50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1


نہیں نواب صاحب مت ماریں نواب صاحب… “اپنی ہی چیخیں اپنے کانوں میں روز سنائ دیتی تھیں…. انھیں….
مت ماروں بدذات…. تو… اپنے شوہر کی چھت تلے بھاگ جائے اور.. تجھے کیا لگا… نواب.. فضل خان تجھے زندہ چھوڑ دے گا. ” وہ اسکے بال پکڑتے جھنجھوڑ کر.. بولے… پوری حویلی ملازموں سمیت… باہر.. کھڑی تھی.. عورتیں تھر تھر کانپ رہیں تھیں…. جبکہ مرد نخوت سے… اسکو دیکھ رہے تھے.. جسے نواب فضل نے اپنے جوتے سے… بری طرح پیٹ ڈالا….
جبکہ چوہدری مرتضیٰ کی گردن پر تلوار رکھے… آدھ مری حالت میں… اسکو بالوں سے نواب فضل کے ملازموں نے پکڑا ہوا تھا….
نواب صاحب میرا قصور ہے…. چوہدری صاحب کو معاف کر دیں “وہ پھر گڑگڑائ….
تیری اس نام نہاد محبت کا تو.. آج.. تیرے سامنے ہی قتل کر کے تجھے دکھاو گا.. کہ نواب فضل.. کو دھوکہ دینے کا انجام کیا ہوتا ہے…” وہ چیخے اور… مرتضیٰ کیطرف بڑھے….
نہیں نواب صاحب… نہیں خدارا رحم کریں “جیسے ہی.. چوہدری. مرتضیٰ کی گردن پر… نواب فضل کی تلوار چلی اور عجیب دل دہلا دینے والی اوازوں نے. پوری حویلی کا رنگ سفید کر دیا….
ان میں ایک 8 سالہ بچہ.. غور سے اپنے باپ کو یہ سب کرتا دیکھ رہا تھا… اپنی ہی ماں کی چیخیں اسے بے حد بری لگیں چوہدری مرتضی کا تو کام تمام ہو گیا.. مگر اسکی ماں کی چیخیں نہیں روکیں…
تو نواب سادام فضل خان…. نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر زور سے ہلایا….
بابا سائیں اس عورت کو بھی مار دیں “وہ سفاکیت سے بولتا.. سب کو حیران کر گیا.. جبکہ اسکے کانوں میں یہ اواز ائ ضرور تھی مگر اسکی نظر.. چوہدری مرتضیٰ کے تڑپتے آہیں بھرتے وجود پر تھیں.. محبت کی سزا بڑی سخت تھی….
نہ میرے لال…… اسکو تو روز ماروں گا… اس نے میرے نکاح میں ہو کر.. کسی دوسرے سے یاری لڑائ ہے.. اس کا انجام تو اسکی آخری سانس بھی بھگتے گی “وہ.. سر جھٹکتے بولے…
اور سادام کو گود میں اٹھا کر…. گھر کے اندر چلے گئے…
جبکہ ملازمین کو.. حکم دیا کہ وہ.. اسکو… کوٹھڑی میں بند کر دیں….
……………….
نواب جی” اسنے پھول اسکے اگے کیا.. جسے.. سادام نے مسکرا کر تھامنے کے ساتھ اسکا ہاتھ پکڑ کر… اپنے ساتھ پڑی کرسی پر کھینچ لیا…
اسکا گھبرایا شرمایا.. روپ تو اسی دن.. دل و دماغ میں بس گیا تھا… جب وہ پڑھنے کے لیے کالج جا رہی تھی… اور… سادام کی گاڑی.. سے ٹکرا کر جیسے ہی گری.. گاڑی کے ٹائر اسکی کتابوں پر چڑھ گئے…
اسکا بار بار پلکیں جھپکنے کا رقص سادام کے لیے انوکھا تھا… اور اتنا انوکھا تھا.. کہ جلد ہی وہ اسکا راستہ کاٹنے لگا….
