Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 31
آئ سی یو کے باہر سب دم سادے کھڑے تھے ۔۔ عنایت کی آنکھیں سرخ ہو کر چھلک چکیں تھیں دن سے رات ہو گئ تھی اور رات جیسے کسی عزاب کی مانند ان پر گزر رہی تھی ۔۔۔
شھاب سر تھامے بیٹھا تھا ۔۔۔۔ سادام کے ساتھ گزرا ایک ایک لمہہ جیسے آنکھوں میں پھنس رہا تھا ۔۔۔۔ کتنی ہی بار اسنے خدا سے گڑگڑا کر اسکی زندگی مانگی ۔تھی ۔۔۔
جبکہ ہاد بار بار آئ سی یو تک بے چینی سے جاتا کہ آخر اتنا لمبا آپریشن کیوں ہو رہا ہے ۔۔ فضل خان ٹوٹے بکھرے سے پڑے تھے ۔۔۔ شھریار اسکی زندگی کے لیے دعا گو تھا اگر سادام کو غلطی سے کچھ ہو جاتا تو اسکے چاہنے والے ۔۔انھیں زندہ نہ چھوڑتے اسکا زندہ رہنا بہت ضروری تھا ۔۔جبکہ سکندر صاحب خود افسوس سے ۔۔۔ اسکی زندگی کے لیے دعا گو تھے ۔
دروازہ اس خاموش فضا میں چرچرایا تو وہ سب ایکدم الرٹ ہوئے ہاد جو قریب ہی کھڑا تھا فورا ڈاکٹر تک پہنچا ۔۔
ڈاکٹر میرے لالا”اسنے بے تابی سے سوال کیا ۔۔۔
اپریشن کامیاب رہا ہے مگر وہ خطرے سےا بھی باہر نہیں ہیں ۔۔
پورے چوبیس گھنٹے انکے لیے ابھی خطرے میں ہیں آپ لوگ دعا کریں وہ ان چوبیس گھنٹوں میں ہوش میں آ جائیں ایک گولی ا نکے دل کے قریب لگی ہے ۔۔۔ “ڈاکٹر نے بتایا تو سب جو ایکدم خوش ہوئے تھے حوصلے سے ٹوٹ گئے ۔۔۔
ہاد نے سختی سے آنکھیں صاف کیں ۔۔۔۔ ڈاکٹر وہاں سے نکل کر چلا گیا ۔۔۔۔
تو ہاد نے عنایت کو اور پھرا پنے باپ کو دیکھا ۔۔۔
عنایت شھاب لالا اور میں یہاں ہیں تم بابا سائیں کو لے کر جاو “اسنے کہا تو عنایت نےاسکیطرف دیکھا ۔۔
معافی چاہتا ہوں ہاد سائیں میں خان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤ گا ۔۔ “اسنے دو لفظی جواب دیا ۔۔ سب جانتے تھےو ہ کتنا قریب تھا سادام کے اسکے آنکھوں کی سرخی اور ان میں چھپتا آنسوں بھی اس بات کی گواہی دے رہے تھے ۔۔
ہاد تم انکل کو لے جاؤ”شھاب نے کہا تو تھوڑے بہت تردد کے بعد ہاد فضل خان کے ساتھ حویلی کے لیے نکل گیا جبکہ شھریار اور سکندر صاحب بھی تھے ۔۔وہ لوگ ان سے بات نہیں کر رہے تھے شھریار نے بولنا بھی چاہا تو ۔۔ انھوں نے منہ پھیر لیے تبھی وہ وہاں سے نکل گئے ۔۔ سولی پر جان لٹک گئ تھی سب کی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شھریار سکندر صاحب سمیت حویلی میں داخل ہوا تو اسے خبر ملی دادی کے سر پر چوٹ لگی تھی جبکہ پاؤں کی ہڈی بھی ٹوٹ گئ تھی ۔۔۔
سب ہی دادی کے کمرے میں تھے جبکہ ولی لاونج میں کھڑا اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ زندہ ہے”انکو دیکھ کر بے تابی سے انکی طرف بڑھا ۔۔ تو شھریار نےا یک پل کو اسکی شکل دیکھی اور کھینچ کھینچ کر تین تھپڑ اسکے منہ پر لگائے ۔۔۔
