50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

ڈھونگیاں شاماں ازقلم تانیہ طاہر
Episode 6
بمشکل رات تمام ہوئ اور دن نے سب کچھ روشن کر دیا سواے اسکے دل کے.. اسکے دماع پر ایک ہی فکر سوار تھی سادام سے ملنے کی… ناشتہ کر کے ابا تو کھیتوں پر چلے گیے جبکہ اماں…
کچھ فاصلے پر.. انٹی سکینہ سے کرسیاں مانگنے گئیں تھیں.. اور وہیں بیٹھ گئیں جبکہ اسے تاقید کی تھی کہ وہ اپنے کپڑے نکال کر.. تیار ہو جائے…..
مگر اماں کو کافی دیر وہ گئ تھی جبکہ مہمان بھی شام تک آتے…. دل میں بار بار خیال آ رہا تھا… کہ.. سادام کے پاس چلی جائے…
تبھی دل کی سنتے اسنے انٹی زاہدہ کو کہا کہ.. وہ کالج جا رہی… ہے.. اور کچھ دیر تک آ جائے گی.. کوئ ضروری کاغزات لینے تھے..
اب ان انپڑ کو کہاں کوئ علم ہونا تھا.. تبھی سر ہلاتی دروازہ بند کر گئیں.. جبکہ وہ سر پر اچھے سے دوپٹہ جما کر.. کالج کے راستے پر ہو لی…
کپڑے پہنے معمولی سا تیار ہوئے وہ… سیدھی چلتی جا رہی تھی…
اور گاوں کے اس نکڑ تک پہنچ گی جہاں سے عنایت اسے لیتا تھا.. اور چھوڑتا تھا مگر آج وہاں کوی نہیں تھا… وہ نوابوں کے گاوں میں آج پہلی بار چلتی جا رہی تھی… اسے راستوں کی پہچان بس اتنی ہی تھی کہ… اسے سادام کے زاتی ڈیرے کا پتہ تھا….
وہ دروازہ کھلا دیکھ کر اندر داخل ہو گئ…
جبکہ اندر ہلچل مچی ہوئ تھی.. اسنے حیرت سے سب دیکھا.. پہلی بار ہی اسنے ڈیرے کا اندرونی حصہ دیکھا تھا….
ورنہ باغ میں ہی ملاقات ہوتی تھی… وہ کنفیوز سے اندر ای.. تو عنایت اسے دیکھ کر ایکدم رک گیا….
اور نگاہ جھکا لی جبکہ وہ خود وہیں کھڑی تھی..
اپ باغ میں آ جائیں.. “اسنے نگاہ جھکا کر کہا…
تو زریش سر ہلاتی… باغ میں چلی گئ…
اسے بیس منٹ ہو چکے تھے… انتظار کرتے ہوئے.. مگر سادام نہیں ایا تھا…
نہ جانے وہ اسے کیوں انتظار کرا رہا تھا…
مگر وہ انتظار کر رہی تھی… مزید دس منٹ کے بعد وہ پوری شان سے چلتا ہوا… آیا.. سیاہ لباس میں نکھرا نکھرا.. سا وہ بہت حسین لگ رہا تھا…
زریش اسکو دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ گئ…اسکے انداز بدلے.. بدلے سے تھے…
کیوں آیا ہے تم یہاں “اسنے ترچھی نظر اسکے شاندار حلیے پر ڈالی… تو دل اسکیطرف ہمکنے لگا…
مگر وہ لاپرواہی بنا رہا….
نواب جی”
اسکے بولنے کی دیر تھی…. سادام نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ کر گویا اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا… اسکی آنکھوں میں سخت تاثر تھا….
کہ زریش کا دل.. سہم گیا…
تمھارا…. وجود اس وقت ہمارے دل پر تیزاب کا کام کر رہا ہے تم دوشمنوں کا ہے.. چپ چاپ یہاں سے چلا جائے گا تو.. زندہ رہے گا ورنہ تمھارا بوٹیاں کر کے… تمھارے گاوں میں پھینکا دے گا “سرد لہجے میں وہ بنا لچک کے بولا.. تو زریش کی آنکھیں بھیگ گئیں…
اپ ایسا کیوں کر رہے ہیں..” وہ رو دی…. اور کچھ اسکے نزدیک ہوئ کے وہ دور ہوا….
