50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

Episode 11
اس کے لیے گھر میں داخل ہونا مشکل نہیں تھا… دیوار پھلانگ کر وہ اندر داخل ہوا تو.. پاوں کی تکلیف ناقابل برداشت سی ہو گی مگر افسوس کے وہ کراہ نہیں سکا… اور انتقام نے اسے سکون لینے نہیں دیا…. وہ اندر چپکے سے داخل ہوا.. آدھی رات کا سماں تھا دشمن اتنے سکون سے کیسے سو سکتا ہے..
وہ مکروہ ہنسی ہنسا…
اور اوپری جانب آ گیا….
وہ جانتا تھا جاناں کا کمرہ کون سا… ہے بہت پہلے وہ ساری تحقیق نکلوا چکا تھا وہ یہ بھی جانتا تھا کہ سادام بھی انکی حویلی کے چپے چپے سے واقف ہے…. ہینڈل گھمایا اور قسمت کا ساتھ تھا کہ دروازہ کھلتا چلا گیا…
بیڈ پر سفید آنچل ایک طرف پھیلائے سفید لباس میں اپنے مومی ہاتھوں کو مہندی سے سجاتی اڑتے بالوں کی آوارہ لٹوں کو بے پرواہ چھوڑے وہ حسن مجسم اسکے سامنے تھا.. وہ جیسے اسکے نوخیز حسن کے سحر تلے بلکل اسی خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا…
عجیب احساس نے پورے وجود کو جکڑ لیا….
اسکی دلکشی حواسوں کو مفلوج کرنے کو تھی کہ کسی کی موجودگی پا کر وہ خود مڑی اور پٹیوں میں جکڑے وجود کو. اپنے سامنے دیکھ کر. اسکی بے ساختہ چیخ نکلی..
جسے ولی نہ روکتا تو ضرور.. وہ سادام کو یہاں بلا لیتی.. اور شاید وہ یہاں سے زندہ نہیں جاتا مگر اسکا مقصد کچھ اور تھا وہ کچھ اور سوچ کر یہاں آیا تھا….
اور اب اسکی دھڑکنیں مقابل کے حسن کے سحر میں دھڑک رہی تھی مگر افسوس تادیر نہیں. جلد ہی وہ اپنی آنکھوں کے زاویے بدلتا.. سخت خباثت بھری نگاہوں سے اسکو دیکھنے لگا جو اتنی پیدی سی اس سے بدلہ لینے اسکے اصطبل پہنچی ہوئ تھی..
ہاں جسے وہ پنچائیت میں بدنام کر چکا تھا…
ہونا تو اسے اسکا ہی تھا یہ طے تھا…
کیا میرے لیے لگ رہی تھی یہ مہندی”وہ اسکے منہ پر سختی مزید بڑھاتا بولا.. جاناں کا دم خشک ہو گیا…. اسے اس شخص سے بہت خوف محسوس ہوتا تھا… اور وہ کیسے انکے گھر میں اور پھر اسی کے کمرے میں… وہ پتے کیطرح کانپ رہی تھی..
ارے تم تو رونے لگی.. اس میں رونے والی کیا بات ہے منگ ہو میری… مگر افسوس مجھے مہندی بہت بری لگتی ہے “اسنے ایک ہاتھ سے اسکا مومی ہاتھ پکڑا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اب بھی لبوں کو سختی سے بند کیا ہوا تھا..
جاناں کی لیے یہ لمہے روح فزا تھے.. مگر وہ اسکی گرفت میں جکڑی کھڑی تھی کیونکہ پشت پر دیوار تھی..
اسکے ہاتھوں کی حرکت پر اسکا کانپتا وجود مزید کانپ اٹھا انسو ٹوٹ ٹوٹ کر…. ولی کے ہاتھ پر گیرنے لگے..
جاناں اس سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہتی تھی مگر.. ولی نے اسکی ساری مہندی کو برباد کر دیا….
پھر اپنے ہاتھ کو دیکھا… جس پر مہندی لگ چکی تھی اور وہ لڑکی کتنا روے جا رہی تھی..
اسنے جاناں کی آنکھوں میں دیکھا جو خوف سے پھیل رہیں تھیں…
اگر تم بولی چیخی… یہ کسی کو بلانے کی کوشش کی…
اممم نہیں تم بولو گی بھی چیخوں گی بھی اور بلاو گی بھی اپنے اسے دو ٹکے کے بھائ کو.. تبھی بیبی.. برداشت کرو میں بھی تمھارے زلیل بھائ کی وجہ سے بہت تکلیف برداشت کر رہا ہوں مگر وہ مجھے فقت جسمانی دے سکتا ہے… اور میں اسکو اندرونی عزیت دوں گا.. اسکو ایک جھٹکے سے موڑتا وہ اسکے منہ میں اسکا دوپٹہ ٹھونستا ہاتھ باندھ گیا…
جاناں پھڑپھڑا گئ.. وہ بے بسی سے اسکے مسکراتے لب دیکھنے لگی..