وہ مر گیا تو کیا ہو گا چوہدری صاحب تمھارا”وہ دھاڑا ۔۔تو سب باہر آئے اور یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے ۔۔ ولی سرخ چہرہ لیے کھڑا تھا ۔۔جبکہ شھریار کا بس نہیں چل رہا تھا اسکو جان سے مار دے ۔۔
تم نے گولیاں چلائیں کیسے اسپر ۔۔ بتاؤ مجھے”وہ اسکو جھنجھوڑتا چیخا۔۔۔
ہوش میں ہو تم کیا کیا ہے تم نے ۔۔ جان سے مار دیں گے وہ تمھیں ۔۔ جان سے ۔۔ “وہ حلق کے بل دھاڑا ۔۔۔
میں۔۔مجھے لگا میری گن میں صرف زریش لینے گیا تھا ۔۔۔ “
تم سکول جاتے بچے نہیں ہو چوہدری ولی ۔۔۔ جو اچانک تمھارے ہاتھ سے اسکا قتل ہو گیا “شھریار نے اسکو دور دھکیلا ۔۔
وہ مر نہیں سکتا”ولی نے نفی کی ۔۔
اچھا ۔۔۔۔ “وہ غصیلی نظریں اسپر گاڑتا وہاں سے جانے لگا۔۔۔
شھریار کچھ کرو”پہلی بار اسنے اس سے مدد مانگی تھیں اپنی جزباتی طبعیت پر آج اسنے بڑا نقصان اٹھایا تھا ۔۔۔
اسے اندازا نہیں ہوا کہ اسکی گن میں گولیاں ہیں یہ غصے نے دماغ پر ایسے پردے حائل کیے کے اسنے گولیاں چلا دیں ۔۔۔
اور چلانے کے بعد اسکے ہاتھ پاؤں پھولے تھے ۔
شھریار نےا سکا ہاتھ جھٹکا
کہاں ہے زریش۔ “شھریار نے سوال کیا ۔۔۔
وہ ۔۔۔ نہیں آئ”اسنے کہا ۔۔۔ جاناں کا بھی خیال آیا ۔۔۔
شاباش چوہدری ولی جس کے لیے تم نے اسکو مارنے کی کوشش کی ۔۔۔ اب وہ تمھارے ساتھ کیوں نہیں آئ”وہ چلایا اور وہاں موجود چیزیں غصے سے پھینکتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
جبکہ ولی نے ۔۔ سر تھام لیا ۔۔۔۔
یہ کیا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔ اس سے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ماتم کا سا سماں تھا ۔۔۔۔ بھائ کا خون صاف کرتے ہوئے اسکے آنسو زاروقطار بہنے لگے تھے ۔۔۔۔
اسکی اماں نے اسکو سمھبلنا چاہا مگر اسنے سب کو پرے دھکیل دیا ۔۔۔
وہ سب خواتین لاونج میں ہی تھیں ۔۔۔ جبکہ زریش ۔۔۔ کا اگر یہ کہا جاتا وہ ایکا ایک سانس مشکل سے لے رہی تھی تو غلط نہیں تھا ۔۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا ۔۔ ان شور ہنگاموں میں چاروطرف سکوت بے رونقی چاہ گئ تھی ۔۔۔
جیسے ہر طرف خاموشی چھا گئ ۔۔اسکے نہ ہونے سے ۔۔۔ویرانی سی چھا گئ ۔۔۔
وہ اٹھی ۔۔۔ جاناں کے نزدیک آئ ۔۔ سادام کا خون ۔۔۔ چھونا چاہا کہ جاناں نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
سرخ آنکھوں سے اسکیطرف دیکھا ۔۔
چلی جاو یہاں سے ۔۔ “وہ غصے سے پھنکاری ۔۔۔
زریش شدت سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔
بند کرو یہ ڈرامہ ۔۔۔ تم نے مارا ہے میرے بھائ کو ۔۔۔ تم نے ۔۔۔۔
