Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 37
اگلا دن روشن کھلتا ہوا چمک دار سا تھا۔ دوپہر ہونے کو آئ تھی ۔۔ دونوں میں سے کسی کی بھی آنکھ نہیں کھلی تھی ۔۔۔۔
جبکہ آج سب حیرت سے انکے کمرے کا دروازہ دیکھ رہے تھے ۔۔خیر سادام اتنا لاپرواہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔
ناشتہ سب کافی پہلے کا کر چکے تھے شھاب دوسری بار ڈیرے سے ۔۔ حویلی آیا کہ شاید اب سادام جاگ گیا ہو مگر نہیں یہاں تو اب بھی منظر وہ ہی تھا ۔۔۔
شھاب نے گھڑی کیطرف دیکھا ۔۔۔۔ جو دو بجا رہی تھی ۔۔۔۔
کافی دیر ہو گئ ہے ۔۔۔ “پیچھے سے میسی کی آواز پر وہ مڑا ۔۔۔
اسنے تو سب کیطرح نارملی کہا تھا مگر شھاب کے جیسے سر پر لگی اور تلوں پر بھجی ۔۔۔
نہیں تمھیں کیا مسلہ ہے وہ میاں بیوی ہیں ۔۔ آج اٹھیں کل اٹھیں ۔۔۔ یہ کبھی نہ اٹھیں”وہ غصے سے بولا تو میسی نے حیرت سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
میں نے تو بس ایسے ہی کہا ہے ۔۔ اپکو کیا پروبلم ہے”میسی نے بھی کمر پر ہاتھ رکھ۔ کر اسکو گھورا۔ ۔۔۔
ہر وقت سادام کے پیچھے پڑی رہتی ہو ۔۔ شرم آنی چاہیے ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا”وہ بڑے بوڑھوں کیطرح اسکو سمجھانے لگا جبکہ جاناں ہاد اور عنایت کی ہنسی نکلتی نکلتی رہ گئ ۔۔
دیکھو سمجھا بھی کون رہا ہے ۔۔۔۔۔ جن سے بڑا ٹھرکی پیدا ہی نہیں ہوا “ہاد جاناں کے کان میں بولا تو عنایت اور جاناں دونوں متفق ہوئے ۔۔۔۔
وہ میرا دوست ہے ۔۔ “میسی نے انگلی دیکھا کر جیسے اسے جتایا ۔۔
دوست ۔۔ دوست یہ دوست ہوتا کیا ہے ۔۔۔ کہاں سے پیدا ہو جاتا ہے یہ دوست۔ ۔۔ “شھاب کا بس نہیں چلا انگلی ہی توڑ دے ۔۔
اپکو نہ سائیکٹریس کی ضرورت ہے”میسی نے پاؤں پٹخے اور حویلی سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔ آج اسے شاپینگ پر جانا تھا ۔۔اورا س آدمی کے بلاوجہ منہ لگ گئ ۔۔۔۔
شھاب نے اسکو گھورا ۔۔۔۔
لالا کیوں بھڑک رہے ہیں”جاناں نے بلآخر پوچھ ہی لیا ۔۔۔
تم دیکھ نہیں رہی ہو ۔۔۔ اس کے کام ۔۔۔ ایسا بھی ہوتا ہے بھلہ ۔۔ شادی شدہ مرد کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے اور وہ مرد وہ دشمن میرا ۔۔۔ مزے سے فلرٹ کرنے میں لگا ہے اسکے ساتھ”شھاب بھڑکا ۔۔ تو تینوں ہنس پڑے۔ ۔ ۔۔
اف ہو اپکو تو لالا نہ پیار کرنا آتا اور نہ ہی اظہار ویسے افسوس ہوا ۔۔۔
