Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 13
رات بھاری تھی مگر جیسے تیسے کر کے گزر ہی گئ……
وہ ڈیرے پر ہی سو گیا تھا جبکہ شہاب ساری رات اپنی مرضی کے سامان سے لطف لیتا…. رہا.. اور سورج کی پہلی کرن پھوٹتے ہی وہ ڈیرے سے باہر نکل آیا…
گاوں کی حسین صبح اور اسپر دسمبر کی سردی کی غضب ناکیے…
وہ لطف لیتا تمام سوچوں کو خود سے جھٹکتا… سیگریٹ پینے کے لیے پاکٹ میں ہاتھ ڈالتا…
دو چار قدم آگے چلتا گیا…..
جبکہ اب سیگریٹ بھی جلا لی تھی……
وہ چلتا گیا یہاں تک کے کچھ آبادی کے قریب آ گیا..
سادام کا ڈیرا آبادی سے زرا فاصلے پر تھا….
ایک دو گھر اسے نظر آ رہے تھے مگر آبادی میں جانے کا اسکا خیال نہیں تھا.. تبھی وہ وہاں سے پلٹتا کے کسی نسوانی چیخ کی آواز سن کر وہیں رک گیا….
آواز میں کافی درد تھا…. اسکے قدم وہیں جم گئے…
مگر اس چیخ کے بعد ایک آواز بھی سنائ نہیں دی جبکہ وہ تادیر کھڑا… آواز کا تعاقب کرناچاہ رہا تھا….
اور جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی دوبارہ آواز سنائ نہیں دی… تو وہ پلٹ گیا مگر پیچھے بار بار مڑ کر وہ دیکھ رہا تھا..
وہ دوبارہ ڈیرے پر آ گیا جبکہ عنایت کو بھی دیکھا…
تم جاگ گئے “وہ مسکرایا….
اور آپ سوے ہی نہیں” عنایت کو بھی وہ جانتا تھا.. سادام کے ساتھ ساتھ بڑا ہوا تھا وہ تبھی سادام کا اسکے بنا گزارا نہیں تھا… اور شہاب بھی اسے اچھے سے جانتا تھا اور سادام کیطرح ہی.. اس سے لگاو رکھتا تھا….
خیر یہ بات تو سب ہی جانتے تھے کہ سادام خود سے جڑے ہر شخص کے لیے کتنا ٹچی تھا…
اسکی بات پر شہاب کا قہقہ ابھرا…. اور سادام کی آنکھ کھل گئ..
تم دونوں گھامڑ آدمی دفع ہو یہاں سے تمھارا باپ کا کمرہ ہے جو ایسے گدھوں کی طرح ہنستا ہے”وہ چیڑ کر اپنا سر پکڑتا بولا جو بری طرح گھوم رہا تھا..
پہلے بھی زریش کے لیے اور کل رات بھی صرف زریش کی یاد سے پیچھا چھٹوانے کے لیے اسنے شراب پی تھی…
تبھی اسکی طبعیت گیری گیری ہو رہی تھی جبکہ سامنے کھڑا شہاب پوری رات پینے کے بعد… سوے بغیر بھی فریش کھڑا تھا..
خیر اسے تو عادت تھی… اور کیوں. تھی سادام خوب جانتا تھا مگر اس موضوع کو کبھی چھیڑتا نہیں تھا….
عنایت تمھارے مالک کو اول تو زرا لحاظ تمیز نہیں…. مہمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے.. اور دوسرا آدمی شراب سے لطف لے کر بھی صبح پریشان اٹھے تو… وہ آدمی ہی نہیں… “اسنے منہ بنا کر اپنی ڈکشنری کو انکے سامنے رکھا.. عنایت اپنی ہنسی دبا گیا… جبکہ سادام نے گھور کر دیکھا…
ہو گیا تمھارا فضول بات جس کا لوجک ہمیں … دنیا کا کوئ انسان نہ دے سکے” وہ اسکی عجیب بات پر طنز کر کے اپنی جگہ سے اٹھا سر چکرایا اور دوبارہ بیٹھ گیا جس پر شہاب پھر ہنسنے لگا…
اور سادام ایک جھٹکے سے اٹھ گیا…
سر تو اب بھی چکرا رہا تھا مگر… کیا کر سکتے تھے انا کو کبھی دبایا نہیں تھا….
شہاب نے داد دی…. اور خود بیٹھ گیا.. وہ فریش ہو چکا تھا.. مگر رات والے لباس میں ہی تھا.. جبکہ سادام فریش ہونے چلا گیا.. اور عنایت نے اسکی ہیلپ کی…
تب تک شہاب اس چیخ کو جھٹکنے کی مسلسل کوشش کرنے لگا مگر افسوس کے بار بار دماغ وہیں ٹھر جاتا.