خوبصورت ہو… کافی دلکش بھی سفید رنگ زیادہ پہنتی ہو….
اور ڈرپوک بھی اگر سادام کی بہن نہ ہوتی تو تمھارے ساتھ چانس بنتا تھا… مگر اب نہیں…. “اسنے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بیڈ شیٹ سے اپنے ہاتھ صاف کر دیے جاناں سہمی سی دیوار سے لگی ہوئ تھی…
ولی اسکو توجہ سے دیکھنے لگا…
کل پرسوں یہ اس سے اگلے دن شاید تم میرے کمرے میں ہو.. وہاں میں تمھاری نظروں میں اس سے زیادہ خوف دیکھنا چاہوں گا” مسکراتا سرشار سا.. وہ اسکے چہرے پر انگلیاں چلانے لگا جبکہ جاناں نے اسکا ہاتھ جھٹکا.. اور ولی نے اسکے منہ پر تھپڑ کھینچ مارا…
وہ وہیں رک گئ
…. جرتیں اتنی رکھنا جتنی کی میں اجازت دوں اگلی بار تمھیں دیکھنے قابل بھی نہیں چھوڑو گا میرا ہاتھ جھٹکا تو..” انکھ سے ٹوٹے موتی کو. جھک کر لبوں سے چنتے ہوئے.. وہ بہت نزدیکی سے اسکی ساکت جامد پتلیوں کو دیکھے گیا…
اور پھر اسکے منہ سے کپڑا نکال کر.. اسنے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا.. جاناں کسی ٹوٹی ڈال کیطرح اسکے وجود کا حصہ بنی…
مسکراو” ولی تصویر بنا رہا تھا.. جاناں جیسے کچھ سمھجنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی وہ اسی طرح اسکو دیکھے گئ جبکہ ولی نے شانے اچکا کر دو چار تصویری لیں جس میں کہیں سے بھی جاناں کے بندھے ہاتھ دیکھائ نہیں دے رہے تھے…
ولی مطمئین سا.. دوبارہ اسکے دور ہوتے وجود کو دیکھنے لگا.. جو چلانا چاہ رہی تھی مگر اسکی ایک گھوری نے اسکے گلے میں آواز کا گلہ گھونٹ دیا….
ملاقات بہت قریب سے ہو گی اگلی”وہ اسکے چہرے پر اپنی انگلیوں کے نشان دیکھ کر… مسکراتا کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا…
جبکہ جاناں نے بمشکل اپنی چیخ کا گلہ گھونٹا سسکیوں نے پورے کمرے کو…. افسردگی کی لپیٹ میں لے لیا تھا….
ڈر خوف اسکا لمس.. وہ خود کو بے دردی سے صاف کرنے لگی….
………….
وہ دوبارہ جیپ میں سوار ہوا تو جیسے اسے لگا کسی نے اسکو دیکھ لیا ہو….
وہ بار بار مڑ کر دیکھنے پر مجبور ہو رہا تھا مگر دیکھائ کوئ نہیں دے رہا تھا….
وہ باہر نکلا… تب بھی اسے لگا کسی نے اسکاتعقب کیا ہو.. مگر پیچھے مڑنے پر وہ اندھیرہ خاموشی اور ہو کا عالم. وہ کندھے جھٹکتا.. باہر نکل گیا.. اگر کوئ تھا بھی تو سامنے آتا.. مگر وہ سامنے نہیں تھا.. تبھی ولی اپنی گاڑی میں سوار ہوا. اور ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا.. کہ اچانک نظر مہندی لگے ہاتھ پر گئ.. تو وہ بے ساختہ اس ہاتھ کو کاٹ گیا.. اس بری طرح.. کہ اسکے ہاتھ سے معمولی خون کی بوندیں نکلنے لگیں
ایک بار تم میرے شکنجے میں تو پھنسو “وہ کسی اور ہی ٹریک پر اتر کر سوچ رہا تھا.. فطری سے جزبے اسکے اندر جاناں کو دیکھ کر اٹھ رہے تھے پھر اسکا ڈرنا سہمنا.. کمال تھا…
وہ ہسپیٹل جانے کے بجائے گھر آ گیا تھا. اسکاسر بری طرح چکرا چکا تھا.. وہ جانتا تھا شہریار اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے آدھا پاگل ہو جائے گا تبھی اسنے اسے میسج کیا وہ گھر ہے
اور فون رکھ کر وہ بستر پر ڈھیر ہو گیا اپنی ہمت سے زیادہ اسنے آج حرکت کی تھی اچانک اسے اپنے بنائے گئے کھیل کا خیال آیا..
