Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 34
ہاں فیروز خان۔ تمھارا چھوٹا بھائ کا شادی ہے تم نے غیروں کا مانند انا ہے “سادام نے کہا ۔۔ تو فیروز نے نفرت سے دانت پیسے ۔۔
عنایت اسے بلاوا دے گیا تھا جس پر اسنے کہا ۔۔ کہ وہ بارات میں شامل ہو گا اسکے علاوہ ۔۔ ضروری کام کی وجہ سے معافی چاہتا ہے۔
کچھ نہیں ہوتا سادام ۔۔ میں
تم آئے گا فیروز خان ۔۔ تمکو آنا پڑے گا ۔۔ ہم تمھارا انتظار کرے گا “دو ٹوک بات کر کے اسنے فون بند کیا اور دور اچھال دیا ۔۔۔
اوہ ہ ہ ہ ہ لالا یار آپ کمال ہو “ہاد کے مسکے شروع ہونے لگے تھے ۔۔
سادام نے اسکا خوشی سے دمکتا چہرہ دیکھا اور خود بھی دل سے خوش ہوا ۔۔۔۔
تم کو اس سے پہلے تو ہم پر اتنا پیار نہیں آیا “وہ بولا ۔۔ سیگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑا ۔۔
اس سے پہلے آپ نےا یسا کمال دیکھایا بھی نہیں”اسنے دانت نکالے اور اس سے پہلے سادام کی چپل اسکا منہ توڑتی وہ شھاب کے پاس جا کر بیٹھا جو اپنا پسندیدہ شغل فرما رہا تھا ساتھ مسکرا بھی رہا تھا ۔۔۔
لالا آپ بھی کر لیں اب شادی “ہاد نے کہا ۔۔۔ سادام نے سنجیدگی سے شھاب کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو مدھم سا مسکرایا تھا ۔۔۔
اس سے پہلے دونوں میں سے کوئ جواب دیتا ۔۔ عنایت دوڑتا ہوا آیا تھا ۔۔
خان ۔۔ وہ جاناں بی بی”وہ جھجھک گیا ۔۔۔
سادام فورا جگہ چھوڑ کر اٹھا بلکہ تینوں ہی ۔۔۔
اور حویلی کیطرف دوڑے ۔۔۔
جہاں جاناں درد سے کراہ رہی تھی ۔۔
زریش مورے سمیت ملازم بھی اسکے پاس تھے ۔۔۔
گاڑی نکالوں عنایت”سادام نے کہا ۔۔ عنایت نے فورا گاڑی نکالی ۔۔۔ اور سادام نے جاناں۔ کو احتیاط سے بازوں میں اٹھایا ۔۔۔ اور گاڑی ہسپتال کی جانب چل دی ۔۔
اللہ خیر اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا ۔۔۔ “وہ آنسو صاف کرتیں ۔۔ خدا سے دعا گوں تھیں ۔۔ تبھی عنایت دوبارہ اندرایا ۔۔۔
خان کا حکم ہے اپکو ہسپتال لے کر آؤ “عنایت بولا ۔۔ تو وہ وہیں تھم گئیں ۔۔
پیچھلے کتنے سالوں سے وہ اس حویلی کی قید میں تھیں ۔۔۔ باغ میں بھی جانے کی انھیں اجازت نہیں تھی اور آج اچانک یہ مہربانی ۔۔۔
انکے آنسوں میں روانگی ا۔ گئ ۔۔۔
میں بھی چلوں آنٹی”زریش نے انھیں روتے دیکھا تو انکا ہاتھ پکڑا ۔۔۔
ہمم “انھوں نے کہا ۔۔ تو دونوں عنایت کے ساتھ ہپستال کے لیے نکل گئ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ گھنٹوں کے تکلیف دہ انتظار کے بعد ۔۔ جاناں نے خوبصورت سی بیٹی کو جنم دیا ۔۔ تھا جو اتنی پیاری تھی کہ زریش اسے گود سے اتارنے کو تیار نہیں تھی کجا کے وہ کسی کو دیکھنے بھی دیتی ۔۔۔
