Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 17
سطروں پر نظر دوڑا کر وہ معمولی سا مسکرایا….
شہاب نے وہ کاغذ جھپٹا اور اسنے وہ پڑھنا شروع کیا تو خون کھول اٹھا…
یہ کیا بکواس ہے تم اس لڑکی کو اٹھانا چاہ رہے تھے جو تمھیں دھوکہ دے رہی تھی…. تف ہے تم پر اور یہ پورا گاوں تمھارا کھلا دشمن ہے بس اس سے اب کھل کر بات چیت ہو گی.. سمھجے تم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے ہو “وہ چیخا.. سادام نے کوئ جواب نہیں دیا وہ سکون سے یوں ہی بیٹھا رہا…..
تم ہوش میں تو ہو..” شہاب نے تلملا کر اسے جھنجھوڑا….
جبکہ سادام نے اسکو پرے دھکیلا….
جو ہمیں کرنا ہے وہ ہم خود کر لے گا جس کا لیے کسی کا بھی پابندی اور کسی کا بھی خوف ہمیں روک نہیں سکتا… تم سب اپنے کام سے کام رکھے گا بس” وہ اٹھتا ہوا دونوں کو جھڑک گیا… اور باہر نکل گیا جبکہ… شہاب اور عنایت ایک دوسرے کو دیکھ کر خاموش رہ گئے..
وہ کیا کرنے والا تھا وہ دونوں ہی نہیں جانتے تھے…
…………….
جاناں کچن میں کھڑی ایک بار پھر چائے سے ہلکان ہو رہی تھی.. نہ جانے زریش کہاں چلی گئ تھی دو دن سے جس طرح وہ اسکی مدد کر رہی تھی اسے جیسے اسکا سہارا ہو گیا تھا اور اب اسے نہ پا کر جاناں پریشانی سے گیری ہوئ چائے کو صاف کرتی کپوں میں ڈال کر باہر لے ائ..
باہر سب ہی بیٹھے تھے ولی اور شہریار نہ جانے کیا بات کر رہے تھے.
اسنے پہلے دادی کے سامنے جھک کر چاے دی… تو انھوں نے جان بوجھ کر.. اسکے ہاتھ سے زور سے کپ کھینچا کے چاے چھلک کر انکے کپڑے خراب کر گئ…
اور دادی نے اسے زور دار دھماکہ رکھا.. جو جاناں کا ہاتھ واقعی ہلا گیا…
ولی یہ سب دیکھ رہا تھا… جاناں کی آنکھیں بھیگ گئیں..
ناپاک کہیں کی “دادی بھڑکتی بولیں.. شہریار نے انکی طرف دیکھا…
اسے شدید غصہ آیا جان بوجھ کر اسکی ساری محنت وہ ضائع کر چکیں تھیں…
دادی آپ آئزہ سے بنوا لیا کریں… بھابھی آپ جائیں” وہ بولا تو جاناں کو تو گویا موقع چاہیے تھا وہ بھاگ گئ..
ولی نے اسکیطرف دیکھا… شہریار نے بھی بگڑے تیوروں سے اسے دیکھا تو وہ خاموش ہو گیا…
زیادہ حمایت کر رہا ہے یہ اس قاتلہ کا” دادی بولیں…
آپ کسی پر بے جا ظلم کر رہیں ہیں دادی… اور اگر لوگوں میں سے انسانیت ختم ہو چکی ہے تو.. کم ازکم آپ تو انسانیت دیکھا سکتی ہیں…
شہریار سیٹھ.. بس کرو…. قاتلہ نہیں ہے مگر قاتلوں میں شامل ضرور ہے سمھجے جناب… اور وہ میری بیوی ہے… اور دادی جو بھی اسکے ساتھ کریں مجھے مسلہ نہیں تو کسی کو نہیں ہونا چاہیے”وہ دو ٹوک بولا….
شہریار جو اس سے کالج کی دوبارہ تعمیرات پر بات کرنے ایا تھا غصے سے سب پھینک کر وہ کمرے میں چلا گیا.. جبکہ ولی سکون سے چائے پینے لگا… اور دادی… اسکی کمر تھپتھپانے لگیں…
جیتا رہ.. مگر میری بات کان کھول کر سن لے… میں تیری اولاد اس لڑکی سے کبھی برداشت نہیں کروں گی”وہ نروٹھے انداز میں بولتیں اسکو مسکراہٹ دبانے پر مجبور کر گئیں…
تو کس سے برداشت کریں گی دادی جان” موڈ اچھا تھا تبھی وہ اسطرح بات کر رہا تھا سادام پر ایک اور بم گیرہ کر وہ کافی سے زیادہ مطمئین نظر آ رہا تھا….
