50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

خوف کی شدید لہر اس وقت اسکے دل میں شہریار کو دیکھ کر پیدا ہوئ تھی..
اسکے انداز.. الگ تھے… وہ بیڈ کے سامنے کھڑا ائزہ کو گھور رہا تھا….
یہ پیپرز سائن کر کے تم نے خود کو مجھ سے الگ کر لیا.. کیسا لگ رہا ہے “سرد لہجے میں پوچھے گئے سوال پر… وہ شرمندگی کی گھیرائیوں میں اترنے لگی…
آنکھیں نمکین پانیوں سے لبا لب ہو چکیں تھے.. وہ اسے کیا کہتی…
یہ کاغزات اسنےا پنی خوشی سے سائن کیے تھے کیا اسکی رضا شامل تھی… اس میں… اسکی ماں نے.. اپنی زندگی داعو پر لگانے کی دھمکی دی تھی اور انکے اگے وہ ایک عام بے بس لڑکی بن چکی تھی…. جو محبت پر خاندان کو ترجیحی دے چکی تھی…
شہریار.. اس وقت اپکا یہاں آنا مناسب نہیں جائیں آپ یہاں سے “اسنے… ہمت مجتمع کرتے ہوئے آرام سے کہا… تو شہریار طنزیہ ہنسا….
ایک شوہر کا اسی کی بیوی کے کمرے میں آنا مناسب نہیں.. تمھیں بولنے میں عجیب نہیں لگ رہی یہ بات” وہ اسکے پاس بیٹھ گیا سکون سے جیسے… یہ اسی کا کمرہ ہو.. ائزہ اس سے دور ہوئ..
چوری چھپے انا…. جائز نہیں…. اور ویسے بھی” وہ چپ ہو گئ.. حوالہ . ان کاغزات کیطرف تھا جنھیں وہ سائن کر کے اپنی طرف سے دونوں کے درمیان اب علیحدگی تصور کر چکی تھی….
ویسے بھی اب میں تمھارا شوہر تھوڑی رہا” وہ.. اسکے گلابی چہرے.. سے.. بالوں کی لٹ ہٹاتا بولا…
اسکا لمس. ائزہ کے لیے ناقابل برداشت تھا… وہ.. کمبل خود پر کھینچتی مزید اس سے دور ہوتی بیڈ سے نیچے اتر کر فاصلے پر جا کھڑی ہوئ…
شہریار آپ جائیں پلیز” وہ رو دینے کو تھی…
یہ پیپرز میں نے بھی سائن کر دیے ہیں دیکھ لو” اسنے وہ پیپر ہوا میں اڑا دیے… ائزہ کی آنکھیں پھیلیں….. اسکے لیے یہ بات ناقابل یقین تھی دل میں کہیں یقین تو تھا کہ.. وہ کبھی اسے نہیں چھوڑ سکتا….
حیرت اتنی تھی کہ اسے کوئ ہوش نہیں رہا.. کمبل اسکے ہاتھ سے چھٹا اور نظر بیڈ کے نیچے پھیلے کاغزات پر چیپک گئ جبکہ… شہریار.. چند لمہے اس کے ہوش ربا سراپے کی روانیوں میں کھو گیا….
قا تل حسن اسکی جان پر بنا چکا تھا…. اس سے پہلے ائزہ ان کاغزات پر جھکتی اسنے ان کاغزات کو.. خود ہی اٹھا لیا…
بلکے نہیں نہ دیکھو… کیا فائدہ دیکھنے کا… کام تو تمام ہو چکا ہے… جو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا.. وہ تو ہو گیا.. ہے.. ہاں البتہ کبھی زندگی میں یہ مت کہنا کہ.. شہریار… نے تمھیں چھوڑا…. تم نے شہریار کو چھوڑ دیا…
میری جان… “وہ پیپر اٹھا… کر اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر گیا…
ائزہ.. ان پیپرز کو دو ٹکڑوں میں ہوتا دیکھ رہی تھی… کہ زمین پر بیٹھتی چلی گئ….
یہ سب کیا ہو گیا تھا….. کیا ہو رہا تھا…..
