Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 19
وہ دوبارہ اسی گھر کے سامنے کھڑا تھا.. ایک نظر غور سے اس گھر کیطرف دیکھا…. اور دو قدم آگے بڑھاتا….
کہ اچانک اسی گھر کا دروازہ کھلا.. اور ایک کم عمر لڑکی بھاگنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ اسکے پیچھے ادھیڑ عمر آدمی… اسکے بال پکڑ کر اندر کھینچ رہا تھا جبکہ اسکی بے بس نگاہیں ارد گرد دیکھ رہیں تھیں کہ کوئ اسکی مدد کرے مگر وہاں کھڑے لوگ تماشہ ضرور دیکھ رہے تھے آگے کوئ نہیں بڑھا تھا..
تبھی شہاب جو یہ سب دیکھ کر.. حیرت اور غصے سے پھٹنے کو ہو رہا تھا…. وہ اگے بڑھا… اور لڑکی کو کھینچ کر باہر نکالا.. جبکہ پیچھے وہ آدمی اس جھٹکے کو برداشت کیے بنا… دور جا گیرہ… اور لڑکی… شہاب کو مسیحا پاتے ہی سسکتی ہوئ اسکی پشت میں چھپنے لگی….
یہ کیا جہالت ہے”وہ دھاڑا جبکہ وہ آدمی اپنی بے عزتی پر جگہ سے اٹھا….
باو تیرا کوئ معملہ نہیں یہ میری بیوی ہے اور میں جو چاہو اسکے ساتھ کروں” وہ آدمی صاف جواب دیتا اس لڑکی کو اپنی طرف کھینچنے لگا….
ن.. نہیں.. نہیں مجھے بچا لیں اللہ کے واسطے م
.. مجھے بچا لیں “وہ لڑکی گڑگڑائ شہاب کی آنکھوں میں ایک عکس اترا…. اور اسنے کھینچ کر اس ادمی کے منہ پر تھپڑ مار دیا…
اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا…
شہاب کے ردعمل پر.. وہاں کھڑے سب تماشائیوں میں جیسے جان ائ اور وہ اگے بڑھے.. ایک عورت نے بیلا کو سینے سے لگا لیا..باو بچی کو بچا لیں جی بہت مارتا ہے یہ… اور اس ماں بھی پاگل ہیں دونوں “وہ نفرت سے بولی..
شہاب نے سادام کو کال ملائ کیونکہ اس ادمی کے تیور بگڑنے لگے تھے..
میرے معاملے میں بولنے والا یہاں کوئ نہیں..
اے بیلا اندر چل” وہ چیخا.. جبکہ بیلا مزید اس عورت میں سمانے کی کوشش کرنے لگی..
شہاب کو سادام پر شدید غصہ آیا…
مگر وہ کال کرتا رہا.. کچھ دیر بعد.. کال اٹینڈ ہوئ.. اور نیند میں ڈوبی ڈوبی آواز سنائ دی..
میں یہاں تمھارے گاوں میں کھڑا ہوں…. فوراً یہاں پھنچو” وہ بولا لہجہ بری طرح سخت تھا.. سادام نے اچھا کہہ کر… کال کاٹ دی جبکہ اس ادمی کے اگے وہ دیوار بنا کھڑا تھا….
بے بس عکس نے اسکے وجود میں چنگاریاں بھر دیں تھیں پہلے وہ
چھوٹا تھا… یہ شاید اتنی طاقت نہیں رکھتا تھا مگر آج نہ وہ کمزور تھا نہ بے بس….
کچھ ہی دیر میں عنایت آتا دیکھا.. اور گاڑی دھول اڑاتی کچھ فاصلے پر آ کر رک گئ…
جس میں سے سادام فضل. خان پوری شان سے باہر نکلا… اور گہرے سوٹ میں وائٹ شال لپیتے مونچھوں کو تاو دیتے وہ بے پناہ وجاہت کا مالک شخص باہر نکل کر… آیا… اور شہاب کو دیکھ کر اسکیطرف بڑھا…
وہ آدمی سادام کو دیکھ کر گھگھیا گیا…
سلام سرکار “وہ ادب سے بولا سادام نے سر ہلایا اور شہاب کیطرف دیکھا…
اس لڑکی سے پوچھے کیا یہ اسکے ساتھ رہنا چاہتی ہے” شہاب نے اشارہ کیا تو سادام نے اس لڑکی کیطرف دیکھا… جس کے چہرے پر جا بجا نشان تھے… جو کے سرخ اور نیلے پر رہے تھے.. جبکہ وہ یہ بات لکھ کر دے سکتا تھا اگر اس لڑکی کے چہرے پر طلم تشدد کے نشان نہ ہوتے تو وہ بلا کی خو صورت ہوتی مگر اسکے سائیں سے زیادہ نہیں… اسنے سر جھٹکا.. اور گاگلز اتار کر..