ابھی ہم تم سے نہیں ملنا چاہتا تمھیں سنائ نہیں دیتا “وہ بھڑکا…
اج رشتے پر آ رہے ہیں… کوئ لوگ” وہ سسکتے ہوئ.. اسکی بے اتنائ کا دکھ بناتی… یہ.. آج ہونے والے… عمل کا…
ہاں تو اچھا ہے.. شادی رچاے… اپنا… “وہ سختی سے بولا… دل میں دھکڑ پکڑ تو ہوئ تھی مگر اس وقت… صرف ولی کی نفرت ہاوی تھی…
زریش اسے حیرت سے دیکھے گئ…
کیا یہ وہی شخص تھا.. جو اس سے مٹھے لہجے کے سوا بات نہیں کرتا تھا..
نواب جی” اسنے حیرانگی کا اظہار کیا.. اور اسکا ہاتھ پکڑنا چاہا.. کہ اسنے… اسے دھکیل دیا خود سے دور….
تم بھی یہ ہی سمھجتا ہے ہم نے کیا وہ سب..” وہ.. خود ہی اسکا ہاتھ جکڑتا سختی سے بولا…
زریش یہ مانتے ہوئے بھی کہ سب اسی کا کیا ہوا ہے… نفی میں سر ہلا گئ…
جھوٹ بولتا ہے” وہ غرایا.. اسکے نزدیک ہوا… اسکے کانپتے لبوں پر.. نظر رک سی گئ…
اسنے پھر نفی کی…. تو… وہ چند لمہے اسے دیکھتا رہا….
دیکھتا رہا اور پھر خود سے پرے دھکیل دیا…
تم جاو یہاں سے… ہمکو تمھارا شکل نہیں دیکھنا.. تم اس نیچ کے گاوں کا ہے” وہ اس سے منہ پھیر گیا….
جبکہ زریش کی سسکیاں سن سکتا تھا…
نواب جی.. محبت.. کرنی تھی… تو انجام ایسا نہ کرتے….
کہ محبت کا بھرم ہی ٹوٹ جاتا… کہ سب کے کیے کی سزا مجھے ملتی…. اگر اجتماعی طور پر محبت نبھانی تھی تو.. اپکو محبت نہیں کرنی چاہیے تھی…” پہلی بار وہ اتنا بولی.. تھی…
سادام اسکیطرف دیکھ نہیں دیکھ رہا تھا مگر… اسکی بات سنی ضرور تھی.. اسکے قدم خود سے دور جاتا بھی دیکھ رہا تھا…
وہ اس سے جدا نہیں ہو سکتا تھا.. یہ تو طے تھا…
مگر اپنے غصے کے سامنے.. بھی بے بس تھا.. اور اب اسے جاتا دیکھ کر… اسکا دل کیا اسے روک لے… بلاوجہ اسکو کیوں سزا دے.. مگر نہیں انا کی اونچی عمارت پر بیٹھا.. وہ اسے زلیل کر رہا تھا… مگر… محبت کا دعوا بھی تھا…
خان “عنایت کی اواز پر وہ چونکا…
جاو عنایت بادشاہ.. چھوڑ او اسے…. اور اسکی دہلیز… پر کوئ مرد نہ چڑھے” اسنے… کہا… تو عنایت.. سر ہلا کر اسکے پیچھے ہوا…
………………
زریش تیز تیز قدم اٹھا کر.. راستہ عبور کر رہی تھی… جبکہ اسکی بڑی بڑی آنکھوں میں بے تحاشا آنسوں تھے کے سون سان سڑک پر… اسکی سسکیاں گونج رہیں تھیں…
کہ اپنے پیچھے گاڑی.. کے ٹائر چرچرانے کی اواز سنی…
بی بی بیٹھ جائیں “عنایت آرام سے بولا….