میرےلالا تم سے کتنا پیار کرتے تھے ۔۔ تمھیں آنکھوں پر بیٹھایا ۔۔۔ کبھی کسی کو معاف نہیں کیا انھوں نےاج تک میری ماں کو نہیں کیا ۔۔مگر ہر پل تمھاری غلطیوں پر پردہ ڈال کر تمھاری طرف بڑھتے رہے اور تم انکو چھوڑ کر اپنے بھائ کی ہو گی تو زریش بی بی اب بھی اپنے بھائ کے پاس جاؤ تم دونوں بہن بھائیوں نے ہم دونوں کو تباہ کر دیا ہے ہم برباد ہو گئے ہیں ۔۔اب خوش ہو اور جاؤ”وہ سسکتی دھاڑی ۔۔جبکہ غصے سے آج اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔۔
زریش نفی کرنا چاہتی تھی اسے سمجھانا چاہتی تھی کہ نہیں ایسانہیں ہے وہ یہ سب نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔
مگر لفظ منہ میں ہی دم توڑ گئے
سامنے سے ہاد اور فضل خان کو دیکھ کر جاناں انکی طرف گئ ۔۔تو زریش بھی اٹھی ۔۔۔
لالا سادام لالا ٹھیک ہیں نہ ۔۔۔”وہ سسکتی پوچھ رہی تھی ۔۔۔
ابھی خطرے میں ہیں چوبیس گھنٹے میں انکا ہوش میں انا ضروری ہے”اسنے بتایا ۔۔ فضل خان اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔ جبکہ ہاد بھی وہاں سے دوبارہ باہر نکل گیا ۔۔ جاناں صوفے پر ڈھے گئ ۔۔۔۔
سب کی پھر سے جیسے جان پر بن آئی تھی ۔۔۔۔
گھر والے تو گھر والے ملازم بھی آہیں بھر رہے تھے ۔۔ اسکی زندگی کے لیے دعا گو تھے ۔۔۔
میں نہیں کہتی ۔۔جنگلی قسم کے لوگ ہیں یہاں دیکھو بہنوئ نے سالے پر گولی چلا دی ایساہوتا ہے کہیں”نور نے موقع دیکھ کر ۔۔ بیلا کی پھر سے برین واشنگ شروع کر دی جبکہ اس بار بیلا کا دل اسکی بات پر نہیں آیا ۔۔۔
وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن کا سورج نکلا ۔۔۔۔۔ ہر لب سادام کی زندگی کے لیے دعا گو تھا ۔۔ اور پھر شاید ایک ایک فرد کی دعا خدا نے سن لی ۔۔۔ وہ ہوش میں ا گیا تو ۔۔۔ عنایت نے سارے ہسپتال میں مٹھایاں بانٹیں ۔۔ دو چار گھنٹے انڈر ابزرویشن میں رکھنے کے بعد ۔۔ ڈاکٹر نے اسے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا ۔۔۔
یہ خبر آگ کیطرح چارو جانب پھیلی تھی سب کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے تھے ۔۔۔
اب آپکی طبعیت کیسی ہے مسٹر ہینڈسم” ڈاکٹر نیہا نے مسکرا کر شرارتی انداز میں پوچھا ۔۔ سادام نے انکی طرف دیکھا ۔۔جس پر شھاب کی نظریں ٹک ہی گئیں تھیں ۔۔
فائن”وہ بھی مسکرا کر بولا ۔۔۔۔
شیروں کے لیے عام بات ہے گولیاں کھانا ۔۔۔ سو ڈونٹ وری ۔۔۔ جلد ریکور کر جائیں گے مگر ۔۔ بہت زیادہ خیال اور توجہ درکار ہے اوکے”وہ بڑے پیارے انداز میں نرمی سے بولی ۔۔۔
اور اسکا بی پی چیک کرنے لگی ۔۔۔
سادام پر نقاہت نہ ہوتی تو شھاب ۔۔ کی ضرور ٹانگ کھینچتا ۔۔۔۔
ڈاکٹر باہر چلی گئ ۔۔۔ تو اسنے شھاب کو دیکھا ۔۔
ہاٹ تھی”دونوں بیک وقت بولے ۔۔ اور ہنس دیے ۔۔جبکہ ۔۔۔۔ سادام