ابھی وہ کچھ کہتا کہ شہاب بولا..
یہ ادمی اسکو “
رک جاو” سادام نے شہاب کو ٹوکا….
تو وہ خاموش ہو گیا جبکہ… سادام اس ادمی کیطرف بڑھا…
تم نے اسکو مارا”اسنے سوال کیا سنجیدگی سے..
سائیں آوارہ ہے… یہ” وہ آدمی جلدی سے بولا تو.. اس لڑکی نے حیرانگی سے اسکیطرف دیکھا.. جو کہنے کو اسکا شوہر تھا صرف کہنے کو چار سال سے وہ اسکے نکاح میں تھی اور ایک رات اسے سکون کی میسر نہیں تھا.. اپنی عمر سے پہلے ہی وہ بڑی ہو کر ان معملات کو سمھجنے لگی تھی مگر اولاد کی نعمت نہ ملنے پر اکثر وہ اسکو اسی طرح پیٹتا تھا.. اور اب تو یہ روز ہونے لگا تھا.. اسکااگر دنیا میں کوئ ہوتا تو… وہ اسطرھ رسوا نہ ہوتی نہ مان باپ نہ کوئ اور ایک پھپھو ہی تھی اور وہ بھی چل بسی.. مگر اس ادمی کو اسے بیچ گئیں تھیں…
وہ بنا کچھ بولے سسکتی رہی شہاب ضبط سے یہ نظارا کر رہا تھا جبکہ سادام… نے بھی شہاب کا چہرہ دیکھا….
تمھارا پاس دو دن ہے.. لڑکی کو طلاق دے کر فارع کر
. آوارہ لڑکیاں رکھنے قابل نہیں ہوتا.. “اسکا شانہ تھپتھپا کر.. وہ فیصلہ سنا چکا تھا…
اس ادمی نے… ارے رنگوں سے سادام کو دیکھا..
م. مگر میں دینا نہیں چ…”
سادام کے گھورنے پر وہ رک گیا…
تم کل اسکو طلاق دے گا… تمھارا کھنپڑی میں یہ بات گھسا یہ… نہیں “وہ پھر سے بولا تو وہاں سب کھرے لوگ اسکے فیصلے وک سن رہے تھے….
س… سائیں م.. میرا تو.. کو کوئ ب. بھی نہیں “وہ لڑکی سسکی…
تو سادام نے اسکیطرف دیکھا…. شہاب کہ پاوں سے جلنے لگے تھے اسے… اس وقت سب زہر لگ رہا تھا….
تم تب تک حویلی رہے گا. “وہ حتمی لہجے میں بولا تو… لڑکی کے چہرے سے گویا خوف سا ختم ہوا وہ ساری زندگی حویلی کی غلامی میں گزار سکتی تھی مگر اس ادمی کے ساتھ ایک دن بھی اور نہیں گزار سکتی تھی روز اپنے اللہ سے یہ ہی دعا مانگتی تھی کہ.. کسی دن تو وہ یہاں سے نکلے گی اور اج وہ لمہے اسکے سامنے تھے…
سادام نے عنایت کو اشارہ کیا اور عنایت نے اس لڑکی کو پیچھے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا..
چلیں بادشاہ… “سادام نے شہاب کو کہا.. تو وہ.. بنا جواب دیے چل دیا جبکہ ہ مسکراہٹ دبا گیا…
خیر ہے سائیں اکھڑا اکھڑا لگتا یے” گاری خود ڈرائیو کرتے ہویے وہ بولا تو… شہاب نے اسکو دیکھا…
تمھیں وہ لڑکی کہیں سے آوارہ لگتی ہے جو تم نے.. اس ادمی کی حمایت کی”شہاب نے اسکو غصے سے دیکھا..ہو بھی سکتا ہے.. آدمی جھوٹ کیوں بولے گا “اسنے لاپرواہی سے کہا…
تمھاری نہ نظر خراب ہو چکی ہے” شہاب نے منہ پھیر لیا…
تم پہلی نظر میں ہی بڑا غور سے دیکھ چکا ہے اسے.. کمال ہے… ” اسنے چوٹ کی تو شہاب… نے جواب نہیں دیا.. جبکہ سادام نے گاڑی میں گانا چلایا.. تیز ہوا آر پار ہو رہی تھی…
اور سادام فضل خان لمہوں میں کئ فیصلے کر چکا تھا…
…………..