سادام فریش سا اسکے سامنے گرے سوٹ اور سفید شال لیے آیا. تو وہ ہمیشہ سے اسکی شخصیت سے مرعوب ہو جاتا تھا… حالانکہ وہ بھی کسی سے کم نہیں تھا مگر سادام میں پھر بھی الگ بات تھی…
وہ بیٹھا.. جبکہ عنایت ناشتہ لینے چلا گیا..
ہوش میں ہو”شہاب نے سنجیدگی سے پوچھا…
سادام نے گھورا…
میرا مطلب رات تم نے کسی لڑکی کو اٹھانے کی بات کی تھی اب بھی اسپر قائم ہو یہ… وہ صرف نشے کی زیادتی تھی” اسنے جاننا چاہا..
ہم قائم ہے لڑکی کو اٹھوانا ہے.. اور وہ بھی آج ہی.. “وہ سکون سے
بولا عنایت بھی آ چکا تھا اور ناشتہ ٹیبل پر لگانے لگا جس میں سے شہاب نے صرف کافی کا کپ لیا… اور سادام پراٹھے سے انصاف کرنے لگا..
کب “شہاب پوچھنے لگا
..دن دھاڑے” وہ بولا تو شہاب ہنس دیا….
صیحی چلو ٹھیک ہے شام چار سے پانچ کے دوران ڈیرے پر ایک مولوی کی منڈی کے ساتھ اور چار گواہوں کے ساتھ انتظار کرنا تمھارا کام ہو جاے گا”وہ بولا…
تو سادام نے سر ہلایا… اور پھر ایک نظر اسکو دیکھا جو اپنا موبائل چیک کرتا کافی پی رہا تھا…
ایک بات پوچھے” سادام نے گویا تمہید باندھی… اور شہاب کے تیور بگڑے وہ جانتا تھا وہ کیا بات کرے گا..
نہیں “سختی سے کہا گیا… تبھی سادام چپ ہو گیا…
اور اپنا اپنا ناشتہ کرنے لگے…
تمھیں جاناں کا خیال نہیں آ رہا”شہاب نے اچانک ہی پوچھا….
نہیں” اسنے اس سے بھی زیادہ سختی سے جواب دیا.. تو ایک بار پھر خاموشی چھا گئ…
………………….
آئزہ بی بی آپ یہ کیا کر رے ہیں آپ مت جائیں “زریش اسکو سامان باندھتا دیکھ… بولی..
زریش تم نہیں جانتی میرے ساتھ کیا کیا ہو چکا ہے” ائزہ کی بھیگی آنکھیں دیکھ کر وہ حیران ہوئ وہ کافی جلد ہی ایک دوسرے کے نزدیک آ گئیں تھیں…
مگر راز دونوں ہی ایک دوسرے کے نہیں جانتی تھیں..
زریش خاموش ہو گئ.. اسکا راز جان کر وہ اسے شرمندہ بلکل نہیں کرنا چاہتی تھی..
جو بھی ہوا… آپ اس سے لڑیں نہ کے بھاگ جائیں “وہ کچھ دیر بعد بولی..
مجھ میں ہمت نہیں ہے لڑنے کی.. بہت کمزور ہوں میں” آئزہ رونے لگی تو زریش نے اسے گلے سے لگا لیا…
پلیز آپ روئیں مت…. “وہ اسکے آنسوں صاف کرتی چپ کرانے لگی…
تم دیکھ نہیں رہی… مجھے کس طرح زلیل کیا جارہا ہے…
جان گئ ہوں میں اس شخص نے مجھے طلاق نہیں دی…
اور پورے گھر میں پھیلا چکا ہے کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے اور اماں… کسی اور سے رشتہ طے کر ائ ہے…
جبکہ وہ خود”وہ چپ ہو گئ… زریش حیرانگی سے اسکی بات سن رہی تھی…
آگے کی بات وہ کچھ سمھجہ گئ تھی سادام کی بے باک طبعیت سے واقف تھی… تو اسے اندازا ہو رہا تھا وہ کیا بات چھپا گئ ہے..
زریش منہ پر ہاتھ رکھے.. اسے روتا دیکھ رہی تھی….