سادام تم نہیں جانتے تمھیں کتنا بڑا صدمہ لگنے والا ہے “وہ ہنسا. اور موبائل اٹھا کر اپنے ساتھ کھڑی اس ماہ جبیں کو دیکھنے لگا…
پھر ایک اور خیال دماغ میں کندا مگر اس خیال کو کل پر ٹال کر وہ پرسکون نیند سونے کی کوشش کرتا کہ اسکی ٹانگوں میں درد کی ٹیسیں اٹھیں ملازم اسکے کراہنے پر ڈاکٹر کو لینے چلے گیے جبکہ رفتہ رفتہ سب کو اسکی آمد کی خبر ہوئ اور سب اسکے کمرے میں جمع ہونے لگے….
…………….
مزید دو دن گزر گئے ولی کیطرف سے اسے اس خاموشی پر یقین نہیں آ رہا تھا جبکہ وہ اپنی محبوبہ سے بھی ہفتے بھر سے دور تھا…
اج تو وہ عہد کر چکا تھا اس سے ملنے کا اور اسے سمجھانے کا کہ یہ موبائل آخر نام کس بلا کا ہے..
تیار ہو کر وہ ڈیرے پر ایا… اور عنایت سے ساری معلومات لی جبکہ اسے عنایت پر غصہ آیا کہ آخر وہ چیونٹی جیسے انسان کو ڈھونڈ کیوں نہیں پا رہا..
سست ہو چکا ہے تم بلکل سلطان کی محبوبہ کی مافق.. چلو مانتا ہے اسکا تو مسلہ سلطان بگڑا ہے تمھارے ساتھ کون سا تکلیف ہو گیا ہے”وہ غصے سے بولا جبکہ اسکی مثال پر عنایت شدید شرمندہ ہو گیا…
ابھی وہ جواب دیتا کہ اسکے سیل فون کی بیل بجی اسنے کھولا ان نون نمبر تھا. جس سے کچھ تصاویر بھیجی گئیں تھیں…
اسنے تصویریں کھولیں تو گویا.. اسکے سر پر پہاڑ ٹوٹ پڑا…
یہ.. یہ سب” جاناں کی تصاویر ولی کہ ساتھ جبکہ.. اگلی تصاویر زریش کے ساتھ اور نیچے ٹیکسٹ میں وہ پوچھ رہا تھا اسکے ساتھ کون سی جچتی ہے
سادام کے تن بدن میں آگ لگی جبکہ دل کو پتنگے سے الگ لگے ..
اب سمھجہ آیا تھا کہ زریش اتنے دن میں ایک بار بھی نہ ملنے کو ائ.. یعنی انکی حقیقت ولی جان چکا تھا.. سادام.. نے موبائل زمین پر پھینک کر مارا…. اور تن فن کرتا.. حویلی کی جانب آ گیا.
جاناں “وہ ایک بار پھر بلکل اسی طرح دھاڑا جبکہ جاناں کی چیخ نکل گئ اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی..
وہ جانتی تھی سادام کیا سوال کرے گا اور وہ کیا جواب دے گی اسے سمھجہ نہیں آ رہا تھا..
اسکی دوسری دھاڑ پر وہ کمرے سے نکلی.. جبکہ وہ کسی بھوکے شیر کیطرح اسپر جھپٹا اگر ماں بیچ میں نہ آتی تو وہ اسے جان سے مار دیتا اسنے آج اپنے آپ کو اپنی ماں سے نہیں چھڑوایا تھا..
چھوڑو مجھے تمھارا کمرے میں وہ ناپاک انسان آیا اور تم نے دو دن تک ہم کو بتانے کا زہمت نہیں کیا…
تمھارا دل میلا ہے ہم نے تم پر یقین ہی غلط کیا… سالا ہم ہے ہی.. آلو کا پٹھا… “وہ دھاڑ رہا تھا بے قابو ہو رہا تھا ہاد بھی ہنگامے کی اواز سن کر کمرے میں آ گیا… اور منظر دیکھ کر بھائ کی جانب دوڑا
لالا” اسنے اسے روکا جو روتی ہوئ جاناں کو بھسم کر دینا چاہتا تھا….
جاناں اپنی سچای بیان کرنا چاہتی تھی مگر اب بھی اسکی غلطی تھی اپنی بزدلی اور خوف سے اسنے کسی کو کچھ نہیں بتایا.. جبکہ لالا کو پتہ چل چکا تھا..
شام ہی اس نیچ زات سے اس کم ضرف کا شادی ہے.. اور اسکے بعد ہمارا طرف سے. تمھارا اولاد جھنم وصل ہو “اپنے باپ کو فیصلہ سناتا.. وہ ہاد کو جھٹک کر باہر نکل گیا جبکہ جاناں دھک سے رہ گئ..