تمھارا اوور پن ختم ہو گیا ۔۔ تو کسی اور کو بھی دیکھنے دے”سادام نے جھڑکا تو وہ منہ بناتی ۔۔۔ مورے کے ہاتھ میں دے گئ ۔۔۔
انھوں نے اسکی بلائیں لیں ۔۔۔
جاناں کو بھی ہوش آ گیا تھا ۔۔۔
مگر وہ خاموش تھی سنجیدہ ۔۔۔ نہ ہی اسنے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا ۔۔۔ جس پر سب فدا ہو رہے تھے ۔۔۔
سادام نے اسپر سے لاکھوں وار دیے تھے اب ۔۔ عنایت نے پورے ہسپیٹل میں مٹھایاں بانٹیں تھیں ۔۔۔
شھاب ہاد سب نے بچی کو دیکھا ۔۔ خوب پیار کیا ۔۔
عنایت اندر آیا ۔۔ تو جھجھک کر دور کھڑا ہو گیا ۔۔۔
کیوں عنایت بادشاہ کنگلا ہے کیا تم”سادام نے خوبصورتی سے اسکی ٹانگ کھینچی ۔۔
نہیں ۔۔ خان”وہ سمجھتا ہوا ۔۔ بچی کیطرف بڑھا ۔۔۔
مورے نے اسکے ہاتھ میں بچی پکڑائی ۔۔
ہمارا دشمن جیسا شکل ہے بلکل”سادام بولا ۔۔۔ جبکہ سب ہنس پڑے ۔۔۔
اور عنایت کے بعد ایک بار پھر زریش نے بچی کو بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔
جاناں سائیں”سادام نے جاناں کو پکارا۔۔ جس نے نم نظروں سے ۔۔ اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
ہم اطلاع کر چکا ہے ۔۔ وہاں وہ لوگ آ جائے گا “اسنے اسکی آنکھوں کی نمی صاف کی ۔۔ دل تو کیا ولی کی گردن توڑ دے ۔۔
ن۔۔نہیں ۔۔ میں اس آدمی کو ۔ن نہیں دیکھنا چاہتی ۔”جاناں نے آنسو صاف کر کے اپنے ہی دل کی نفی کی ۔۔ سادام نے جھک کر اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔ اور زریش کو گھور کر اس سے بچی لے کر جاناں کی گود میں دی جس کو دیکھ کر جاناں کو رونا ا گیا ۔۔۔
یہ بہت پیاری ہے ۔۔۔”وہ بے ساختہ بولی ۔۔۔
سب مسکرا دیے ۔۔ تبھی دروازہ بجا ۔۔۔ شھریار آئزہ ۔۔۔
اور رقیہ بیگم اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔
اور جیسے بچی دیکھ کر ۔۔۔ جان لٹانے کے در پر تھے ۔۔۔
سادام باہر نکل گیا ۔۔۔
جبکہ عنایت اور ہاد بھی سادام کے نکلتے ہی ۔۔ زریش نےا یک بار پھر چپکے سے بچی کو گود میں بھر لیا ۔۔۔
جبکہ جاناں دنوں بعد اسکی اس حرکت پر مسکرائ تھی دل تو اس ے بدزن ہو گیا تھا مگر آج وہ مسکرا دی تھی ۔۔۔۔
آئزہ اور زریش کی لڑائ ہو چکی تھی دونوں ہی بچی کو گود میں لینے کے لیے بچوں کیطرح لڑ رہیں تھیں ۔۔۔
شھریار مسکرا کر جاناں کے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر نکلا ۔۔ اور سادام کے نزدیک آیا ۔۔