یہ تو اسے معلوم ہو گیا تھا… کہ وہ چوہدریوں کی بیٹی ہے…
اور چوہدریوں کے گاوں میں ابھی صرف سکول تعمیر تھے… کالج نہیں.. کالج… کے تعمیرات میں کون سا اسکی حامی تھی یہ تو… فیروز…. کی خواہش تھی…. کہ انکے گاوں میں کالج ہونا چاہیے…. اور وہ تو یونیورسٹی بھی بنوانا چاہتا تھا جس پر سادام نےایک ادھم اٹھا دیا تھا….
اور اسکے ادھم نے… بات ای گئ کر دی…..
وہ جا نتا تھا.. چوہدری شہریار.. اور فیروز کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی… سالوں پہلے ہوئے واقعے کے باوجود….
اور اسی بنا پر…. چوہدریوں کے گاوں سے لڑکیاں یہاں آتیں تھیں… مگر عورت کو ہمیشہ عزت ہی سمھجا تھا اسنے.
دشمنی تھی.. تو.. اصل حویلی والوں.. سے… جن کے سپوت نے.. اسکی ماں کو بھگایا تھا اور پھر اپنے انجام کو بھی تو پہنچا تھا….
مگر اسکو سکون اب بھی نہیں تھا….
کیونکہ چوہدری ولید مرتضیٰ… کی گردن وہ اپنے ہاتھوں سے دبوچنا چاہتا تھا جو اسکے باپ کے خون کا پیاسا ہو چکا تھا…..
مگر نواب سادام فضل خان کے جیتے جی تو کوئ بھی… اس کے بابا سائیں تک نہیں پہنچ سکتا تھا….
ڈھولا…. اتنا سندھر مکھڑا…. کیوں ہمارا ایمان خراب کرتا ہے “وہ… اپنے علاقائ لبوں لہجے میں بولتا…. زریش کا دل بری طرح دھڑکا چکا تھا…. وہ اسی طرح رقص کرتی پلکوں سے… نروس نظر آ رہی تھی….
جبکہ سادام اسکے ہوش ربا حسن… سے نگاہیں چراے بغیر پورے استحقاق سے اسے دیکھ رہا تھا…
اور.. پھر اہستگی سے.. اسنے اسکے گال کو.. اپنی پوروں سے چھوا تو.. زریش نے آنکھیں میچ لیں….
سادام.. کے لیے یہ سب جان لیوا تھا… وہ مزید بھکتا تبھی.. اسنے نگاہ پھیری ….
سائیں… تمھارے گھر…. آے گا. تمھیں چرا کر لے جائے گا…
مگر ایک دقت ہے “وہ اسکی گردن میں ہاتھ ڈالتا… چہرے پر.. عجب غضب تاثرات سجاے اسکی موہنی صورت تکنے لگا.. جبکہ لبوں کی تراش میں مسکراہٹ کا رقص تھا…
وہ کیا…” زریش.. نے بھی اسکیطرف دیکھا…
تم چوہدریوں کا لڑکی ہے… اور ہم نواب….. اب نواب. سر جھکا کر چوہدریوں کا لڑکی لینے جائے گا… نہ ممکن… تبھی.. یا تو تمھیں بھگا لے گا.. یہ ساری عمر عاشقی.. چلائے گا… پھر بیوی… خیر ہے کسی اور کو بنا لے گا… مگر عاشق تمھارا ہی ہے.. گھبرانا مت”رفتہ رفتہ بھیگتی پلکوں کو دیکھتے ہوئے وہ لطف لے رہا تھا جبکہ زریش کی جان پر بن ائ تھی…
سائیں” وہ سسکی…
اللہ اللہ… اتنا نازک….. محبوب….. سوہنا… ہم تو جنگلی ٹائپ بندہ ہے… کیسے.. ہمارے ساتھ گزارا کرے گا تم “وہ.. اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرتا نرمی سے بولا…..