آپ بھی تو باہر سے آئے ہیں یہ اچانک اتنے مشرقی مرد کیوں بن گئے “وہ کھلکھلا کر ہنسی ۔۔۔ تو شھاب نے گھورا ۔۔
اوکے میں کرتیں ہوں بات کچھ کچھ آپکے راستے ہموار کرتے ہیں۔ ۔۔”وہ بڑے راضگی سے بولتی اس وقت ۔۔۔ شھاب کو سب سے اچھی لگی ۔۔۔
کتنا ڈھیٹ آدمی ہے اب تک نہیں اٹھا ۔۔ کنواروں کے سینے پر تیل ڈالنے کے لیے ۔۔ پیدا ہوا ہے”سادام کے کمرے کو پھر سے گھور کر شھاب بولا ۔۔
ہاد تو اسکے آگے ایک لفظ نہیں بولا ۔۔کتنی مشکلوں سے ۔۔ اسکو پٹا پٹو کہ اس بات پر راضی کیا تھا کہ وہ جو کہے گا ۔۔ وہ کرے گا بس سادام کو نہ بتائے ۔۔۔۔
اور اب اسکی نظریں بیلا کے کمرے پر تھیں ۔۔۔۔ جو باہر ہی نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔
اووو بھائ ۔۔۔۔ اپنی نظروں کا زاویہ بدلو۔ سمھجے ۔۔۔۔ ورنہ “اسنے دھمکایا ۔۔۔
یار لالا خدا کا خوف کر یں ایسے کہہ رہے ہیں جیسے کسی اور کو تکنے میں محو ہوں۔ ۔۔ میری “
اچھا اچھا ۔۔ بھئ دل پر لے لیتے ہو”سادام کے لفظ ابھی شھاب کے منہ سے نکلے بھی نہیں تھے کہ فورا ۔۔۔ اسنے بات کا رخ پلٹ دیا جبکہ سب کے بے ساختہ قہقہوں نے حویلی میں زعفران بکھیر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائیں آج نہ جاگنے کا قسم کھا کر سویا تھا کیا” مسکرا کر اسکا کھلتا چہرہ اور اپنی شرٹ میں اسکو دیکھ کر سادام کا دل اسپر مزید بھکا تبھی اسکی گردن میں چہرہ چھپا کر وہ دھیمے لہجے میں بولا ۔۔۔
زریش تو جیسے مردوں سے شرط باندھ کر سوئ تھی اور سوئی بھی بےچاری کب تھی جو وہ اب اسے جگہ رہا تھا ۔۔۔
اسکا کوئ ریسپوںس نہ پا کر ۔۔ سادام اپنی بے باک منمانیوں پر اترنے لگا ۔۔۔
اف سادام “اسنے کسمسا کر کروٹ بدل لی ۔۔۔
تیور تو دیکھو لڑکی کا ۔۔۔ کیسے منہ پھیر رہا ہے”وہ بڑبڑایا اور دوبارہ اسکا رخ اپنی طرف کر لیا ۔۔۔
زریش نے چیڑ کر اسکی طرف۔ دیکھا ۔۔
کیا چاہتے ہیں آپ”وہ مندی مندی آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں نیند کے خمار کی سرخی دیکھ کر سادام ۔۔ نے اسکی جان پر جان لیوا حملہ کیا کہ وہ پھڑپھڑا کر رہ گئ۔ ۔۔
اسکی سانس اس شدت پر روکنے کو تھی ۔۔ زریش نے اسکی کمر پر مکے برسا دیے ۔۔۔۔
سادام اس سے ہنستے ہوئے دور ہوا ۔۔۔۔
تم ہمارا چاہت سے اور بھی پیارا دیکھتا ہے ۔۔۔ اور ہم تمکو بار بار سمجھاتا ہے ۔۔۔ ہمارا چھوٹا سا بچہ سمجھتا نہیں ۔۔۔
