Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
اگر کوئ کہتا ۔۔۔ حویلی کو چاند کی طرح سجا دیا تھا تو غلط نہیں تھا سادام نے حویلی کا ایک ایک حصہ ستاروں سے جیسے سجا دیا تھا حویلی میں مہمانوں کی چہل پہل آمدورفت بڑھ گئ تھی ۔۔۔
آج نکاح کا فنکشن تھا جس پر سادام نے تو نہیں البتہ ہاد نے فضل خان کے ساتھ جا کر ولی اور انکے تمام گھر والوں کو دعوت دی تھی ۔۔۔۔
سفید پھولوں سے سجی حویلی بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ ۔۔
فیروز خان ہال میں لگے مزید پھولوں کو دیکھتے ہوئے اپنے خاص ملازم کو اشارہ کر چکا تھا ۔۔۔
جس نے اتنی خوبصورتی سے سجے پھولوں کی لڑی کا وہ سیرا پکڑا ہوا تھا جس کے بس ایک بار کھینچنے سے ہی پورا کا پورا ہال برباد ہو جاتا ۔۔۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ یہ کرتا اندر سادام داخل ہوا اور فیروز اندر تک جل گیا جب اسنے اپنے ملازم کو سادام کے خوف سے بھاگتے دیکھا ۔۔۔
سادام اسکیطرف بڑھا ۔۔۔
تو تم۔ آ گیا خیر اچھا کیا “اسنےا سکے شانے تھپتھپائے ۔۔۔
تم نے ولی کو کیوں بلایا ہے”فیروز نے نہ محسوس طریقے سے اپنے شانے سے اسکا ہاتھ ہٹایا ۔۔۔
ہمارا جاناں کا آدمی ہے وہ”سادام نے شانے اچکائے ۔۔۔
ہممم تو غیرت سو گئ تمھاری”فیروز نے طنز کیا ۔۔۔
سادام بھڑکنے کے بجائے مسکرا دیا ۔۔۔۔
جاگ تو ہم اب گیا ہے ۔۔۔۔ سو تو پہلے رہا تھا اور ویسے بھی ۔۔۔ دشمن سے ہاتھ ملانے میں بہتری ہے تم تو یہ ہی درس دیتا تھا”ملازم نے اسکے سامنے پانی پیش کیا جسے پیتے ہوئے وہ سکون سے بولا ۔۔
ہمم اچھی بات ہے”دانت پیس کر فیروز بس اتنا بولا ۔۔ اور جانے لگا ۔۔
کہاں جاتا ہے ۔۔ بیٹھو کچھ گپ لگائے”اسنے کہا تو فیروز نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
نہیں مجھے ڈیرے پر جانا ہے وہاں بھی معملات ہیں دیکھنے ہیں”اسنے کہا ۔۔۔
خیر تمھارا پاس معملات تو کوئ نہیں ۔۔ مگر کچھ نہیں ہوتا ۔۔ جاؤ “وہ مسکرا کر ۔۔بولا فیروز اسے مزید برداشت کیے بنا وہاں سے چلا گیا ۔۔
ویسے بھی اپنا گھر آخری بار دیکھے گا اب تم”سوچتے ہوئے ۔۔۔ اسکے دماغ کی رگیں تنی تھیں ۔۔۔
ابھی وہ باہر ہی دیکھ رہا تھا تبھی ہاد اپنے کمرے سے نکلا وہ بلکل تیار تھا سادام نے اپنی گھڑی میں وقت دیکھا ۔۔۔
فنکشن باہر شروع تو ہو چکا تھا مگر پھر بھی وہ اسکو جلدی مانتا تھا ۔۔۔
لالا آپ تیار نہیں ہوئے”وہ اسکے آپس آیا ۔۔ شھاب بھی تیار ہو چکا تھا ۔۔ جبکہ عنایت بھی ۔۔۔
نہیں تمھارا اندر آگ لگا ہے ہم کو اتنا جلدی کسی کام کا نہیں ہوتا”سادام نے طنز کیا تو وہ خفیف سا ہو گیا ۔۔
خیر جھوٹ بھی بندہ اتنا بولے جو دوسرا ہضم کر لے”شھاب نے گھورا کیونکہ وہ غوری ۔۔۔ سادام پر مرتی تھی اور شھاب باؤ کی توجہ اس گوری پر نہ چاہتے ہوئے بھی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔
تمھارا اندر کا جیلسی ۔۔۔ ہم جانتا ہے “سادام نے دانت نکالے جبکہ شھاب نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔۔
اور تبھی وہاں ان سب کے بقول وہ انگریزنی آئ ۔۔
ہے سادام آج تم کیا پہننے والے ہو “اسنے مسکراتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔
کیوں تم نے اسکے جیسا مردانہ لباس پہنا ہے “شھاب جل کر بولا ۔۔
مگر massy ۔مسکراتی رہی ۔۔
آپکے پاس عقل کم ہے میں ڈریس کلر پوچھ رہی ہوں”اسنے ٹکا سا جواب دیا جس پر سادام کا سب سے اونچا قہقہ نکلا تھا ۔۔۔
وائٹ”اسنے جان بوجھ کر شھاب کو جلانے کے لیے بتایا اور ایکسکیوز کرتا اوپر ا گیا ۔۔۔
زریش بھی روم سے باہر ہی کھڑی تھی اور یقیناً وہ انکی باتیں سن چکی تھی مگر سادام نے توجہ دیے بنا ۔۔۔ اپنے روم میں قدم رکھا ۔۔۔
زریش بھی اسکے پیچھے ہی کمرے میں آئ ۔۔۔ اور سامان اٹھا اٹھا کر پٹخنے لگی جبکہ سادام نے اس بات کا بھی کوئ رویسپونس نہیں لیا ۔۔اور شاور لینے چلا گیا ۔۔
میں اس گوری کا منہ توڑ دوں گی”آنکھوں میں آنسوں بھرے وہ ۔۔ بہت غصے سے سوچ رہی تھی ۔۔۔
دس منٹ تک اپنا پنک ڈریس جو وہ خود ہی پسند کر کے لائ تھی دیکھنے کے بعد بھی اسے اچھا نہیں لگا ۔۔ اسنے بھی وائٹ ہی پہننا تھا ۔۔۔
مگر یہاں تو اسکے پاس ۔۔ کپڑے نہیں تھے اور جو کچھ شاپینگ بھی کی تھی وہ بلکل بھی نہیں لگ رہی تھی کہ سادام کے سٹینڈرڈ کی ہے ۔۔۔اسنے تو بہت سستے سے عام سے علاقائ جوڑے خرید لیے تھے اب اسکا دل کر رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر روے ۔۔۔
سادام پندرہ منٹ بعد واشروم سے نکلا ۔۔ وائٹ سوٹ میں اسکا شاداب چہرہ دمک رہا تھا ۔۔۔
اسنے ایک نظر زریش کیطرف دیکھا ۔۔۔۔ اور ڈریسنگ کے سامنے چلا گیا ۔۔۔۔
میں پاگل ہوں جو میں یہاں رو رہی ہوں ۔۔”بلآخر وہ اسپر چلائ ۔۔۔
سادام نے بس نگاہ ہی اٹھائ تھی ۔۔ کہ زریش کی پلکیں گیر گئیں ۔۔۔۔
وہ اسے منع کر چکا تھا کہ اسکے ساتھ ایسا رویہ نہ رکھے مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی بار بار ۔۔۔۔ اسکی وجہ سے ٹوٹتا تھا یہ وہ یقین نہ کر کے اسے خود ہی زخمی کر رہی تھی ۔۔۔۔
سادام نے کوئ جواب نہیں دیا ۔۔ بال سیٹ کر کے ۔۔ اسنے ۔۔۔ اچھے سے پرفیوم چھڑکا جس کی مہک سے پورا کمرہ مہک اٹھا ۔۔۔
اور اسنے ۔۔۔ واچ کلائ میں پہنی ۔۔ شانوں پر اپنی مخصوص سٹائل میں مہرون شال ڈالی اور وہ باہر نکلنے کو تھا ۔۔کہ زریش اسکے آگے آ گئ ۔۔۔
میں آپکی کچھ نہیں لگتی”مٹے مٹے آنسوں سے ۔۔ وہ سنجیدگی سے دونوں ہاتھ اسکے آگے پھیلائے ۔۔۔ گویا اسکا راستہ روکے کھڑی تھی ۔۔۔
لگتا ہے معلوم ہے ہمیں تم بیوی ہے ہمارا”سادام نے گھڑی پر ایک نظر دوڑائ اور اکتا کر بولا ۔۔۔ اسنے کبھی جھگڑے میں بھی اس سے دستبرداری نہیں دی ۔۔۔ تھی ۔۔۔
زریش کو ٹوٹ کر اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا ۔۔
وہ نہیں جانتی تھی جس نے اسکے ماں باپ کو مارا مگر وہ سادام نہیں تھا اسے اس بات کا یقین آ گیا تھا ۔۔۔
اور وہ سمھجہ نہیں پا رہی تھی ایسا کیا کرے کہ ۔۔۔ یہ آدمی اس گوری سے ہٹ کر صرف اسکا ہو کر رہے ۔۔۔