آہ آہ کرنے لگا ۔۔ ہنسنے سے اسکے سٹیچیز کھینچ رہے تھے ۔۔
سالے تیرا چانس بنتا ہے تو ٹرائے مار “وہ بولا ۔۔۔ تو شھاب نے سر خم کیا ۔۔۔۔
یقین مان یار سوچا نہیں تھا اتنی پڑھی لکھی لڑکی آنکھوں کو بھائے گی ۔۔۔
وہ دانت نکال کر بولا جبکہ سادام ۔۔ نے مسکرا نے پر اکتفا کیا ۔۔۔
تبھی ہاد اور فضل خان سمیت عنایت کمرے میں داخل ہوا ۔۔
شکر ہے خدا کا خان اپکو اللہ نے نئی زندگی دی ہے”عنایت بے پناہ خوش دیکھ رہا تھا ۔۔
تم تو ایسے کہتا جیسا ہمارا بیگم ہے”سادام بولا تو عنایت خفیف سا ہوا جبکہ شھاب کی ہنسی نکلی ۔۔
لالا آپ ٹھیک ہیں نہ ۔اپ نے ڈرا دیا یار سولی پر جان لٹک گئ تھی”وہ اسکے قریب آیا ۔۔ تو ۔۔ سادام نے اسکا ہاتھ دبا کر اپنے ٹھیک ہونے کی تسلی دی ۔۔۔
فضل خان ۔۔ بھی اسکی جانب آئے اسنے ایک نگاہ دیکھا اور چہرہ موڑ لیا ۔۔۔
نہ بیٹا سائیں ۔۔ اتنا ظلم کرے گا ۔۔۔ تو بڑھی ہڈیاں ۔۔۔ کہاں جائیں گی ۔۔
ہمارا خون ہے تم ہمارا جان ہے تم ۔۔۔۔ “وہ اسکی پیشانی چومتے زرہ رنجیدہ ہوئے ۔۔۔ سادام کچھ نہیں بولا ۔۔۔
تمھارا ہیروئن کے لیے مارجن نکلتا ہے تو ہمارا لیے بھی نکلتا ہے نہ ۔۔کیوں ۔بیٹا کچھ سفارش بنتا ہے”فضل خان اسے بچوں کیطرح پچکارتے شھاب کو بیچ میں گھسیٹ گئے ۔۔
ابے سالے باپ ہے تیرا ۔۔۔ “شھاب اسپر جھکا ۔۔۔
لالا ۔۔۔ بابا سائیں تو آپکے پکے پکے معشوق ہیں ۔۔۔ کل میں نے تو ان گناہگار آنکھوں سے پہلی بار مسجد جاتے دیکھا ۔۔۔ انھیں”ہاد نے قہقہ لگایا تو فضل خان نے گھورا ۔ سادام بھی ہنس دیا ۔۔۔۔
اور باپ کیطرف دیکھا ۔۔۔
جانتا ہے ہم نے تم سے ۔۔۔ ایک بار ضد لگایا تھا ہمیں بنکاک جانے دے ۔۔ اور تم نے تھپڑ جڑ کر کہا تھا ۔۔ خر کا بچہ بگڑنا چاہتا ہے ۔۔۔
پہلے اسکا حساب دے گا ۔۔۔ وہ کیوں کیا تم نے”سادام بولا ۔۔۔ تو فضل خان نے سر تھامہ ۔۔۔ اس دن سے آج تک وہ انھیں اسی بات کا طعنہ مارتا آیا تھا ۔۔ شاید وہ سب بھلا سکتا تھا صرف اس بات کے ۔۔۔
تب وہ صرف بارہ سال کا تھا ۔۔۔۔
سب مسکرا رہے تھے جبکہ فضل خان نے اسکی پیشانی پھر سے چومی ۔۔۔
کیونکہ تم ہماری آنکھوں کا تارا ہے تمھارا بنا سات ماہ بڑا تڑپا ہے ہم ۔۔۔۔ ایک ایک پل احساس ہوا ۔۔ کہ تم ایسانہیں کر سکتا ۔۔۔ “وہ بولے ۔۔تو سادام نے سر ہلایا ۔۔۔
اور سب کے چہروں کی مسکراہٹ اس ملاپ پر گھیری ہو گئ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاناں نے جانے کی بہت ضد کی مگر ہاد اسے لے کر نہیں گیا ۔۔اور یوں چار دن بعد سادام فضل خان ۔۔۔ حویلی میں داخل ہوا تو جیسے ایک جشن کا سماں تھا ۔۔ سب ملازم آگے پیچھے تھے ۔۔۔
اسکو اسکے کمرے میں پہنچایا گیا ۔۔۔
جاناں اسکے پاس بیٹھی مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔
اے جاناں تم گیند بن گیا ہے ۔۔ ہم پر وزن پڑتا ہے”وہ بولا تو جاناں اس سے دور ہوئ ۔
لالا آپ کتنے بدتمیز ہیں”وہ خفیف سی ہوئ ۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں نہ اپکو درد تو نہیں میں نے آپکے لیے منتیں اٹھائیں ہیں ۔۔۔”وہ اسکو بتانے لگی سادام مسکرا رہا تھا ۔۔
فضل خان ۔۔ ہاد شھاب عنایت ۔۔۔ سب اسکے کمرے میں تھے جبکہ اسکی ماں دروازے میں کھڑی اسکو خیریت سے دیکھ کر ۔۔۔ شکرانے کے نفل ادا کرنے چلی گئ تھی جبکہ اب اس جگہ پر زریش کھڑی تھی ۔۔ زرا اوٹ میں کہ کسی کی نگاہ اسپر نہ جائے مگر ایک نگاہ نہ دیکھتے ہوئے بھی محسوس کر چکی تھی مگر ادھر دیکھنا اب ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔۔
اچھا تو تم کیا منت اٹھایا ہے”وہ بولا ۔۔ تو جاناں اسے اپنی منتوں کی لسٹ سنانے لگی ۔۔
اور ہاں میں نے یہ بھی کہا اللہ جی میرے لالا ٹھیک ہو جائیں تو میں سلطان کو ۔۔ کسی غریب کو دے دوں گی”اسنے پرجوش ہو کر بتایا ۔۔ سادام کا منہ کھلا ۔۔ سب کے چھت پھاڑ قہقہے ابھرے ۔۔۔
ائے یہ لڑکی کیا بولتا ہے”سادام حیران تھا ۔۔
تم ہمارے لیے ہمارا سلطان مطلب ہمارا گردے پر منت اٹھا چکا ہے ۔۔کمال جاناں میڈم بہت سمجھدار ہے تم”وہ غصے سے اسے گھورتا بولا ۔۔
لالا کیا ہو گیا اب میں نے منت اٹھائ ہےا ور اللہ کی راہ میں پیاری چیز وقف کرنی چاہیے”وہ اسے بھرپور چیڑا رہی تھی ۔۔
لالا میں تو کہتا ہوں اس گائے کو وقف کر دیتے ہیں اب یہ بھی تو ہمیں پیاری ہے”ہاد ۔۔ مزے سے بولا ۔۔ تو سادام متفق ہوا۔
لالا ۔۔ آپ آپ ۔۔”جاناں سے کوئ بات نہ بن پڑی تو ایک بار سب پھر ہنس دیے ۔۔۔
اچھا پلیز لالا سلطان
کے بچے اوکے”جاناں پھر اسی ٹریک پر ائی۔۔۔
جاناں ہمارا سلطان کا ایک بچہ تو کیا اسکا بال بھی نہیں دے گا ہم تم نے اٹھایا ہے منت تم خود کرے گا جو کرنا ہے”سادام نے ہری جھنڈی دیکھائی ۔۔ زریش کی آنکھیں بھیگیں ۔وہ سب کتنے خوش باش دکھ رہے تھے اکھٹے ۔۔۔۔
ویسے خان ۔۔ سلطان کی بیگم تو پھر سے ۔۔۔ ہے اب کیا فرق پڑتا ہے ایک بچہ ہم کسی کو دے دیں تو “عنایت جاناں کی مسکین شکل دیکھ کر بولا ۔۔۔
عنایت ہم تمھارا ٹانگیں توڑ کر نہ دے دے ۔۔۔ “سادام نے آنکھیں نکالیں ۔۔ تو سب ہنس دیے ۔۔۔
بھاگو اب یہاں سے سارا ہمارا سر پر سوار ہے”وہ سب کو دیکھ کر بولا ۔۔۔ تو سب بری بری شکلیں بناتے ۔۔ وہاں سے جانے لگے ۔۔
جاناں نے زریش کو دیکھا ۔۔ چہرے پر سنجیدگی چاہ گئ ۔۔۔
جاؤ تم یہاں سے ۔۔ کیا دیکھنے آ گئ ہو “وہ غصے سے بولی ۔۔۔
زریش ۔۔۔ نے نم پلکیں اٹھائیں ۔۔۔
جاناں”تنبیہ کرتی آواز اپنی پشت سے سن کر جاناں نے پاؤں پٹخے ۔۔۔