تو بس کسی خاندانی لڑکی سے شادی کرے گا… یہ منحوس تو.. نہ جانے… کہاں سے آ گئ منحوست پھیلانے” انکی لہجے میں زہر گھلا تھا…
اچھا اور وہ کہاں سے پیدا ہو گی خاندانی لڑکی” وہ چائے پیتا جاناں کو محسوس کرتا بول رہا تھا ہاں دماغی طور پر اسکا دھیان صرف جاناں کی جانب تھا..
جسے وہ خود ظلم کی نظر کر کے خود مرحم لگانے کے لیے بے تاب ہو رہا تھا….
وہ.. فرہاد کی ماں یاد ہے بچپن میں کتنا آتی تھی…
بہت اچھے اور خاندانی لوگ ہیں…”
کون فرہاد” وہ زرا چونکا
ارے تیرے بابا کی پھپھو چھوٹے والی اسکے دو ہی بچے تھے فرہاد اور نمل…. بہت پیاری بچی ہے نمل “دادی کے لہجے میں شیریں گھل گیا..
ولی کچھ نہیں بولا..
آج رات کو آ رہے ہیں وہ لوگ رہنے بلایا ہے میں نے انھیں” وہ اسے اطلاع دینے لگی جس پر ولی بس سر ہلاتا اٹھ گیا…
اسکی دلچسپی کسی فرہاد یہ نمل میں نہیں تھا…
اندر سسکتی اپنی بیوی پر تھی..
کہاں “دادی نے کڑے تیوروں میں گھورا…
جس پر وہ دانت دیکھاتا نفی میں سر ہلاتا.. اپنے کمرے میں چلا گیا..
جادوگرنی تیرا بیڑا غرق ہو” وہ نفرت سے پھنکارتیں اسکے بند دروازے کو دیکھنے لگیں…
……………..
شہریار آئزہ کی یہ حرکتیں کافی دنوں سے برداشت کر رہا تھا وہ اسکے سامنے آف تک نہیں کرتی تھی…. اسکے سارے کام بنا کہے کرتی تھی یہاں تک کے اپنے ماں باپ سے ملنا بھی چھوڑ دیا تھا…
مسلہ کیا ہے تمھارے ساتھ مت کرو میرے ساتھ اسطرح.. نارمل لائف نہیں گزار سکتی تم”وہ جاے نماز سے اٹھی تو شہریار نے اسکی کلائ پکڑی.. جسے ائزہ نے چھڑایا نہیں…
جی بہتر َ” اسنے بس اتنا جواب دیا اور اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئ…
شہریار نے دانت پیسے… برداشت کرتا وہ تحمل سے بولا..
آئزہ جو ہوا اسے بھول “
میں کیسے بھول جاو وہ وقت جب آپ نے مجھے زلیل کر کے رکھ دیا مجھے میری نظروں میں گیرہ دیا..
جھوٹی طلاق کا تماشہ کیا میرے ساتھ میری مرضی کے بنا زبردستی کی… آپ مجھے ایک ربورٹ سمھجتے ہیں جو جب جیسے چاہے گھما کر سب ٹھیک کر دیا جاے”
وہ بھڑکی تو شہریار بھی بھڑک اٹھا..
تو تم نے کون سا پرساو والا کام کیا تھا.. بتانا پسند کرو گی مجھے.. طلاق کے پیپرز سائن کر کے تم نے کون سا.. نیکی کما لی” وہ اسے دونوں بازوں سے جھنجھوڑ کر دھاڑا..
آیزہ کی اواز گویا گم سی ہو گی…
اور اگر تم اتنی ہی تابعدار ہو رہی ہو میری تو اچھی بات ہے ہمیشہ کے لیے تابعدار رہو پھر..”
وہ اسے بستر پر دھکیلتا اپنا مفہوم سمھجا گیا..
ائزہ نے دوسرا لفظ اپنے منہ سے نہیں نکالا..
جبکہ شہریار اسکے بے بس انسو دیکھ کر پھر سے اپنے غصے پر قابو پاتا اسپر نرمی سے جھکا..
ائزہ میری جان…. جو ہوا.. ہو چکا.. پلیز… سب بھول جاو… ہم ساتھ ہیں کیا اتنا بہت نہیں “وہ اسکے گال سہلاتا.. اسکے چہرے کے نقش کو آنکھوں کے زریعے دل میں اتارتا بولا…
جبکہ ائزہ نے کوی جواب نہیں دیا.. وہ یوں ہی روتی رہی…
شہریار اسکی سسکیاں سنتا رہا.. اور اسکے آنسوں اپنے لبوں سے چنتا رہا…
مت ضد لگاو.. ہم دونوں سے غلطیاں ہوئ ہیں… تم مجھے ہی قصور وار کیوں سمھجہ رہی ہو… “وہ اسکی گردن سے بال ہٹاتا اپنا لمس چھوڑتا گھمبیر لہجے میں بولا…
م.. مجھے… میرے قریب مت آئیں” ائزہ نے نفرت سے جیسے پرے دھکیلا..شہریار کو جو نرم جزبوں میں بندھ رہا تھا اسکی بے رخی پر اسے دیکھ کر رہ گیا..
