Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
ڈھنگیاں شاماں
از قلم تانیہ طاہر
Episode 23
وہ آگے بڑھا ۔ ۔۔ سب عورتیں نے اسکے آگے بڑھنے کی وجہ سے راستہ چھوڑ دیا ۔۔۔ اور وہ جاناں کے عین سامنے آ کھڑا ہوا ۔۔۔ زریش ایکطرف ہوتی ۔۔۔ اس بے حس کیطرف دیکھ رہی تھی ۔۔ کیسے وہ اس سے لاتعلق ہو چکا تھا ۔۔۔ اس میں اسکا کیا قصور تھا ۔۔۔ کہ اسکی حقیقت کچھ اور تھی مگر اسکی بھیگی سرخ آنکھوں کو دیکھنے کی زحمت کیے بنا وہ اپنی بہن کیطرف بڑھا ۔۔۔ اور اسکا چہرہ غور سے دیکھنے لگا ۔۔ جاناں کی سسکی لاونج میں گونجی سادام کی آنکھوں پر اگر سیاہ گلاسز نہیں ہوتے تو ۔۔ شاید وہاں کھڑے لوگ اسکی آنکھوں کی تکلیف کو لازمی دیکھتے مگر ۔۔ وہ تو چھپا گیا تھا ہر جزبے
اسنے بہن کے ہاتھ میں چمچا دیکھا ۔۔۔ اور اسکے نڈھال ہوتے روتے گرتے وجود کو سادام نے بازوں میں بھر لیا ۔۔
اس چمچے کو اسنے دور اچھالا ۔۔تو یہ منظر وہاں کھڑے سب لوگوں نے دیکھا ۔۔۔
لالا میں یہاں رہنا نہیں چ
۔۔۔ چاہت۔۔چاہتی”اسکی آواز ٹوٹ رہی تھی ۔۔۔ بکھر رہی تھی سادام کی کنپٹیاں گویا پھٹنے کو تھیں چار سو سناٹا تھا سب بس اسکے لفظوں کے انتظار میں تھے ۔۔۔۔
جاناں سائیں ۔۔۔۔ سمبھالو خود کو ” جاناں کے بے ہوش سے ہوتے وجود کو وہ سنبھالنا چاہ رہا تھا مگر جاناں اتنے دنوں بعد اسکو سامنے دیکھ کر حواس کہو بیٹھی تھی تپتی دھوپ میں زرا سی چھاؤں ملنے پر وہ خود کو سنبھال نہ سکی اور اسکے بازوں میں ہی گیر گئ ولی بھاگتا ہوا انکے نزدیک پہنچا ۔۔
جاناں ۔۔۔ جاناں”اسنے اسکے گال تھپتھپائے ۔۔۔
اور صادق کو چلا کر ڈاکٹر کو بلانے کا کہا ۔۔۔
اگر اس کو کچھ ہوا ۔۔ چوہدری ولی تمھارا مونچھیں اتروا کر تمھارا ہتھیلی پر سجا دے گا “سادام نے اسکی آنکھوں میں خون آشام نظریں گاڑیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سادام سے یہاں سے جانے کے لیے بات کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ تبھی وہ کچن میں بیٹھی سادام کے آنے کا انتظار کرنے لگی مگر سد افسوس کے وہ تو دو دن سے نہیں آ رہا تھا تو آج کیسے آتا مگر اسے ایک امید تھی جیسے وہ آ جائے گا ۔۔۔
نور بھی مطمئین سی کام کر رہی تھی ویسے تو شمائلہ نے اسے منع کیا تھا مگر وہ اب خود سے آنے لگی تھی۔ ۔۔اور آج ویسے بھی شمائلہ کی طبعیت ناساز تھی تبھی وہ نہیں آئ تھی اور سارے کام نور ہی سمبھال رہی تھی ۔۔۔
نور مجھے ڈر لگتا ہے یہاں”بیلا نے اپنے کانپتے ہاتھوں کی وجہ بتائ ۔۔
تمھیں ڈرنا چاہیے کیونکہ یہاں بسنے والے لوگ بلکل اچھے نہیں “اسنے شانے آچکا کر کہا ۔۔۔
اور ایک نظر دروازے کی جانب دیکھا ہاد تھا شان سے کھڑا تھا ۔۔