بابا سائیں..
بس جاناں. تم ہمکو تو بتا سکتا تھا…” وہ افسوس سے بولے..
بابا سائیں میں ڈر گئ تھی اتنی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا مت سنائیں
وہ سسکی.. جبکہ وہ بنا کچھ بولے دوبارہ کمرے میں چلے گئے..
ہاد” اسنے ہاد کیطرف دیکھا..
میں لالا سے بات کرتا ہوں تم مت رو “ہاد نے اسکوجیسے تسلی دی مگر اب سب جانتے تھے.. وہ سب ہو گا.. جس کو کوئ نہیں چاہتا تھا جبکہ کوئ تھا جو چپ چاپ مسکرا دیا تھا.. اسکے کھیل تیار کرنے سے پہلے ہی شکار پھنس چکا تھا اور ایک بار پھر سادام کو زق پہنچ چکی تھی….
…………………..
وہ بری طرح روتی ائزہ کے پاس ائ توآئزہ جو اپنے زخموں کو سوچ کر خود غمزدہ بیٹھی تھی اسکے اسطرح رونے سے پریشان سی ہو گئ..
کیا ہوا زری تم رو کیوں رہی ہو “وہ اسکی جانب بڑھی..
آئزہ چھوٹے چوہدری نے ..” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی… جبکہ آئزہ کا دل کانپا اماں ٹھیک کہتی تھیں دونوں بھائ اپنے باپ پر گئے ہیں..
کیا کیا ہے ولی نے”وہ غصے سے سرخ ہوتی پوچھ رہی تھی…
غصہ تو بہت آ رہا تھا مگر وہ فلحال کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی…. مگر زریش کو تسلی تو دے سکتی تھی اسکے ماں باپ کے پاس تو بھیج سکتی تھی…
وہ وہ مجھے زبردستی پکڑ کر تصویریں بناتے… بناتے ہیں” وہ سسکی جبکہ ائزہ کا دل سہم گیا….
یہاں تو کسی بھی لڑکی کا رہنا ٹھیک نہیں….
اسے اماں کا فیصلہ پہلی بار بجا لگا مگر ایسا فیصلہ جو اسے بے آبرو کر دے اور وہ اتنی مطمئین ہو جائیں کہ دوبارہ اسکے پاس آ کر اس سے پوچھیں بھی نہ کہ کیسی ہو….
اسنے زریش کو گلے سے لگا لیا….
تم اپنے گھر جاو… “وہ اسکو پیار سے پکارتی چپ کراتی بولی عجیب کشش سی تھی اس میں.. جیسے بہت اپنی ہو….
زریش نے ایکدم خوش ہو کر اسکی جانب دیکھا..
ہاں نہ جاو تم…” وہ اسکو دیکھ کر مسکرائ..
آپ سچ کہہ رہی ہیں “زریش غم بھلائے اٹھی..
بلکل سچ” اسکو خوش دیکھ کر ائزہ بھی خوش ہو گئ..
مگر پہریدار روک لیتے ہیں” وہ افسردہ وہئ..
چلو میں بھی تمھارے ساتھ چلتی ہوں”وہ اٹھی تو زریش کا دل کیا خوشی سے جھومے…..
وہ دونوں باہر آئیں تو معمول کیطرح چہل پہل تھی…
اے کہاں جا رہی ہے…. پاوں دبا میرے” تخت پر بیٹھیں بڑی بی نے اسے پکارا تو وہ رک گئ..
انکے پاوں دباتے دباتے اسکے ہاتھ دکھ جاتے تھے… وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی ایک ہفتے سے وہ جیسے عزاب میں پہنس گئ تھی جس سے اسے کوئ رہائی نہیں دلا سکتا تھا…
اسنے ائزہ کیطرف دیکھا..
دادی جان وہ ملازمہ نہیں ہے یہاں پر…. “آئزہ کی اواز پر انھوں نے حیرت سے دیکھا…
تو پنج شکل گم ہی کر لے تو بہتر ہے… میرے سامنے مت آیا کر میرے پوتے کی عزت پر لات مار کر تیری اتنی زبان کھل گئ…” وہ چنگھاڑی تو ائزہ انکی اس حمایت پر سسک اٹھی… دل تو کیا سارا من میں بھرا زہر انپرا نڈیل دے مگر نہیں ایک بار پھر اسکے زخم کھل چکے تھے وہ.. کمرے میں بھاگ گئ جبکہ زریش اس قید پر سسکتی انکے پاوں دبانے لگی…
جان لگا” انھوں نے ٹانگ کھینچ کر ماری.. تو وہ آواز سے رونے لگی…
اسکا دل اسکاجسم اسکا نازک مزاج جو سادام کی ہی بدولت تھا یہ سب سہن نہیں کر پا رہا تھا……
………………..
جاری ہے