Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 33
تمھارا جیسا بھی کوئ نہیں ہو گا قتل کرتا ہے پھر رونے بیٹھ جاتا ہے”اسکے مرجھائے ہوئے چہرے کا بے چینی سے طواف کرتی نظروں سے وہ اسکی جانب دیکھ کر بولا ۔۔۔
زریش کی نگاہیں اسکے سینے پر موجود چوٹ پر تھیں ۔۔۔۔ جبکہ ٹپ ٹپ آنسو بھی سفید پٹی پر گیر رہے تھے اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ۔ ۔۔۔ ۔
کچھ کرے مگر یہ لڑکی اسے اکسا رہی تھی ۔۔
م۔۔میں نے قتل نہیں کیا”زریش نے اسکی جانب دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔
تو یہ گولیاں تمھارا ماما مار گیا ہے۔ ٫
“وہ اسکے بال کھینچتا پھنکارا ۔۔۔
زریش نے حیرت سے اسکیطرف دیکھا۔
یہ میں نے نہیں لالا نے ماری ہیں ۔۔”اسنے دور ہونا چاہا سادام نے بھی آزاد کر دیا ۔۔۔۔
وہ چھچھوندر لالا کس کا ہے”اسنے سوال کیا آنکھوں میں چیلنج تھا لو جیت کر دیکھاو مجھے۔
زریش کو اور رونا آیا ۔۔۔
ہاں سارا قصور میرا ہے”اچانک ہی وہ غصے سے بھڑکی ۔۔۔ سادام نے اسکا گریبان پکڑ کر دوبارہ کھینچ لیا ۔۔
اپنا منہ ہمارا سامنے کھولنے سے پہلے اب ہزار بار سوچے گا سمجھا ۔۔ اب تم کوئ ہمارا محبوبہ نہیں جس کو سر پر لے لے کر گھومے گا صرف بیوی ہے۔ ۔۔ اسکا بھی ہمکو دلی افسوس ہے ۔۔ کہ تم ہی ملا تھا ہمیں باسی پرانا “وہ اسکو دیکھ کرغرایا ۔۔۔ زریش نے اسکیطرف حیرت سے دیکھا ۔۔
چھوڑیں آپ مجھے ۔۔۔”اسنے اپنا آپ چھڑوانا چاہا کچھ احساس اسکے سینوں کے زخموں کا بھی ہوا ۔۔ جس پر وہ پڑی تھی ۔۔۔
کیوں چھوڑے تمھیں ۔۔۔۔ تمھیں جب تک جان سے نہیں مارے گا ۔۔ ہم سکون میں نہیں آئے گا “وہ اسکو اپنے مقابل پھینکتا ۔۔۔ اسکے اوپر جھکا ۔۔۔
زریش کا دل بری طرح دھڑکا ۔۔۔
س۔۔نواب جی”اسنےا سکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو ۔۔ روکنا چاہا ۔۔ مگر ۔۔۔ سادام نے پرواہ کیے بنا ۔۔ اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے قبضے میں لیا۔۔۔ اور اسپر جھکا ۔۔۔
اسکے عمل کی شدت زریش کا سانس روک گئ ۔۔۔۔
جبکہ سادام فضل خان کا دل بھرنے میں ہی نہیں آ رہا تھا ۔۔
لمہے روانگی سے سرک رہے تھے کمرے کی معنی خیزی میں ۔۔ صرف زریش کے دل کی بے ہنگم دھڑکنوں کا شور تھا ۔۔۔ اور اچانک وہ اس سے دور ہوا ۔۔۔ تو خود بھی بمشکل سانس لے پایا جبکہ زریش کھانسنے لگی تھی کھانا نہ کھانے کی وجہ سے نقاہت مزید بڑھ گئ تھی وہ اسے ۔۔۔ مندی مندی نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔
جس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ ۔۔ اسکو۔ کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔۔۔
