50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

آج ہمارا گھوڑا میدان میں اترے گا… ہم نے اسکا ہیروئین کو اس سے دور کیا کہ وہ… اسکا زنگ نہ لگاے تو ہمارا ہیروئین ہمیں زنگ لگانے آ گیا.. “وہ اسے گھورتا ہوا مسکراہٹ لبوں میں چھپائے بولا.. جو معمول کیطرح باغ میں سے اسکے لیے پھول اکھٹے کر کے لائ تھی…
کیا مطلب” زریش نے اسکو آنکھیں گھما کر دیکھا…
میں اپ سے ملتی ہوں تو اپکا کوئ کام ٹھیک نہیں ہوتا “وہ حیران ہوئ…
ہاں نہیں ہوتا.. تم سے ملنے کے بعد ہم ایسے گیرہ گیرہ رہتا ہے تمھارے ساتھ خوابوں میں رومینس جھاڑتا ہے.. تمھیں پکڑتا ہے اور.. کس
بس بس “وہ سرخ ہوتی اسے ٹوک گئ تو سادام کا قہقہ ابھرا…..
اور اسکے شرمائے شرمائے. چہرے کو اسنے چاہت سے دیکھا…
پتہ ہے اچھا بات کیا ہے…” اسکی نظریں زریش کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں…
زریش نے پلکیں اٹھائیں اور اسکیطرف دیکھا…
اچھا بات یہ ہے کہ تم چوہدریوں کا لڑکی نہیں.. ورنہ ہمارا محبت شروع ہونے سے پہلے… دم توڑ دیتا” وہ ہلکا سا ہنسا… تو زریش نے اسکا ہاتھ پکڑا..
شکرا ہے اللہ کا.. ویسے اگر میں… انکی بیٹی ہوتی تو” وہ اہستگی سے سوال کرنے لگی…
تو ہم تمکو قتل تو کر دیتا مگر سوچ میں بھی تمھارا ساتھ رومینس نہیں جھاڑتا “وہ شرارت سے اسکو دیکھنے لگا جبکہ زریش مسکرا کر رخ پھیر گئ….
اب تمھارا ادائیں بھی قاتلانہ ہے… اور ہم تو مرتا ہے مرتا ہے تم پر”وہ اسکے نازک ہاتھ پر لب رکھ گیا… جسے زریش نے فورا اسکے ہاتھ سے علیحدہ کیا…
یاد ہے مجھے کتنا مرتے ہیں اپ “اسنے اپنی کلائ پر اسے اپنے دانتوں کے نشان دیکھائے. تو سادام شرمندہ ہونے کے بجائے ہنس دیا…
اور اس نشان پر بھی اپنے لب رکھے جو اب نیلے ہو چکے تھے..
تو ڈھولا… تم کو کون ہمارے خلاف جانے کا بولتا ہے.. تم ہماری مرضی کے مطابق چلے گا.. خوش رہے گا… تمھیں ہم محبت کرے گا… سینے پر سلائے گا… مگر ہمارے خلاف جائے گا.. تو معافی کا گنجائش بھی نہیں نکلتا.. “وہ اسکی بالوں کی لٹوں کو نرمی سے چھوتا زرا سختی سے بولا…
زریش نے سر جھکا لیا….
اپکو غصہ بہت آتا ہے” وہ منمنائ…
ہم تم پر غصہ نہیں کرے گا.. تم ہمارا بچہ کی اماں بنے گا… بھلہ ہم کیسے کرے گا غصہ..
اف اف “زریش اٹھ گئ.. اسکے پاس مزید بیٹھنا مطلب شرم سے مسلسل سرخ ہوتے رہنا جبکہ اسکے جاندار قہقہے الگ دلکش تھے…
اتنا نازک ہے گھبراتا ہے… ہمارے ساتھ گزارا کیسے کرے گا.. تبھی ہم کہتا ہے.. ہم شادی کسی اور سے کر لیتا ہے.. تم تو عاشقی بھی برداشت نہیں کر پاتا” وہ آنکھیں گھما کر بولا.. جبکہ زریش کے اسکی بات مکمل ہوتے ہی لب سکڑ گئے. آنکھیں بھرا گئیں….
نواب جی آپ ایسا کیوں کہتے ہیں” وہ اسکے پاس ائ..
