جیسے شغل تھا سب کے لیے عام بات تھی…
اسکی آنکھوں کے موتیوں کو صاف کرتی وہ اسکے ہونٹ کے زخم سے نگاہ چرا گئیں…
ولی انکے بس اور اختیار سے باہر تھا.. جبکہ شہریار.. کی اس حرکت پر وہ کافی غصے میں تھیں.. چچی نے واویلا مچانا چاہا مگر سکند انھیں اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے…
ملازمہ سے کہہ کر انھوں نے اپنی نئ نویلی دولہن کے لیے ناشتہ لگوایا…
جبکہ ملازمہ کا منہ بھی جاناں سے بگڑا ہوا تھا…
اسکے علاوہ زریش کی نرم نظریں اسپر تھیں وہ ہی کھانا لگا رہی تھی تبھی دادی اور ولی بھی وہاں داخل ہوے تو دادی نے ناگواری سے اپنی بہو کو دیکھا..
بہت خوب رقیہ بہت خوب تمھاری جیسی… جاہل عورت میں نے نہیں دیکھی آج تک… تمھارے شوہر کے قاتلوں کو بیٹھا کر کھلا رہی ہو.. ارے میں کہتی ہوں ڈوب مرو “دادی انھیں جھاڑتی.. جاناں کے بال مٹھی میں جکڑ گئیں..
آہ” اتنی شدت سے انھوں نے اسکے بالوں کو.. جکڑا تھا کہ جاناں کی آہ نکل گی.. جبکہ آنکھوں کے گوشے نم ہو گے…
(گالی) میرے گھر کا ایک تکڑا بھی تو نہیں کھاے گی.. میرے بچے کو کس بے رحمی سے مار دیا….
اسکا سر تن سے جدا کر دیا… اور یہاں تجھے میں ناشتے ٹھونسواو…. ہیں” وہ اسکو جھنجھوڑتی چلائیں.. جبکہ جاناں رونے لگی..
چ.
چھوڑ دی.. م مجھے” وہ التجائ نظروں سے انھیں دیکھنے لگی..
جبکہ انھوں نے اسکے دھان پان سے وجود کو دور دھکیلا اور وہ ولی کے قدموں می میں جاگیری جو تن کے کھڑا تھا….
اے شکیلا.. سوٹی کہاں ہے میری اس منحوس کی صورت سے ہی گھن ا رہی ہے مجھے” وہ ملازمہ سے بولی تو وہ ملازمہ دوڑ کر انکی چھڑی لے ائ جن سے اکثر وہ خود بھی پیٹ جاتی تھیں..
زریش کے لیے یہ لمہے ناقابل برداشت سے ہو گئے.. جبکہ جاناں پتے کیطرح کانپ اٹھی…
کیا کر رہیں ہیں اماں جان اپکے بیٹے کی یہ قاتلہ نہیں ہے..” رقیہ بیگم بیچ میں آئیں تو انھوں نے اسے جھٹکا… اور شکیلا سے چھڑی لی..
جبکہ جاناں خوف سے روتی… ولی کے قدموں میں پناہ لینا چاہ رہی تھی…
م.. مجھے جا.. جانے.. مججےے جانے… دیں” وہ پیچھے کھسکتی رو رہی تھی دل پھٹنے کو تھا.. “
معاف کر دیں بڑی بی..” زریش دوڑ کر اسکے اگے ائ
جبکہ دادی نےا سقدر حمایت پر زریش کو…. اس چھڑی سے بری طرح دھن دیا..
ہٹ نمک حرام” اسکی سسکیاں گونج رہیں تھیں…
جبکہ اب باری جاناں کی تھی…
جس کے پاوں پر ایک چھڑی لگی…
اور وہ تلملا گئ..
یہ سوہان روح منظر… سب دہشت ناک نظروں سے دیکھ رہے تھے اگر غلطی سے یہ منظر… سادام خان دیکھ لیتا تو یقیناً…. چوہدریوں کے پورے گاوں کواگ لگا دیتا…
ایک کے بعد ایک لگنے والی چھڑی اسکے نازک کومل وجود پر نشان چھوڑ رہی تھی….
جبکہ وہ اس بے حس کے قدموں تلے مچھلی کیطرح تڑپ رہی تھی..
بس کریں دادی مر جائے گی تب بھی سکون نہیں ملے گا.. زندہ رہنے قابل چھوڑ دیں”وہ بولا… تو انکی سانسیں پھولنے لگیں تھیں ویسے بھی…
انھوں نے اسکے قریب تھوکا…. اور جا کر تخت پر بیٹھ گئیں….