مگر ضد انا اور اسے زیر کر دینے کے آگے تکلیف کی کیا اوقات تھی ۔۔۔۔
زریش کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسنے دوبارہ اسے کھینچا ۔۔۔ زریش نے اسکا چہرہ چھونا چاہا ۔۔ جبکہ سادام نے سختی سے ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔
ایسا مت کریں”مدھم آواز میں التجا کی ۔۔ فکر صرف اسکی تھی جو اسکی اور اپنی جان ایک کر دینا چاہتا۔ تھا ۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔ بیوی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔ تمھیں ہمارا محبوبہ بننا قبول کسی دن تھا ہی نہیں ۔۔ اایکچلی تم اسی لائق تھا”
اسکے بالوں سے کھینچ کر چہرہ اوپر کر کے اب اسکا وار گردن پر تھا ۔۔ جبکہ آہستہ آہستہ ۔۔ وہ زریش کے سارے احتجاج کا گلہ گھونٹ کر اپنی من مانی پر اتر آیا ۔۔۔۔
سادام “زریش کی پکار پر ۔۔ اسنے اسکے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا ۔۔۔
دو باتیں۔ کبھی تمکو بھولنی نہیں چاہیے ۔۔۔۔
ہم دھوکہ بھی ایک بار کھاتا ہے ۔۔۔۔
اور محبت بھی ایک بار کرتا ہے ۔۔۔۔
تم سے اپنا سارا اصول توڑ کر ہم نے عاشقی نبھایا ۔۔ مگر تم ۔۔ دو ٹکے کا بھی نہیں نکلا “اسکے چہرے پر سختی سے اپنا لمس چھوڑتا وہ اسکے کان میں پھنکارہ ۔۔۔
زریش نے ایک بار پھر اسے چھونا چاہا ۔۔ مگر سادام نے اسکے دونوں ہاتھ باندھ دیے ۔۔
جلد ہی وہ اسکی شدت بھری پناہوں میں بے دم سی ہو گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب مصیبت ہے ۔۔۔۔ چین ہی نہیں آ رہا”شھریار کی آواز پر اسنے سیگریٹ لبوں سے آزاد کی اور اسکی جانب دیکھا۔
کیوں آئے ہو یہاں “اسکے مسکراتے لب دیکھ کر ولی شدید چیڑا تھا۔
سوچ رہا ہوں یہ کہانی کا کون سا رخ ہے دشمنوں سے ہاتھ ملا آئے ہو ۔۔۔ اپنے آپ ہی ۔۔۔
اور اب یہاں انیس سو ننانوے کے عاشقوں کیطرح پرانے گانے سن سن کر کسی کی یاد میں کھوے ہوئے ہوں ۔۔۔۔ “وہ ہنسا تو ولی کو سخت برا اور زہر لگا ۔۔۔۔
کیا آئزہ تمھیں اوور ایکٹینگ کے پیسے دیتی ہے ۔۔۔ پورے دن سےتمھاری بتیسی باہر لٹکی ہوئی ہے”اسنے ٹیبل پر ٹانگیں پھیلاتے ہوئے کہا جبکہ شھریار پھر سے ہنسا ۔۔
تمھاری بیوی ہے ۔۔۔ تم اسکے پاس جا سکتے ہو ویسے “اسنے مشورہ دیا ۔۔۔
کافی اچھا تھا یہ مشورہ اور مجھے جیسے یہ سب نہیں پتہ”وہ الٹے بھیجے کا الٹے ہی جواب دینے لگا ۔۔۔۔۔
دیکھو ولی ۔۔۔۔ کچھ محسوس کرو ۔۔۔ زریش نے سادام کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ ۔۔۔