کیونکہ یہ سچ ہے.. لڑکی… تم ہمارا محبوب ہے ہمارا دل ہے ہمارا جان.. ہے “وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا… اسکے قریب ہونے لگا کہ زریش دوبارہ اٹھ گئ…
ناراضگی کو چہرے پر سجائے… وہ دوسری طرف چل دی… سامنے سے سفید بکری کا بچہ دیکھ کر وہ مسکرائ سادام اسے ہی دیکھ رہا تھا… اسکی وجہ سے تو اتنی صبح اٹھتا تھا….
اور اپنے خاص ڈیرے پر.. وہ ہر روز ایک حسین صبح کو اسکے ساتھ انجوائے کرتا تھا…..
جبکہ پھیرہ داری پر صرف عنایت تھا… وہ بھی خاص طور پر بابا جان کی وجہ سے.. انھیں یہ سب معلوم ہوتا تو نئے سرے سے دکھ ہوتا….
اور وہ انھیں دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا….
اپنے باپ سے محبت اسے شاید ورثے میں ملی تھی کیونکہ اسکا باپ بھی اپنے باپ پر جان چھڑکتا تھا اور وہ بھی…
یہ کتنا پیارا ہے نواب جی”زریش اسے گود میں اٹھا کر اسے پیار کرتی…. بولی… جبکہ سادام نے اس بکری کے بچے کا رخ اپنی طرف کیا…
وہ چھوٹا سا میمنا حقیقتاً پیارا تھا مگر اسکی خطا.. یہ تھی کہ وہ زریش کی گود میں تھا….
تم لڑکیاں ایسے جانور پر مرتا ہے جیسے تمھارا محبوب تم پر مرتا ہے.. سارا کا سارا فولیش ہے “اسنے نفی کی تو… زریش.. نے اسکیطرف دیکھا…
کیونکہ وہ بہت پیارے ہوتے ہیں” وہ منہ بنا کر بولی.. اور میمنے کو مزید خود میں سمونے لگی….
ہاں تو پھر گدھے کو بھی ایسا گود میں لیے لیے پھیر.. یا لومڑی کا بھی…. ہممم… کاکرچ کو تو ساتھ سلایا کر… اور چھپکلی کے ساتھ رومینس جھاڑا کر” وہ ناگواری سے بولا….
جبکہ زریش ہنسنے لگی… اسکی مدھر کھلکھلاہٹ باغ میں پھیل گئ…
اف.. اپ کتنے گندے ہیں” وہ منہ بنا کر بولی….
ایسا ویسا “وہ کچھ جتانے لگا.. اور ساتھ عنایت کو آواز لگائ.. زریش سمھجہ گئ اور جلدی سے میمنے کو زمین پر اتار دیا….
وہ سنجیدگی سے سادام کو دیکھ رہی تھی پھر عنایت کو جبکہ سادام کی نگاہ بھی اسی پر تھی…
عنایت بادشاہ… یہ میمنا آج… جیت کی خوشی میں کھیلاے گا تم اور.. زری سائیں کے ہاں خاص طور ہر دے کر آئے گا… درست”وہ انکھ اچک کر بولا… تو عنایت نے سر ہلایا..
جی خان” وہ میمنا اٹھا کر لے گیا.. جبکہ زریش نے نگاہیں جھکا لیں آنکھوں میں انسو ا گئے….
وہ تو چھوٹا سا بچہ ہے ابھی “وہ اہستگی سے بولی…
دنیا میں کوئ تمھارا پیار کا مستحق نہیں.. سواے سادام فضل خان کے….
تم جس کو پیار کرے گا ہم اسکو کھا جائے گا.. ہمارے سامنے تم اسکو بانہوں میں لیتا ہے اور ہم آہیں بھرے.. واہ سائیں انصاف تو کوئی تم سے سیکھے” وہ چڑ کر بولا… تو زری… کچھ نہیں بولی.. وہ جزباتی تھا وہ جانتی تھی مگر.. پھر بھی وہ بس ایک چھوٹا بکری کا بچہ تھا…
اسکا موڈ خراب دیکھ کر زریش کو اپنا موڈ ٹھیک کرنا پڑا…
میں سلطان کے لیے دعا کروں گی” وہ ہلکا سا مسکرائ..
