Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 15
وہ کمرے میں داخل ہوا تو رات دیر ہو چکی تھی…
مگر آئزہ کو جائے نماز پر دیکھ کر… وہ اسکے پرنور چہرے کو دیکھ کر مسکرا اٹھا..
آئزہ نے پیچھے آہٹ محسوس کی اور وہ اپنی جگہ سے اٹھی آنسوں سے تر چہرہ صاف کیا… شہریار اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا..
سفید دوپٹے کے حوالے میں وہ اسکے دل کے تاروں کو چھیڑ رہی تھی….
وہ اگے بڑھی اور اسکیطرف دیکھا…
پانی لاو اپکے لیے”وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی.
شہریار کو خوشی کا احساس ہوا اور وہ پل میں اسے اپنے بازوں کی نرم پرجوش گرفت میں لے گیا…..
ایم سوری آئزہ” وہ اسکے گال پر ہاتھ پھیرتا بولا….
میں غصے میں تمھارے ساتھ بہت نا انصافی کر چکا ہوں… بس مجھ سے برداشت نہیں ہوا کہ.. تم نے وہ پیپرز سائن کر دیے..
مگر شاید…
میں اپکے غلام کی حثیت رکھتی ہوں صرف اور غلاموں کو صفائیاں نہیں دی جاتی… آپ کو کھانا لا دوں” وہ بولی تو شہریار.. اسکا چہرہ دیکھنے لگا…
اور سے اپنی گرفت سے آزاد کر گیا…
آئزہ میری بات کا مطلب وہ نہیں…
شہریار اپکو کیا ہو گیا ہے… آپ مجھے کیوں صفائیاں دے رہے ہیں.. میں اپکے لیے کھانا لاتی ہوں.. اور اسکے علاوہ آپکی خدمت کے لیے جو آپ چاہیں گے میں کر دوں گی…
مگر آپ مالک ہیں آپ کا ہے یہ سب.. اپ دو منٹ میں میرے ماں باپ کو بھکاری بنا دیں گے… اور میں ایسا تو نہیں چاہتی میں کھانا لاتی ہوں “
وہ کہہ کر اسے حیران و پریشان چھوڑتی آگے چلی گئ..
جبکہ شہریار وہیں جم گیا… .
…………….
وہ آج پھر سو نہیں سکا تو… صبح کی کرنیں نکلنے سے پہلے ہی وہ ڈیرے سے نکل کر… آبادی کی طرف چلنے لگا…. یہاں تک کے وہ اسی گھر تک پہنچ گیا… مگر فاصلہ اب بھی کافی تھی وہ اگے بڑھا.. اور بلکل اسی روز کیطرح وہی نسوانی چیخ اسکی توجہ کھینچ گئ…
جبکہ ایک چیخ کے بعد آج چیخ نہیں روکی.. درد سے دوہرا ہوتا کوئ چلا رہا تھا…
اور پھر اچانک وہ چیخیں دم توڑ گئیں اور بلکل اسی طرح خاموشی چاہ گئ…
شہاب کے ماتھے پر کئ بل نمودار ہوے وہ ایسا شخص نہیں تھا جو کسی کی کئیر کرتا کسی کے ہونے نہ ہونے سے اسے کون سا فرق پڑتا تھا…
مگر یہ چیخ اسکو عجیب کیفیت کا شکار کر دیتی.. وہ اگے بڑھنے لگا…
سفید شال لیے وہ گھنی مونچھوں اور سفید رنگت والا… شخص پوری شان سے چلتا….
آبادی میں آ گیا… کہ ایک کسان اسے نظر آیا جو اپنا کھیتی باڑی کا سامان لیے کھیت کیطرف بھڑ رہا تھا…
شہاب نے اسے روک لیا جبکہ وہ اسکی ان بان دیکھ کر سمھجہ گیا کہ نوابوں سے اسکا کوئ تعلق ہو گا تبھی موادب ہوا…
یہ یہاں چیخنے کی اواز کیوں آتی ہے”وہ جانتا تھا کافی نون سینس سوال کر رہا تھا.. مگر وہ خود کو بعض نہیں رکھ سکا…
وہ جی بیلا ہے اس کا شوہر بڑا ظالم ہے جی….