مبارک ہو “اسنے کہا ۔۔ تو سادام نےا سکی جانب دیکھا ۔۔۔
تمھارا بھائ مر۔ مرا تو نہیں گیا”اسنے اپنی مرضی کی بات پوچھی ۔۔
شھریار نے مسکراہٹ روکی ۔۔
اسے نہیں پتہ “شھریار نے بتایا ۔۔۔
کس لیے”سادام نے تیوری چڑھائی ۔۔۔
یہ اسکی سزا ہے”شھریار نے کہا تو سادام ۔۔۔ کو دلی تسکین ہوئ ۔۔
گڈ یعنی تم کام کا آدمی ہے”وہ مسکرایا ۔۔ اور شھریار کا بڑھا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
توبہ ہے ۔۔ یار اسکی اولاد ہوئ ہے اسے ہی نہیں پتہ”شھاب ۔۔ نے حیرت کا اظہار کیا ۔۔۔
دیکھتے ہیں کب پتہ چلتا ہے ۔۔ اس کو ‘شھریار نے شانے اچکائے ۔۔۔
ہممم گھامڑ آدمی”سادام نے ناگواری سے کہا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرکار”صادق ڈیرے پر بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔
کیا موت آ گئ ہے”ولی چیڑ کر بولا ۔۔۔۔
رات کا آخری پھیر تھا دن نکلنے کو بے تاب تھا ۔۔ وہ جاگ رہا تھا جاناں اسکی نیندیں جو چرا لے گئ تھی اپنے ساتھ ۔۔۔۔
سرکار آپکے ب۔۔بیٹی ہوی ہے”صادق نے سر جھکا کر بتایا ۔۔
ولی کی آنکھیں پھیلیں ۔۔۔ وہ ایکدم اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔
بکواس ۔۔ کر رہے ہو”پہلی بار وہ اٹکا تھا ۔۔
جی نہیں سرکار یہ سچ ہے”اسنے یقین دلانا چاہا ۔۔
یہ سادام فضل خان پھر موت کی گھاٹ پر اترے گا “وہ غصے سے دھاڑا ۔۔۔ اور باہر کی جانب دوڑا ۔۔۔۔
یعنی اسی کا بچہ اور کسی نے اسے اطلاع نہیں دی ۔۔۔
حویلی والے بھی جانتے ہیں سرکار”صادق کے ایک ا ور انکشاف پر وہ بری طرح تلملایا ۔۔
لکھ لو صادق یہ سب میرے دشمن ہیں ۔۔۔”وہ جل بھن ہی گیا ۔۔۔
صادق نے بھی سر ہلایا ۔۔۔
اور ولی نے شھریار کو کال ملائ ۔۔۔
وہ سب جو ہسپتال میں ہی تھے ۔۔۔۔ ساری رات سے ۔۔ اس فون کا انتظار کر رہے تھے توپہلی بیل پر سادام فضل خان کے سینے میں پڑتی ٹھنڈک کا کوئ اندازا نہیں لگا سکتا تھا ۔۔۔
شھریار ۔۔ تمھیں الٹا نہ لٹکا دیا تو چوہدری ولی نہیں”وہ دھاڑا ۔۔
شھریار کا قہقہہ ابھرا ۔۔۔۔
آجاؤ پھر”اسنے اڈریس بتایا ۔۔اور فون بند کیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہسپتل پھنچا تو بنا وہاں کسی کو دیکھے وہ روم نمبر معلوم کرتا ۔۔ جاناں کی جانب دوڑا تھا ۔۔ سادام کو اسکی یہ عجلت اچھی لگی۔۔
جبکہ ولی ۔۔ وہاں پہنچا اور کمرے میں اپنی بیوی کے گرد خواتین کو دیکھ کر وہیں رک گیا ۔۔۔
سب اسکو دیکھ کر باہر نکل گئیں جبکہ جاناں نے رخ موڑ لیا ۔۔