تم بہت بڑا غدار ہے “وہ ہنس کر اسکو اپنی طرف کھینچ گیا.. جبکہ زریش اسکے سینے سے لگی.. کانپنے لگی…
تم ہمارے لیے دعا نہیں کرے گا “وہ اسکے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھ کر… سرشار ہوا….
جبکہ زریش کی زبان تالو سے لگ گئ کیونکہ اپنی کمر پر اسکی انگلیوں کا رقص وہ محسوس کر سکتی تھی..
بمشکل وہ اس سے الگ.. ہوئ.. اور گھیرہ سانس لے کر خود کو نارمل کیا تو سادام کو ہنسی ائ.. مگر بولا کچھ نہیں….
اب میں جا رہی ہوں “وہ وقت دیکھتی بولی…
لو تم عجیب ہے جب ہم.. تمھارا قریب رہنے کا خواہش کرتا ہے تم فرار ہوتا ہے” وہ.. غصے سے بولا.
. نواب جی کالج کی چھوٹی ہو جائے گی کچھ دیر میں.. “.
پھر ہمارے پاس مت آیا کرو… جاو اب” وہ سختی سے بولا……
زری دوبارہ بیٹھ نہیں سکتی تھی وہ کب سے اسکے ساتھ تھی اور اسکا تو دل ہی نہیں بھر رہا تھا….
سادام نے اسے یوں ہی کھڑا دیکھا تو اپنی شال جھاڑتا اٹھا….
ایک تو تمھارا مسلہ نہیں معلوم ہوتا.. پتلا پتلا دوپٹہ لے کر نکل جاتا ہے. ہماری چادریں اکھٹا کر کے ایک دن دوکان لگائے گا..ظالم”وہ ناگواری سے اسکا پتلہ دوپٹہ.. نظرانداز کرتا اپنی شال سے اسکے حسن کو چھپا گیا….
زریش.. کا دل گدگدایا… مگر وہ بڑی بڑی آنکھوں سے بنا کچھ بولے اسے دیکھتی اسکی شال سے اٹھتی مہنگے پرفیوم کی خوشبو اپنے اندر سمونے لگی…
اب جائے گا یہ تمھیں کندھے پر اٹھا کر ہم لے جائے”سادام اسکی محویت توڑتا بولا.. تو زریش سٹپٹائ…
اور مسکرا کر اسکیطرف دیکھتی خدا حافظ کہتی عنایت کے ساتھ ہو لی جبکہ وہ وہیں سے اسکیطرف دیکھ رہا تھا… گاڑی میں بیٹھتے ہی ایک بار پھر بکری کے بچے کا احساس دل میں جاگا تو وہ جھجھکتے ہوئے عنایت سے سوال کر گئ..
وہ… لالا وہ بچہ زبح تو نہیں کیا. “وہ لفظ توڑ توڑ کر بول رہی تھی..
عنایت کو بلکل اجازت نہیں تھی اس سے بات کرنے کی تبھی اسنے.. بنا کچھ بولے ڈرائیو کرنا ضروری سمھجا کیونکہ یہ سادام کی گاڑی تھی اور کوئ شک نہیں وہ اس وقت انکا یہ سفر اپنے موبائل کی سکرین پر دیکھ رہا ہو… ہاں اسے یہ یقین تھا.. کہ اس نازک سی جان.. کو یہ معمولی سا سوال کافی مہنگا پڑنے والا ہے… عنایت کی جانب سے کوئ سوال نہ پا کر… وہ مایوس سی وہ گئ…
اور گاڑی سے باہر جھانکنے لگی…
اسکی محبت ظلم میں بھی اپنی مثال آپ ہی رکھتی تھی
..
………………….
تم دونوں بس اسکی شادی کر کیوں نہیں دیتے کسی اور گاوں یہ پھر کسی اور علاقے میں بھیج کر.. یہ پیچھلے 19 سال کی سوالی مجھ پر سے اتار کیوں نہیں دیتے “وہ آدمی چیخا.. تو ان دونوں نے اسکی بے حسی کو دیکھا….