وہ شہریار سے الگ ہو گئ تھی.. جو اسکی سانسوں میں بستا ہے…. جس کے بنا تو وہ نہیں رہ سکتی…
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی جبکہ.. اسکے چہرے کے قریب شہریار کا جوتا.. سکون سے.. حرکت کر رہا تھا….
اسنے پہلے جوتے کیطرف اور پھر اس کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر اتنا اطمینان تھا جیسے.. اسنے جو کیا وہ ٹھیک کیا…
جبکہ ائزہ کے پاس سوگ بنانے کے سوا اور کوئ اوپشن نہیں تھا.
زیادہ دیر.. تمھاری ڈرامے بازی برداشت نہیں ہو گی مجھ سے… تو بہتر ہے کے. اپنے آنسوں کا خاتمہ کرو… ساری رات پڑی ہے رونے کے لیے وقفے وقفے سے یہ دورے تمھیں پڑیں گے تو مجھے اتنا برا نہیں لگے گا.. جتنا.. اریٹیٹ میں تمھارے مسلسل ان مگرمچھ کے آنسو سے ہوں گا… “وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا.. جیسے چیڑ کر بولا..
ک… کیا مطلب ہے اس بات کا.. اپ نے مجھے چھوڑ دیا شہریار” وہ پھر رو دی…
ہاں… چھوڑ دیا… تم جانتی ہو نہ یہ بات. کہ میں نے تمھیں چھوڑ دیا… میں صبح سب کو بتا بھی دوں گا ڈونٹ وری.. یار پریشانی کیا ہے”اسنے اسکی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر.. غمگین چہرہ اونچا کیا…
ائزہ کا وجود ہچکیاں بھر رہا تھا….
اسکے آنسوں شہریار کی ہتھیلی بھیگو رہے تھے….
دل میں اسکے انسو دیکھ کر.. عجب سی ہلچل مچ گئ….
مگر.. دماغ نے دل کی ہلچل کو اپنے قابو میں کر کے
. ایک بار پھر سے وہی سفاکیت جگا دی….
میں نے تمھیں منع کیا ہے نہ مت رو… رونے والی بات ہی کیا ہے… چلو شاباش اٹھو.. بیڈ پر او اور… میرے سابقہ حقوق ادا کرو “بات تھی یہ گولی.. ائزہ کے دل و دماغ پر تیر کی طرح لگی..
وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی… اچانک ہی اس سے… دس قدم دور ہوئ… تو شہریار کا قہقہ… پورے کمرے میں گونج گیا….
ائزہ کا دل پتے کیطرح پھڑک اٹھا…
یہ کیا بکواس کر رہیں ہیں آپ.. ہوش میں تو ہیں” وہ غصے میں دیکھ رہی تھی…
کر تو چکے ہیں.. مجھے خود سے علیحدہ تو.. یہ کیا بیہودہ مزاق کر رہیں ہیں..” وہ بولی تو شہریار اپنی جگہ سے اٹھا..
چندہ.. شرافت کا نہیں بیہودگی کا زمانہ ہے.. میں نے سوچا.. کہ شریف بن کر مجھے کون سا.. کچھ مل گیا.. میری بیوی میرے خلاف چلی گئ.. تو میں تو بہت بڑا پاگل ہوں…. جو اب بھی اسی کے فراق میں مرو گا.. تو.. یہ وقت تھا یو ٹرن کا.. جو میں نے لیا..
چچی بھی خوش ہو جائیں گی اور تم بھی. مگر میرے کچھ قرض ہیں تمھاری.طرف انکی ادائگی .. آ آ.. تم خوشی سے تو دو گی نہیں.. مطلب. میں لوٹ لوں گا.. فکر نہ کرو.. “وہ آرام سے اسکی کلائ پکڑتا.. اسے اوپر سے نیچے دیکھتا حقیقت میں وہ. شہریار بلکل نہیں لگ رہا تھا یہ تو کوئ اور تھا.. جیسے شیطان… اسکا شہریار ایسا نہیں تھا… ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا…
د… دور رہیں مجھ سے.. پ.. پاگل ہو چکیں ہیں آپ” وہ اس سے اپنی کلائ چھڑواتی.. اسے دور دھکیلتی بولی…
جبکہ… شہریار نے ہنستے ہوئے ایک بار پھر سے دور بھاگتے اسکے وجود کو.. اپنے سخت سفاک حصار میں قید کر لیا..