دو نازک وجود… بے بسی سے سسک رہے تھے…
رقیہ بیگم جاناں کے پاس ائ… اور ولی کیطرف سر اٹھا کر دیکھا..
بہت پشتاو گے ولی.. بہت” انکی اپنی آنکھیں بھیگ گئیں… اور وہ جاناں کو اٹھانے لگیں
..اے بہو.. دور رہو اس سے دوبارہ اسکے پاس تمھیں دیکھا تو شہر والے گھر بھیجوا دوں گی” وہ ہاتھ نچا کر غضب سے بولیں…
زریش تو خود کو خود ہی سمیٹتی اٹھ گئ.
.
جبکہ جاناں کی بھیگی آنکھیں ان ناز برداریوں کو یاد کر رہی تھیں جو اسکے باپ کے گھر میں اسکے لیے تھیں…
اے اٹھ” دادی بولیں… جبکہ وہ شخص جو کچھ دیر پہلے وہیں کھڑا تھا وہاں سے چلا گیا.. اب وہ تنہا تھی..
انھوں نے دوبارہ کہا.. تو وہ.. اپنی جگہ سے اٹھی جسم میں جلن سی لگ رہی تھی اس سخت سردی میں ہلکی سی ٹھرک گویا پوری سردی دکھتی تھی اور یہاں تو اسکا قیدیوں کی طرح ریمنڈ نکالا جا رہا تھا….
وہ اٹھی
… جا میرے لیے چاے بنا “وہ نخوت سے بولیں تو.. جاناں کچن میں آ گئ
. پورا کچن ہی خالی تھا… اسے چاے بنانا کب آتی تھی…
مگر اندازا تھا.. کہ کیا کچھ ڈلتا ہے.. وہ اپنے کانپتے ہاتھوں سے.. چاے بنانے کی کوشش کر رہی تھی.. کہ اس سے چولہا ہی جلنے میں نہیں دے رہا تھا.. اسنے بمشکل جلایا.. اور اپنے ہاتھوں کو سینکنے لگی.. کچھ تقویت پاتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی…
مر گئ وہ.. (گالی) جا دیکھ کیا بنا رہی ہے”دادی چلای تو اسنے بچوں کیطرح اپنے آنسوں صاف کیے….
اور فریج سے دودھ نکال کر وہ.. چاے بنانے میں جلد ہی کامیاب ہو گئ..اسنے چائے انڈیلنے کی کوشش کی مگر اسکو صیحی طریقہ معلوم نہیں ہو رہا تھا…
اور دوبارہ جب کوشش کی تو ساری چاے الٹ دی وہ چلا کر دور ہوئ…
سد شکر اسکا پاوں ہاتھ بچ گے تھے مگر چائے..ملازمہ نے یہ سارا منظر دادی کے کان میں بھر دیا.. اور وہ دوبارہ چھڑی اٹھاتی اسکے سر پر تھیں جبکہ وہ بری طرح روتی بیٹھتی چلی گئ اور ان سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر… معافی مانگنے لگی.. جس پر صرف دو تھپڑ مار کر وہ اسے ہزار صلواتیں.. بدعائیں دیتیں.. چلی گئیں.. اور شکیلا سے چائے بنانے کا کہا…
……….. ……
گھر سے نکلتے ہی اسے اپنے لفظوں اور اپنے برے رویے کا بری طرح احساس ہوا….
وہ کس طرح اسکو اسکے باپ کو… اپنے احسانوں تلے دبا رہا تھا…
اسے شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا..وہ ایسابلکل نہیں تھا.. پھر کس.. ٹریک پر اتر کر وہ اپنی محبت کو ٹریٹ کر رہا تھا….
اسنے خود پر لعنت ملامت کی….
اور ڈیرے پر چلا گیا….
اج ایک دو لوگ اس سے اپنے مسلے ڈسکس کرنے ا رہے تھے جس کی وجہ سے وہاں جانا بھی ضروری تھی…
تبھی وہ آئزہ کا معملہ رات پر ڈالتا خود..
ڈیرے پر آ گیا دل میں سکون بھی تھی کہ اسنے اسے اپنے کمرے میں لے جا کر سب پر واضح کر دیا تھا کہ وہ فقت اسکی ہے…
…………….
ایک دن اور بس ایک. دن ہی تو تھا یہ جو.. شاید اتنالمبا تھا کہ اسکو لگا ساری عمر بیت گئ….