غصہ ہم کرے گا ۔۔۔۔۔ پیار ہم کرے گا ۔۔ ڈانٹے گا بھی ہم ۔۔۔ اور آنکھیں بھی ہم نکالے گا ۔۔۔۔ تمھارا کام ۔۔۔ صرف ہمارا بانہوں میں شرمانا ہے ۔۔۔ سمجھا ۔۔۔۔ اب اٹھو “پیار سے اسکو سمجھا کر ۔۔ وہ نرمی سے اسکی آنکھوں کو چھوتا بولا ۔۔
نہیں ۔۔۔ مجھے سونا ہے”زریش نے پھر سے کروٹ لے لی ۔۔۔
سادام نے گھڑی کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
اسپر کچھ کچھ رحم بھی آیا ۔۔۔ وہ جانتا تھا وہ کتنا بے رحم ہے ۔۔۔
تبھی اسکو اٹھانے کا ارادہ ترک کر کے ۔۔ اسپر کمبل پھیلا کر وہ فریش ہونے جاتا ہی کہ اسکے پھولے گالوں نےایک بار پھر اکسایا اور اسنے۔ ۔۔ اسکے پھولے گال پر ہی کاٹ لیا ۔۔۔
زریش بچوں کی طرح غصہ کرنے لگی جبکہ سادام نے ہنس کر وہیں دوبارہ پیار کیا ۔۔
سو جائے سو جائے ۔۔۔۔ چیڑتا ایسا ہے جیسے ۔ ہم نے کوئ انوکھا کام کیا ہے ہممممم سمجھتا بھی نہیں عاشقی جاہل”وہ سر جھٹک کر واشروم میں بند ہوا ۔۔ اور اگلے۔ بیس منٹ میں ۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔۔
شدید بھوک کا احساس ہوا۔ ۔۔۔
لاونج میں سب موجود تھے اسکی طرف دیکھا کر شھاب نے ہاتھ اٹھائے ۔۔
دولہا راجہ تشریف لا رہے ہیں ۔۔۔ زرا چار پانچ سو توپوں سے انکا قتل کر کے سلامی دی جائے”وہ جل بھن کر بولا ۔۔۔
سادام کو ہنسی آئ ۔۔۔ اور وہ سکون سے انکے پاس آ گیا ۔۔
خان کھانا کھائیں گے”عنایت بولا تو اسنے سر ہلایا ۔۔اور عنایت نے شمائلہ کو کہا ۔۔۔
لوگوں کے ساتھ مسلہ کس قسم کا ہے علم ہے ہمیں ۔۔۔۔۔ “اسنے کہا ۔۔ تو اسکی بات سمھجتے شھاب کے سوا سب ہنس پڑے ۔۔
تو یارو کے ساتھ یاری تو نہ نبھائ نہ ۔۔ تو نے ایسے یاروں سے بہتر ۔۔ بندہ ۔۔۔ بندر پال لے مگر یار نہ بنائے “
تو بھائ تو نہ بنا ۔۔ ہم کون سا مر رہا ہیں”اسنے سکون سے کہا ۔۔ تو شھاب چاہ کر بھی اسکی گردن نہیں دبا سکا ۔۔۔
جاناں کا ہنس ہنس کر برا ہال تھا جبکہ ہاد اس محفل میں ہو کر بھی اپنی محترمہ کے باہر نکلنے کے انتظار میں تھا ۔۔۔
جاناں تمھارا لڑکی کہاں ہے”سادام نے بچی کے بارے میں پوچھا ۔۔۔
وہ مورے کے ساتھ”اسنے لاپرواہی سے کہا ۔۔۔۔ تو سادام نے سر ہلایا یعنی اسکی ماں مصروف تھی تبھی آج کھانا کوئ اور لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔
اسکو کچھ اچھا نہیں لگا بچپن کی عادت تھی ۔۔ مگر کسی پر ظاہر کیے بنا اسنے کھانا شروع کیا ۔۔۔
تمھارا آدمی یہ تمھارا لاپرواہی دیکھ لے ۔۔۔ تو ہم جانتا ہے سلگ سلگ کر مر جائے”اسنے سکون سے کہا ۔۔۔۔