صاحب وہ بھلے اپکی بیٹی ہے.. مگر.. 19 سال سے ہمارے ساتھ ہے.. ہمارا دلی رشتہ ہے اس سے… ایسے ہی تو کسی ایرے غیرے سے نہیں بھیائیں گے” عورت بولی…
بات سنو میری ایرا گیرہ ہو یہ کوئ بھی اسے بس فرار کرو اس گاوں سے کب سے اسکے بڑے ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ یہ مصیبت بڑے ہوتے ہی شادی کر کے میرے گلے سے اترے…. اور ہاں اگر زیادہ ہوشیاری دیکھائ تو تمھارے گھر کا دال پانی بھی بند ہو جاے گا.. میں پیسے بھیجوا رہا ہو.. اسے.. اس گاوں سے بہت دور بھیج دو “سوٹ بوٹ میں موجود آدمی ناگواری سے بولتا.. اٹھ گیا….
وہ دونوں بھلے کیا بول سکتے تھے… 19 سال سے اس کا راز چھپائے بیٹھے تھے.. اولاد نہ ہونے کی وجہ سے.. دونوں کو ہی اس سے اپنے بچوں کیطرح محبت تھی… مگر وہ آدمی کتنا بے حس تھا… جب سے وہ پیدا ہوئ تھی تب سے… ہی اسے خود سے کہیں دور پھینک دینا چاہتا تھا نہ جانے کون سی بات تھی جس کے تحت وہ اسے زندہ رکھے ہوے تھا ورنہ مار دینا اتنا بھی مشکل نہیں تھا اسکے لیے.. اسکو…
……………..
ولی کوئٹہ جانے سے پہلے کالج کی تعمیر دیکھ لینا “شہریار جس کی طبعیت ناساز سی تھی… وہ بولا…
تمھیں کس نے کہا ہے میں کوئٹہ جا رہا ہوں… آج گھڑ مقابلہ ہے شام چھ بجے… کوئٹہ میں کل جاو گا” آئینے میں خود کو دیکھ کر بال سنوارتا وہ بولا تو شہریار نے افسوس سے اسے دیکھا..
پتہ نہیں کیا تسکین ملے گی تمھیں اس سے ہار کر” وہ بیڈ سے اٹھتا بولا…
جبکہ ولی نے اسے سخت نظروں سے گھورا…
میرے پاس کوئن ہے… جیت میری ہو گی ایسے نہیں تو ویسے…”وہ کچھ سوچ کر بولا.. شہریار اسکی بات کا مطلب نہیں سمھجا… ابھی وہ کوئ جواب دیتا کہ ملازم نے ولی کے دروازے پر تیز دستک دی… ولی نے غصے سے برش ڈریسنگ ٹیبل پر پٹخا…. اسکے کمرے میں آنے کی کسی کی جرت نہیں تھی..
مگر ملازم عجلت میں تھا دروازہ کھول کراندر آ. گیا..
چوہدری جی.. آگ لگ گی جی غضب ہو گیا.. “وہ گھبرایا ہوا بولا… ولی اور شہریار بیک وقت اسکی جانب متوجہ ہوئے
مطلب کہاں آگ لگ گئ” شہریار نے اسکی طرف دیکھا..
وہ جی کھ… کھیت.. پر جبکہ کالج والی بلڈنگ میں الگ ” ملازم ان دونوں کو اطلاع دینے لگا…
سب چھوڑ چھاڑ وہ اگے پیچھے نکلے تھے… ولی کا تو بس نہیں چل رہا تھا.. سادام کے کلیجے میں آج ہی اپنی رائفل کھالی کر دے جبکہ شہریار کے… کالج کی بیلڈینگ کو دیکھ کر رنگ اڑ چکے تھے کھیت کی بربادی اور کسانوں کا بلکنا…
اور تم یارانہ لگاو ان کے ساتھ… اور ان… (گالی) نے یہ کیا ہے… “ولی دھاڑا… شہریار کے اندر بھی جیسے شعلے ابل اٹھے تھے..