جاناں سارا وقت چھپتی پھیر رہی تھی… دادی کی طبعیت زرا نا ساز تھی… مگر وہ جاناں کو دیکھ کر.. شدید غصے کا شکار تھیں….
اور شکیلا کو ایک دو بار..کہہ چکیں تھیں کہ اسے بلایے مگر.. جاناں نہیں ائ تھی…
وہ کچن میں ہی رہی بھلے اسنے کوئ کام نہیں کیا..
وہ ولی سے پہلے اٹھ کر…. کمرے سے نکل چکی تھی….
اور اب شام ڈھلنے لگی تھی کہ…. وہ رقیہ بیگم کے کمرے میں انکے ساتھ چلی گئ…
ان سے باتیں کرتے ہویے اسے اچھا احساس ہو رہا تھا جبکہ وہ مسلسل اسکو دیکھ کر ماشاءاللہ کہہ رہی تھی
اے کہاں گھسی بیتھی ہے منحوس صبح سے تجھے بلا بلا کر… میرا منہ تھیڑا ہو گیا مگر.. تو کانوں پر جوں تک نہ رنگی “دادی اسکے پاس پہنچی… تو وہ ڈر کر دھڑکتے دل سے رقیہ بیگم کو دیکھنے لگی…
اماں”
بس بہو… “وہ چیخی تو انکی آواز سن کر ایزہ بھی پیچھے ا گئ اور ان بے شمار دنوں میں اسنے پہلی بار جاناں کو دیکھا جس کی آنکھیں خوف سے بھیگ چکیں تھیں…
وہ اندر داخل ہوئ..
دادی” اسنے انکی طرف دیکھا..
اب تو بھی حمایت لے گی اس کی میرا بیٹا مرا تھا.. کسی کو اس بات کی نہیں پڑی سب.. حمایتیں لینے ا گئے” وہ بھڑکیں….
اور جاناں کو بالوں سے پکڑ کر.. وہ باہر کھینچتی ہوئ لائیں جاناں جود کو ان سے چھرانے کی تگ و دو میں مسلسل روتی بکھرنے لگی تھی…
دادی آپ کیا کر رہیں ہیں” آئزہ ایکدم آگے بھڑی جبکہ جاناں کو تھپڑ لگا کر.. انھیں سکون نہیں ملا وہ. اسکی سسکیاں سن کر بھی نرم نہیں ہوئیں تو… اسکو دونوں ہاتھوں سے پیٹنے لگی….
جبکہ سامنے سے آتا.. ولی یہ منظر سامنے سے آتا دیکھ چکا تھا….
اسکے ساتھ شہریار بھی تھا…
شہریار تو متھی بھینچ گیا جبکہ ولی.. صرف دو قدموں کی دوری پر دادی کے نزدیک پہنچا اور جاناں کو ایک جھٹکے سے کھینچ کر کھرا کیا جو.. بری طرح رو رہی تھی..
تو تو اسکے دام میں آخر پھنس ہی گیا بھول گیا پانے باپ کی موت.. اسکا سر تن سے جدا کر کے.. بھیجا تھا انھوں نے.. بھول گیا ولی”وہ چلائ.. جبکہ ولی نے جاناں کی طرف دیکھ… جو بری طرھح ڈر رہی تھی..
جاو تم یہاں سے” اسنے کہا تو جاناں بھاگتی ہوئ اپنے کمرے میں چلی گئ….