نہیں بیٹھنا مجھے.. اور آپ.. اپ.. اب میرے پیچھے نہیں آئیں گے” وہ غصے سے چیخی.. عنایت کو حیرت ہوئ.. اس لڑکی میں اگنی آواز تھی کیا…
وہ سیدھی سیدھی چلتی گئ… جبکہ عنایت کو ناچار اسے وہاں تک چھوڑنا پڑا.. جہاں تک اسکی حد تھی جبکہ وہ بھاگ گئ تھی اس سے دور ہونے کے لیے….
…………………
وہ ہال میں داخل ہوا تو.. آج.. جاناں کی کھلکھلاتی آواز سنائی نہیں دی.. محسوس تو بہت ہوا مگر.ایک لفظ بھی کچھ کہے بنا اسنے… ناشتہ شروع کیا جو اسکی ماں نے اسکے لیے لگایا تھا…
ماں سے دشمنی ہونے کے باوجود بھی کھانا اسی سے سرو کراتا تھا
وہ کھانا لگا کر چلی گئیں جبکہ.. سیاہ سوٹ میں نظر لگ جانے کی حد تک اسی خوبصورتی سے نگاہ چرا گئیں…
فضل خان بھی وہیں آ گئے..
جاناں دہی نے ناشتہ نہیں کیا “انھوں نے شمائلہ سے پوچھا تو اسنے سر نفی میں ہلایا…
سادام لاپرواہی بنا ناشتہ کرتا رہا…
یہ ہاد سائیں آیا ہے یہ نہیں” اسنے شمائلہ کیطرف سوالیہ نظروں سے دیکھا..
تو شمائلہ نے اثبات میں سر ہلایا…
اس سے کہو ناشتے پر ائے”
اسنے کہا… تو شمائلہ سر ہلاتی.. چلی گئ جبکہ اسکے پیچھے کھڑی.. چھوٹی سے لڑکی کو سادام نے بس ایک پل کو دیکھا تھا.. شاید وہ.. عنایت کی سب سے چھوٹی بہن تھی…
کیونکہ عنایت کی ماں اور بڑی بہن تو پہلے سے ہی یہاں آتی تھیں مگر… چھوٹی بہن آج پہلی بار ائ تھی…
سادام کے اسطرح دیکھنے پر.. وہ کچن میں چلی گئ…
شمائلہ.. دروازہ بجا بجا کر وپس آ گئ.. مگر ہاد نے دروازہ نہیں کھولا….
وہ جھجھکتی ہوئ دوبارہ کچن میں چلی گئ…
جبکہ سادام کو ہاد پر خوب غصہ آیا..اور اسکی کلاس لینے کا عہد کر کے.. اسنے.. ناشتہ ختم کیا اور اٹھا…
تم نے فیصلہ کر لیا.. تمھارا بہن کے بارے میں اب بدلے گا نہیں “فضل خان جو کہ ناشتہ نہیں کر سکے تھے.. بولے…
فیصلہ ہم نے نہیں اسنے اپنا قسمت میں خود لکھا ہے..” سادام نے ٹکا سا جواب دیا..
تمھارا بہن یے تم جانتا ہے وہ بے قصور ہے پھر بھی اسکا لیے کچھ نہیں کرے گا “وہ زرا غصے میں آئے..
نہیں… ہمارا اعتبار کو ٹھیس پہنچاتا ہے… ہمارا دی ہوئ آزادی کا نا جائز فائدہ اٹھاتا ہے ہم سے جھوٹ بولتا ہے اتنا غلطیوں کا معافی نہیں ہے ہمارے پاس” اسکے سختی سے کہنے پر فضل خان..بے چین ہوئے..
