Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252

Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Last updated: 21 September 2025

50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dhongiyan Shama

By Tania Tahir

جس حویلی میں خوشی کے شادیانے بجنے تھے ۔۔۔۔ بیلا اور ہاد کا ملن ہونا تھا ۔۔۔ وہاں اس وقت سکوت چھایا ہوا تھا ۔۔۔۔ سادام کا نہ نمبر مل رہا تھا ۔۔۔ اور نہ سادام کا کسی کو اتا پتہ تھا کہ آخر گیا تو کہاں گیا ۔۔۔۔۔۔ سب کے چہروں پر پریشانی تھی ۔۔ ہاں برات نے کہیں جانا نہیں تھا کیوں کہ بیلا بھی یہیں تھی ۔۔۔ مگر رات کے بارہ بج چکے تھے مگر سادام واپس نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ اس حویلی میں جہاں سب ہی پریشان تھے ۔۔ ایک وجود پتے کیطرح کانپ رہا تھا ۔۔۔۔ یہ اللہ میرا خواب سچ نہ ہو ۔۔۔۔"اپنے بستر پر بیٹھی سادام کی دیوار پر لگی تصویر کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔ وہ چڑیا کیطرح سہم گئ ۔۔تھی ۔۔۔۔ آنسوں زاروقطار آنکھوں سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ نواب جی واپس آ جائیں" سرخ جوڑے میں اسکے عشق میں سجی اسکے انتظار میں تھی اپنے خواب پر اسکا دل خوف زدہ تھا ۔۔۔۔ نیچے سب اسکا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔ ایک ایک مہمان اسکا منتظر تھا ۔۔۔۔ ویسے سادام کہاں جا سکتا ہے ۔۔۔"فیروز نے حیرانگی کا اظہار کیا ۔۔۔ وہ کہیں بھی نہیں گئے آ جائیں گے"ہاد نے ناگواری سے کہا ۔۔۔ شھاب نے بھی غصے سے اسکیطرف دیکھا تھا ۔۔جب کہ عنایت کو تو جیسے پتنگے لگے ہوئے تھے ۔۔ فضل خان سے آج پہلی بار اسنے اتنی ڈانٹ سنی تھی کہ وہ اسکو مارنے کے لیے اٹھ گئے تھے اور ہاں وہ اسے مارتے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا اسکی غلطی تھی آخر اسنے سادام کو تنہا جانے ہی کیوں دیا ۔۔۔۔ مگر اسنے سب کو شہر دوڑا دیا تھا ۔۔۔۔ فیروز کا چہرہ مطمئین تھا کیونکہ اسکا خاص ملازم ۔۔۔ کھائ میں گرنے والی گاڑی کی اسے اطلاع دے چکا تھا ۔۔۔۔ یہ چوہدری ولی کہاں ہے"اسنے ایک اور نقطہ اٹھایا ۔۔۔ صبح سے وہ بھی ڈیرے پر ہی ہے "شھریار نے اسکو جواب دیا تو اسنے سر ہلایا ۔۔ اتنی آسانی سے سادام اسکے درمیان سے نکل جائے گا اسنے کہاں سوچا تھا یہ ۔۔۔ اب ولی کو ختم وہ اپنے ہاتھوں سے کرے گا ۔۔یہ ہی سوچتے ہوئے وہ ۔۔ چپکے سے وہاں سے نکلا ۔۔۔۔ گاڑی میں سوار وہاں ۔۔اور ۔۔ ولی کے کھیتوں کی جانب آ گیا ۔۔۔ جہاں اسکا ڈیرہ تھا ۔۔۔ اور کچھ کسان اس وقت بھی کام کر رہے تھے صرف اس کوشش میں کے نوابوں سے زیادہ انکی فصل اترنی چاہیے ۔۔۔ اسنے مسکرا کر سب کو دیکھا ۔۔ بیوقوف لوگ ۔۔۔ اس وقت بھی محنت کر رہیں ہیں جب انکی موت انکے سر پر کھڑی ہے "اسنے سوچا ۔۔۔۔ اور ولی کے ڈیرے کیطرف دیکھا ۔۔جو روشن تھا آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔۔ اسکے آدمی چاروجانب پھیل گئے ۔۔۔۔ اور اسکے کھیت اور ڈیرے کا احاطہ کر کے انھوں نے ۔۔۔ بم بیچھانے شروع کیے ۔۔۔ اس طرح کے کسی کی بھی نگاہ میں نہ آ سکیں ۔۔۔۔ آج کا دن فیروز کے لیے سب سے بڑا دن تھا ۔۔ آنے والی کل میں ۔۔۔۔ سب اسکا ہوتا ۔۔۔۔۔ اور کوئن بھی"وہ خباثت سے ہنسا ۔۔۔۔ زریش کا بے مثال سراپا بھی آنکھوں میں آ دھمکا تھا ۔۔۔ وہ چپ چاپ اندر جا رہا تھا ۔۔۔ اسکے آدمیوں نے وہاں کھڑے گارڈز کو اپنے قبضے میں کر لیا ۔۔۔۔ ایک شور سا برپا ہوا تھا ۔۔۔ کھیتوں پر کام کرتے کسانوں نے حیرت سے ۔۔ یہ منظر دیکھا ۔۔ابھی وہ بھاگتے کہ فیروز کے آدمیوں نے انھیں بھی پکڑ میں لے لیا ۔۔۔۔ اب وہ چیختے چلاتے ۔۔انکی مدد کو کوئ نہیں آنا تھا ۔۔کیونکہ اس وقت فیروز کے آدمیوں نے سب کچھ اپنے قبضے میں کر لیا تھا ۔۔۔ نواب فیروز خان نے بندوق کو لوڈ کیا ۔۔ اور ولی کے کمرے کے دروازے کو ۔۔۔ ٹھوکر مار کر کھولا ۔۔۔۔ تو ایکدم حیران رہ گیا ۔۔۔۔ ہاں حیرانگی سے اسکا منہ کھل چکا تھا ۔۔۔۔ اسکی نظروں کے سامنے نواب سادام فضل خان ۔۔۔۔ اپنی پوری شان شوکت سے ۔۔۔ بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔ چہرے پر بلا کا اطمینان تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملازم دوڑتا ہوا آیا ۔۔۔۔۔ عنایت عنایت باؤ ۔وہ خان ۔۔خان کی گاڑی کھائی میں گیر گئ"وہ چیخا ۔۔تو وہاں سب کی چیخ نکل گئ ۔۔۔ زریش جو نیچے ہی آ رہی تھی ۔۔ اپنے خواب کو حقیقت کے روپ میں سن کر ۔۔۔ اسکی ٹانگیں کانپیں ۔۔اور وہ انھیں سیڑھیوں پر بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔ عنایت نے ۔۔ ملازم کو پرے دھکیلا اور شھاب ۔۔ ہاد سمیت وہ تینوں۔۔۔ بھاگے تھے ۔۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔ ابھی تو ۔۔ اس دامن میں خوشیوں کی چاندنی ہوئ تھی۔۔۔ایسانہیں ہو سکتا "زریش پاگلوں کیطرح چیخنے لگی ۔۔۔ جاناں جس کے خود حواس معطل ہو چکے تھے ۔۔ ہاتھ بے دم تھے ۔۔ زریش کے پاس ۔۔ائ ۔۔۔ اسکی چیخوں پکار پر ۔۔جیسے جاناں کا دل پھٹنے کو ہوا ۔۔ ایسانہیں ہو سکتا ۔۔۔ جاناں دیکھو ۔۔ میں نے روکاتھا تمھارے لالا کو انھوں نے میری بات نہیں مانی ۔۔۔"سرخ آنکھوں سے ۔۔۔ وہ زاروقطار روتی ۔۔۔اسے بتا رہا تھی جاناں نے اسکو سینے میں بھینچا ۔۔ رقیہ بیگم بھی وہیں آ گئیں ۔۔۔ زریش بے حال ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ جبکہ مورے زمین پر دھڑام سے گیریں تھیں۔۔۔ فضل خان ۔۔۔ صدمے سے ۔۔الگ صوفے پر پڑے تھے۔ ۔