اپ.. نے ایسے بات کی…. ایسے کوئ کرتا ہے… آپ صرف زبردستی کرتے ہیں.. ہر وقت… میری پڑھائ رکوا دی…
مجھے روز اماں ابا سے جھوٹ بولنا پڑتا ہے… آپ سے ملنے کے لیے.. اور آپ.. مجھے کہہ رہے ہیں اپ کسی اور سے شادی کریں گے”وہ پھوٹ پھوت کر روتی سادام کا سیرو خون بڑھا گئ…
سوہنا ماہی…. ایسے ہی رہنا…. ہمارا عشق.. بڑھتا جائے گا..” وہ قہقہ لگاتا… اسے بانہوں میں بھینچ گیا… جبکہ زریش گھبرا گئ…
اسکی بانہوں کی سخت گرفت میں… اور… اسکے وجود سے.. اٹھتی… دلکش خوشبو سے…
وہ کسمسا کر. اس سے دور ہوئ.. سادام اسکے چہرے.. کے انوکھے رنگ.. دیکھ رہا تھا.. مسکرا رہا تھا….
اب میں چلوں… نواب جی”اسنے اٹھتے ہوئے.. شام سے پہلے ہی جانے کی بات کر دی جس پر سادام کا منہ بگڑا…
تم ہم سے دور بھاگتا ہے.. کون رشوت لگاتا ہے تمھیں جو تم. وقت کا. اتنا حساب رکھتا ہے” وہ کڑے تیوروں میں بولتا.. زریش کو پریشان کر گیا…
نہیں ایسا تو نہیں…. اماں بولیں گی آج پھر سے دیری ہو گئ..” وہ سر جھکائے معصومیت سے بولی…
تو کہہ دینا تھا نہ… سادام خان کو وقت دیتی ہے تبھی.. دیری ہوتی ہے “وہ پھر سے شرارت بھری نظروں سے اسے گھورنے لگا…
جبکہ وہ سرخ سی ہو گئ…
جانیں دیں نہ… “بلآخر.. چند لمہوں بعد وہ پھر.. بولی… تو سادام نے… عنایت کو آواز دی… جو روز زری کو… دوسرے گاوں کی حدود تک چھوڑتا تھا….
اگر بی بی کو خراش ائ تو تمھارا… قیمہ تمھارے بچوں کو ہی کھلائے گا..” وہ سختی سے بولتا اپنا سوٹ جھاڑتا اٹھا.. عنایت اسکی روز یہ دھمکی سننے کا عادی تھا… تبھی اثبات میں سر ہلا گیا…
اور… سادام زری کو دیکھنے لگا.. جو اسی کیطرف دیکھ رہی تھی…
سادام اسکے دوپٹہ کھول کر… خود کو ڈھانپنے کا منتظر تھا جبکہ زریش… اسکے خیالات جانتے ہوئے بھی لاپرواہی برت دیتی تھی…
کوئ اور سا بندی ہوتا… تو… ہماری گولی کھا کر. ابھی مٹی کے نیچے دبا ہوتا.. مگر کیا کریں ڈھولا سائیں ہے مروت دیکھانا پڑتا ہے “وہ سنجیدگی سے.. اپنی چادر اسپر پھیلاتا… اسکا چہرہ ڈھانپتا.. بولا.. تو زریش مدھم سا مسکرا دی….
اور سادام نے چادر کے اوپر سے. اسے پیار کیا… اور اسے جانے دیا.. دل تو بلکل نہیں تھا ویسے.. مگر.. اسکا جانا بھی ضروری تھا…
…………….
ولید بیٹا یہ بندوق چھوڑ دو…. تمھارے سینے پر لٹکی ہر وقت یہ بندوق مجھے خوف کا شکار کرتی ہے “وہ بولیں… نہیں.. منت کر رہیں تھیں روز کیطرح…
کہاں ہے یہ شہریار لالا…. ہزار بار کہا ہے میں نے کے ان (گالی) کے گاوں.. جانے پر پابندی لگا دو مگر انھوں نے قسم کھائ ہے… میری کاٹ کرنے کی” وہ.. روز کیطرح ہی بھڑکا تھا.
میری جان… حوصلہ رکھو… شہریار.. کہہ رہا تھا.. اماں سائیں کچھ ہی دنوں میں جیسے ہی کالج تعمیر ہوتا ہے… وہاں جانے پر بھی پابندی لگا دے گا….” انھوں نے پھر سمجھایا…
مجھے تو سمھجہ ہی نہیں آتی یہ عورتیں پڑھ کر کون سا تمغہ سینے پر سجانا چاہتی ہیں. ” اسکی اڑیل عقل کو کچھ کچھ اماں کی بات لگی تبھی اپنی بندوق سامنے صوفے پر اچھال کر… وہ.. آرام سے… صوفے پر گیرہ….