خالی کمرہ دیکھ کر ولی اندر داخل ہوا ۔۔۔
اور ایک طرف کوٹ میں لیٹی اپنی بیٹی کیطرف بڑھا ۔۔ اس وقت اسکے جزبات کیا تھے ۔۔ وہ سمھجہ نہیں پایا ۔۔۔۔
آنکھوں کے گوشے اپنے آپ ہی بھیگے تھے جسے وہ چھپا گیا ۔۔ خیر کسی کو دیکھانا منظور نہیں تھا ۔۔
جو دوسروں کی بیٹی پر ظلم کرتے ہیں اللہ انھیں بھی بیٹی ہی دیتا ہے”جاناں کی آواز پر اسنے جاناں کیطرف دیکھا ۔۔۔
بچی کو کوٹ میں لیٹایا ۔۔
اگر یہ سزا ہے تو مجھے منظور ہے”ولی نے شانے اچکائے ۔۔۔
اور اسکے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
جاناں اسکی نظروں سے پہلے روز کیطرح کنفیوز ہو گئ ۔۔۔
اور اچانک ولی جھکا اور جزبات سے اسکی پیشانی چوم لی ۔۔۔۔
شکریہ”جاناں کو اس طرزعمل کی بلکل امید نہیں تھی وہ حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
خیر ایسے بھی نہ دیکھو اب ۔۔۔ اتنا بھی ظلم نہیں کیا کہ میری نرمی پر تمھاری آنکھیں ابل آئیں”وہ خفیف سا ہوتا اسکو گھور کر بولا ۔۔۔
جو آپ نے میرے ساتھ کیا ہے وہ بھلانے لائق نہیں ہے”جاناں کو سب یاد آیا ۔۔۔
وہ سب گزر چکا ہے”ولی نے بات پلٹی ۔۔
وہ کبھی نہیں گزرے گا”جاناں نے حتمی لہجے میں کہا ۔۔۔
آج کے بعد ایسا نہیں ہو گا”بمشکل اپنی انا کو کچل کر اسنے آہستگی سے یہ الفاظ کہے تھے ۔۔۔۔
مجھے یقین نہیں ۔۔۔”جاناں نے نفی کی ۔۔
تم میرے ساتھ حویلی چلو گی ۔۔۔”ولی سے مزید برداشت نہیں ہوا ۔۔۔
میں کہیں نہیں جاؤ گی اپنے باپ کے گھر رہو گی ۔۔ جہاں نہ ہی مجھے مارا جاتا ہے اور نہ زلیل کیا جاتا ہے ۔۔۔ “اسنے کہا ۔۔ اور اس سے رخ موڑ لیا ۔۔
جاناں مجھے سختی پر مت اکساو”ولی نے ضبط سے کہا ۔۔
ولی آپ مجھ پر سختی کر لیں ۔۔۔ اگر اور بھی رہ گئ ہے تو”اسنے کہا ۔۔۔ تو ولی نے بنا لحاظ کے اسے اپنی جانب کھینچا ۔۔
جاناں کی آہ نکلی ۔۔
اور ولی اسکی سانسوں کی ڈور کو مدھم کر گیا ۔۔۔
اتنی بے رخی نہ اپناؤ ۔۔۔ میں چونچلے اٹھانے والا انسان بلکل نہیں ہوں”وہ اسکے آنسو۔ صاف کرتا بولا ۔۔۔۔
مجھ سے دور رہیں آپ”جاناں نے اسکے ڈیمپل سے نگاہ چرائ۔۔۔۔۔
نہ رہا جائے تو کیا کروں”وہ اسکے بکھرے بال سنوارتا بولا۔
جاناں اسکی قربت میں گھبرا اٹھی ۔۔۔
جھوٹ بولتے ۔۔بولتے ہیں آپ”اسکی انگلیوں کی حرکت چہرے پر محسوس کر کے وہ ۔۔۔ بھکلائ تھی ۔۔۔
چلو جھوٹ ہی سہی ۔۔۔
لاکھ دل کے پٹخنے کے باوجود بھی وہ اپنی محبت اپنی بے چینی کا اظہار نہیں کر سکا ۔۔۔۔
جاناں نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