بہت مارتا ہے بہت مارتا…. نہ جانے کیا کیا ظلم ڈھاتا ہے کہ.. بچی ایسے دل ہار کے چیختی ہے…. اب تو باو ہمیں عادت ہو گئ ہے لگتا آپ نئے ہیں یہاں “وہ مسکرایا خوشامد کرنے لگا…
کبھی سادام کو نہیں بتایا تم لوگوں نے” وہ اسی گھر کو دیکھتا پوچھنے لگا..
وہ جی خان صاحب کو کیا بتاتے… انکے پہلے ہی بہت مسلے…
بکواس بند کرو.. یہ اسکا گاوں ہے اور یہاں کوئ شخص…. مصیبت میں ہے اور اسے علم نہیں “وہ اچانک غصے سے بھڑکا.. کسی ان دیکھے سے اسے نہ جانے کیوں.. ہمدردی ہو رہی تھی اور یہ پہلی بار تھا…
کسان خاموش ہو گیا..
جاو” اسنے کہا.. اور پلٹ گیا……
کل وہ خود سے دوبارہ یہاں انے کا ارادہ رکھتا تھا…
سادام واقعی اپنے جھمیلوں میں بری طرح الجھا ہوا تھا اوپر سے وہ اب شراب بھی پینے لگا.. تھا… جس کی بنا پر اکثر اسکی طبعیت خراب رہنے لگی تھی… آدھے سر میں درد سا ہوتا تھا
…………….
خان” عنایت نے دیکھا سادام خان بکھرے سے حولیے میں اپنے سلطان کی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا…
جو آج ہی باپ بنا تھا وہ خوش تھا اسکی بیوی بھی خوش تھی.. مگر سادام تو خوش نہیں تھا….
عنایت کے پکارنے پر وہ اس بکھرے حولیے میں بھی اپنی شخصیت کا اثر اسپر چھوڑتا… مڑا…
خان دلشیر مر گیا”عنایت جیسے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا….
جیسے وہ خود اس بات پر کھول رہا ہو..
سادام کی سرخ آنکھوں میں مزید سرخی پھیلی.. وہ عنایت کے قریب آیا.. اور بنا لحاظ کے اسکے منہ کو تھپیڑوں سے سرخ کر دیا..
عنایت خاموش کھڑا رہا…
تمھارا پھنچنے سے پہلے اسکا پاس کون پہنچا… عنایت بادشاہ”وہ خون کے گھونٹ بھرتا بولا…
عنایت نے خاموش رہنے میں عافیت سمھجی…
جبکہ وہ غصے سے اسکا گریبان پکڑ گیا…
بولتا ہے یہ.. تجھے الٹا لٹکا دے.. عنایت تجھ سے غداری کی بو آ رہی ہے” وہ خون آشام آنکھوں سے دیکھتا دھاڑا…
خان اپکا میرا نمک کا رشتہ ہوتا تو غداری کے امکان تھے مگر ہمارا روح کا رشتہ ہے اور آپ سے غداری کا مطلب میں نےا پنے ماں جائے سے غداری کی ہے… مگر آپ فکر نہ کریں… آپ پر الزام لگانے والا اور جاناں بی بی کے ساتھ یہ سب کرنے والا اپنے انجام تک ضرور پہنچے گا “وہ عزم سے بولا.. اور یہ بات سادام خود بھی جانتا تھا کہ.. وہ اس سے کبھی جھوٹ نہیں بولتا.. تبھی اسے دھکا دے کر وہ باہر نکلا.. عنایت اسکے پیچھے پیچھے تھا…
شہاب صاحب نے حکم دیا ہے کہ آج… بی بی کو اٹھا لیا جاے” وہ اسکو بتانے لگا..
کافی دیر لگا دی.. “
وہ جیسے جتا گیا کہ اسکا حکم ماننے میں دیری برتی گی ہے.. عنایت سر جھکا گیا…
جاو اور اسطرح لے کر آنا…. کہ اسے چھو نہ سکے کوئ ورنہ کے اگے تم جانتے ہو “وہ دھمکی دیتا بولا.. اور کافی دنوں بعد اسنے.. حویلی کیطرف قدم بڑھائےفضل خان نے بیٹے کواتے دیکھا اسکے پیچھے شہاب بھی تھا..
ہماری جاناں صیحی نہیں ہے.. سادام خان…” وہ بے چینی سے بولے…
تو سادام نے انکیطرف دیکھا…
خود کو جو خود برباد کرتا ہے.. اسکا ہم کچھ نہیں کرسکتا. ” دو ٹوک بات کہہ کر اسنے شمائلہ کو کھانے کا اشارہ کیا.. جبکہ نور بھی آج کل یہیں نظر آنے لگی تھی….