اماں قسم ہے مجھے… اپنے مرے ہوئے باپ کی قبر پر تب تک نہیں جاو گا جب تک.. فضل خان کو نہ اس قبر میں اتار دوں” وہ کلس کر بولا….. تو انھوں نے نفی کی..
تمھارے ابا کا پورا قصور ہے کسی کی عزت.. کو بھگانا یہ ہی انجام ہوتا ہے” وہ مدھم لہجے میں بولتیں کہ پیچھے سے غراتی آواز پر ایکدم چپ ہو گئیں…
شرم کر… تیرا خسم مرا تھا….. یہ گردن پر چھری چلا کر…. ماں کے کلیجے کو سلگایا تھا…. اور. تو میرے بیٹے کے قصور گنوا رہی ہے…” بی جان بھڑکیں.. و لید نے بھی گھور کر ماں کو دیکھا….
ہماری جان…. ہمارا بچہ.. تیری عمر…سلامت رہے… میرے ساتھ پر پوتے ہوں….. اور ان حرام خوروں کا خون نالیوں میں بھا دے.. ولید… مرتضیٰ باپ کا بدلہ لے” وہ اسکو بھڑکاتی بولیں.. جبکہ وہ.. ہمیشہ سے.. انکی بات پر مچل اٹھتا تھا…
دادی. جان… جب تک فضل خان نہیں مرے گا.. تب تک ولید مرتضیٰ سکون سے نہیں بیٹھے گا” وہ بولا تو انھوں نے اسکی بلائیں لیں جبکہ اسکی ماں کیطرف زہریلی نظروں سے دیکھ.. کر وہ رخ موڑ گئیں…
سکینہ… میرے بچے کے لیے کھانا لگا” وہ وہیں سے چلائیں… اور اسکے ساتھ بیٹھ گئیں تبھی وہاں شہریار داخل ہوا تو… سیدھا اپنی ماں کے پاس ایا.. اور انکے آگے سر جھکا دیا… جس کی پیشانی چومتے ہوے انکی آنکھیں بھیگ گئیں…
انکے دو ہی بیٹے تھے… اور آگ پانی کی مماثلت رکھتے تھے…
ولید دادی کے اکسانے پر… نوابوں کے خون کا پیاسا تھا جبکہ شوہر کو کھونے کے بعد ان میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ وہ اب اپنی اولاد کو بھی اس دشمنی کی بھینٹ چڑھاتی…
کیسی ہیں ماں جان”وہ لاڈ سے بولا…
الحمداللہ.. میرا بچہ کیسا ہے” وہ بولیں تو شہریار مسکرا دیا جبکہ نظروں کی تلاش چارو جانب تھی…
ولید سمیت دادی بھی یہ مابھارت ناگواری سے دیکھ رہیں تھیں..
لالا تم سے کہہ دیا ہے میں نے.. اگلی بار ہمارے گاوں کی کوئ بھی لڑکی.. نوابوں کے گاوں نہیں جائے گی” ولید بولا تو دادی نے حامی بھری جبکہ شہریار کو جس کا انتظار تھا.. وہ پانی کا گلاس لے کر. اسکے سامنے تھی اسنے.. بمشکل اس سے نظر بچا کر.. اپنے بھائ کو دیکھا…
ولید سائیں ہزار بار سمھجایا ہے… فیصلہ سوچ سمھجہ اور عقل بوجھ سے کرنا چاہیے یہ جلد بازیاں صرف نقصان دیتی ہیں “وہ تحمل سے بولا…
واہ لالا باپ کو مار دیا انھوں نے ہمارے اور… تم یہ کہہ رہے ہو کہ تحمل رکھو” وہ غصے سے بولا….