ہمارا بیوی ہے ۔۔۔۔ یہ بات تم لوگوں کو بھولنا نہیں چاہیے”وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔
ہاد اور شھاب سن کر باہر نکل گئے جبکہ عنایت بھی ۔۔۔
مگر لالا”اسنے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔
اگر مگر کا سوال نہیں ۔۔”وہ ٹوک گیا ۔۔ جاناں باہر نکل گئ ۔۔۔
جبکہ دروازہ کھلا تھا زریش وہیں کھڑی تھی ۔۔ سادام نے زریش کیطرف نہیں دیکھا ۔۔
زریش کا دل پھٹنے کو تھا ۔۔ اسکے پیٹ پر پٹیاں بندھیں تھیں ۔۔۔ سادام نے الٹے ہاتھ سے موبائل اٹھایا ۔۔اور عنایت کو ملائ کال ۔۔
وہ تو جیسے باہر کھڑا تھا ۔۔ فون بند کرتا فورا اندرایا ۔۔۔
کھیتوں کا سارا حساب ۔۔ بتائے گا تم رات تک اور وہ ہوٹل پبلک ریزورٹ کر دے ۔۔۔ “اسنے کہا تو عنایت نے سر ہلایا ۔۔
اور ہاں ۔۔ ہفتے بعد گھڑ ریس مقابلہ کا علان بھی کر دے”اسنے کہا
جو حکم خان” عنایت نے کہا ۔۔ اور باہر نکل گیا ۔۔۔۔
زریش نے آنسو صاف کیے ۔۔۔ وہ کچھ تو بولے مگر وہ کچھ نہیں بولا ۔۔ تو زریش کانپتے قدموں سے اندر آ گئ ۔۔۔ اور کچھ جھجھکتے ہوئے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
اسکو سادام کی کچھ دنوں پہلے کی بات یاد آئ ۔۔
یہ ہوٹل ہم تمھارا لیے بنوایا ہے ۔۔ “اور اب اسنے وہ ایک پبلک ہوٹل کر دیا تھا ۔۔۔
دکھ سے اسکی آنکھیں بھیگتی چلیں گئیں تھیں ۔۔۔
سادام ایسے ہو گیا تھا کمرے میں اور کوئ جیسے نہ ہو ۔۔۔
زریش خود سے آگے بڑھی ۔۔۔
وہ موبائل پر کوئ میسیج لکھ رہا تھا ۔۔۔۔
زریش اسکے قدموں میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔ اسنے انپر ایک احسان کر دیا تھا وہ کھلے عام سب کو ولی پر کیس کرنےسے روک چکا تھا ۔۔
زریش کو رونا آنے لگا وہ کس طرح پھنسی تھی ۔۔۔
سادام نے کوئ ریسپونس کیے بنا ۔۔۔ موبائل ایکطرف پھینکا اور کمبل میں منہ دے کر ۔۔ وہ گویا سو رہا تھا ۔۔۔۔ زریش وہاں سے اٹھ گئ صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
مگرا نکھ سےا نسو جدا نہ ہوئے دل کی بے چینی بڑھ گئ تو اسنے وضو کی نیت سے واشروم کا رخ کیا۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالی کمرہ منہ چیڑا رہا تھا ۔۔ اسکے وجود کا وہ اڈیکٹ ہو چکا تھا ۔۔ اسکا ہونا اسکے لیے اطمینان سکون کا باعث تھا ۔۔ وہ چلی گئ تھی تو دل کمرے میں لگتا ہی نہیں تھی سادام نے اسپر حسان کر دیا تھا ۔۔ کسی قسم کی کوئ کاروائ چلانے پر اسنے منع کر دیا تھا ۔۔
اور کیسے وہ ۔ اسکا احسان ۔۔ برداشت کر لیتا ہاں یہ بات اسکے لیے بھی سکون کا باعث تھی کہ وہ زندہ تھا ۔۔۔ اسکوکچھ ہو جاتا تو ۔۔لازمی سب بگڑ جاتا ۔۔
مگر احسان بھی ہضم نہیں ہوا تھا ۔۔۔