بلیو جینز پر اپر پہنے وہ اپنی سرخ و سفید رنگت لیے بیلا کو دیکھ رہا تھا جبکہ نور کو پہلی بار وہ بے حد دلکش لگا مگر وہ بیلا کو کیوں دیکھ رہا تھا اسکے منہ پر کتنے زخم تھے کہ کسی سے دیکھے نہ جائیں اسکا وجود نوخیز تو نہیں تھا پھر بھی اسکی دلچسپ نگاہیں بیلا پر کیوں تھیں ۔
ہاد اندر آیا اور بیلا کے نزدیک آ کھڑا ہوا ۔۔۔
تمھارے زخم بھرے نہیں ابھی تک ۔۔ میں نے دوائ بھی بھجوائ تھی”سادام سے باتوں باتوں میں وہ بیلا کی حقیقت جان گیا تھا ۔۔۔
ج۔۔۔جی وہ “بیلا نے نور کیطرف مدد طلب نظروں سے دیکھا جو شعلے اگلتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
ہاد صاحب ملازموں پر کافی مہربان ہونے لگے ہیں ۔۔اج کل شمائلہ آپی سے میں نے لے لی تھی تمھیں دینا بھول گئ”وہ طنز کرتی اسکے ہاتھ میں ٹیوب اور کچھ میڈیسن پکڑا گئ ۔۔۔
تم اپنی لیمٹس کراس نہ ہی کرو تو بہتر ہے”ہاد نے چیڑ کر جواب دیا
اچھا لیمنٹس تو آپ کراس کر رہیں ہیں یہاں کے ملازم محفوظ نہیں ہیں “وہ جلتی کڑہتی بولی تو ہاد کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔۔۔
مگر وہ اس لڑکی کے منہ نہیں لگنا چاہتا تھا ۔۔۔
تبھی اس سے دوبارہ رخ موڑ کر حونک کھڑی بیلا کو دیکھا ۔۔۔ اور مسکرا دیا ۔۔
اگر پہلی نظر میں کوئ اتنا بھا جاتا ہے اور دل کے تار اسکے لیے چھڑنے لگتے ہیں تو یہ حقیقت تھا کہ اسکی دھڑکنیں ان نشانات سے بے حال ہوتی دھڑکنوں میں رقص کرنا چاہتی تھیں ۔۔۔
میرے ساتھ چلو گی”اسنے اپنی طبعیت کے برعکس بیلا کے سامنے ہاتھ پھیلایا ۔۔
بیلا رونے لگی مزید اس سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا پھر نور کی باتیں کہ وہ بدکردار ہے ۔۔۔
ن۔۔نہیں م۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے “وہ جلدی سے بولی
مگر تمھارا شوہر اچھا آدمی نہیں “ہاد اسکے رونے پر حیران ہوتا بولا ۔۔جس سوسائٹی میں وہ اٹھتا بیٹھتا تھا وہاں یہ سب بلاشبہ عام تھا ۔۔ اور یہ لڑکی ۔۔۔ اتنی سی بات پر رونے لگی ۔۔
بدگمان ہونے کے بجائے وہ مزید اسکیطرف مائل ہوتا دیکھا ۔۔
اچھا رونا بند کرو مزید کیوٹ لگ رہی ہو ۔۔ یہ دوائ لیتی رہنا اور ٹیوب بھی لگا لو ۔۔ یہ شہر کے سب سے بڑے ڈاکٹر نے رکیمنڈ کیں ہیں تم جلد ٹھیک وہ جاؤ گی”وہ مسکرا کر ۔۔ اسکے گال کو چھوتا پلٹ کر چلا گیا ۔۔یہ سب ہاد کے لیے بے شک عام تھا مگر بیلا اس لمس پر حیران رہ گئ ۔۔ کبھی اتنی نرمی سے کوئ پیش ہی کب آیا تھا اسکے ساتھ ۔۔ وہ منہ کھولے اس راستے کو دیکھنے لگی جہاں ہاد ابھی گزرا تھا جبکہ نور نے غصے سے اسککا ہاتھ جھنجھوڑا ۔۔
تم پاگل ہو وہ تمھیں چھو گیا اپنی گندگی دیکھا گیا اور تم حونک کھڑی ہو “وہ بولی تو بیلا ہوش میں آئ ۔۔۔
مجھے بھی ایسے ہی چھوا تھا میں نے تو تھپڑ رکھ کر مارا ۔۔ ایک تم ۔۔ ہو حیرت ہے”وہ طنزیہ نخوت سے بولتی اسے مخمسے میں چھوڑ کر دوبارہ کام میں بظاہر مگن ہو گئ مگر کچن میں بیلا کی سسکیاں اسکو تسکین دینے کا باعث تھیں ۔۔
