Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 20
مجھے گھر جانے دیں نواب جی…. اماں ابا پریشان ہو رہے ہوں گے” اس سے فاصلہ بنا کر بیٹھتی وہ جب سے ائ تھی ایک ہی راگ لاپ رہی تھی جبکہ سادام خاموشی سے اسکیطرف دیکھ رہا تھا…
اچھا ادھر قریب آ کر یہ بات کرے گا تو سمھجہ آئے گا ایسا دور دور سے ہمیں سنائ نہیں دیتا” اسنے انگلی کے اشارے سے اسے پاس آنے کو کہا.. جبکہ زریش اپنی جگہ سے بناہلے اسکو دیکھے گئ…
اسکی آنکھیں بھیگنے لگی…. اور ٹپ ٹپ انسو بہنے لگے….
پتہ ہے کیا ڈھولا تمھارا یہ رونا دھونا ہم پر کیا اثر کرے گا…. تم جانتا ہے بڑا بے حس بندہ ہے مگر تمھارا عشق میں ہم ام ام آلو کا پٹھا ہے تم سامنے آ جائے تو.. نظر ادھر ادھر جاتا ہی نہیں.. اور ایک تم ہے.. ملن کے دنوں کو ایسے گزار رہا ہے جیسے ہم تمھیں چبھ جایے گا “وہ قہقہ لگاتا ہنسا…..
تو زریش اسکے پاس ای..
نواب جی” اسنے کہا تو سادام کو رج کر اسپر پیار آیا.. اسکی گردن میں ہاتھ ڈالا.. اور اپنے چہرے کے قریب کر کے.. اسکے نازک نقوش کو… اپنے پرتپش لمس میں جکڑ لیا….
زریش کی سانسیں پھول سی گئیں… مگر سادام تو جیسے خود کو سیراب کرنے کے چکروں میں زیادہ بھک گیا تھا..
زریش خود کو چھڑوانے کی تگ و دو میں اسکے سینے پر مکے برسانے لگی…
اور سادام اسپر ترس کھاتا.. اس سے دور ہوا.. اور اسکو بے حال سا دیکھ کر.. اسپر مزید پیار آنے لگا…
بس اتنا ہی دم تھا “وہ ہنسا.. اسکو پھر سے قریب کرنے لگا….
مگر زریش اس سے دور بھاگ گئ.
آپ بہت برے ہیں اور گندے بھی” وہ کانپتے لہجے میں بولی…
سادام نے شانے اچکائے…
بیوی ہے تم ہمارا…. اب تم پر تمھارا وجود پر صرف سادام خان کا حق ہے صرف تم سادام خان کا دسترس میں رہے گا ہمیشہ…” وہ اسکا ہاتھ پکڑتا اپنے نزدیک صوفے پر بیٹھا گیا..
زریش اسکی شال سے اٹھتی کلون کی خوشبو سے خود کو بے بس محسوس کرنے لگی.
جبکہ سادام نے آنکھیں بند کر کے سر صوفے پر ٹکا دیا…
اپنے مرے ہویے گھوڑے کو دیکھ کر ولی لازمی تلملاے گا….
وہ جانتا تھا…. تبھی اسنے گاوں پر پھیرا سخت کر لیا تھا…
تا کہ وہ کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے اور اگر اسنے کسی کو نقصان پہنچایا تو لازمی وہ بھی اپنے سائیکو پن کے ثبوت دے گا… اور جاناں کا خیال بھی ہر پل اسکے ساتھ تھا.. مگر صرف ایک وقت کا انتظار تھا… جس دن وہ خود اس سے رابطہ کر کے یہ چاہے گی کہ وہ اسکے پاس آنا چاہتی ہے تب ولی تو کیا… کوئ بھی اسے نہیں روک سکتا تھا.. مگر وہ یہ بات کبھی نہیں بھول سکتا تھا کہ اسکی بہن غیر مرد کے… کمرے میں ہونے کے باوجود اسے لا علم رکھتی ہے… اور اسے اپنے سب سے بڑے دشمن سے یہ بات پتہ چلتی ہے…
نواب جی”اچانک وہ اپنی سوچوں سے نکلا.. زندگی اسکی بانہوں میں تھی…
حکم جی” وہ لاڈ سے بولا..
زریش کو یہ ہی موقع مناسب لگا….