وہ حقیقتاً ایک بڑی مصیبت میں تھی…
آپ سب کو بتا دیں “اسنے اسے مشورہ دیا…
کوئ نہیں مانے گا… اور خاص کر اماں اور پھر میں جانتی ہوں وہ بتانے نہیں دے گا… جانتی ہو زری وہ دونوں ہی ایسے ہیں.. ایک بات کے پیچھے پڑ جانے والے… شہریار کی عادت پھر بھی ولی سے الگ تھی کہ وہ بہت نرم خو اور خود کے غصے کو قابو میں رکھنے والے انسان تھے مگر جب سے میں نے ایک پیپر سائن کیا.. تب سے.. وہ ایسے ہو گئے.. میری غلطی ہے میں مانتی ہوں مگر میں اتنی بڑی سزا کی مستحق نہیں تھی”َعہ سسکی زریش خاموش ہو گئ. تبھی میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں” وہ کچھ دیر بعد آنسو صاف کرتی سختی سے بولی..
وہ اپکو جانے دیں گے”اسنے جیسے سوال کیا…
آئزہ نے اسکیطرف دیکھا.
اور دوبارہ پیکینگ کرنے لگی وہ کچھ نہیں جانتی تھی..
اس سے آگے…..
………………..
جیسے ایک خواب سا پوری رات اسنے دیکھا ہو اور آنکھ کھلتے ہی وہ اپنے بستر پر اپنوں کے پاس ہو گی… ایسا احساس اسے ہوتا.. مگر ہوا نہیں کیونکہ ایک جھٹکے سے جیسے ہی اسکی انکھ کھلی…
خود کو بستر پر تو پایا مگر اپنے نہیں کسی اور کہ…
وہ اٹھ بیٹھی بیوقوفوں کیطرح خالی کمرہ تکنے لگی.. پانی گیرنے کی آواز محسوس کر کے اسے احساس ہوا کہ.. واشروم میں ہی ہے خوف کی خوفناک لہر نے اسکا رنگ اڑایا تھا.. وہ اسکی دسترس میں آ گئ تھی…
اس سے پہلے وہ باہر نکلتا اسے بھاگ جانا چاہیے تھا.. اسی مہربان نرم عورت کے پاس…
اپنا لہنگا سمبھالتی اس سے پہلے وہ بھاگتی کہ اسے احساس ہوا اسکا لباس تو تبدیل تھا….
رات لہنگا کرتی میں موجود تھی جبکہ اسوقت وہ مردانہ لمبی شرٹ جو اسکو ڈھانپ چکی تھی اور.. کھلے پجانے میں موجود تھی…
حیرت شرم غصے سے وہ زمین میں گڑتی چلی گئ…
مگر اگلے. لمہے اس انسان کے خوف نے پھر سے اسکے اندر ڈر جگایا…
اور وہ وہاں سے بھاگنے کے لیے اٹھتی کہ.. واشروم کی کنڈی کھلی…. اور ٹاول میں موجود وہ سرد آنکھوں والا شخص باہر نکلا.. تو سامنے اسے دیکھ کر خاموشی سے ڈریسنگ کی جانب ہو گیا…
جبکہ جاناں نے چہرہ جھکا لیا اسے رونا آ رہا تھا یعنی وہ اس حد تک کنفیوز ہو چکی تھی کہ اب بس رو رہی تھی.. اسکی مدھم مدھم سسکیوں کا میوزک ولی کو مسرور کر رہا تھا..
مگر یہ کیا… وہ روتے ہوئے اس حولیے میں کمرے سے باہر بھاگنے کے چکروں میں تھی.. تبھی ولی تن فن کرتا.. اس تک پہنچا…
اور اسکی کلائ پکڑ کر بری طرح موڑ دی
جاناں کی بے بس سی آہ نکلی تھی….
مجھ سے بھاگنے کی زرا بھی کوشش کرو گی.. تو سزا ملے گی. سمھجی.. وہیں بیٹھو جہاں بیٹھی تھی اور اسی طرح رو… نہ زیادہ نہ کم”انکھیں دیکھاتا.. وہ بولا.. تو جاناں اسکی جانب دیکھنے لگی..
کیا وہ پاگل تھا…
مگر اسکی سخت گھوری سے وہ دوبارہ وہیں جم گئ.. اور مسکنے لگی…
اسے سادام کی یاد آ رہی تھی پھولوں کیطرح رکھنے والا اسکا بھائ اس سے کتنا بدزن ہو چکا تھا…
گھر والوں کو سوچتے ہوئے اسکے ہاتھ کی پشت اسکے آنسوں سے بھرنے لگی.. جبکہ ولی اسکی خود سے بے دھیانی نوٹ کر رہا تھا..
تبھی ڈریسپ ہونے چلا گیا.. جبکہ جب وہ باہر آیا وہ اب بھی اسطرح.. اسے بے پرواہ اپنے گھر والوں کی یاد میں گم تھی…
جو ولی کو ایک آنکھ نہیں بھائ…
اور وہ اس تک پہنچا… اور اسکے سامنے ٹک گیا….