نہیں شہریار.. ایسامت کریں… خدا کے لیے ایسا مت کریں.. میں مر جاو. گی شہریار مر جاے گی ائزہ.. میں اپنی ہی نظروں میں گیر جاو گی ایسامت کریں “وہ خود کو چھڑواتی گڑگڑانے لگی… جبکہ شہریار کی گرفت میں زرا سی بھی جیسے گنجائش نہیں تھی..
ائزہ بی بی اپنی نظروں میں تو تمھیں ہزار بار… گیر کے مر جانا چاہیے تھا جب تم نے محبت میں اس دھوکے کا سوچا بھی تھا.. تبھی تبھی مر جانا چاہیے تھا.. تمھاری زندگی میرے انتقام کے لیے ہے.. اور یقین مانو. تمھیں روز اپنے انتقام کا نشانہ بنا کر عبرت بنا دوں گا.. کہ دوبارہ کبھی کوئ بے وفا نہ جنم لے “اسکو بیڈ پر پھینکتا… اپنی شرٹ اترتا.. وہ.. اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا.. ائزہ ایکدم.. اٹھنے لگی کے.. شہریار.. نے اسکے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں دبوچ لیا..
شہریار نہیں… نہیں شہریار” وہ تڑپ اٹھی…
شہریار کی جان.. تم نے خود اپنے لیے یہ.. سب پسند کیا ہے.. ورنہ شہریار نے کبھی میلی نگاہ بھی کسی پر نہیں ڈالی…. تھی… مگر آج سے ایسا نہیں ہو گا.. میری ہر نگاہ کے حصار میں فقت تم رہو گی… وہ بھی اسی طرح.. تمھیں ہضم نہیں ہوا جائز رشتہ تو.. تم ناجائز کو انجوائے کرو…. “اسکی آنکھوں میں سفاکیت سے دیکھتا.. اسکی گردن پر سلگتا لمس جا با جا چھوڑتا… وہ اسے…. تباہ کر دینا چاہتا تھا..
ننن.. نن” ائزہ کے الفاظ… اسکی سانسیں شہریار کے ظالم بے رحمانہ لمس میں ٹوٹ گئے… وہ احتجاج کر رہی تھی خود کو چھڑا رہی تھی مگر شہریار رفتہ رفتہ اپنی حدیں پار کرتا جا رہا تھا.. اسکے لمس میں زرا بھی نرمی نہیں تھی.. ہاں انتقام تھا.. اور اسنے چھپوا تو نہیں لیا تھا یہ انتقام جتا کر لیا… تھا کہ یہ انتقام ہے…
اسکی انگلیوں کی سختی…. ائزہ کو زندہ مار دینے کے لیے کافی تھی…
سرکتی رات….. اسے…. بے آبرو کرتی جا رہی تھی..
مدھم سسکیاں…. کمرے میں ارتاش برپا کر رہیں تھیں..
ازانوں کی اواز سن کر…. شہریار نے.. اسکے وجود کو خود سے دور جھٹکا… تو. ائزہ… برف کی بنی… پڑی رہی.. اسکے آنسوں گزری رات. میں اتنے بہہ چکے تھے کہ اسے سمھجہ نہیں آ رہی تھی دوبارہ روے کیسے…
شہریار کے لبوں پر مدھم مسکان.. وہ.. دیکھ رہی تھی… اپنی شرٹ ڈال کر اسکا لباس اسپر پھینکتا وہ اسکے چہرے پر جھکا….
زبردست جسارت کی.. اور اسکی سپاٹ آنکھوں میں دیکھا..