سادام نے یہ اچھا نہیں کیا میں پنچایت بیٹھاو گا” وہ سختی سے بولا اور یہ نیکی تم کر لینا میری طرف سے کوئ امید مت رکھنا سمھجے “وہ نفرت سے کہتا وہاں سے چلا گیا جبکہ آج شہریار کو ولی جائز لگا وہ کبھی ولی کی بات کو اہمیت نہیں دیتا تھا کہ وہ بلاوجہ ان سے دشمنی رکھتا تھا پھر دادی بھی تو بیٹے کا قصور جانے بغیر بس اسکی موت پر بچپن سے ولی کو بھڑکاتی آئیں تھیں…
مگر آج شاید.. سادام نے شہریار سے بھی دشمنی مول لے لی تھی…
اسکے دل میں نفرت کی چنگاریاں اٹھنے لگیں.. اسکی محنت.. اسکا وقت اسکا خواب سب مٹی ہو چکا تھا.. اسکے بستی کے کسانوں کی محنت انکا روز گار سب تباہ ہو چکا تھا…
……………
ہائے اللہ کرے مر جائیں یہ نواب.. انکا گاوں تباہ ہو جائے.. انکی عورتیں بدنام ہوں میرے بچوں کی محنت پر پانی پھیر دیا “دادی کب سے انھیں کوسنے دے رہیں تھیں…
ولی کا دماغ ابل رہا تھا…. کیونکہ شہریار اسے گھڑ مقابلے کے لیے روک چکا تھا… اور ولی کو بھی محسوس ہو چکا تھا.. سادام اس مقابلے میں اپنی چلاکی سے میدان مار لے گا جبکہ وہ اپنی اور بےعزتی برداشت نہیں کر پاتا اور سادام کے سینے کو گولیوں سے بھون دیتا….
تبھی گھڑ مقابلے کے لیے نہ اپنے بندے نہ اپنے گاوں کا ایک بھی فرد اور نہ ہی خود… جائے وقوع پر جمع ہوے.. چوہدریوں کے گاوں کا ایک ایک فرد اس وقت نوابوں کے خون کا پیاسا ہو رہا تھا…
عورتیں تو نیلام. ہو گییں “ولی نے مٹھیاں بھینچی… اور شہریار کیطرف دیکھا..
تم. کچھ کرو گے یہ میں کروں” وہ دھاڑا….
میں نے بات کی ہی… امانت سے وہ پنچایت رات ہی بیٹھے گا “شہریار ادھر سے ادھر چکر کاٹتا.. بولا…
جبکہ ولی کے کچھ بولنے سے پہلے ہی چچی بھی حال. میں ائ.. شہریار نے تو نفرت سے منہ ہی موڑ لیا..
بہت خوب اماں جان.. اپکے دونوں پوتوں نے تو تمغوں کی برسات کر دی…
حویلی کو نقصان باپ نے کم کیا تھا جو بیٹے پگ سنبھالتے ہی پورے گاوں کا نقصان کرنے پر تل. گئے”وہ طنزیہ بولتیں شہریار کی پیٹھ دیکھ کر نگاہ پھیر گئیں…
تو چچی محترمہ اپنے بندے کو چوڑیاں پہنا کر قید کیوں کیا ہوا ہے.. سجا دو اسکے ماتھے پر پگ” ولی بدتمیزی سے بولا…
ولی”شہریار نے غصے سے ٹوکا… تو وہ تن فن کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا…
دیکھ رہیں ہیں آپ… اسکی بدلحاظی”چچی نے اماں کو متوجہ کرایا.. اور بھلہ اماں ولی کے خلاف جاتیں انکے کلیجے میں ٹھنڈ ڈال تو گیا تھا وہ…
چچی بھی سب سمھجتی تھیں تبھی.. اماں کے سامنے.. بنا توقف کے کاغزات رکھ دیے…
یہ کاغزات ہیں اماں.. شہریار اور ائزہ کی طلاق کے… شہریار سے کہیں انپر دستخط کر دے “وہ بولیں تو.. شہریار… جھٹکا کھا کر پلٹا….