جاناں کا سر مزید جھک گیا… اسکو اپنے حولیے کا شدید احساس ہوا…
جبکہ ولی.. اسکے حسن سے نگاہ چرانے کی کوشش کرتے ہوئے بھی چرا نہیں پا رہا تھا….
اسکی شرٹ کے کھلے دو بٹن ولی کا دماغ بھٹکا رہے تھے…
اور بس اسنے وہیں سے اسکی شرٹ دبوچ کر.. ایک ہاتھ سے اسے اپنی جانب کھینچ لیا.. نرم و نازک سی جاناں خوف زدہ سی اسکے چہرے کے بے حد نزدیک آ گئ…
اپنے بھائ کا غم منا رہی ہو میرے سامنے…. جاناں بی بی جب وہ میری گولیوں سے مر جائے اصل غم اس دن منانا “وہ اسکو جھڑکتے ہوئے سختی سے بولا….
جاناں کی سرخ آنکھیں بھیگنے لگیں جبکہ تھر تھراتی تھوڑی…
وہ. اصل میں خود کو بے بس محسوس کرنے لگا..
اور کانپتے لبوں کی مدھر سانسوں کو روک گیا…
وہ ایسا نہیں چاہتا تھا.. فلحال تو بلکل نہیں کے اسپر واضح ہو کہ اسکی نظر میں اسکی کوئ اہمیت ہے…. جو کہ بلکل نہیں تھی وہ بس.. اسکے وجود کیطرف کھینچ رہا تھا…
اور اس حد تک کہ وہ خود پر سے کنٹرول کھو دیتا….
جاناں حونک سی اسکی شدت پر پریشان ہلکان ہونے لگی..
پہلے پہل نرمی اور اب حد سے زیادہ شدت پر اسکو دور ہٹاے احتجاج کرتے ہاتھ بھی اب دم توڑ چکے تھے.. اور وہ… خود کو.. مردہ سمھجتی ڈھلکنے لگی کہ وہ اس سے دور ہوا…
اسکے زخمی لبوں کو دیکھنے لگا جبکہ اسے پرے دھکیلا تو وہ گھیرے سانس بھرتی تکیے پر گیری..
عجیب احساس تھا… اسکو توڑ پھوڑ کر یقیناً اسے مزاہ آنے والا تھا.. مگر جتنا مزاہ سادام کو اسکی حالت اپڈیٹ کرنے کا تھا.. اسکی تو بات ہی کیا تھی…
جاناں بری طرح رو دی…
وہ پہلا شخص تھا جو اسکے بار بار نزدیک آتا تھا. مگر وہ بہت برا تھا اور صرف اسکو ولی سے ڈر لگتا تھا…
تم نے اب روز ہی رونا ہے.. کام ضروری نہ ہوتا تو جان نہیں چھوڑتا..
ولی نام ہے میرا یاد رکھنا تمھاری ہر سانس میری قید میں ہے… اور تم میری غلام ہو.. میرے گھر والوں کی غلام ہو.. تمھارے باپ نے میرے باپ کو مار ا..
تمھارے بھائ نے میرے ٹانگیں ٹوٹوانے کی کوشش کی..
اور تم.. تم مجھ سے بدلہ لینے میرے اصطبل پھنچ گئ..
جاناں میڈیم بہت حساب ہیں.. چکاتے چکاتے.. مرنا بھی چاہو تو مرنے بھی نہیں دوں گا”ہنستا ہوا اسکے کانوں میں پھنکارتا.. رہا
اب ایک منٹ لگا کر اٹھو.. دادی کے پاس تمھیں دینے کو بہت کچھ ہے” وہ اسکی حالت سے مزاہ لیتا ایک بار پھر اپنے بال درست کرتا.. کمرے سے باہر نکلنے لگا.. جبکہ جاناں اب بھی ویسے ہی پڑی…
رونے میں مصروف تھی..
میں او یہ اٹھ رہی ہو خود ہی” وہ دھاڑا…
تو جاناں اچھل اٹھی اور دوڑتی ہوئ باتھروم میں بند ہو گئ..
سیلی”اسنے سر جھٹکا.. اسکے حسن سے نگاہ چرانا واقعے مشکل تھا.. پھر دادی کی دھمکی..
اسے یاد تھی.. وہ باہر نکل آیا.. تو ائزہ کے کمرے سے زریش کو نکلتا دیکھا…
وہ اسے سخت تیوروں میں گھورنے لگا..
جو رو دینے کو تیار تھی…
وہ اسکی قید میں تھی.. اختیار جیسے اسکے پاس تھے…
اور سادام کے پر کٹ چکے تھے.. وہ بے بس پنچھی کیطرح پڑا تھا…
ولی خوش سا دادی کے پاس چلا گیا…
…………..
جاری ہے