آپ مجھے گاوں چھوڑ اے نہ ابا اماں
ششششش لگتا ہے تم چاہتا ہے دوبار سے مزےدار سا سین”وہ لو دیتی نظروں سے پھر اسکو پلکے جھکانے پر مجبور کر گیا جبکہ زریش کسمسا کر اس سے دور ہوئ…
آپکے پاس ان باتوں کے علاوہ بات نہیں…”
وہ زرا خفا ہوئ..
دیکھو یار من…. ہم زرا ٹھرکی ٹائپ بندہ ہے اور صرف تم سے اپنا ٹھرک دور کرتا ہے.. اور تم ایسا اتراتا ہے… صیحی پھر جان بھی تو ہمارا ہے اتراے گا ہی” وہ بھی زرا آنکھیں دیکھا کر بولا…
جبکہ زریش سرخ سی ہو گئ…
ایک بات پوچھو”اسکو ایسے ہی خیال سا گزرا…
پوچھو مگر ہمارا بانہوں میں بیٹھ کر…ورنہ چونچ بند رکھو ہمکو تمھیں دیکھنا ہے”گھیری نظریں اسپر ڈالے وہ اسکی نگاہوں پر بوجھ سا کر گیا جو اٹھنے کا نام نہیں لے رہیں تھیں..
اس وقت زریش کو اپنا اپ… خوش. نصیب سا لگا..
وہ اتھی اور اسکے پاس بیٹھ گئ.. جبکہ سادام کے ہاتھوں کی حرکت اپنے گالوں پر محسوس کر کے اسنے وہی ہاتھ پکڑ لیے..
وہ مسکرا دیا مگر نگاہیں بنا ہٹاے اسے دیکھے گیا…
وہ میں کہہ رہی تھی آپ کہتے تھے.. کہ آپ مجھ سے شادی نہیں کریں گے پھر “
وہ رکی حلق میں آنسو سے پھنسے..
ایک تو تم عورت کا بھی عجب دماغ ہے خوش ہوتا ہے روتا ہے… درد ہوتا ہے زیادہ روتا ہے….. بچھڑتا ہے تو رو رو کر برا حال کرتا ہے ملتا ہے تو الگ روتا ہے.. مطلب دنیا کو کنفیوز کرتا ہے…
جاہل سا سائیں.. بھلا تمھارا بنا کیسے رہتا… شادی تو اب بھی ہم خاندان میں باباسائیں کی پسند کا کرے گا
نواب جی”وہ چیخی جبکہ سادام کا قہقہ بلند ہوا…
یار من مزاق کرتا ہے” وہ ہنستا ہوا اسے سینے سے لگا گیا..
زریش کا نرم لمس اسکے جزبات کو ہو ادینے لگا جس پر قابو پا کر اسنے اسے خود سے دور کیا….
اور اسکی آنکھوں میں دیکھا…
دیکھ لڑکی.. تمھارا ان حویلی والوں سے کوی تعلق نہیں ہمارا زندگی کا سب سے اچھا بات ہے یہ… تو بابا سائیں کو تمھارا لیے پٹانا مشکل ہو گا نہ ممکن نہیں… اگر تمھارا حویلی سے تعلق ہوتا.. اور کوی فلمی سین بنتا.. تو.. لازمی ہم تو گیا تھا کام سے”وہ ہنسا…
م… مطلب” زریش نے دل میں شکر ادا کیا اور پوری بات جاننا چاہی…
جس پر سادام نے ایک بار پھر بے باک سی جسارت اسکی گردن پر کی جس سے وہ پوری کانپ اٹھی… اور اٹھ کھڑا ہوا…
زیادہ سوچے گا تو صحت نہیں بنے گا اور تم جانتا ہے پھر ہمیں “جھک کر معنی خیزی سے نگاہیں اسپر ڈالتا وہ اسے پورا شرمندہ کرتا باہر چلا گیا…
…………………..
تم نے اس لڑکی کے بارے میں کیا سوچا” شہاب نے سوال کیا…
تم ایسے تڑپتا ہے جیسے نہ جانے تم اسکا بھائ ہے”جان بوجھ کر پنگا لیتا.. وہ عنایت کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسا…
جبکہ عنایت نے بھی ہنسی دبائ….
ہو گیا.. تم دونوں کا…. “شہاب سنجیدہ دیکھائ دے رہا تھا….