یہ سب اچانک ہوا تھا کہ اسکا دل ہاد کے لیے دھڑکنے لگا تھا ۔۔ وہ تھا بھی کافی ہینڈسم ۔۔ ہاں اپنے بڑے بھائی سے کم مگر ۔۔۔ ہینڈسم کافی تھا اوپر سے اسکا بے باک لاپرواہ انداز اب اسے اچھا لگنے لگا ۔ تھا ہاں شاید بیلا نہ آتی تو ۔۔ اسے ان سب احساسات سے روشناس نہ کراتی مگر اب وہ تہیہ کر چکی تھی اس لڑکی کو نکال کر ہاد کی توجہ خود پر کرنے کی۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے خوشخبری کی نوید سنائی تو وہاں کھڑے سب لوگوں کے چہروں کے رنگ پھیکے پڑ گئے ۔۔ سب کو ہی گویا سانپ سونگھ گیا ۔۔۔
سادام نے مٹھیاں بھینچ لیں جبکہ ولی ۔۔۔ کھلم کھلا نفرت کا اظہار کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
دادی صرف سادام کے جانے کا انتظار کر رہیں تھیں ورنہ جاناں کے ٹکڑے کرنے کا ارادہ تو وہ باندھ چکیں تھیں ۔۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ “رقیہ بیگم نے جاناں کے پریشان چہرے پر پیار کیا ۔۔۔
سادام نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
یہ موبائل رکھے گا تم ۔۔۔۔ آج کے بعد جو تمھیں یہاں کچھ بھی کہے ۔۔ ہمیں بتاے گا ۔۔ ہم آتا جاتا رہے گا ۔۔ اور ہاں ۔۔ بھول گیا ۔۔
ہمارا شادی ہے ۔۔۔ آپ سب لوگوں کو پیغام تو اصل یہ ہی دینے آیا تھا ۔۔
سرپنچ کا بیٹی سے ۔۔”اسنے سرپنچ کیطرف اشارہ ضرور کیا مگر ۔۔۔ منہ کھولے بیٹھی زریش کیطرف نگاہیں تھیں ۔۔
جبکہ باقی سب بھی حیران رہ گئے خود جاناں بھی بھائ کو حیرت سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
ہم امید کرتا ہے تم سب آئے گا ۔۔۔ “وہ ہلکا سا مسکرا کر سرپنچ کے ساتھ ہی باہر ہو لیا جبکہ عنایت نے پورا لاونج مٹھائی کی ٹوکریوں سے بھر دیا ۔۔۔
آئزہ نے شکر اداکیا۔ کہ وہ اس کے ساتھ ضد نہیں باندھ رہا تھا کیونکہ وہ شہریار کو معاف کر چکی تھی اور اسکے دل میں جگہ تو اسکی ہمیشہ سے تھی ۔۔۔۔۔۔جبکہ ولی بھی باہر کھڑا یہ نظارہ کر رہا تھا ۔۔
سادام زرا اسکے نزدیک ہوا ۔۔
کیوں سیٹھ صاحب ابھی سے رنگ اڑا لیا تم نے وہ کیا کہتا ہے ۔۔۔ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ۔۔ آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا سمجھا “وہ ہنسا اور سرپنچ کے ساتھ نکل گیا جو شہریار سے کوئ بات کر رہے تھے ان دونوں کے جانے کے بعد شہریار نے ولی کیطرف دیکھا ۔
تم نے کہا تھا اس نے ہماری زریش سے شادی کر لی ہے”شہریار کافی بھڑکا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔
میں اسکی بہن کو مار دوں گا۔ ۔۔ “وہ پھنکارہ ۔۔۔۔
اور ڈیرے کیطرف چلا گیا جبکہ یہ سب شہریار کی سمھجہ سے باہر ہو رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی جتنا روتی اتنا کم تھا ۔۔جب جب اسکی بات یاد آتی ۔۔ تب تب الگ ہی رونا آتا ۔۔ اور اتنا روتی کہ اسکی آوازیں کمرے میں گونجنے لگی ۔۔