ایسے نہ مجھے تم دیکھو ۔۔۔ سینے سے لگا لو۔۔۔۔
آپ کو شرم نہیں آتی”اسکی مسکراہٹ پر وہ حیران ہوتی بولی ۔۔۔
کس بات کی شرم اتنا حسین خوبصورت تحفہ کیسے ملتا اگر میں شرم میں رہتا تو “
وہ بے باکی سے بولا ۔۔
جاناں نے چہرہ موڑ لیا ۔۔۔۔
بھولیں مت آپ نے مجھے تھپڑ مارا تھا غصے میں اپکو کہاں کچھ یاد رہتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کچھ کر رہیں ہیں”وہ نم نگاہوں سے اسے دیکھتی بولی ۔۔۔
بیوی ہو تم میری اگر شوہر کی زرا سی سختی برداشت کر لو گی تو کیا ہو جائے گا”وہ عام سے لہجے میں بولا ۔۔
انا ٹوٹنے کو بے تاب تھی ۔۔۔ اسے بانہوں میں بھرنے کو بے تاب تھی مگر وہ نگاہ چرا کر ۔۔ بیٹی کے پاس چلا گیا ۔۔۔ جبکہ جاناں کا دل اس بری طرح بھرا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔
کوئ آدمی اتنا سخت کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ وہ سمھجہ نہیں سکی ۔۔ اسے کسی بات پر احساس نہیں ہو تا ترس بھی نہیں آتا ۔۔ ہمدردی بھی نہیں ہوتی ۔۔۔
اپکو کبھی مجھ پر ترس نہیں آیا “وہ بستر کی چادر سختی سے مٹھیوں میں جکڑتی ۔۔۔ چلائ ۔۔۔
ولی حیران نظروں سے اسکو سسکتا دیکھنے لگا ۔۔۔
اور دوبارہ اپنی بیٹی کو لیٹا کر ۔۔ وہ اس تک پہنچا اور جاناں کو سینے میں بھینچ لیا ۔۔۔
کیا چاہتی ہو “وہ نرمی سے بولا ۔۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔ کچھ بھی نہیں”جاناں اسکو دور ہٹاتی ۔۔ سوں سوں کرنے لگی ۔۔۔
مجھے موت پڑتی ہے تم سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے”بنا اسے دیکھے وہ بلکل مدھم آواز میں بولا ۔۔ اگر جاناں توجہ نہ دیتی تو وہ سن بھی نہ پاتی ۔۔۔
وہ ایکدم رکی تھی ۔۔۔۔
ولی نے کچھ لمہوں بعد اسکوا حونق چہرہ دیکھا۔ ۔۔
اور نرمی سے اسکو چھو لیا ۔۔۔ جاناں اتنا حیران تھی کوئ ریسپوںس بھی نہ دے سکی جبکہ ولی نے اسکے سارے آنسوں چن لیے ۔۔۔۔
اور وہاں سے اٹھ کر وہ پھر اپنی بیٹی کے پاس تھا ۔۔۔
نام کیا سوچا”ولی نے نارملی پوچھا ۔۔
اپکو کیا لگتا ہے ۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا آپکے اس جھوٹ سے “جاناں نے تیوری چڑھائی ۔۔۔
نہ مانو ۔۔۔”ولی نے بھی سنجیدگی سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
جاناں نگاہ جھکا گئ۔ ۔ ۔
ولی کو اندازا نہیں تھا پہلے وہ ہارے گا ۔۔ اسے جاناں کا اس طرح کہنا بھی اچھا نہیں لگا ۔۔ تبھی خاموش رہا ۔۔۔
اور رفتہ رفتہ سب دروازبجا کر اندر آ گئے ۔۔۔