یہ ہم دیکھ رہا ہے جب سے… وہ لڑکی حویلی آیا ہے تم کچھ زیادہ سینسیٹیو ہو گیا ہے.. خیر سوچنا کیا یے حویلی میں جتنا ملازم ہوں کم ہے.. بس وہ بھی وہیں ہے ہاں اسکا شوہر اسکو طلاق دے گا تو.. تو.. یہ اپنا عنایت کس کھیت کا مولی یے ا سسے بیاہ دے گا.. “اسنے شانے اچکاے اور سگار جیسے شہاب کے دل پر سلگای جو خود اپنی کیفیت سمھجنے سے قاصر تھا..
عنایت سے” وہ حیران ہوا…
ہاں تو.. “سادام نے لاپرواہی سے کہا…
تمھارا یہ شریف عنایت دشمنوں کی حویلی میں بلبل پھنساے بیٹھا ہے..” شہاب نے بھی شوشہ چھوڑا جبکہ عنایت کو اچانک اچھو لگ گیا…
بنا پیے ہی وہ کھانسنے لگا.. سادام سنجیدگی سے ائ برو چڑھاے اسے دیکھنے لگا….
نہیں خان”وہ کچھ کہتا کہ سادام نے ہاتھ اٹھایا…
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا عنایت بادشاہ…. وہاں کا لڑکیوں کو بھی عزت کا نگاہ سے دیکھے گا… اور مرتضی سے کسی لڑکی کا تعلق نکلا تو.. تمھارا اگلا سانس نہیں نکلنے دے گا” وہ سنجیدگی سے اسے اپنی بات سمھجا گیا..
جی خان “اسنے کہا تو سادام نے دوبارہ شہاب کیطرف دیکھا..
کچھ نہیں ہوتا محبوب الگ ہوتا ہے بیوی الگ ہوتا ہے ہمکو مسلہ نہیں “وہ دوبارہ شہاب کو چیڑانے کو بولا..
تمھارا دماغ ٹھیک ہے… پہلے وہ اپنی عمر سے دوگنے آدمی کے ظلم سہتی رہی پھر تم اسے سوتن کا دکھ دو گے “وہ جزباتی سا ہوا..
عنایت بادشاہ… تم انصاف سے رکھے گا دونوں کو سمھجا “وہ حکمیہ بولا تو عنایت نے فورا سر ہلایا جبکہ شہاب غصہ دباتا اپنی جگہ سے اٹھا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا.. سادام کا قہقہ برجستہ تھا
حویلی مت پہنچ جانا شہاب باو”وہ قہقہ لگاتا…اسے مزید سلگا گیا…
……………
ہاد کافی دنوں بعد دوبارہ حویلی آیا تو… سادام سے چھپتا پھیر رہا تھا….
اگر وہ نوٹس کر لیتا تو اسکی کلاس پکی تھی… تبھی وہ جلدی سے لاونج عبور کرتا اندر جانے لگا… کہ اس سے پہلے ہی نظر نور پر پڑی….
اور اسے کچھ عرصے پہلے کا وہ تھپڑ یاد آ گیا جو اسکے منہ پر پڑا تھا….
اسنے ادھر ادھر دیکھا.. اس وقت وہاں کوئ نہیں تھا…. اور ہوتا بھی کیسے… فضل خان اپنی نئ بیوی کے پاس تھے جبکہ اسکی ماں ادھر فلھال نظر نہیں آ رہی تھی اور آ بھی جاتی تو کو نسا اسے فرق پڑتا تھا درحقیقت فرق تو سادام سے پڑتا تھا جو ڈیرے پر تھا….
اسے کھسر پھسر کی سی آواز سنائ دی….
جیسے وہ کسی سے بات کر رہی ہو….
مگر آج وہ ہر قیمت پر اس چھٹانک بھر کی لڑکی سے اس تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتا تھا جو اسنے ہاد فضل خان کے منہ پر مارا تھا اور وہ پہلی لڑکی تھی اس سے پہلے کسی کی جرت ہی کب ہوئ تھی…
وہ کچن میں داخل ہوا تو…. نظر نور پر تھی جو کٹینگ بورڈ پر کچھ کاٹ رہی تھی….