اے بہو پگلا گئ ہے کیا بکواس کیے جا رہی ہے پہلے تو میں تیرے دماغ کا فطور سمھج کر ٹالتی رہی تو تو… من مانی پر اتر گئ ہے” انھوں نے جھاڑ دیا…
اماں بیٹی میری ہے من مانی بھی میری چلے گی اور سب سے بڑی بات.. نہ. میں نہ میرا شوہر اور نہ میری بچی.. ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا.. کہ شہریار اور ائزہ کا نکاح رہے.. یہ نام نہاد رشتہ ختم. ہو جاے تو ہی بہتر ہے” وہ نخوت سے بولیں
چچی.. یہ اپکا خواب… میں مرتے دم تک پورا نہیں کروں گا.. ائزہ صرف شہریار کی ہے” وہ چلایا تو حویلی کی درودیوار نے بھی یہ بات سنی تھی جبکہ.. اپنے کمرے کے باہر کھڑی کانپتی ائزہ…
آنے والے پلوں کو سوچ کر الگ ہی امتحان میں مبتلہ.. سسک رہی تھی…
اچھا…. اور اس صورت میں بھی جبکہ ائزہ بھی تم سے طلاق چاہتی پے” انھوں نے کہا تو.. شہریار نے انکی طرف دیکھا..
اپ جتنامرضی جھوٹ بول لیں کوئ فائدہ نہیں ہو گا” وہ جانے لگا…
ائزہ نے پیپرز پر سائن کر دیے ہیں.. جھوٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… بہتر ہو گا تم بھی کر کے یہ قصہ ختم کرو.. اور ہاں اماں میں اور سکندر یہ حویلی جلد چھوڑ دیں گے” وہ اپنا فیصلہ سناتی.. پلٹ گئیں..
ہائے ہائے شہریار کیا بکواس کر گئ کیا آئزہ نے دستخط کر دیے” اماں کے بولنے پروہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکا…
کیونکہ.. پہلے پیپر پر سائن ائزہ کر چکی تھی.. شہریار کے لیے یہ دوسرا جھٹکا تھا جبکہ… وہ بے یقین تھا…
…………..
عنایت تم نے ہمارا اجازت بنا اتنا بڑا قدم ایکدم کیوں اٹھایا” سادام عنایت کو گھورتا ہوا بولا.. گھڑ مقابلہ.. تو وہ اس خبر کے ملتے ہی بھول گیا تھا.. وہ جانتا تھا.. سارا کا سارا الزام اسکے سر آئے گا… اور عنایت پر الگ غصہ آیا بھلے وہ یہ سب خود کرانے والا تھا مگر اسطرح نہیں ہر کام کی پلینیگ ہوتی ہے.. اور وہ بھی یہ کام… پلینینگ کے ساتھ کرنے والا تھا تاکہ.. اسپر شق نہ آئے مگر عنایت کی جلد بازی نے سارا کام بگاڑ دیا تھا…
اور اب بلاوجہ کی پنچایت کو بھگتنا پڑنا تھا…
خان یقین مانیے یہ کام میں نے نہیں کیا آپکی اجازت کے بنا اتنی عجلت میں میں یہ سب کیسے کر سکتا ہوں..وہ بھی دن دھاڑے کے سارا الزام ہم لوگوں پر آئے. “عنایت بولا.. سادام جانتا تھا وہ اس سے جھوٹ نہیں بولتا.. تبھی سوچ میں پڑ گیا..
تو پھر کس میں اتنا جرت بھر گیا”
خان یہ ہمارے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے “وہ کچھ سمھجانا چاہ رہا تھا….
پگلا گئے ہو… عنایت بادشاہ یہ گیم تو کھیلا ہی ہمارے لیے گیا ہے کہ ساری توپوں کا رخ ہمارا طرف ہو….
کہ الزام سادام فضل خان پر آئے…. پتہ کراو…. کہ کون ہے اس سب کا پیچھے “وہ مونچھوں کو تاو دیتا گھیری سوچ میں تھا…
جی خان”عنایت نے کہا…
اب سے تم ڈھولا سائیں کو چھوڑنے نہیں جائے گا.. بہت زبان لگ گیا ہے اسکا…. اسکا زبان کا علاج ہم اپنے ہاتھوں سے کرے گا.. “
اچانک ہی اسنے کہا تو عنایت سر ہلاتا پلٹ گیا وہ جتنا شکر ادا کرتا کم تھا.. کہ زبان سے فقت اپنے اندازے پر اسنے ایک لفظ نہیں نکالا…
اور اسکا اندازا بھی تو درست ثابت ہوا. تھا…
اب زری کا کیا ہونا تھا.. یہ اللہ ہی جانتا تھا…..
جاری ہے