وہ نہیں چاہتے تھے.. کہ سادام پنچائیت کا فیصلہ مان لے. جبکہ اسکی ضدی فطرت سے اندازا ہو رہا تھا.. کہ وہ.. پنچائیت کا فیصلہ مان لے گا…
اس سے پے وہ کچھ بولتے.. سادام.. باہر نکل گیا.. جبکہ.. وہ جاناں کی فکر میں کافی نڈھال لگ رہے تھے…
……………………
آپی… یہاں سب.. گھورتے ہیں ایک دوسرے کو “نور نے شمائلہ کیطرف دیکھا.. تو وہ ہنس دی…
یہاں سب بہت اچھے ہیں.. اور تم نے کون سا یہاں رہنا ہے جو سب کی فکر کر رہی ہو… کچھ دنوں بعد پھر سے تم نے کالج جانا ہے” اسنے کہا.. تو وہ سر ہلا گئ..
اچھا ایک کام کرو… ہاد صاحب کا دروازہ کھٹکاو شاید اب کی باری کھل جائے… اور کھول دیں تو صفائ کر دینا پلیز میری بہن… چھوٹی سی میں زرا جاناں بی بی کو… ناشتہ کرا دوں صبح سے غصے میں ہیں” وہ بولتی ہوئ چلی گئ.. جبکہ… نور سر ہلاتی اوپر آ گئ..
اور ہاد کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا… مگر آواز نہیں ائ اسنے ہینڈل گھمایا تو وہ کھلتا چلا گیا… اور.. کشادہ خوبصورت کمرہ اسکے سامنے تھا…
جسے اسنے بہت اشتیاق سے دیکھا…
مگر… اتنی گندگی.. کہ اسے ابکائ آنے لگی….
جوتے تک بید پر پڑے تھے… ابھی وہ کمرہ ہی دیکھ رہی تھی کہ کمرے کا مالک گنگناتا ہوا… کمرے میں داخل ہوا.. تو نور کی اسکی جانب دیکھ کر چیخ نکل گئ. اسنے فقت ٹاول بندھا ہوا تھا…
نور کا دل بری طرح دھڑکا.. جب کہ ہاد حیرانگی سے.. اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا.. اور سوچ رہا تھا اس میں چیخنے والی کیا بات ہے بھلہ…
نور تو.. کنفیوز سی ناخن کاٹنے لگی جبکہ ہاد نے.. اگلا کام کیے بنا… اسکے پاس جانا ضروری سمھجا..
تم کون ہو.. اور میرے کمرے میں آ کر چیخے کیوں مار رہی ہو “وہ زرا سختی سے بولا…
وہ اپ نے کپڑے کیوں نہیں پہنے” نور… کو بولتے ہوئے بھی شرمندگی ہوئ..
کیونکہ یہ میرا کمرہ ہے…. اور میری مرضی پہنو یہ نہ پہنو.. تم کون ہو بھلا “ہاد نے جان بوجھ کر اسکا رخ اپنی طرف موڑا جبکہ نور بدق کر دور ہوئ…
ہاد کو ہنسی ائ.. لڑکی انڑسٹینگ تھی آج تک ایسی کوئ لڑکی نہیں ملی تھی جو اس سے بھاگے…
آنکھیں کھولو” اسنے گویا حکم کیا..
نہیں “نور نے.. نفی کی اور.. راستہ ٹٹولتی باہر بھاگنے کو ہوئ..
روکو “
نور” شمائلہ کی اواز پر… وہ ایکدم پیچھے لے گیا…
نور کہاں ہو “وہ بولی…
نور نے آنکھیں کھولیں.. وہ بھی ویسے ہی ڈھٹائ سے کھڑا تھا بے شرم…
آپی” نور کے منہ سے ادا ہوا.. تو.. ہاد
. اس سے.. چھ قدم دور ہوا..
تم شمائلہ کی بہن ہو.. وہ جو حویلی کی نوکرانی ہے” ہاد.. حیرت سے پوچھ رہا تھا.. کیونکہ اسنے شمائلہ کو بھی دیکھا تھا.. جبکہ نور اپنے نام کیطرح نورانی تھی..
اسکا انداز اتنا حقیر تھا کہ نور کا غصے سے چہرہ سرخ ہونے لگا..
جی ہاں میں نوکرانی کی بہن ہوں.. اور میری آپی.. اپنی محنت کا کھاتی ہیں” اسنے کہا..