بس صبح سب کو سب بتا دینا خود بتا دینا…
اوکے جانو مگر تیار رہنا. رات بھی ہو گی… اور تمھارا.. وجود توکیا.. یہ کمرہ بھی اب میری دسترس سے دور نہیں… “گال تھپتھپا کر اسکے خون ریستے لبوں پر بے دردی سے انگوٹھا پھیر کر.. وہ وہاں سے نکلنے کو تھا…
برباد ہو…. گ… گئ… محب.. بت” ٹوٹے پھوٹے.. لفظ اپنی پشت پر سن کر اسکا پارہ ہائ ہوا.. اور وہ ایڑیوں پر گھوم کر اسکی گردن دبوچ گیا.. اسکی گردن پر اسکی وحشت کے نشان تھے….
بربادی کی ابتداء کرنے والوں کو اتنا بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی.. دوبارہ زبان کھولو گی تو اتنابھی رہنے نہیں دوں گا جتنا چھوڑ کر جا رہا ہوں “ہاتھ ہٹاتا.. وہ غصے سے بولا..
مار دیں مجھے” وہ حلق کے بل چیخی.. جبکہ شہریار کا زور دار تھپڑ اسکے منہ پر پڑا…
اواز مت نکالنا…. سوئیٹ ہارٹ…. اور مار تو میں نے تمھیں دینا ہی ہے.. فکر کیوں کر رہی ہو.. “مسکرا کر وہ.. سکون سے اسے فلائنگ کس دیتا.. کمرے سے نکل گیا.. جبکہ ائزہ شدت سے رو دی.. اسکالمس اپنے وجود سے نوچ دینا چاہتی تھی….
وہ تیر کی تیزی سے اٹھی….
گھن محسوس ہو رہی تھی خود سے… واشروم کا دروازہ زخمی ہاتھوں سے کھول کر وہ اندر شاور کے نیچے کھڑی ہو گئ.. جبکہ آنسوں تھے کے سیلاب.. ملال اسکی رگ و جاں میں سما گیا تھا…
اسی کی ماں نے اور اسی کی محبت نے اسے بے آبرو کر دیا….
کیا منہ دیکھے گی وہ.. اپنے خدا کو.. وہ تڑپ اٹھی..
………………….
نک سک سے تیار ہوا.. وہ ضرورت سے زیادہ جوش لگ رہا تاھ.. ولی نےا سے گھور لکھ ر دیکھا..
یہ تمھارے مزاج میں اتنی گرمجوشی کی وجہ “اسنے انشتہ ہی رتے ہویے پوچھا تو ش ہی ریار ہنس دیا..
کیوں مجھے خوش ہونے کا حق نہیں….” اسنے سکون سے پراٹے کا لقمہ کیا.. ا
ور ویسے بھج تمھاری شمشاد یے میں تمھارا بھائ ہوں خوشی بنتی ہے “وہ انکھوں کو معمولی سی جنبش دے جر بولا..
صیحی .. چلو.. شکر ہے تم خوش ہوئے ائزہ کے اور چچی جے بارے میں کچھ سوچ اہے”ولی نے نارملی پوچھا تو.. شہریار کی نگاہ سامنے ےا تج چچی پر پڑی…..
ہممم فیصلہ کر چکا ہوں… پیپرز بھی سائین کر دیے ہیں.. لوگوں کو خوش ہو جانا چاہیے… جب واسطہ کوئ نہیں رہا تو حویلی چھورنے کی بھی کوئ توق نہیں” وہ آرام سے کہتا. دادای اور ولی کے لقمے اٹکا گیا جبکہ چچی نے خوشگواری سے اسکی طرف دیکھا…..
مگر شہریار کی توجہ کسی پر نہیں تھی…
پاگل ہو گیا ہے شہریار.. تو کیا بولے جا رہا ہے تو نے دستخط کر دیے” دادی غصے سے بولیں تو.. اسنے انکی طرف دیکھا..
یہ اپکا تو مسلہ نہیں.. ولی کی شادی ہے سب اسپر دھیان دیں اور ویسے بھی مجھے چچی کا فیصلہ درست لگا تو میں نے انکے حق میں فیصلہ سنا دیا اس میں معیوب تو کچھ بھی نہیں ہے” وہ ہاتھ صاف کرتا اپنی جگہ سے اٹھ گیا..
تمھارا دماع چل گیا ہے اپنی بیوی کو چھوڑ رہے ہو” ولی غصے سے بولا..