اور پھر اب تم دونوں ہی جانتے ہو ۔۔کہ سادام نے نہ زریش کے ماں باپ کو مارا ۔۔ اور نہ ہی ہمارا اس سے پہلے جو بھی نقصان ہوا اس میں وہ ملوث تھا ۔۔۔ پھر بھی اسنے تمھاری جیسی حرکت نہیں کی ۔۔۔۔ اسنے زریش کو اپنے گھر سے نہیں نکالا اور مجھے یقین ہے اسنے اسپر ہاتھ بھی نہیں اٹھایا ہو گا “شھریار اسے کچھ سمجھانا چاہ رہا تھا ۔۔
ولی نے سیگریٹ کا دھواں ہوا میں اڑا دیا ۔۔۔
میں سادام نہیں ہوں “اسنے آئ برو آچکا کر شھریار کیطرف دیکھا۔
میرا کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ محبت میں کبھی بھی محبوب کو رسوائ نہیں دی جاتی ۔۔۔۔ اور جاناں اگر تمھاری طرف مائل نہیں ہوئ تو اسکی وجہ تمھارا یہ رویہ ہے ۔۔ “ولی خاموشی ہو گیا ہاں وہ سچ کہہ رہا تھا ۔۔
دیا ہی کیا تھا اسنے اسے اور اب جب اسے اسکے سب سے زیادہ نزدیک ہونا چاہیے تھا۔ ۔ اسنے اسے وہاں بیٹھایا ہوا تھا ۔۔۔
کسی پر نہ حق ظلم کرنے والے سوکھی لکڑی کیطرح سلگتے ہیں
جیسے تم اب سلگ رہے ہو ۔۔۔ “
وہ اب بھی خاموش رہا۔
اور یہ تم دادی سے کیوں نہیں مل رہے ۔۔ ۔ “اسنے دوسرا موضوع چھیڑا۔ ۔۔
کیونکہ میں ملنا نہیں چاہتا”اسنے دو ٹوک جواب دیا ۔۔۔
ولی طبعیت کی یہ بے ترتیبی ۔۔ تمھارے ساتھ اچھا نہیں کر رہی ۔۔۔۔
تمھیں ہر چیز میں توازن رکھنا چاہیے۔ “شھریار نے ناگواری سے کہا ۔۔۔
میں ملنا ہی نہیں چاہتا مجھے فورس مت کرو”وہ سکون سے بولا۔
ٹھیک ہے میں فورس نہیں کرتا مگر اگر تم ہر چیز کا ذمہ دار دادی کو سمھجتے ہو تو احمق ہو ۔۔کیوں کے جو کچھ بھی پیچھلے چند مہینوں میں ہوا سب تمھاری ایما پر ہوا ہے۔ اس میں سواے تمھارے کسی کا بھی کوئ قصور نہیں ہے ۔۔۔”وہ بولا تو ولی بھڑک اٹھا ۔۔۔
تم ایک منٹ میں اٹھو یہاں سے۔ ۔۔ “وہ سیگریٹ پھینکتا بولا ۔۔۔
تو شھریار وہاں سے اٹھ گیا۔ اس اڑیل گھوڑے کی لگامیں ۔۔۔ اسی دن قابو میں آنی تھی جب اسکی بیوی اسے ملتی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح آنکھ کھلی تو ۔۔۔ اپنے مقابل شرٹ لیس سادام پر نظر پڑی تو جھک گئ ۔۔۔۔ وہ اسکے کتنے قریب تھا ۔۔ اسکو سختی سے جکڑے ۔۔۔ وہ شدت پسند تھا۔ وہ جانتی تھی ۔۔مگر اس حد تک۔
اسکا بےشمار خوبصورتی لیے چہرہ زریش کے چہرے کے بے حد قریب تھا ۔۔ ہاتھ بڑھا کر وہ اسے چھو سسکتی تھی ۔۔
دل کے اکسانے پر اسنے ہاتھ بڑھایا اور اس چہرے کے لمس کو اپنی نازک انگلیوں کے پور میں قید کرنے لگی ۔۔
آنکھوں کی مٹی پلکیں ۔۔ کھڑی ناک ۔۔ مونچھوں میں چھپی انا ۔۔۔ اور اسکی بے ترتیب ۔۔ اردو بولنے والے لب ۔۔۔
اسکا چاہنا ۔۔۔ اسکی محبت ۔۔۔ اگر زریش خود پر ناز کرتی کم نہیں تھا ۔۔