مرنے کی بات پر بے ساختہ جاناں کے منہ سے اللہ نہ کرے نکلا جبکہ سادام ہنس دیا اور جاناں کا چہرہ سرخ پڑ گیا ۔۔۔
لو وہ گدھا بھی عاشقی کے لائق لگتا ہے ۔۔ ہمیں تو سائیکو لگتا ہے ۔۔۔ پینڈو سالہ”شھاب اور ہاد نے بھی تائید کی سب کے خیالات گویا ایک سے تھے ۔۔۔ فضل خان بھی انکے بیچ میں ا گئے ۔۔۔
جبکہ جاناں نے سب کی طرف دیکھا ۔۔۔
با با سائیں آپ دیکھیں یہ لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں”وہ بولی ۔۔۔
کیوں بھئ ہمارا لڑکی کو ستانے کا ٹھیکہ لیا ہے”وہ بات نہیں جانتے ہوئےسب کو گھور کر بولے ۔
آپکا لڑکی اس خر کا حمایت لیتا ہے “دو لقمے لے کر پانی پی کر وہ پھر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
جاناں دہی رانی حمایت کو وہ آلو کا پٹھا ملا تھا ۔۔۔ نہ چندا ایسا نہیں کرتے”فضل خان کے کہنے کی دیر تھی ۔۔۔
ہال میں پھر سے زعفران سا بکھر گیا ۔۔۔
ہاد نے ٹیبل بجا کر مزید شور کر دیا ۔۔۔ ملازم بھی مسکرا اٹھے آج انکے مالک بڑی فرست سے محفل لگائے بیٹھے تھے ۔۔ ۔
جبکہ جاناں نے پاؤں پٹخے ۔۔۔۔
اور وہاں سے واک آؤٹ کر گئ ۔۔ وہ سب ارے ارے کرتے رہ گئے ۔۔۔
تبھی وہاں ۔۔ فیروز خان داخل ہوا۔ سادام کی نگاہ اسپر اٹھی ۔۔
لٹی پیٹی حالت ۔۔۔ چہرے پر غم ۔۔۔ وہ کہیں سے فیروز خان تو نہیں لگ رہا تھا ۔۔
سب اسکو دیکھ کر خاموش ہوئے ۔۔۔ اب تک کسی کو نہیں پتہ چلا تھا کہ گھر سمیت ڈیرہ جل کیسے گیا ۔۔ وہ بے گھر ہو کر انکے گھر پر آ پڑا تھا۔ ۔۔
آؤ آؤ لالا سائیں ۔۔۔ ایسا منہ کیوں لٹکایا پھر رہا ہے ۔۔ جیسا بیوہ ہو گیا ہے”آخر کے لفظ وہ منہ میں بڑبڑایا۔ ۔۔ جبکہ شھاب اس سنجیدہ ماحول میں ہنس پڑا ۔۔۔۔ سب نے اسکی طرف دیکھا ۔۔ اور اسنے ہاتھ اٹھا کر ایکسکیوز کیا۔ ۔۔
میرا کمرہ سیٹ کرا دو عنایت”فیروز نے سادام کی بات کا جواب دیے بنا ۔۔۔
عنایت کیطرف دیکھا ۔۔
مگر ہمکو لگتا ہے ۔۔۔۔ اس کمرہ میں کاٹ کباڑ رکھا ہے ۔۔۔ کیوں عنایت بادشاہ ۔۔ برحال جاؤ ۔۔۔ سائیں کے لیے کمرہ تیار کراو “اسنے سیگریٹ سلگاتے ہوئے فیروز کی صورت دیکھی ۔۔۔
آگ کے شعلے کی لپک میں دونوں ایک دوسرے کی نگاہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
اور یہیں فیروز خان کو اندازا ہو گیا ۔۔ سادام خان اسکی اصلیت جان گیا ہے ۔۔۔
ایک پل کو اسکو گھبراہٹ ہوئ اور پھر بنا جواب دیے وہ وہاں سے نکل گیا۔ ۔۔۔۔
تیری حرکتیں تیری موت کو قریب بلا رہیں ہیں “جاتے جاتے اسنے دل میں سوچا۔ ۔ جبکہ فضل خان نے سادام کیطرف دیکھا ۔۔