بھول گے ہو باپ نے کیا کیا تھا… انکی پگ پر ہاتھ ڈالا تھا “
مرد کی شان ہے یہ” وہ نخوت سے سر جھٹکتا اٹھ گیا.. جبکہ شہریار نے… افسوس سے بھائ کو دیکھا.. اور.. ماں کیطرف جو خود بھی پریشان ہی تھیں..
اپ فکر نہ کریں لاابالی ہے ہو جاے گا ٹھیک” وہ انھیں تسلی دے کر اٹھا.. اور کچن کیطرف آ گیا.
کچھ کھانے کو ملے گا محترمہ” وہ مسکرا کر بولا.. جبکہ ائزہ کا دل دھڑکا…
اپ بیٹھیں میں دیتی ہوں “وہ مسکرا کر بولی… اور اسکے لیے کھانا گرم کرنے لگی…
تمھارا کالج کیسا جا رہا ہے کوی پریشانی تو نہیں ہوتی” وہ روز کا سوال… اسکے مومی سفید ہاتھوں کو دیکھتے ہوے پوچھنے لگا…
نہیں… بس.. ولی لالا غصہ کرتے ہیں روز ہی”اسنے زرا پریشانی سے بتایا.
ہاں یہ مسلہ بھی حل کرنا ہے… تعمیرات شروع کرا دیں ہیں میں نے کچھ ہی دنوں میں یہ کام بھی ہو جاے گا “وہ سکون سے بولا.. اور.. دوسرے ہاتھ سے اپنے انگوٹھے کی مدد سے سر دبانے لگا..
اپکے سر میں درد ہے”آئزہ نے اسکیطرف دیکھا..
تم دباو گی”اسنے چاہت لٹاتی نظروں کے گھیرے میں اسے لیا…
تو ائزہ سر جھکا گئ….
دوای دوں گی” وہ مدھم سا بولی.. تو شہریار نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا…
انکے نکاح کو دو سال ہونے کو اے تھے مگر اب تک رخصتی کے کوئ آثار نظر نہیں آ رہے تھے…
وجہ شمائلہ تھی جو ائزہ کی ماں اور شہریار کی چچی تھیں…
جو کے.. نہ پہلے اس رشتے کے حق میں تھیں اور نہ اب… اور.. ائزہ کو سختی سے اس سے ملنے سے منا کرتیں تھیں…
کیونکہ وہ اپنے بھانجے سے… ائزہ کی شادی کرانا چاہتی تھیں.. ائزہ انکی ایک ہی بیٹی تھی اور انکے بقول. باپ کیطرح بیٹے بھی آوارہ ہوں گے… تبھی وہ شہریار اور ائزہ کا رشتہ ختم کرانا چاہتی تھیں…
جبکہ اب تو چاچو کو بھی وہ اس فیصلے پر لے ائ تھیں…
دوای تم مجھے رات میرے کمرے میں آکر دینا “وہ سکون سے کہتا.. اسکے ہاتھ پر چھوٹی سی شرارت کر گیا…
جبکہ ایزہ نے اپنا ہاتھ اسکی پر حدت گرفت سے نکالا….
کیونکہ سامنے ہی اسکی ماں آنکھوں میں غصہ لیے کھڑی تھی..
جاو یہاں سے” وہ غصے سے بولیں تو ائزہ پلک جھپکتے بھاگ گئ جبکہ شہریار انکو دیکھے بغیر کھانا کھانے لگا.. یہ واحد عورت تھی جس پر اسے غصہ آتا تھا ورنہ عورتوں پر غصہ کرنا.. اسکا خاصا نہیں تھا…
بیٹا جی آپ اپنی ماں کو بھی کہہ سکتے ہو..” وہ غصے سے بولیں تو شہریار مسکرا دیا…
چچی اپنی بیوی کو کہا تھا خیر میں بحث نہیں کرنا چاہتا” اسنے.. آرام سے کہہ کر پھر کھانا کھانا شروع کر دیا…
ہمم کیسی بیوی کون سی بیوی… “وہ نخوت سے کہتیں باہر نکل گئیں جبکہ شہریار نے کھانا چھوڑ دیا… اور اب ائزہ پر غصہ آیا..