اسنے اسکا ہاتھ ہٹانا چاہا ۔۔۔ اب اسے اتنی بھوک تھی کہ اگر خوراک نہ ملتی تو وہ کہیں بے ہوش پڑی ملتی ۔۔
ویسے بھی اسکا شوہر بہت ظالم تھا ۔ ۔”اسنے اسکی جانب دیکھا۔
احساس ہو گیا تھا وہ جاگ رہا ہے۔
ہاتھ ہٹائیں پلیز”
یہ تم انگلش اپنے دو ٹکے کے بھائ پر مارا کر ہمارا سامنے یہ سب نہیں چلے گا “اسکا چہرہ جکڑتے ۔۔۔ وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔
زریش نے اسکی انگلیوں کو ہٹانا چاہا۔ جو اسکے گالوں میں دھنستی جا رہی تھیں۔
مگر میں نے کب بولی ہے “وہ بولی جبکہ سادام نے اسکے لفظوں کو قید کر لیا۔ ۔۔۔
زریش تلملائ تھی ۔۔ اسکی شدتیں سہنے کی دوبارہ ہمت نہیں تھی ۔۔۔
وہ دور ہوا ۔۔۔مگر جھکا اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
م۔۔۔مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔ “زریش نے۔ اپنی مجبوری بتائ ۔۔کہ شاید اسے کچھ رحم آ جائے ۔۔۔۔
تو ہمارا محبوب ہے جو ہم ۔۔ اپنا ہاتھوں سے کھلائے”اسنے آئ برو آچکا کر پوچھا۔
میں سچ کہہ رہیں ہوں پلیز ۔۔۔۔ہٹیں “وہ رو دینے کو ہوئ ۔۔۔
پھر ویسا بولتا ہے”سادام نے غصے سے ۔۔۔ اسکے بالوں کو کھینچا۔ ۔۔۔
نہ۔۔نہیں ۔۔میرا مطلب۔۔۔ “وہ اٹک گئ۔ اسکی انگلیوں کی بے باک حرکت سے چہرے پر پسینہ پھوٹ آیا تھا ۔۔۔۔
ہممممم مر ہی نہ جائے کہیں “زریش کا زرد چہرہ دیکھ کر وہ سینے کی تکلیف کو نظرا نداز کرتا ۔۔ پیچھے ہٹا۔ اور انٹرکام اٹھایا ۔۔۔
ہاں شمائلہ ہمارا کمرے میں ناشتہ پھنچا دو”اسنے حکم دیا ۔۔
زریش کو شدید شرمندگی ہوئ بارہ بج رہے تھے ۔۔ امحویلی ملازموں اور مردوں سے بھری ہوئ تھی سب کیا سوچتے اسکے بارے میں ۔۔۔
نہ نہ کر کے بھی وہ اسکے چونچلے ہی اٹھا رہا تھا ۔۔۔
پیچھے ٹیک لگا کر ۔۔۔ سادام نے بالوں میں ہاتھ پھیرہ ۔۔
زریش سفید بیڈ شیٹ میں لیپٹی ۔۔۔ اٹھنے لگی ۔۔۔۔ کہ اسنے ٹوک دیا ۔۔۔
یہ تمھارا باپ نے نہیں دیا ۔۔۔۔ یہیں چھوڑو ہمارا ہے یہ”اسنے اسپر سے اچانک ہی کھینچی ۔۔
زریش کو اپنا چہرہ لہو چھلکاتا محسوس ہوا۔
وہ سپیڈ سے بیڈ سے اٹھی اور واشروم میں دوڑ لگا دی ۔۔۔
پتہ نہیں ۔۔ (گالی) نے کیا کہہ کر پیدا کیا تھا ۔۔۔
ہمارا بھی دین ایمان اٹھ گیا ۔۔ اس عورت کا زندگی میں آتے ہی ۔۔
نہ چاہتے ہوے بھی اپنا پاس کھینچتا ہے ۔۔۔ ہمیں بھی سلطان جیسا بنا دے گا ۔۔۔۔ “اسنے نفی میں سر ہلایا ۔۔ اور فون اٹھایا ۔۔
عنایت بادشاہ۔ کون سا نیندیں پوری کر رہا ہے”وہ غصے سے بولا۔ ۔۔
خان آپکے دروازے پر کھڑا ہوں حکم کریں”اسنے کہا تو سادام نے سر ہلایا ۔۔۔
عجیب تسلی عنایت کے اپنے قریب ہونے سے ہوتی تھی ۔۔
یہ فیروز خان نے حویلی آنا جانا چھوڑا کیوں ہے”اسنے سوال کیا۔