میری خطا کیا ہے میرے لیے اتنی بڑی سزا کیوں ہے “وہ بولی ۔۔ جبکہ اسکے کمرے کا دروازہ بجا ۔۔۔
اور وہ سوچ چکی تھی وہ یہاں سے بھاگ جائے گی ۔۔۔۔
وہ نہیں رہ سکتی تھی سادام کے بنا ۔۔۔۔ کیسے رہتی کیسے اسے کسی اور کا ہونے دیتی ۔۔۔
اسنے اٹھ کر دروازہ کھولا اور سامنے ولی کو دیکھ وہ کچھ جھجھک سی گئ ۔۔۔۔
پیچھے ہٹی ولی کمرے میں آیا ۔۔۔۔
اور دروازہ بند ہو گیا ۔۔۔ وہ ڈر سی گئی ۔۔ رشتہ تو جانتی تھی وہ ۔۔مگر اس وقت اور پہلے کے واقعات سوچ کر اسکا دل عجیب سا ہو گیا ۔۔۔
سب جان گئ ہو ۔۔ میری نفرت بھی اسکے لیے جانتی ہو ۔۔۔۔۔
ہماری دشمنی بھی جانتی ہو ۔۔ اپنے اور میرے درمیانی رشتے سے بھی واقف ہو ۔۔۔ سب کچھ جانتے بوجھتے تمھاری آنکھیں بغاوت کر رہیں ہیں”وہ بولا ۔۔ تو زریش نے اپنے آنسو صاف کیے۔
میں “وہ کچھ بولنے لگی ولی نے روک دیا ۔
تمھارے ساتھ جو میں نے کیا میں معافی چاہتا ہوں اگر مجھے پہلے علم ہوتا تو شاید حالات کچھ اور ہوتے ۔۔۔۔ مگر جو گزر گیا اسے بھولنے میں ہی بہتری ہے ۔۔۔ مجھے امید ہے تم اپنے بھائیوں اور اپنے باپ کی عزت کو اب مٹی نہیں کرو گی ۔۔۔۔
وہ شادی کر رہا ہےاچھا ہی ہے میں نے کبھی تمھیں اسکے ساتھ رخصت بھی نہیں کرنا تھا ۔۔۔ “
وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتا اسے سمجھانے لگا ۔۔ جبکہ زریش یوں ہی کھڑی رہی ۔۔۔۔
ولی کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔
رشتوں کو سمجھو گی تکلیف کم ہو گی ۔۔۔”وہ آخری بات بول کر ۔۔وہاں سے نکلا ۔۔ تو زریش ۔۔ نے سانس بھال کیا ۔۔۔
جبکہ ولی کا رخ اب اپنے کمرے کیطرف تھا ۔۔۔
راستے میں ہی نمل نے جا لیا ۔۔۔
ولی یہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ بلکل بھی تم جانتے ہو ۔۔ کہ میری تم سے منگنی طے پائے ہے پھر بھی ۔۔
چپ خاموش بلکل ۔۔ میری زندگی میں پریشانیوں کی کمی نہیں ہے جو تم ان میں اضافہ کرنے آئ ہو ۔۔ بعد میں بات کروں گا میں”وہ اسے کھٹکتا سر دباتا اپنے کمرے میں آ گیا جہاں اسکی بیوی ۔۔۔ بیڈ پر بیٹھی نخون چبا رہی تھی ۔۔
خبر ملنے کے بعد سے وہ مزید خوبصورت لگنے لگی تھی ۔۔۔
جاناں نے اسکیطرف دیکھا اور اٹھی ۔۔۔
و۔۔۔ولی”اسنے کہا ۔۔ ولی نہ چاہتے ہوئے بھی جی جان سے متوجہ ہوا تھا ۔۔ کچھ لمہوں کے لیے وہ سب بھول چکا تھا ۔۔۔۔
وہ اسکے نزدیک آیا۔ ۔۔ اور اسکی کمر میں ہاتھ سختی سے باندھ کر اسکو اپنے اوپر کھینچ لیا کہ جاناں اسکے سینے سے چپک گئ ۔۔۔
کمال ہو “بے ساختہ اسکے منہ سے لفظ نکلے اور وہ بے خود سا اسپر جھکتا ۔۔ اسکے کانپتے لبوں کو اپنے دسترس میں لے گیا ۔۔