اور یہ کمرہ جاناں کے بنا کمرہ نہیں لگ رہا تھا تبھی وہ جیپ کی چابی اٹھا کر باہر نکلا تو نمل سامنے آ۔ گئ ۔۔
کہاں جا رہے ہو “اسنے سوال کیا ۔۔
نمل میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا میرا راستہ چھوڑ دو “اسنے اسے پرے دھکیلا ۔۔۔
نمل اس سے پہلےا سے پکڑتی وہ باہر نکل گیا ۔۔
اسکا دماغ جیسے بھنا اٹھا ۔۔ اور اسنے یہاں سے چلنے کی بات اپنی دادی سے کی ۔۔۔
جبکہ ولی جیپ میں بیٹھا سیگریٹ پیتا ادھر ادھر گاڑی بے مقصد چلا رہا تھا ۔۔۔
پھر روڈ کے بیچم بیچ گاڑی روک کر ۔۔ وہ باہر نکلا اور ۔۔ گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگا کر وہ سیاہ رات کی تنہائی اور سیگریٹ کے شعلے کو محسوس کرنے لگا ۔۔۔ جو اسکی انگلیاں جلا چکے تھے ۔۔
مجھے تم چاہیے ہو ابھی “اسنے سرخ نظروں سے ان شعلوں میں جاناں کو تلاشہ تھا ۔۔۔
اسے احساس سا ہوا ۔۔ جیسے کوئ کھیتوں میں سے گزرا ہے ۔۔۔
وہ حیران ہوا ۔۔۔۔
سیگریٹ کو منہ میں دبایا اور آگے بڑھا ۔۔ تو سادام فضل خان کے کھیتوں کیطرف ایک ہویلہ دیکھ کرا سکا دماغ جیسے الرٹ ہوا ۔۔
اس ہویلے نے ولی کو محسوس نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
ولی نے سیگریٹ کو بھجا دیا ۔۔کہیں وہ شعلے کو دیکھ کر الرٹ نہ ہو جائے ۔۔۔
وہ ہویلہ کچھ کر رہا تھا ۔۔ ولی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر سادام کے کھیتوں میں اتر گیا ۔۔۔۔
اسنے ایک نظر مڑ کر پیچھے دیکھا ۔ہو کا عالم تھا سناٹا سکوت ۔ ۔ اور ٹھٹھرتی رات ۔۔۔
وہ قریب جانے لگا اور پھر کچھ فاصلے پر رک گیا ۔۔
دو لوگ سرگوشی نما آواز میں گفتگو کر رہے تھے ۔۔ ولی انکی بات سننا چاہتا تھا ۔۔۔۔
آج نہیں ۔۔ ہفتے بعد جب ۔۔ گھڑ مقابلہ ہو تو ۔۔ ان کھیتوں کو جلا دینا ۔۔۔ اور پنچائیت میں اس بات کو قبول کر لینا کہ تمھیں چوہدری ولی نے کہا تھا کہ سادام فضل خان کے کھیت جلا دیں “آواز جانی پہچانی تھی ۔۔ اسکا دماغ پھٹنے کے قریب تھا آنکھیں ابل پڑیں تھیں ۔۔۔۔
وہ دو قدم دور ہوا ۔۔ ۔
سارے معملات فلم کیطرح اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۔۔۔
لگتا ہے وہاں کوئ ہے”اچانک اسے اسے آواز آئ ۔۔
ولی پیچھے کیطرف درخت کی اوٹ میں چھپا ۔۔
کوئ نہیں ہے ۔۔ جاؤ تم بس ۔۔ جو کہا۔ ہے وہ کرنا ۔۔ اس بار سادام بچ گیا ہے اگلی بار یہ دونوں ایک دوسرے کو مار دیں گے ۔۔۔”وہ نفرت سے پھنکارا ۔۔ ولی آہستگی سے انکے نکلتے ہی ۔۔وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
عجب انکشاف ہوا تھا ۔۔۔ کہ وہ منہ سے لفظ ادا نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھا ۔۔۔ اور گاڑی سٹارٹ کی ۔۔ اسے یقین تھا وہاں اب کوئ نہیں ہو گا ۔۔ وہ حویلی کی جانب پلٹ گیا ۔۔۔
جاری ہے