اسے اندر اس وقت وہ نہیں بلا سکتا تھا ۔۔نہ اسکا کمرہ اس پوزیشن میں تھا ۔۔ اور نہ شاید وہ خود۔
معلوم نہیں خان ۔۔۔ “عنایت نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔۔
ٹھیک۔ ہے ۔۔۔ وہ چھکریا ۔۔۔ کیا نام ہے ۔۔ جس پر ہمارا ہاد سائیں مرا بیٹھا ہے”
بیلا خان “عنایت نے یاد دلایا ۔۔۔
ہاں اسکا شوہر نے طلاق دیا “اسنے سوال کیا ۔۔ دماغ بڑی تیزی سے حرکت کر رہا تھا۔۔۔۔۔
جی خان دے دیا ۔۔۔۔ “اسنے بتایا تو سادام نے سر ہلایا ۔۔۔
کتنا وقت ہوا ہے ۔۔۔۔
خان وقت پورا ہو گیا ہے “وہ جانتا تھا وہ کس نظریے سے سوال کر رہا ہے ۔۔
بہت معلومات رکھتا ہے تم”سادام نے کہا تو عنایت نے اپنی ہنسی دبائ ۔۔
اپکو دیر سے صیحی سب یاد آ جاتا ہے”
ہممممم صیحی طنز مارتا ہے ۔ ۔۔ تمھارا منڈی دو ٹکڑوں میں کرنے میں دیتی نہیں لگے گا ۔۔۔ ہمیں ۔۔ خیر ۔۔تم ہاد سائیں کی شادی کی اطلاع پھیلا دو ۔۔۔۔
اور فیروز خان کو حویلی آنے کی دعوت دو “اسنے کہا تو عنایت نے جی خان کہہ کر فون رکھ دیا ۔۔۔۔
جبکہ سادام نے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔ ایک پرانا شیر اسے یاد آیا ۔۔
کب تک رہو گے یوں دور دور ہم سے ۔۔۔۔
ملنا پڑے گا ایک دن ضرور ہم سے “
فیروز خان کے لیے ہ ۔۔۔ اسے یہ دو مصرعے اس وقت بلکل درست لگے تھے ۔۔
جبکہ زریش نے غور سے یہ سنے تھے ۔۔
کس کو کہہ رہے ہیں”معصومیت سے سوال کیا گیا ۔۔۔
کم از کم تم کو تو نہیں کہہ رہا “سادام نے آنکھ کھول کر اسکا نکھرا وجود دیکھا ۔۔ اور دوبارہ آنکھیں بند کر لیں ۔۔ وہ پھر سے اسے اپنی جانب مائل کرنے کے لیے تیار تھی ۔۔۔
زریش کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔ جس کا انداز سادام کو بخوبی ہوا ۔۔۔
اور اسنے کروٹ لے لی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہاد اور بیلا کی شادی”نور پر یہاں طلاع بم بن کر گیری تھی ۔۔ جبکہ شمائلہ نے بیلا کی بلائیں لے لیں ۔۔۔
جو خود حونک بیٹھی تھی ۔۔۔
آپی میں نے نہیں کرنی شادی “وہ رو دی ۔۔ اسے سمھجہ نہیں آیا ۔۔ کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ابھی کچھ مہینے پہلے اللہ اللہ کر کے اسکی جان چھوٹی تھی اور ایک بار پھر وہ ایک اور شکنجے میں پھنس جاتی ۔۔۔
ارے پگلی رو کیوں رہی ہو ۔۔۔ خوش قسمت ہو ہاد ۔۔ سائیں اچھے ہیں ۔۔لکین میں انکے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی کیوں کے وہ کم کم ہی حویلی میں رہے ہیں ۔۔ ہر کچھ دنوں بعد وہ یہاں سے چلے جاتے تھے ۔۔یہ تو تم آئ ہو تبھی وہ ادھر دیکھتے ہیں”شمائلہ نے چھیڑا ۔۔۔
تیزاب کیطرح یہ چھیڑ خانی نور پر گیر رہی تھی ۔۔