دادی رونے لگی جبکہ ولی… انکی طرف دیکھتا رہا…
نہ میں کچھ بھولا ہوں اور نہ ہی کبھی بھولوں گا جبکہ فضل خان کا بھی سر اسی طرح جدا نہ کر دوں مگر آج یہ بات میں اپکو صاف لفظوں میں بتا رہا ہوں.. اب جاناں پر کوئ ہاتھ نہیں اٹھاے گا اور اس میں آپ بھی شامل ہیں… بس اس سے آگے میں مزید صفائیاں نہیں دوں گا.. کچھ دیر تک مجھے پھپھو کو لینے نکلنا ہے.. تو گھر کا ماحول ٹھیک کیا جاے”اسنے حتمی لہجے میں کہا اور اپنی مان کے پرسکون اور دادی کے غصے سے سرج ہوتے چہرے کو دیکھ کر وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ… شہریار بھی چلا گیا اور ایزہ اسکے پیچھے ہو لی….
رقیہ بیگم بھی اپنے کمرے میں چلی گئیں آج دل و دماغ پر سکون ہو گیا تھا…
جبکہ دادی کا سارا غصہ شکیلا پر اتر گیا….
……………..
وہ کمرے میں داخل ہوا تو جاناں کے رونے پر چڑ گیا..
بس اتنا بھی کچھ نہیں ہوا جتنا تم نے رونے ڈالے ہوئے ہیں “وہ چڑ کر بولا…
جاناں نے اسکیطرف دیکھا…
اپ اپ کو لگے نہ پھ.. پھر تکلیف کا احساس ہو” اچانک ہی وہ بولی تو ولی… نے اسکی کلائ جکڑی…
بری زبان لگ گئ.. بس ایک رات سے”وہ. معنی خیزی سے اسکا معصوم چہرہ دیکھنے لگا….
جاناں نے جواب نہیں دیا…
جواب دو” وہ غصے سے بولا…
ک. کیا جواب دوں.” جاناں اسکی قربت پر اسکے بے باک لمس پر… جو اسکے چہرے پر وہ چھوڑنے لگا تھا… گھبرا اٹھی تھی…
یہ ہی کہ تمھیں درد نہیں ہوتا” وہ اسکے بھیگے لب دیکھنے لگا..
جاناں کا دل کانپنے لگا… اور ولی دوبارہ کوئ پیش رفت کرتا کہ.. اسکا فون دو ارہ بجنے لگا..
اسنے اسے دور دھکیلا
جاناں اس انسان نما سفاک ظالم حیوان کو دیکھ کر جلدی سے واشروم میں چلی گئ… جبکہ ولی اسکی عجلت پر معمولی سا مسکرا دیا…
چھوٹے چوہدری… گھوڑا گاوں کے بڑے نالے میں مردہ ملا ہے جی… “صادق کی بات پر وہ تیز سے اٹھا…
کیا بکواس کر رہے ہو” وہ دھاڑا…
جی سچ کہہ رہا ہوں “صادق نے کہا تو ولی نے موبائل بیڈ پر پھینکا…
اور کمرے سے باہر نکلتا کے جاناں بھی باہر آ چکی تھی.. وہ پل میں غضب ناک سا اسکے نزدیک پہنچا اور اسکی ائ موڑی..
آہ” وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی…
تمھارے بھائ کو ایک ایک چیز کا حساب دینا ہو گا… ایسے تو سکی جان نہیں بخشوں گا” وہ جیسے تلملا اٹھا تھا…
اسکو دھکیل کر.. وہ اپنے کمرے سے نکلا اور پیچھلے بار سے ابھی وہ دروازے کیطرف برھتا جہاں اسکی گاڑی کھڑی تھی…
کہ کچھ خسر پھسر پر وہ رک گیا..
کہیں سے مدھم مدھم آوازیں آ رہیں تھیں مگر اسے صاف سنائ نہیں دے رہی تھی وہ زرا ان آوازوں کی تعاقب میں آگے بڑھا….
اور اسے چوہدری سکندر کی پشت نظر ائ.. تو وہ پیچھے ہو گیا…
اسکے سامنے زریش کے ماں باپ ہاتھ جوڑے کھرے تھے….
سردار جی ہماری بیٹی پورے دن سے نہیں ملی جی… اپکے کہنے پر ہم نے کسی کو نہیں بتایا مگر وہ کہاں ہے.. اب تک معلوم نہیں ہوا “زریش کا باپ ہاتھ جوڑے کھڑا تھا….