جبکہ کسی دوسرے کی موجودگی محسوس کر کے نگاہ اسپر اٹھی تو وہیں ٹھر گئ…
سفید چاندی سی رنگت میں زخموں کے نشان اسے مزید حسین بنا چکے تھے یہ شاید وہ ہاد کو لگا….
اسکے لمبے کمر سے نیچے جاتے بال… اور گوری… کچھ کچھ زخمی کلائیوں کو دیکھ کر… وہ جیسے ٹھر چکا تھا..
وہ پارسا نہیں تھا اور نہ ہی ایسا تھا کہ اسنے کبھی حسن نہیں دیکھا تھا اسکے ساتھ کھڑی لڑکی بھی بے پناہ حسین تھی مگر ان ڈری سہمی آنکھوں کی ادا کو ہاد دیکھتا رہ گیا…
آپ کو کچھ چاہیے”نور اسکے بیلا کو گھورنے پر غصہ کرتی بولی…
تو ہاد نے جیسے اسکی اواز پر کان نہیں دھرا….
جبکہ بیلا…. انگلیاں مروڑ رہی تھی…
شمائلہ بھی وہیں آ گئ اور ہاد کو سکتے میں اور بیلا کے کنفیوز چہرے کو دیکھ کر… وہ خود بھی اچھا محسوس نہیں کر رہی تھی..
کون ہو تم” ہاد ارد گرد سے بیگانہ بیلا سے مخاطب ہوا جبکہ بیلا.. اٹکی ہوئ سانسوں سے اسے دیکھتی جواب تلاش کرنے لگی…
نوکرانی ہے” نور عجیب کیفیت کا شکار ہوتی پٹ سے بولی…
ہاد نے اسکیطرف دیکھا….
میڈ”وہ پھر لفظوں کو دھرا نے لگا…
نہیں ہاد سائیں.. یہاں کی ملازمہ نہیں ہے کچھ عرصے رہنے ائ ہے بس “شمائلہ بہن کے جھوٹ پر حیران ہوتی حقیقت بتا گئ…
مگر ہے تو ملازم ہی نہ.. اور ویسے بھی سادام سائیں نے یہ ہی کہا ہے کہ یہ ملازمہ ہے یہاں کی “نور تلملا کر بولی…
پہلے ہی اسے سخت کوفت ہوتی تھی ہاد سے اور اب اسکی نظروں کے ٹکاو سے وہ.. چیڑ رہی تھی نہ جانے کیوں…
نہیں” ہاد زرا سا گھوما…
گیسٹ ہیں تو گیسٹ کیطرح ٹریٹ کرو… اب مجھے کسی کام میں ملوث نہ دیکھیں یہ”وہ شمائلہ کو وارن کرتا.. خود ہی اپنی کیفیت پر حیران سا.. وہاں سے آخری نگاہ بیلا پر ڈال کر چلا گیا جبکہ نور نے بیلا کیطرف دیکھا..
اتنا گندا اور گھٹیا انسان ہے یہ.. گئ اب تم کام سے” نور نے اسے مزید خوف زدہ کیا…
بیلا کی آنکھیں بھیگ گئیں…
جانتی ہو زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی اسنے میرے ساتھ میں نے تو تھپڑ کھینچ مارا…” وہ بولی تو بیلا حیران سی اسے دیکھنے لگی..
شمائلہ بہن کا یہ رویہ نہیں سمھجہ سکی اور نہ ہی اسنے یہ بات پہلے اسے بتائ تھی بعد میں پوچھنے کا سوچ کر وہ بیلا کیطرف بڑھی…
چلو بیلا اب آرام کر لو ہاد سائیں نے کہا ہے تم گیسٹ ہو” شمایلہ نرمی سے مسکرائ جبکہ بیلا کی مسکراہٹ تو غائب ہو گئ…
نہیں مج… مجھے نہیں جانا” اسنے صاف انکار کیا..
ارے”وہ ہنسی
اچھا چلو… ایک کام کرتے ہیں کچھ دیر باتیں کر لو اسکے بعد میں تمھیں گیسٹ روم میں چھوڑ دوں گی” اسنے کہا تو بیلا خاموش ہو گئ…
ارے تمھیں نہیں معلوم اس نے شروع شروع میں میرے ساتھ بھی یہ ہی کیا تھا” نور مدھم اواز میں بولی..