سادام…”
بابا سائیں… ہم اپنے اصولوں کے خلاف کبھی نہیں جائے گا.. دوبارہ اس موضوع پر بات کرنا نہیں” اسنے اپنی ماں کو کھانا لگاتے دیکھا اور…
چپ چاپ کھانا کھانے لگا….
وہ مزید کوئ بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا اگر وہ اس موضوع پر کوئ بات کرتا تو ضرور وہ چوہدریوں کے پاس سے اسکو.. لے آتا….
……………….
وہ مہارانی کیا کر رہی ہے جو نکلی نہیں” وہ غصے سے بولیں… تو شکیلا… نے اسکیطرف دیکھا..
بڑی بی میں دیکھ کر او” وہ زرا جھک کر چلاکی سے بولی…
ہاں جا زرا” انھوں نے اثبات میں سر ہلایا….
تو وہ جلدی سے ولی کے کمرے کیطرف بڑھی… کہ پیچھے سے بڑی بی نے پھر سے پکارا تو وہ چھم سے انکے پاس ای..
زرا دیکھ لیو اچھے سے…. “وہ معنی خیزی سے بولیں تو شکیلا انکی بات کا مفہوم سمھجتے ہوئے… اثبات میں سر ہلا گئ….
اور تیزی سے ولی کے کمرے کیطرف بڑھی.. دروازہ بجایا مگر دروازہ تو کھلا تھا وہ اندرآ گئ تو جاناں کو بے ترتیبی سے بستر پر پڑے دیکھ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر… اسکے نزدیک ائ…
اسکے سر پر چوٹ کا نشان تھا جبکہ… وہ اپنے حال سے بے حال پڑی تھی شکیلا باہر بھاگی..
ہاے بڑی بی مر گئ لگتا ہے مر گئ”وہ چیخی تو رقیہ جلدی سے ولی کے کمرے میں گئی اور وہاں کا نظارا دیکھ.. وہ اس تک پہنچی جب کے پیچھے پیچھے دادی بھی آ گئیں تھیں…
اس ڈرامے باز کو اٹھا پہلی عورت ہے.. جو” وہ چپ ہوئیں رقیہ اس نازوں سے پلی لڑکی کو سمیٹ رہیں تھیں جبکہ آنکھیں بھی نم تھیں…
شکیلا ڈاکٹر کو بلاو” وہ زرا سخت لہجے میں بولی..
تو شکیلا نے ڈاکتر کو کال کر ہی لی..
جب تک ڈاکٹر نہیں ایا وہ سب وہیں رہے..
کمزور ہیں یہ… اور شاید خوراک بھی نہیں لی”وہ دوائیاں لکھتا اسکے زخموں سے نظر چراتا بولا…
اور رقیہ بیگم کے ہاتھ میں پرچہ تھما کر چلا گیا.. جبکہ.. دادی اسے باتیں سنا رہیں تھیں جو ہوش میں بھی نہیں تھی اسکے بازوں میں ڈریپ لگا دی گئ تھی رقیہ بیگم اسکے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرتی رہیں…اور بڑی بی خود ہی بول بول کر تھک کر چلی گئیں….
تو نرم ہاتھوں کی گردش پر جاناں کی آنکھ کھلی.. اور اسی مہربان عورت کو اسنے اپنی پیشانی چومتے دیکھا…
تبھی دھڑ سے دروازہ کھول کر ولی اندر داخل ہو گیا…
تو اپ بھی اس ڈرامے باز کی حرکتوں سے متاثر ہو گئیں “وہ تمسخر سا ہنستا… ماں کو دیکھتا…ڈریسنگ کے پاس ایا… اور اپنے بال بنانے لگا.. جاناں اسے خوف زدہ سی دیکھ کر اٹھ کر بیٹھی..