اتنی نفرت کرنے لگی ہو مجھ سے “وہ پوچھنے لگا جس پر.. ائزہ اپنا دوپٹہ درست کرتی اسکے پاس سے اٹھی..
اپکی سوچ سے زیادہ”وہ غصے سے بولی..
اور واشروم میں بند ہو گئ جبکہ شہریار اسکی پشت دیکھتا رہ گیا…
……………..
ولی کمرے میں داخل ہوا تو.. سردی کے باعث وہ کمبل میں دبکی ہوئ تھی مگر یہ بے وقت تھا…
ابھی رات نہیں ڈھلی تھی…. شام ڈھل ای تھی اور وہ کمبل میں چھپ چکی تھی..
اسنے روم ہیٹر اون کیا.. اور اسکے پاس گیا تو مدھم مدھم سسکیاں سنائیں دینے لگیں….
اسے جاناں کا یوں ڈرنا گھبرانا متاثر کر رہا تھا…
اسنے کمبل ہٹایا تو اسکا چہرہ دیکھتا رہ گیا..
اتنا پرنور چہرہ.. جھکی گیلی پلکیں… گلابی گالوں پر پھیلی شبنم… اور دھڑکتا دل… اسکا دل کیا بہت قریب سے یہ منظر محسوس کرے…
مگر چہرے پر نیلے نشان… بھی تھے نہ جانے دل میں کیا سمائ کہ اسنے… سائیڈ ڈرا کھولا.. اور وہاں سے ایک ٹیوب نکالی…
اور اسے کھول کر.. انگلی پر لگا کر.. وہ اسپر سے کمبل دور کرتا.. اسکے ساتھ ٹک گیا..
جاناں کا رونا رک چکا تھا.. مگر… وہ محسوس کر سکتی تھی مقابل کی خوشبو سے کے اسکے پاس کون ہے.. اسنے تھوڑا سا کمبل جو اسپر ابھی بھی تھا اسکاکونا سختی سے پکڑا..
کیسا لگتا ہے تھپڑ کھا کر”اسکے گال پر بہت احتیاط اور نرمی سے مرہم رکھتا وہ جھک کر پوچھنے لگا.. وہ اتنے قریب تھا کہ اسکی سانسوں کی تپش سے جاناں کو اپنا چہرہ جھلستا محسوس ہوا…..
ب
.. بہت درد ہوتا ہے” وہ آنکھیں کھول کر اس ظالم کو دیکھنے لگی جو بے پناہ وجاہت کا مالک تھا.. کسی کا بھی خواب ہو سکتا تھا مگر اسکے لیے وہ کسی خوف ناک خواب سے زیادہ کچھ نہیں تھا..
اسکی معصومیت پر فدا ہوتا.. وہ اسکی سانسوں کو اپنی دسترس میں مدہوش سا لے گیا.
ولی کے ہاتھوں نے اسکے ریشمی بال اپنی انگلیاں پھنسا لیے…
مجھے پتہ ہی نہیں تھا تم اتنی معصوم ہو “وہ اپنی ناک سے اسکی ناک مس کرتا اسکے اوسان خطا کر گیا…
جبکہ جاناں کی سانسیں الجھ سے گئیں.. وہ اسے دور کرنا چاہتی تھی مگر خود میں ہمت نہیں پا رہی تھی… ن
ولی اسکی جان بخشتا اس سے زرا فاصلے پر ہوا تاکہ وہ بول سکے.. ورنہ اسکے لفظ اٹک چکے تھے…
بولو” وہ انگوٹھے سے اسکے سرخ لبوں کو چھوتا بولا…
جاناں نے زور سے آنکھیں میچ لیں گویا وہ کچھ نہیں کہہ پا رہی تھی اس سے پہلے ان گداز لبوں کا لمس وہ پھر سے محسوس کر سکتا کہ اسکا فون بجا..