اپنی 20 سالہ زندگی میں اسنے اتنے کام نہیں کیے تھے جتنے یہاں اس گھر میں اس عورت نے لے لیے تھے.. اور ہلکی سی بات پر.. اسکا تشدد بھرا انداز..
وہ بارہ بجے تک… انکے پاوں دباتی رہی.. دباتی رہی…
یہاں تک کہ اسکی انگلیاں اکڑ گئیں تھیں….
مسلسل وہ روے جا رہی تھی..
جاناں بی بی آپ جائیں میں دبا دیتی ہوں”زریش نے کہا.. تو جاناں نے خود سے بھی چھوٹی لڑکی کو.. دیکھا جو اسکی وجہ سے صبح پیٹی تھی…
وہ.. وہ جاگ جائیں گی” جاناں خوف زدہ ہوئ..
کچھ نہیں ہوتا…. آپ جائیں آپ تھک گئیں ہیں “زریش بولی تو جاناں سر ہلاتی اٹھ کر کمرے میں ائ…
اور بیڈ پر ایکدم ڈھیر ہوتی وہ اتنا روی اتنا روئ… کہ دل پھٹنے کو تھا….
لالا مجھے بچا لیں… لالا یہ بہت ظالم ہیں “اسکی سسکیاں ابھر رہیں تھیں…
جبکہ پیچھے دروازے میں کھڑا وجود بھی یہ سب سن رہا تھا…
اور اسکا خون کھول گیا اسکی تحویل میں وہ کسی اور کو یاد کرتی..
وہ چمڑی نہ کھینچ دیتا…
وہ اس تک پہنچا….
اور اسکے ساتھ ہی لیٹ گیا….
بے باکی.. سے جبکہ جاناں بھکلا کر اٹھتی کہ ولی نے اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر… اپنے چہرے کے نزدیک اسکا چہرہ کیا..
اسکے گلابی چاند کی طرح دمکتے چہرے پر نیلے نشان تھے…
ظالم تو ہیں ہم لوگ مگر تمھارا وہ لالا تمھیں یہاں بچانے کبھی نہیں اے گا میری جان.. تو اس سب کی عادت ڈال لو.. “وہ سنجیدگی سے بولا…
جبکہ بال اب بھی اسکی پکر میں تھے…
مجھے چھوڑ دیں.. جانیں دیں مجھے میرا کوئ قصور نہیں ہے”جاناں شاید اس سے ہمدردی کی کوی توقع رکھ رہی تھی..
جبکہ ولی ہنسا…
تمھیں چھوڑ دوں تمھیں جانے دوں “وہ اسکو دونوں شانوں سے سختی سے پکڑ… کر اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑے پوچھ رہا تھا…
جاناں بے بسی سے اسے کنفیوز سی دیکھ رہی تھی اسکی آنکھیں شعلے اگل رہیں تھیں..
کیا کیا تھا میرے باپ نے چلو تم بتاو… پیار.. تمھاری ماں بھی تو اس ڈھونگ میں شامل تھی اسے زندہ کیوں رکھا ہواہے آج تک جوب دو “وہ چنگھاڑا. اور اسے دور جھٹکا.. پوری قوت سے جاناں کا سر بیڈ کرون سے لگا.. وہ سر تھامتی رو دی..
جب میرے باپ کو نہیں بخشا تمھارے باپ نے تو مجھ سے کیا امید ہے یہاں جو کچھ تمھارے ساتھ ہو گا صرف میرے ھکم پر ہو گا… اب دفع ہو جاو.. اپنا منہ لے کر.. اور…. اپنا لباس تبدیل کر کے میرے پاس او.. پانچ منٹ ہیں تمھارے پاس “وہ اسپر جھکتا.. بولا.. جاناں کی آنکھیں پھیل گئیں…
انھونی کا احساس بری طرح ہو رہا تھا…
جاو” وہ اسے ساکت دیکھ کر دھاڑا..
جاناں اٹھی اسے کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا.. صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا.. اوپر سے جو وہ سمھجہ رہی تھی روح پہلے ہی پرواز ہو جانے کو تھی چکرا کر.. اسی کے قدموں میں گیری…
ولی کے اندر تک نفرت اتر گئ
..کب تک چلے گی یہ ڈرامے بازی…
بہت جلد تمھیں میری آگ کی مانند قربت میں پھنسنا ہے.. جھلسا دوں گا مگر زندگی بھر بخشوں گا نہیں… “وہ اسکے کان میں پھنکارتا اسے ویسے ہی. چھوڑے…
اپنے ڈیرے پر پھر سے چلا گیا…
……………..