جبکہ ہاد ہنس دیا.
تم میڈل کلاس.. بلکہ لور کلاس کا بھی اپنا ہی دماغ ہے… اپنی حیثیت.. کے اثر کو.. ان بکواس باتوں میں.. دبا کر.. چھپانا چاہتے ہو” وہ.. اسکا مزاق اڑاتا ہنس کر. دور ہو گیا. وہ میڈ تھی اسکی. وہ اسپر غصہ کر سکتا تھا. چیخ سکتا تھا… اسے مار سکتا تھا.. مگر اس کے ساتھ ہنس کر بات نہیں کر سکتا تھا….
نور.. کو اسکے رویے کا بے شمار افسوس ہو ا…..
اور.. نفرت بھی محسوس ہوئ..
کم از کم ہم آپ جیسے.. ایک دوسرے کو. نوچنے والے نہیں ہوتے… چھوٹے لوگ ہیں.. چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش ہیں… آپ لوگوں کیطرح نہیں…. بڑی بڑی خوشیوں پر بھی.. بڑی بڑی ناشکری کرنے والے”وہ نخوت سے کہتی باہر نکل گئ جبکہ ہاد.. نے نفرت سے منہ پھیر لیا..
نوکروں کو منہ لگانا اسکی طبعیت کا حصہ نہیں تھا…
مگر وہ لڑکی زیادہ بول گی تھی…
………………
ولی بیٹا… تم ایسا مت کرو” اماں نے اسکو روکا.. تو وہ ہنس دیا..
میری بھولی ماں.. زندگی کا مزہ تو اب آ رہا یے.. یہ شوگن کے ٹوکرے دیکھ کر.. سادام خان کا خون جل کر راخ ہو جائے گا…
اور مجھے جتنا سکون ملے گا اپکو نہیں پتہ”
وہ انھیں تفصیل دیتا ہنسا.. آج کل تو بہت خوش رہنے لگا تھا…
اپنے بھائ کو بھی ناراض کیا ہوا یے تم نے جانتے بھی ہو اسکے معاملے کو پھر بھی تم نے اسے کتنا غلط کہا” انھوں نے کہا.. تو ولی نے انکی طرف دیکھا..
وہ بلاوجہ میرے معاملے میں پاوں پھنستا ہے اسے دشمنی نبھانی نہیں آتی….” اسنے شانے اچکا کر کہا.. اور ان ٹوکروں پر سرخ گلابوں کا گلدستہ رکھ کر.. اسنے ایک پل کو سوچا یہ سب دیکھ کر سادام کا منہ کاش وہ خود دیکھ پاتا…
مگر افسوس مگر وقت قریب تھا.. دل کو خوش کر کے اسنے وہ شگن کی مٹھائ.. ہیرے کی انگوٹھی… سونے کی تاروں میں جڑا… سفید لباس… اور پھل وغیرہ سادام کی جانب بھیجوا.. دیے.. ملازم جب لے گئے تو وہ سکون سے بیٹھ گیا..
اگر تم اتنا ہی خوش ہو تو یہ شگن کی مٹھائ مجھے لے کے جانی چاہیے تھی”اماں نے کہا.. تو وہ سنجیدگی سے انھیں دیکھنے لگا…
کوئ دلی خوشی نہیں ہو رہی نہ ہی.. اس لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوں جو اپکو بھیجتا… یہ تو سادام کی پونچ ہر پاوں رکھنا تھا اسی لیے بھیجا….” وہ ہنسا مونچھوں کو تاو دینے لگا…
ولی.. اللہ سے ڈرو مت تکلیف دو اس لڑکی پر کیا گزرے گی”
بس اماں”ولی چیڑا….
آپ.. زیادہ نہ سوچیں” اسنے لاپرواہی سے کہا.. اور اصطبل کیطرف نکل گیا…
اپنے گھوڑے کو دیکھ کر.. اسکی تصویر اپنے گھوڑے کے ساتھ یاد ائ….
اور دل و دماغ میں انتقامی شعلے سے بھر گئے
جاری ہے