اب تک انکا رشتہ قائم رہنے میں سارا ہاتھ اسکا تھا.. ورنہ یہ رشتہ کب کا ٹوٹ چکا ہوتا…
وہ کسی کے سامنے زبان کھول کر اپنی پسندیدگی اپنے شوہر کے لیے واضح نہیں کر سکتی تھی..
وہ کھانا ویسے ہی چھوڑے اٹھ گیا..
…….. …….
لالا جیپ لے جاوں “ہاد نے اسکیطرف دیکھا..
تم کو ہماری گاڑی کے علاوہ.. کوئ گاڑی نہیں دیکھتا” وہ غصے سے اسے گھورنے لگا…
لالا پلیز… یار “وہ منت کرنے لگا تو سادام نے اسکی جانب.. چابی اچھال دی…
دس منٹ میں واپسی.. کر لینا” وہ.. آئینے میں خود کا جائزہ لیتا بولا…
مونچھوں کو تاو دیتا.. بلیک شال اور سفید سوٹ میں.. وہ.. غضب ناک لگ رہا تھا… خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے اسکے دماغ میں.. زری کا چہرہ آیا..
ہمارا سندھر ماہی… ” اسنے خیال میں ہی اسکو شرمانے پر مجبور کر دیا تھا….
ہاد تو کب کا غائب ہو چکاتھا.. جبکہ وہ.. سیڑھیاں اترتا نیچے آیا..
تو اپنے باپ کو دیکھا جو اسکی جانب دیکھ کر مسکراے…..
کیساہے ہمارا جان” اسکا لہجہ اور لفظوں کا تناسب بلکل اپنے باپ پر گیا تھا…
ہم فرسٹ کلاس… تم سناو تمھارا دوسرا بیوی.. درست ہے” وہ ہنسا تو.. ان دونوں کے قہقہے لاونج میں گونجے….
اگر وہاں کوئ باہر کا بندہ ہوتا تو ضرور حیران ہوتا… کہ وہ اپنے باپ سے بات کر رہا تھا…
جب سے تم نے ہمارا دوسرا شادی کرایا زندگی سکون میں آ گیا بیٹا سائیں..” وہ صوفے پر بیٹھتے مزے سے بولے…
تو اسنے سر خم کر کے شکریا وصول کیا..
اب دونوں کے سامنے دوپہر کا کھانا لگایا جا رہا تھا. جو کہ اسکی ماں لگا رہی تھی مگر دونوں میں سے کسی کو بھی اس بات کا خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ وہ ملازمہ سے کم نہیں سمھجتے تھے اسے….
جبکہ وہ اپنی غلطی.. کی سزا ساری زندگی بھی بھگتی کم تھا…
انکی وجہ سے انکی محبت کو کس حال تک پہنچایا گیا…
وہ کھانا لگا کر چلی گئیں تو وہ دونوں پھر سے باتوں میں لگ گئے…
یہ ہاد سائیں پر نظر رکھو… کچھ بگڑا بگڑا لگتا ہے”وہ چاے کی سپ بھرتے بولے تو وہ ہنس دیا..
بگڑنے دیں… ہماری جان ہے بگڑے گا” وہ مسکرایا تو وہ بھی ہنس دیے…
اب کہاں کی تیاری ہے…. “وہ اسکی خصوصی تیاری پر.. چوٹ کر کے بولے…
تو وہ ہنسا….
کہیں نہیں…. بس دو دن بعد ہمارا گھوڑا میدان میں اترے گا بس اسی سے ملاقات کے لیے جا رہا ہے”وہ ناشتہ کر کے…
اٹھا.. تو انھوں نے سر ہلایا..
کیا لگتا ہے.. “انھوں نے چوہدریوں اور نوابوں کے بیچ ہونے والے گھڑ مقابلے کے بارے میں پوچھا جس پر.. وہ مونچھوں کو تاو دینے لگا….
نوابی سادام خان کے خون میں ہے.. اور جیت… ہمارے ماتھے پر چمکتا ہے “وہ انکھوں کو دلکش جنبش دیتا. وہاں سے نکل گیا….
جبکہ پیچھے وہ مسکرا دیے….
………………….
جاری ہے