خان سائیں کیوں اسکا زخموں میں انگلیاں ڈالتا ہے”وہ سمھجہ نہ سکے ۔۔ سادام کے رویے کو ۔۔۔ جبکہ انکے علاوہ ۔۔وہاں سب حقیقت جان گئے تھے ۔۔
پنگا بابا سائیں ۔۔۔ “اسنے لاپرواہی سے شانے آچکا دیے ۔۔
تو ایک بار سب پھر ہنس پڑے جبکہ ۔۔۔ فضل خان نے سر پکڑا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کا فنکشن جیسے بہار لے آیا تھا ۔۔۔۔ قہقہوں ڈھول باجوں میں بیلا اور ہاد کو مہندی لگائ جا رہی تھی ۔۔۔
زریش پر جیسے ٹوٹ ٹوٹ کر روپ آ رہا تھا ۔۔۔
اسکا ٹھٹھکا دینے والا حسن سب کو اسکیطرف متوجہ کر رہا تھا جس پر اسکا اپنا شوہر گویا جان لوٹانے پر بیٹھا تھا ۔۔۔
بار بار اسپر سے موٹی رقم وار کر وہ ہوا میں اچھال رہا تھا ۔۔۔
زریش کے لیے ساڑھی سنبھلنا زرا مشکل تھا ۔۔۔ اور پھر سادام کی جان لوٹاتی نظروں اور حرکتوں سے وہ مزید کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔
سادام کی پسند کو کیری کرنا بے حد مشکل تھا آج اسے اندازا ہو گیا تھا ۔۔
کیری کرنے کے ساتھ ساتھ پھر اسکا والہانہ پن برداشت کرنا اس سے بھی زیادہ ۔۔۔۔ اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔۔ ہر تھوڑی دیر بعد وہ اسکے ساتھ فوٹو سیشن کرا رہا تھا جبکہ فیروز خان غور سے چبھتی ہوئی نظروں سے یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ہاد نے الگ بیلا کی جان پر بنا دی تھی ۔۔۔ اسے نور اپنے نکاح کے بعد حویلی میں دوبارہ دیکھائی نہیں دی۔ ۔۔ اور اچھا ہی تھا ۔۔۔ کہ وہ لڑکی دیکھی نہیں ورنہ بیلا کی برین واشنگ کر کے اسنے اسے کس طرح اس آدمی کے پاس دوبارہ بھیجنا چاہا تھا وہ سمھجہ چکا تھا ۔۔۔۔
بیلا ہاد کے شوق جملوں سے خود میں سمٹنے لگی تھی۔ ۔۔۔
مگر وہ بھی ہاد تھا سادام فضل خان کا بھائ ۔۔۔ جو اپنی محبوباؤں کی جان سولی پر لٹاکائے رکھتے تھے ۔۔۔۔
مگر جاناں زرا اداس اداس سی نظر آ رہی تھی ۔۔
شھریار آئزہ آنٹی ۔۔ تینوں آ گئے تھے پھر اسے ایساکیا کام پڑا کہ وہ نہیں آیا ۔۔۔
وہ اگر بار بار داخلی دروازے کو دیکھ کر ۔۔۔۔ جیسے لاشعوری طور پر اسکی منتظر تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا جاناں سائیں “سادام نے اسکے شانے پر ہاتھ پھیلایا ۔۔۔
کچھ نہیں لالا”وہ مسکرائی ۔۔۔ سادام نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔
اسکے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔۔۔ اپنے بہن بھائیوں کی خوشیاں اسے بے حد عزیز تھیں اور وہ ۔۔ گھامڑ آدمی ۔۔۔ اسکی بہن کے چہرے کی مسکراہٹ لیے نہ جانے کہاں ۔۔ بیٹھا تھا ۔۔۔
اسنے شھریار کیطرف دیکھا اور اسے پاس بلایا ۔۔
تمھارا بھائ کیا جوانی میں مرنا چاہتا ہے”اسنے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔جاناں پر اب بھی بازو پھیلایا ہوا تھا ۔۔۔
وہ صبح سے غائب ہے حویلی سے “شھریار نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔۔۔
ہممم تو تمکو اسکا ساتھ انا چاہیے تھا”
لالا”جاناں نے سادام کا ہاتھ جکڑا ۔۔ اور تبھی ولی پھولوں کے بکے سمیت اندر داخل ہوا اسکے پیچھے اسکا ملازم بھی تھا جس نے کئ بیگز اٹھائے ہوئے تھے جس سے ۔۔ صاف لگ رہا تھا اس میں بچے کا سامان ہو گا ۔۔۔ شھریار کو اب اندازا ہوا کہ وہ صبح سے کہاں گم تھا ۔۔۔ جبکہ ولی کا
جاناں کو سادام کے ساتھ دیکھ کر حلق کڑوا ہوا تھا ۔۔۔
مگر اسکے چہرے پر کھلنے والی مسکراہٹ کو بھی وہ دیکھ چکا تھا ۔۔۔
ولی انکے نزدیک آیا۔ اور جاناں کیطرف وہ بکے بڑھایا ۔۔۔ تو جاناں نے تھام لیا ۔۔ اسکی سچویشن کافی اکورڈ تھی بھائ اسکا اسکے شانے پر ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا ۔۔ اسکا شوہر اسکے سامنے تھا جبکہ ۔۔۔ زریش شھاب عنایت بھی وہیں آ گئے تھے ۔۔۔
اب تم اسکو آزاد کرو گے یہ ۔۔ میری کہانی کے ہمیشہ ویلن ہی رہو گے”ولی نے چیڑ کر اسکے ہاتھ کیطرف دیکھا ۔۔
ہم تو کہانی کا ہیرو ہے ۔۔ویلن جیسا مکھڑا تو ۔۔ تمھارا پورے خاندان کا ہے بدقسمتی سے “سادام نے آئ برو آچکا کر جواب دیا ۔۔
مجھے تم سے بات نہیں کرنی”ولی نے فورا کہا ۔۔۔ جتنی دیر وہ اس سے بات کرتا اتنا اسکا خون سلگتا ۔۔
تو ہم کون سا تڑپ رہا ہے۔۔۔۔۔ اور ہاں ۔۔کان کھول کر سن ۔۔ اب اگر ہمارا جاناں کی نظروں نے تجھے ڈھونڈا تو ۔۔۔ تیرا چہرہ دنیا سے گم کر دے گا “وہ انگلی اٹھا کر سنجیدگی سے وارن کرنے لگا ۔۔
ولی بھی اسکیطرف سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
جاناں چپ کھڑی تھی ۔۔اچھا تھا اس سے زیادہ اسکو سنائ جاتی ۔۔۔۔
نواب جی”بلآخر زریش نے سادام کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کیا ۔۔۔۔
سادام تو زریش کے ساتھ پیچھے چلا گیا جبکہ شھاب بھی ولی وہ دانت دیکھا کر عنایت کے ساتھ دوسری طرف ہو گیا ۔۔۔ شھریار پہلے جا چکا تھا ۔۔۔۔
ولی اور جاناں کھڑے تھے ۔۔۔