تمھارا دماع چل گیا ہے.. کسی مظلوم پر ظلم کی تیاریاں کر رہے ہو “اسنےا سی اینگل میں… کہا. تو ولی نے نگاہ چرای..
وہ تمھارا مسلہ نہیں…”
یہ بھی تمھارا مسلہ نہیں بلکے کسی کا بھی نہیں.. میں نہیں چاہتا کے بدمزگی ہو… میں علیحدگی اختیار کر چکا ہوں “وہ سپات انداز مء کہتا.. باہر نکلتا کہ. ماں نے اسکا شانہ تھاما…
وہ ان سے.. نگاہ چراتا انکا ہاتھ ایکطرف کر کے جلدی سے باہر نکل گیا.
جبکہ پیچھے ایک فرد خوش تھی تو. دو.. حیرت کے اثر میں تھے..
………………….
دروازہ بجا بجا کر وہ تک چکیں تھیں مگر ائزہ نے دروازہ نہیں کھولا.. انکی خوشی کی انتہا نہیں تھی اجر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئیں اور… اب اپنی بہن کے بیتے کے ساتھ بھیا کر وہ اپنی دلی خواہش پوری کر لیتیں….
ایزہ کا دروازہ نہ کھولنا انھیں جزباتی پن لگا تبھی اگنور کرتیں ہٹ گئیں…
سکندر میں نہ کہتی تھی طلاق تو اس سے لے کب ر رہو گی”وہ مزے سے اپنے شوہر کو بتانے لگیں..
کیا… شہریار نے…” ان سے مزید لفظ ادا نہیں ہوئے….
ہاں”وہ خوش تھیں..
ڈوب مرو اپنی بیٹی کی طلاق پی ر وخش ہو رہی ہو… ” وہ غصے سے بولے..
ارے چپ کریں اپکو کیا پتہ کچھ.. رکھا ہی کیا ہے ان دونوں کے پا س. جیسا باپ ویسے بیٹے.. میرا بھنجا لاکھوں میں ایک ہے” وہ سکون سے بولیں.. آج تو جشن بنانے کا دن تھا…
حویلی کوئ نہیں چھور ووڑ رہے ہم جو بھی آپ نے گھر لینے کی بات کی تھی ختم ہوئ.. میں یہیں خوش ہوں بس.. ادھر سے ہی میری ائزہ کی ڈولی اٹھے گی”
وہ بولیں تو سکندر خاموش ہو گئے… اپنی بیٹی کے دل پر گزرنے والی قیامت… کا انھیں اندازا تھا….
…………..
شام کے سائے چاروں اور پھیلے تو… ولی نے پورے گاوں کو اکٹھا کر کے مہندی کے فنکشن کی ادائیگی کی…
مختلف کھانے… شورو غل.. گھوڑوں کا رقص…. اور اسقدر بڑی تقریب کے پورا گاوں جس میں مدعو ہو….
اور اتنا شوروغل کے دوسرے گاوں تک اس شوروغل کی اواز جاے آتش بازی… ساری.. مخالف. گاوں کے سمت کی گئ.. قہقہوں کی برسات… تھی چیماگویاں تھیں….
کیا نہیں تھا…. وہ بے پناہ خوشی کا اظہار صرف اور صرف… سادام کو سلگانے کے لیے تھا….
زریش بھی شامل تھی اس سب تماشے میں.. وہ انا نہیں چاہتی تھی مگر ابا اماں زبردستی… اسے لے ایے تھے…
جبکہ اسے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا..
ولی صاحب اسے بار بار… اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہویے تھے وہ خود میں ہی سیمٹتی جا رہی تھی….
اسے سمھجہ نہیں ائ انکے اس طرح گھورنے کی وجہ.. اپنا وہم سمھجہ کر بار بار جھٹک ے کے بعد بھی اسے احساس ہوا کہ یہ اسکا وہم نہیں.. حقیقت.. ولی صاحب اسے گھور رہے تھے….
تبھی وہ جلدی… گھر کو لوٹ گئ…
جبکہ وہاں تقریب اب بھی جاری تھی….