تم لوگوں کو کیا تکلیف ہے بلا سرسے اتر گئ اس سے اچھا کیا یے جہاں بھی گئ تمھیں کیا تکلیف ہے دوبارہ مت آنا یہاں ورنہ اچھا نہیں ہو گا” وہ سختی سے بولے… اور وہاں سے جانے لگے کہ زریش کے مان اسکے قدموں میں گیر گی…
بھلے مرتضیٰ صاحب کی بیٹی ہے وہ مگر ہم نے پالا ہے.. اپنے بچوں کیطرح صاحب اتنی سی تھی جب ہماری جھولی میں ڈال گئے تھے وہ…..
وہ جی سگی اولاد ہے انکی آپکی سگی بھتیجی یے سرکار رحم کریں کچھ تو کریں “وہ بلکنے لگی..
اے آواز بند جر اپنی کیا بکواس کیے جا رہی ہے….
کسی نے سن لیا تو ہنگامہ کھرا ہو جایے گا.. اور ابھی شہریار سے دستک بھی لینے ہیں مجھے…. تب تک اپنی یہ چونچ بند کر… اور دفع” وہ رکھ… ولی کا بھاری ہاتھ انکے شانے پر تھا…
انھوں نے مڑ کر دیکھا.. آنکھوں میں انگارے لیے وہ… کھڑا تھا…
جبکہ وہ دونوں بھی خوف زدہ سے ہوئے…
وہ.. زریش…. میرے باپ کی اولاد ہے… ” سرد سپاٹ لہجے میں سوال کیا گیا…
جبکہ سکندر سمیت وہ دونوں بھی جیسے منہ میں ایلفی لے گئے..
کچھ پوچھا ہے میں نے” وہ دھاڑا….
اور پاس پڑے گملے پر لات ماری جو دور جا اڑا….
بتاو مجھے”وہ اب زریش کے باپ پر چڑھا…
سر سرکار” وہ بولنے لگا کہ سکندر نے اسکو گھورا…
اپ جائیں یہاں سے” اسنے زرا سختی سے کہا…
تو وہ کچھ تنبہی سی نظر ڈال کر وہاں سے چلے گئے وہاں رکنا بے کار تھا یہ راز غلط کھلا تھا.. وہ اس بات پر سر پیٹتے فورا اپنی بیوی کے پاس گئے..
غضب ہو گیا… بتول بیگم سمھجو گیا سب اب اپنے ہاتھ سے” وہ غصے سے بولے…
کیا ہو گیا”جب سے آئزہ کی رخصتی ہوئ تھی وہ بیمار رہنے لگیں تھیں
ارے وہ راز جو انیس سال سے دبایا ہوا تھا.. ان دو منحوسں کی وجہ سے پھٹ گیا….
اب تیسری امیدوار بھی اس وراثت میں آ کھری ہو گی اور جو کچھ جمع پونجی تھی اور.. جو دستک میں نے شہریار سے لینے تھے.. وہ نہیں ہوتے کنگال ہی رہیں گے ہم “وہ بتا رہے تھے جبکہ انکے چہرے کے رنگ فق ہو گئے وہ جانتی تھیں ولی کیا ہے
وہ اسی بات پر جینا ھرام کر دے گا کہ اتنے عرصے سے یہ بات انھیں کیوں نہیں بتایا گئ…
…………………..
وہ ان دونوں کو سلگتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا.. پہلی بار اپنے باپ پر غصہ آیا تھا..
جی مرتضی صاحب کو دہی رانی پسند نہیں تھی… وہ بچی کو… ہماری جھولی میں دال گیے ہمارے پاس اولاد بھی نہیں تھی جبکہ انھوں نے حویلی میں یہ بات پھیلا دی کہ بچی مر گی ہے…
چھوٹے چوہدری ہم نے اسے سگی اولاد کیطرھ پالا ہے.. جی وہ صبح سے غائب ہے “وہ رونے لگا.. جبکہ ولی کے لیے یہ خبر بم سے بڑھ کر نہیں تھی.. سادام کا سارا کھیل اب اسکی سمھجہ میں آ رہا تھا.. ان دونوں کو جانے کا شارہ کر کے.. وہ آنکھیں موند گیا…
جبکہ صادق کو پھپھو کو لینے کے لیے بھیجوا دیا…
ایسا نہیں ہو سکتا اسے اس بات کا علم ہوتا تو وہ کبھی اس لڑکی کے نزدیک نہ پھٹکتا..
یقیناً وہ نہیں جانتا”وہ سوچنے لگا…
مگر اسکی بہن تھی….
یہ بات سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹنے کو تھا….