سوائے سادام کے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی کے کہنے کے باوجود بھی جاناں اسکے ساتھ نہیں گئ ۔۔ تھی جس پر سادام کو تو کافی خوشی تھی مگر ولی تلملا رہا تھا ۔ ۔
جاناں کی واپسی پر سب بہت خوش تھے فضل خان نے تو جشن کا علان کیا جسے سادام نے روکا کیونکہ وہ صرف فلحال ہاد کی شادی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
دوسری طرف ہاد بے حد خوش مسرور سا پھیر رہا تھا ۔۔۔۔
اور زریش کی جب سے دوبارہ جاناں سے بات چیت ہوئ تھی تب سے ۔۔ وہ جاناں کے کمرے میں بیبی کے پاس ہی پائ جاتی۔
سادام نے بھی توجہ نہیں دی ۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو اسکی ماں نے کھانا لگا دیا تھا وہ خود آج کل بہت خوش رہنے لگیں تھیں ۔۔۔
بھلے وہ ایک بات کا بھی جواب نہیں دیتا تھا مگر ۔۔پھر بھی اسکا انداز پہلے جیسا نہیں تھا ۔۔
ہاں عنایت شادی یہیں حویلی میں ہو گا ۔۔ دونوں گاؤں کی شمولیت ہو گی ۔۔ اور سب کی شمولیت ہونی چاہیے کوئ ایک بھی نہ رہ جائے”اسنے یاد دہانی کرائ تو عنایت نے سمھجتے ہوئے سر ہلایا ۔۔۔
تبھی سادام کا فون بجا ۔۔۔
یس سادام فضل خان سپیکنگ “اسنے کہا ۔۔۔
تو دوسری طرف کی آواز سن کر وہ زر سا مسکرایا ۔۔۔
یس میم تم کو کوئ تنگی تو نہیں”وہ بولا ۔۔
زریش جو باہر ہی آ رہی تھی اسکے کان کھڑے ہوئے ۔۔ اسنے جھک کر کان لگائے ۔ ۔
اوہ ۔۔ہمارا آنا تو تھوڑا ۔شکل ہے تم ۔۔۔ آ جائے یہاں ۔۔ “اسنے کہا ۔۔۔
زریش کو غصہ آنے لگا۔ کون تھی یہ جس کو وہ میم کہہ رہا تھا ۔۔۔
اتنی خوش اخلاقی سے یہاں آنے کی دعوت دے رہا تھا۔
اوکے تمکو عنایت لے لے گا “اسنے کہا ۔۔ اور فون بند کر کے خاموشی سے کھانا کھایا ۔۔۔
اسکو فریش ہونا تھا ۔ تبھی عجلت میں اپنے کمرے میں آیا ۔۔ زریش کو پا کر اسنے تیوری چڑھائی ۔۔۔
یہ لیں آپکے کپڑے”زریش جلدی سے لباس اسکے سامنے لے آئ۔
تمھارا ہاتھوں کو زحمت ہی ہو رہا ہے “اسنے کپڑے کھینچتے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔
زریش نے گھور کر دیکھا ۔۔۔
تم اپنا مزاج نہ زمین پر لے کر آئے ۔۔ ہم بھولا نہیں ہے جو کچھ تم نے کیا ہے”وہ اسکا منہ جکڑتے بولا ۔۔
میں بھی نہیں بھولی ۔۔ “زریش منمنائ ۔۔
ہاں تمھیں کون سا یقین آیا ہے کہ ہم نے تمھارے ماں باپ کو نہیں مارا”وہ کپڑے پھینکتا بولا ۔۔۔
میں اپکو معاف کرتی ۔۔۔۔
چٹاخ ۔۔۔ “لفظ پورے ہونے سے پہلے ہی تلملاتا ہوا تھپڑ زریش کے منہ پر پڑا جس سے وہ دور جا گیری ۔۔۔