بہت خوشی مل گئ اپنے اس سوکولڈ بھائ سے میری عزت کرا کر”اسنے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
چلو کسی نے تو کی آپکی”جاناں نے پرسکون ہو کر کہا ۔۔۔۔
یہ جو تمھارے مزاج ماں بننے کے بعد بدلے ہیں نہ انھیں میں ٹھکانے بھی لگا سکتا ہوں ۔۔۔ “وہ اسکے نزدیک ہوا ۔۔۔ جاناں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔۔۔
اور اس سے دور ہوئ ۔۔۔۔
آپ اپنے کام سے کام رکھیں”وہ بولی ۔۔۔۔ جبکہ ولی تو مہندی شرارے شرٹ میں اسکو اتنا خوبصورتی سے تیار ہوا دیکھ کر دل کے مچلنے پر مدہوش ہونے لگا ۔۔۔
جاناں کی کلائی اچانک تھام کر وہ اسپر نرمی سے اپنے انگوٹھے سے سطر کھینچنے لگا ۔
و۔ولی”جاناں کی سانسیں وہیں تھم گئیں تھیں ۔۔۔
میرے ساتھ چلو ۔۔ میں ۔میرا کمرہ ۔۔۔ تمھارا انتظار کر رہیں ہیں”وہ چاہت سے بولا ۔۔۔۔
جاناں نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں سچائ ہلکورے لے رہی تھی مگر تادیر نہیں ۔۔۔
اسے یاد تھا اس گھر میں اسکے ساتھ کیا کیا ہوا تھا ۔۔
اسنے ولی کے ہاتھ سے اپنی کلائی آزاد کرائ ۔۔۔
چوہدری ولی ۔۔۔۔ آپ نے آپکے کمرے نے یہ آپکے گھر نے ۔۔مجھے کوئ خوشی نہیں دی ۔۔۔ نہ وہاں میرے لیے جگہ ۔۔۔۔ تھی ۔۔۔ پھر منتظر کیسے ہوئے آپ میرے”وہ تلخی سے بولی ۔۔۔ جبکہ ولی بنا ارد گرد کھڑے لوگوں کا خیال کرے ۔۔۔ آج اپنی انا کو جوتے کے نیچے کچلتے ۔۔ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر گیا ۔۔۔۔
مجھے اندازا ہو گیا ہے ۔۔۔ چوہدری ولی تمھارے بنا کچھ نہیں ۔۔۔۔ اور جانتی ہو جب سے تم نے میری بیٹی کو جنم دیا ہے دل میں عجیب سی بات ہے جو کسی طور چین نہیں لینے دے رہی ۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تم مجھ سے محبت نہیں کرتی کوئ الفت بھی نہیں رکھتی ۔۔۔۔۔۔ جانتی ہو میں نے کبھی کسی سے ریکوئسٹ نہیں کی ۔۔جو جسے چاہا پا لیا ۔۔۔ مگر آج تم سے ریکوسٹ کر رہا ہوں ایک موقع دو مجھے ۔۔۔ میں تمھارے لیے اس گھر میں زندگی کا رخ بدل دوں گا ۔۔۔ میرا یقین کرو ۔۔۔ مجھے میرا بچہ اور تم دونوں عزیز ہو ۔۔ میرے ساتھ چلو “جاناں کے ہچکیاں بھرتے وجود کو بے چینی سے دیکھتا ۔۔ آج وہ اپنا دل اسکے سامنے بچھا چکا تھا ۔۔۔ چوہدری ولی کی انا کا بت ٹوٹ گیا تھا ۔۔۔ سب کے حونق چہرے ۔۔۔۔ تھے حیرانگی ہی حیرانگی تھی ۔۔۔۔
ایک بار بس “وہ التجا کرنے لگا ۔۔۔
جاناں کے بے ساختہ ہاتھ اسکے ہاتھوں پر پڑے تھے ۔۔۔۔
اور وہ بری طرح رو دی ۔۔۔۔
جاری ہے