گالی)” اسکے ریشم کیطرح الجھے ہوے سحر سے خود کو ازاد کرتے ہوے اسنے فون اٹھایا…
چھوٹے چوہدری… اپکا گھوڑا اصطبل سے غائب ہے جی” وہ پریشان لگ رہا تھا کیونکہ وہ گھوڑا اب بہت اچھی طرح ٹرین ہو چکا تھا اور جلد ہی.. وہ ولی کا پسندیدہ بھی ہو چکا تھا.. مگر اسوقت ولی کی رگیں تنیں… جاناں کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا…
وہ اٹھتی کہ.. ولی کی گھوری نے اسے دوبارہ لیٹنے پر مجبور کر دیا…
جاناں کے ہاتھ کی نازک انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسنے بری طرح موڑی کہ جاناں درد سے چلائ…
آہ”وہ سسکی…
مطلب وہ حرام خور جاگ چکاہے….. مجھے میرا گھوڑا چاہیے صادق” وہ دھاڑا جبکہ جاناں کی چیخیں نکل گئیں جو اگلا بھی سن سکتا تھا.. کیونکہ ولی نے جاناں کی کلائ شدت سے موڑ دی تھی..
اگر نہ ملا تو میں جان سے مار دوں گا تمھیں “فون زمین پر پھینکتا وہ غضب ناک لگا..
مار دیں مج
.. مجھے”وہ سرخ چہرے سے.. روتی ہوئ بولی…
جبکہ ولی نے ایک بار پھر غضب ناکی سے اسکے لفظوں کو اسکے لبوں سے چھین لیا…
یہاں تک کے اسکی بے بس چیخیں کمرے میں گونج رہیں تھیں.. جنھیں وہ نکلنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا…
……………..
رات پھیلی نیند نے آنا کہاں تھا….
مگر دو راتوں سے جاگ کر وہ اپنی محبت کا ماتم بنا چکی تھی..
ابھی اسکی آنکھ ہی لگی تھی.. کہ… مانوس لمس پا کر.. وہ ہربڑا کر اٹھی.. اور سامنے اسکو دیکھ کر… وہ ہار ہار کر روئ…
سادام اسکی چارپائ.. پر ہی بیٹھا اپنے مخصوص انداز میں اسکا حسین چہرہ دیکھنے لگا…
مگر چہرے پر کوئ تاثر نہیں تھا….
جبکہ زریش اپنا ہی چہرہ چھپا کر رو رہی تھی..
ہم آ گیا ہے تم ٹانگیں ٹوٹوانے کا انتظام کرے گا… یہ ہم تمھارا باپ کو اٹھاے”وہ سرد لہجے میں بولا…
جبکہ کانپتے ہاتھوں سے پہلی بار زریش نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرا…
جسے سادام نے جھٹکا….
ہم کہتا ہے تم ہمارا ٹانگیں ٹوٹوا ہی دے.. نہ ہمارا ٹانگیں باقی رہے گا… نہ ہی ہم تمھارا پیچھے پڑے گا..” وہ سکون سے بولا..
میں نواب جی.. میں نے” وہ اسکو بتانا چاہتی تھی..
کتنا دن رہا اسکا پاس”سادام اسکی کلائ پر اپنا انگوٹھا چلاتا بولا…
ہ… ہفتہ” زریش اسکے لمس پر جھجھک کر خود کو چھڑا گئ..
کتنا بار تمکو دیکھا “سادام نے آنکھیں اسکیطرف اٹھائیں…
زریش سر جھکا گئ.. شرمندگی سی ہوئ…
سادام… کی برداشت اسکے ماتھے کی پھولی رگیں بتا رہیں تھیں..
ہم سے نکاح کرے گا “اسنے موضوع بدلا..
چہرے پر شادابی نرم تاثر کچھ نہیں تھا…
زریش نے اسکیطرف حیرانگی سے دیکھا…
م.. میں کیسے.. اماں ابا.. میں” وہ تزبزب کا شکار ہوئ…
اور اچانک چھپاکا ہو ا..
میں نیچ ذات ہوں “وہ سرخ نظروں سے اسے گھائل کرتی بولی..
جبکہ سادام کا قہقہ نکلا…
اور وہ ہنستا چلا گیا.. جبکہ زریش کی آنکھیں بھیگ گئیں…
سادام نے اچانک ہی اسکی گردن میں ہاتھ ڈالا….
ہمارا مکھن…. سمجھدار سا لگتا … اتنا سمھجہ بوجھ نہیں رکھتا سندھر…. ورنہ… ہم بھی پوری سمھجہ سے چلنا جانتا ہے….
تم ابھی ہمارا ساتھ نکاح کرے گا.. اسکا بعد… تمکو بتاے گا تم کیا ہے… “اسکی اٹکتی سانسوں کو محسوس کرتا.. وہ بولا…
اور اسکا ہاتھ تھام کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا…
……………
جاری ہے
See translation