مگر سادام خان نے اسکو گریبان سے پکڑ کر سختی سے اس طرح جکڑ کے وہ زمین سے دو انچ اوپر ہو چکی تھی ۔۔۔
تمھارا جرت ۔۔ تمھارا جرت کیسا ہوا تم ۔۔تم ہمیں معاف کرے گا ۔۔ہمیں”وہ دھاڑا ۔۔ زریش کے رنگ فق ہوئے ۔۔
تم ہمہں معاف کرے گا “وہ اسکی گردن سختی سے دباتا چلایا ۔۔۔
میں ۔۔ نو۔ نواب جی”زریش کو سانس لینے میں دقت ہونے لگی چہرہ اسکی انگلیوں کے نشان سے سرخ ہو گیا ۔۔
آنسو لگاتار بہنے لگے۔۔۔۔
تمھارا اوقات ہماری محبت بڑھا رہا ہے صرف ورنہ کس میں جرت ہمارا سامنے اس طرح بولے ۔۔۔۔”وہ چلایا اور اسے دور جھٹکا ۔۔۔۔
زریش زمین پر گیری اور بری طرح رو دی ۔۔۔
مسلہ سارا یہ ہے ہم تم پر مرتا ہے مگر تم ۔۔۔ تم ایک دو ٹکے کا لڑکی ہے جس کو اپنا زندگی میں شامل کر کے ہم پچھتا رہا ہے سرا سر “وہ اسکے چہرے پر جھکتا پھنکارہ ۔۔۔
زریش اس سے بری طرح خوف زدہ ہو چکی تھی ۔۔۔
جبکہ سادام کو شدید تکلیف ہوئ تھی ۔۔۔
محبت کرنے والے محبوب کی نگاہ کے اتار چڑھاؤ کو جان لیتے ہیں ۔۔۔ اور یہ لڑکی ۔۔۔۔ اسنے مٹھیاں بھینچی اور ۔۔۔ واشروم میں چلا گیا ۔۔۔ جبکہ زریش وہیں سسکتی رہی گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دن گزرے اور فنگشنز کی ابتدا ہو گئ ۔۔۔ بیلا کو تو گویا سانپ سونگھ گیا تھا وہ بری طرح سہمی ہوئی تھی جبکہ ہاد نے سب سے پہلے نکاح کی تقریب رکھوائ تھی ۔۔۔
جاناں کی طبعیت بھی اب سمبھل گئ تھی مگر بچہ سمبھالنا اسکے لیے کافی مشکل عمل تھا ۔۔۔
ولی تین دن سے نہیں آیا تھا جبکہ ولی کے بہن اسکی خدمت کر کے حق ادا کر رہی تھی ۔۔
دل کی عداوت بھی نکل گئ تھی اور جاناں اسس ے پہلے جیسی ہو گئ تھی ۔۔۔
زریش اور سادام کی اس دن کے بعد ایک دوسرے سے بات نہیں ہوئ۔ ۔۔۔
سادام اسکی شکل بھی دیکھنے کا روادار نہیں تھا جبکہ ۔۔ گھر میں ایک اور فرد کا اضافہ وہ گیا تھا اور وہ وہی انگریزی تھی جو یہاں آ کر سادام کے آگے پیچھے پھیر رہی تھی ۔۔۔
سادام نے بھی جیسے قسم کھا لی تھی اسکی ہر بات ماننے کی ۔۔۔
سادام کے ساتھ ساتھ شھاب کا فلرٹ بھی عروج پر تھا ۔۔۔۔
جبکہ ہاد کو تو ہفتے قلیم کی دولت مل گئ تھی ۔۔۔
فیروز آج نکاح کی تقریب میں با مجبوری آیا تھا ۔۔۔۔
حالانکہ اسکا دادہ نہیں تھا ۔۔ سادام اس سے اسی طرح ملا ۔۔۔ جبکہ اسی طرح اسکی س حویلی میں کوئ اوقات نہیں تھی ۔۔۔ جس سے اسکے اندر غضب کی آگ مزید ہلکورے لینے لگی ۔۔۔۔
اور نکاح کے فنکشن کو تباہ کرنے کی وہ ٹھان چکا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