ہاں اسے شدید غصہ تھا ۔اسپر ۔۔۔۔ دادی اس سے خفا تھیں ۔۔۔ اور اسنےایساکبھی نہیں چاہا تھا ۔۔۔۔ مگر اس وقت وہ اس پری وش کے دام میں بری طرح پھنس چکا تھا جس کے نازک وار اسکی کمر پر پڑ رہے تھے ۔۔ مگر اسکی جنونیت میں کمی نہیں آئ ۔۔ اور پھر اپنی مرضی سے جدا کر کے اسنے اسے دھکا دیا ۔۔تو وہ بیڈ پر گیری ۔۔ اور ولی بھی گرنے کے انداز میں اسکے مقابل لیٹا ۔۔اسکا ہلکان چہرہ اور زخمی لب دیکھنے لگا ۔۔۔ اور نرمی سے چھو کر محسوس کرنے لگا ۔۔۔
جاناں کا وجود سنسنا اٹھا۔
میں ارادے کچھ باندھتا ہوں تم ۔۔ انکو کچھ کر دیتی ہو “وہ اسکے بالوں کی نرمی کو اپنے چہرے پر محسوس کرتا بولا ۔۔۔۔۔
آپ ۔۔دادی بہت غصہ کر رہیں تھ۔۔تھیں انھوں نے کہا ہے ۔۔ وہ وہ یہ نہیں رہنے دی۔۔دیں گی ۔۔ “وہ اسکے سینے پر سرخ سی ہوتی اسے بتانے لگی اسکے لہجے کی لڑکھڑاہٹ اسکا ڈرنا سہمنا ولی ان ہی اداؤں سے دن با دن مائل ہو رہا تھا ۔۔۔ اسکیطرف
اسکی گردن پر اپنے لمس کی بارش برساتے وہ جیسے سب باتوں کو بھول کر خود کو ریلکس کر رہا تھا ۔۔۔
و ۔ولی”جاناں کی سانسیں پھول گئیں ۔۔
چپ”وہ آنکھیں نکال کر بولا ۔۔۔
جاناں نے نگاہیں جھکا لیں ۔۔
۔۔ ایک کام کو شروع جب میں کرتا ہوں تو اسے مکمل پائے تکمیل تک پہنچاتا ہوں جو آج تمھیں نیوز ملی اسی کے عناصر ہیں اب چپ رہنا مزید بولو گی تو پھر روتی رہو گی “
اور میرا کوئ موڈ نہیں تمھارا بینڈ سننے کا ۔۔۔”اسنے پہلے کیطرح اسکے احتجاج کرتے ہاتھوں کو اپنی دسترس میں کیا اور اس پر چھانے لگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائیں ۔۔۔ سائیں خان”عنایت کی گھبراہٹ سے بھرپور آواز پر ۔۔ وہ سر جھٹکتا اسکی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔
عنایت کو اسکی یہ عادت سخت زہر لگنے لگی تھی مگر وہ بول نہیں سکتا تھا ۔۔
مگر جو اطلاع ملی تھی اسپر اسکے قدموں تلے زمین کھسک گئی تھی ۔۔
کیا ہوا عنایت بادشاہ”سوتے ہوئے شہاب کو اسنے طنزیہ نظروں سے دیکھا ۔۔
آگ تو اس میں لگی تھی ۔۔ نیند تو اسکی اڑ چکی تھی ۔۔۔
کسی اور کو کیا پرواہ بھلا ۔۔
خان ۔۔ زری بی بی “
وہ ابھی کچھ کہتا سادام اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔
وہ آ گئ ۔۔۔ وہ میرے لیے ا گئ ۔ ۔ “وہ باہر نکلنے لگا ۔۔
خان زری بی بی کے پورانے گھر کو کسی نے آگ لگا دی ۔۔ دونوں بوڑھا بوڑھی جل کر بھسم ہو گئے ہیں”عنایت کی بات پر ۔۔سادام کے ہاتھ سے گلاس چھوٹا
کیا”وہ منہ کھولے حیرانگی سے دیکھنے لگا ۔۔
جی خان سارا شک آپ پر ہے ۔۔ خان مجھے لگتا ہے آپ کو چلے جانا چاہیے ورنہ ولی ۔۔۔”عنایت رکا ۔۔۔
کس نے کیا ہے یہ”وہ عنایت کا گریبان پکڑتا دھاڑا ۔۔ جبکہ شہاب بھی ایکدم اٹھا ۔۔
ہم پوچھتا ہے کس کا جرت ہوا ہے یہ کرنے کا”وہ چلایا ۔۔۔
معلوم نہیں خان ۔۔ ولی بھی حویلی سے باہر نہیں نکلا تھا ۔۔”عنایت اسے آگاہ کرنے لگا ۔۔جبکہ سادام ۔۔زور سے چلایا تھا ۔۔۔۔
گھیری رات کی تاریکی میں اسکی غراہٹ گونجی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