بیٹا لیٹ جاو.. تمھاری طبعیت نہیں ٹھیک” انھوں نے اسے روکا جبکہ.. ولی کو اسکا خوف محسوس کر کے تقویت سی ملی…
جاناں نے نفی کی اور اٹھ کر بیٹھی… ولی بھی اب اسے دیکھ رہا تھا کچھ ایسی نظروں سے کہ پانی جاناں کے حلق سے نہیں اتر رہا تھا.. جو… اماں اسے پلا رہیں تھیں…
جاناں نے پانی کا گلاس ہٹا دیا.. اور…. رونے لگی…
کیا ہوا میری جان”انھوں نے اسے بانہوں میں بھرا…
یہ… یہ م.. مجھے گھور رہ.. رہیں ہیں” وہ مسکتی ہوئ خود کو… انکے سینے میں چھپا گئ.. جبکہ اماں نے افسوس سے ولی کو دیکھا جو شانے اچکا گیا.. مگر اس ادا پر اسکا دل دھڑکا….
اسکا انداز بہت بھایا تھا….
کچھ نہیں ہوتا چندا… ایسے مت رو چلو شاباش میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں” وہ اٹھنے لگی..
نہیں پلیز. آپ مت جائیں” وہ انکا ہاتھ تھام گی جبکہ… ولی نے تیوری چڑھا کر اسکو دیکھا…
اور جاناں کا ہاتھ انکے ہاتھ پر سے ہٹتا چلا گیا….
اسکا دل چڑیا کیطرح سہما ہوا تھا..
اماں اسکے سر پر پیار کر کے…. اسکے لیے کھانا لینے چلی گئیں جبکہ ولی.. نے دروازے کی کنڈی چڑھا کر اسکو چیخنے پر مجبور کر دیا…
جا… جائیں آپ.. اپ یہاں سے.. “وہ سسک کر روتی دور ہونے لگی..
جبکہ ولی اسکے نزدیک ایا. اور اسکا ہاتھ پکڑ٤ کر اپنی طرف کھینچا جاناں اسکے چوڑے سینے میں سمائ
اتنا ڈر مجھے اچھا لگا…..” وہ اسکے بال اسکی گردن سے پرے دہکیلتا ایکدم… اسپر جھکتا کہ جاناں کسمسا کر اسکی گرفت سے نکلی..
وہ رو رہی تھی مسلسل. رو رہی تھی…
ولی نے غصے سے اسکے بال جکڑے اور اچانک اسکی گردن پر جھکتے. وہ کافی شدت دیکھا رہا تھا.. جاناں سسکتی رہی… اور اسکے نشانوں میں مزید اضافہ کر کے اسکو تڑپا کر وہ.. مطمئین سا دور ہوا…
آئندہ جھٹکنے کا سوچا تو تمھارا حشر بگار دوں گا “وہ اسکو روتا دیکھ بولا..
چلو اٹھو. اور میرے پاوں دباو” وہ اسے زیچ کرتا بولا…
تبھی… دروازہ بجا تو اسنے برا سا منہ بنایا…
ولی دروازہ کھولو “وہ بولیں تو جاناں اپنی ڈریپ کی پرواہ کیے بنا دروازے تک پہنچی…
انٹی مج.. مجھے مجھے اس کمرے..
شیٹ آپ” وہ دھاڑا جاناں رک گئ.
.واپس او ادھر” وہ وہیں سے چیخا…
جاناں ہونٹ کاٹتی.. پلٹی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگی وہ..
بیڈ پر بیٹھ گئ
اماں آپ کھانا رکھ دیں… مجھے بھی بھوک لگی ہے “وہ کھانا ان سے لے کر بولا تو وہ اسپر ترسیلی نگاہ ڈالتی.. باہر نکل گئ..
جاو کمرے کو کنڈی لگاو”وہ گھور کر بولا…
تو جاناں اٹھی ڈریپ تو ہاتھ سے نکل گئ تھی…
وہ دوبارہ اسکے سامنے بیٹھی..
کھانا کھاو”اسنے اگلا حکم دیا..
جاناں سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا…
مگر وہ کانپتے ہاتھوں سے.. نوالہ توڑ کر منہ میں رکھتی کہ ولی نے اسکاہاتھ پکڑا… اور دانتوں تلے اسکی نازک انگلیاں لے لیں..
آہ” جاناں سسکی…
مزے کا تھا”وہ مسکرایا.. اسے زیچ کر کے سکون مل رہا تھا…
اور اسی طرح وہ اسے کھیلاتا رہا اور خود بھی کھاتا رہا جبکہ جاناں کے آنسوؤں ٹوٹ ٹوٹ کر ماتم کر رہے تھے خود کے ہونے پر.
……………..
جاری ہے