حقیقت میں اسے بیلا سے جیلسی محسوس ہو رہی تھی اسے تو وہ شخص میڈ کہہ کر دو ٹکے کی کر گیا تھا جبکہ اس دوسری پر کیسے ایک نظر میں فدا ہوا جبکہ اسکے منہ پر زخموں کے کتنے نشان بھی تھے.. اور اب شمائلہ سے احتیاط برتے ہوئے وہ بولی..
میں.. میں اپنے گھر چلی جاتی ہوں “بیلا گھبرا کر مایوسی سے بولی…
ہاں بھئ یہ حویلی والوں کا بھی کوئ کردار ہوتا ہے.. تمھارا شوہر ہی بہتر ہے… اب بھلا اس سے بچ کر یہاں عزت غوا بیٹھو کون سا اچھا سودا کیا تم نے” وہ بولی تو بیلا خاموش ہو گئ جبکہ… نور پرسکون…. بیلا کی شکل بتا رہی تھی وہ جلد یہاں سے فرار ہو جائے گی…
ابھی یہ ہی گفتگو جاری تھی کہ انٹراکام بجا تو.. شمائلہ نے ریسیو کیا..
جی ہاد سائیں ” وہ بولی…
جی اچھا بہتر”اسنے کاہ اور فون بند کیا…
بیلا ہاد سائیں کے لیے میں کافی بنا دیتی ہوں تم لے جاو… “وہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتی بولی جبکہ بیلا کے رنگ اڑے..
ن.. نہیں مجھے نہیں جانا میں کیوں جاو بھلا…” وہ فورا نفی کرنے لگی جبکہ شمائلہ اپنا کام جاری رکھتے ہویے مسکراتی رہی..
تم ایسا کرو.. کہ یہ سبزیاں کاٹ لو… میں دے آتی ہوں”نور ہاتھ جھاڑتی بولی تو بیلا فورا مان گئ…
اور شمائلہ کے منع کرنے کے باوجود… وہ خود کافی لے کر ہاد کے کمرے کے باہر کھڑی تھی… آج سے پہلے اس قسم کا کچھ نہیں ہوا تھا مگر ہاد کو بیلا کیطرف دیکھتا پا کر وہ… جلن کے احساس میں گرفتار ہو گئ…
اسنے دروازہ بجا کر اندر قدم رکھا تو ہاد جو بیلا کو ایک بار پھر دیکھنے کا منتظر تھا نور کو دیکھ کر ماتھے پر بل سے پڑے.. اسنے ڈریسنگ پر سے… برش اٹھا کر بال بناے… اور پلٹا…
میں نے جس کو بلایا تھا وہ کیوں نہیں ائ”اسنے سوال کیا اور موبائل نکالا..
ہاد صاحب کیا نوکرانی پر بھی پسند رکھتے ہیں آپ…
بڑی بات ہے” اسنے طنز کیا.. توہاد نے اسے باہر نکل جانے کا اشارہ کیا جبکہ نور اپنی بے عزتی پر بل کھاتی باہر چلی گئ…
……………
سادام شہاب… اور اج ہاد نے بھی انھیں جوائن کیا جبکہ.. عنایت بھی کھڑا تھا وہ سب باتیں کر رہے تھے کہ اچانک تڑ تڑ گولیوں کی اواز وہ بھی سادام کے ڈیرے میں…
وہ اپنی بندوق نکالتا باہر نکلتا کہ ولی پوری شان سے اندر داخل ہوا…
سادام کا خون کھول گیا
تو یہاں کیوں آیا ہے”وہ دھاڑا اور گن اسپر تان لی جبکہ عنایت اور ہاد سمیت شہاب نے سادام کو روکا…
اس سے کہو نکلے یہاں سے ورنہ ہمارے ہاتھوں سے قتل ہو گا اسکا” وہ چلایا…
کہاں ہے زریش”ولی نے غصے سے پوچھا.. جبکہ سادام بے قابو ہونے لگا اس شخص کو.. وہ اپنے سامنے برداشت نہیں کر سکتا تھا…
تم نام کیسے لے رہا ہے اور کس حق سے لے رہا ہے نام “وہ غصے سے چیخا…
میری مرضی” اس بات پر وہ دھکا دیتا…. ولی پر جھپٹا اور کھینچ کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ برسا دیے اور کچھ ہی دیر میں وہ گتھم گتھا تھے
جاری ہے