شہریار بھی ولی کے ساتھ شامل تھا… جبکہ پورا گاوں بھی… دادی بلائیں لے رہیں تھیں.. سفید لتھے کے سوٹ میں وہ روایتی بھنگڑا ڈالتا.. انتہا سے زیادہ حسین لگ رہا تھا….
اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اسنے… بینڈ بھجوایا… اور پورے گاوں کا چکر لگایا….
حتی کے دوسرے گاوں کی سینت تک.. وہ بیند بھجواتا لے گیا.. اچھی طرح سادام کی روح تک وہ سلگا دینا چا تا تھا…
کیونکہ ایک اور موہرہ اب اسکے ہاتھ میں تھا..
قدرت نے چارو شانے چیت اسی کے ہاتھوں اسے کرایا تھا..
اس تقریب میں ہان البتہ ائزہ نہیں تھی…
………………
آوازیں ہتھوڑوں کی مانند برس رہیں تھیں.. فضل خان غصے سے اپنے کمرے سے نکلے..
کیا چوڑیاں پہن لیا سادام فضل خان تم نے”وہ پہلی بار غصے سے اس سے بولے تھے جو سگار سلگایے گویا خود کو بھی سلگا رہا تھا.
تیش کیوں کھاتا ہے… بابا سائیں…. حکم کر.. ٹانگیں توڑ ڈالے گا اسکی” وہ سکون سے بولا..
ہم اپنی جاناں کو انھیں نہیں دے گا بس “انھوں نے کہا…
تمھاری جاناں نے بڑا ثواب کا کام کیا….. ہے. جو اچانک اسکی حمایت لینے پہنچ گیا ہے “وہ غصے سے بولا….
اتنا بھی کچھ نہیں کیا کہ اس حرام خور کو دے آئے اپنے دل کے ٹکڑے کو…” وہ کچھ مدھم ہوے..
واللہ خوب…. تم جانے تمھاری جاناں جانے… ” اسنے کہا..
تم اتنا کٹھور ہے… اتنا تو تمھارا باپ نہیں ہے” وہ تیوری چڑھا جر بولے…
اس ولی کے نیچے دبے.. گا ہم… یہ تمھارا دماع میں بات آیا بھی کیسے.. تم ٹھنڈا ہو جاو….. سادام فضل خان…. مرا نہیں ہے ابھی”مدھم آواز میں اسے باور کراتا وہ انکے چہرے پر کھیلنے والی مسکراہٹ کو ایک نظر دیکھ کر.. باہر نکلنے لگا….
کیا کرنے والا ہے تم” انھوں نے جاننا چاہا..
زیادہ لمبا چوڑا ینگ نہیں کرتا ہم.. سیدھا سا بات ہے…. شادی نہیں ہو گا…. “اسنے کہا..
مگر یہ بھی مت سمھجنا تمھاری اولاد کو معاف کر دیا ہے… یہ صرفا اپنا پگڑی اونچا کرنے کو.. ہم نے فیصلہ کیا ہے “اسنے کہا..
جاناں جو سن کر باہر ائ تھی
.. اسکی بات ہر بجھ سی گئ….
اسکا بھائ اسکی اتنی سی غلطی کی وجہ سے… اس سے جتنا دور ہو گیا تھا….
اسکی آنکھیں بھیگی.. اور غصے میں اس شخص کی موت کی دعا کی جس نے اسپر الزام لگایا تھا…
…………………..
گاوں میں شوروغل تھا.. جبکہ عنایت کو اپنے دروازے ہر دیکھ کر وہ… دھک سے رہ گئ.. ارد گرد دیکھا….
بی بی یہ خان نے بھیجا ہے….
آپ اسے جلدی لے لیں مجھے نکلنا ہے”اسنے بت بنے دیکھ وہ تیزی سے بولا…
زریش نے کانپتے ہاتھوں سے. موبائل تھاما….
اور عنایت جیسے پلک جھپکتے غائب ہو گیا….
اور زریش زور سے بجتے موبائل کو دیکھنے لگی.. اسنے کہاں کبھی یہ سب استعمال کیا تھا.. اسکا دل بری طرح دھڑک اتھا…
………….
جاری ہے