مگر مجھے شادی نہیں کرنی”بیلا نے پھر سے کہا ۔۔
بند کرو یہ ڈرامے بازی ۔۔۔۔ دل کی مراد اور منشا پوری ہو رہی ہے ۔۔اور ہمارے سامنے رونے دھونے مچائے ہوئے ہیں”وہ بھڑکی شمائلہ اور بیلا حیرت سے اسکی صورت دیکھ ے لگی ۔۔
تم پاگل ہو گئ ہو نور”شمائلہ نے گھورا ۔۔ نور کچن سے باہر نکل گئ ۔۔۔
یہ اسکی برداشت سے باہر تھا جبکہ بیلا ۔۔۔ بری طرح رو دی ۔۔
اسنےا یسا کیوں کہا ۔۔ میں ایس انہیں چاہتی سچی”بیلا شمائلہ کو یقین دلانے لگی ۔۔ شمائلہا پنی بہن کی حرکت کو بخوبی سمھجہ گئ تھی مگر بیوقوف بیلا ۔۔۔ کے پلے کچھ نہیں پڑا ۔۔۔
جاؤ تم آرام کرو ۔۔۔ اب “شمائلہ نے اسے چپ کرا کر ۔۔۔ اسکے روم میں بھیجا ۔۔۔
بیلا سر پالتی اٹھی اور باہر نکل کر اپنے کمرے میں آئ تو شاکڈ رہ گئ ۔۔
وہ سامنے اسکے بستر پر شان سے بیٹھا شاید اسی کے انتظار میں تھا۔
کیسی ہیں میڈیم ۔۔ حالات کافی پتلے لگ رہے ہیں “وہ اٹھا ۔۔ بیلا بھاگ کر باہر نکلتی کہ ہاد نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
چھ۔۔۔چھوڑیں ۔۔۔چھوڑیں مجھے”وہ خوف زدہ سی بولی۔
ہاد نے مسکرا کر چھوڑ دیا ۔۔۔
جانتی ہو ۔۔ میں کوئ اچھا آدمی بلکل نہیں ہوں ۔۔۔
میرے افیرز ۔۔۔ مشہور ہیں۔۔۔ یقین مانو سکول سے ۔۔ جب میں فیفتھ سٹینڈرڈ میں تھا ۔۔۔۔
مجھے ایک لڑکی پسند آ گئ تھی ۔۔۔
وہ نیو تھی ۔۔۔ اور میں اسے زبردستی اپنے ساتھ بیٹھاتا تھا ۔۔۔ ایک دن میں نے اسکو کس کر دی”بیلا کی آنکھیں کھل گئیں ۔۔ ہاد کی مسکراہٹ گھیری ہو گئ ۔۔۔
سب سمھجے بچہ ہے ۔۔ چلیں خیر ہے ۔۔۔۔ مگر میں پوری چیز تھا ۔۔۔
اور پھر بھڑتے بھڑتے یونیورسٹی میں تو مت پوچھو ۔۔
ہر لڑکی اب بھی یہ ہی سوچ رہی ہو گی ۔۔ کہ ہاد خان ان میں سے کس سے شادی کرے گا ۔۔۔
مگر”وہ دو قدم دور ہوا ۔۔۔ ایک گٹھنہ موڑ کر اسکے سامنے جھکا ۔۔۔
بیلا حیرانگی سے اسکی صورت دیکھ رہی تھی ۔۔
ہاد خان نے صرف تمھیں چنا ہے ۔۔۔ کیونکہ میرے دل و دماغ میں تم چیپک سی گئ تھی پہلی نظر کی محبت پر مقیم نہ رکھنے والے شخص کو تم سے پہلی نظر میں محبت ہوئ تھی ۔۔
کیا تم میرا یقین کرو گی ۔۔ میں جانتا ہوں تمھارا دم نکل رہا ہے ۔۔ مگر یہ انتخاب ہے”بیلا کی پہلی پڑتی رنگت دیکھ کر ۔۔ وہ سب سمجھتا ۔۔ اپنی جگہ سے خود ہی خود پر افسوس کرتا اٹھا ۔۔۔۔
یہ عارضی ملاقاتیں تمھارا رنگ فق کر رہیں ہیں جب قربت میں ملو گی تو کیا ہو گا”وہ دھیمے لہجے میں ۔۔ اسکے کان پر جھکا ۔۔ کہ بیلا نے دروازہ کھولا ۔۔۔ اور بنا کچھ دیکھے کچن میں دوڑ لگا دی۔
ہاد کھل کر ہنسا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