اسکے چھوٹے سے دماغ میں دھوم مچ رہی تھی دماغ جو سگنل دے رہا تھا ۔۔ وہ وہ کیسے کر سکتی تھی ۔۔۔
سو گئ ہو “سادام نے تیوری چڑھا کر پوچھا ۔۔۔۔
تو وہ چونکہ ۔۔
ن۔۔۔نہیں”وہ جھجھکی ۔۔۔ جبکہ سادام نے اسے پرے دھکیلا ۔۔
میرا وقت ضائع نہیں کرو “وہ باہر جاتا کہ زریش پھر اسکے بازوں کے نیچے سے نکلتی بلکل دروازے پر چپک گئ جس کے سادام بھی بے حد قریب کھڑا تھا کہ دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے بلکل سامنے تھے ۔۔۔
اور زریش تھوڑا سا ہلتی تو دونوں کی ناک ایک دوسرے سے مس ہوتی ۔۔۔
تو ۔۔ آپ ۔ ن۔۔نے دیکھا۔۔ نہیں میں میرے کپ”
شششش”سادام کے جان لیوا لمس پر وہ نگاہیں میچ گئ ۔۔۔۔
دل اتنی زور سے دھڑکا گویا ۔۔ کانوں میں سنائ دے رہا تھا ۔۔۔۔
سادام اسکے کھلی کلی کی مانند لبوں کے بے حد نزدیک تھا ۔۔
زریش جیسے انتظار میں تھی اسکی شدتیں سہنے کو خود کو تیار کر چکی تھی ۔۔ مگر یہ کیا ۔۔۔ اسنے ہلکی سی آنکھیں کھولیں تو وہ تیوری چڑھائے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔
میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں تم میں”اسنے اسے دور دھکیلا ۔۔۔۔ اور غڑاپ سے باہر نکل گیا ۔۔جبکہ زریش ۔۔۔ کا منہ اوو کی صورت کھل چکا تھا ۔۔۔۔
یہ یہ۔۔۔ آف کتنے بدتمیز ہیں”وہ بھیگی نظروں سے ۔۔ دیکھتی رہ گئ ۔۔۔
اور اپنے گندے سے ڈریس کو دیکھ کر اور بھی رونا آیا ۔۔
کچھ بھی ہو جائے آج اسنے سفید سوٹ ہی پہننا تھا ۔۔۔
تبھی وہ کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سے پہلے اسنے ایسا کام کبھی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ اس گوری کے کمرے میں جس کا نام بھی عجیب سا تھا ۔۔۔ وہ داخل ہوئ تو ۔۔۔ دل زورو سے دھڑکا مگر اسے فلحال خود کو قابو میں رکھنا تھا ۔۔۔
قسمت اچھی تھی کہ وہ اس وقت واشروم میں تھی اور اسکا بے حد خوبصورت جوڑا اوو وائٹ کلر کا بستر پر رکھا ہوا تھا جبکہ اسکے ساتھ مہرون دوپٹہ ۔۔۔ جیسے زریش کا دل مچل اٹھا ۔۔۔ اور پھر بنا دوسری کوئ چیز دیکھے اسنے وہ جوڑا وہاں سے اٹھایا اور تیر کی تیزی سے ۔۔ وہ اپنے کمرے میں آئ تھی ۔۔۔۔
شرمندگی بھی ہوئ زمیر نے جھنجھوڑا ۔۔۔
مگر مجھے پہنا ہے یہ سوٹ اور اسکی ساری شوپینگ کے پیسے میرے میاں نے دیے ہیں تو یہ سوٹ میرا ہے”اسنے خود کو سمجھایا ۔۔۔
اور سوٹ کو چھپا کر کمرے کو لاک کر کے شاور لینے چلی گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے کانپتے ہاتھوں پر اسکا لمس محسوس ہوا ۔۔ اور اسکے ہاتھوں نے جیسے اسکے ہاتھوں کو حرکت بخشی اور بیلا اسکے نام خود کو خود ہی سونپ گئ ۔ہاد نے ۔۔۔ مسکرا کر اسپر اپنی پرتپش نظروں کا حصار کیا ۔۔۔
نور نے تلملا کر یہ منظر دیکھا ۔۔۔۔
اور اس سے دور ہو گئ ۔۔۔ جبکہ بیلا بری طرح کنفیوز تھی ۔۔۔ ہاد نےا ب تک اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا اسنے ۔۔۔ کسمسا کر اپنا ہاتھ اس سے الگ کرایا ۔۔۔
ہاد سیدھا ہو کر بیٹھا تو اپنے پیچھے سادام کو پایا ۔۔۔
جو اسکو گھورنے میں مصروف تھا ۔۔۔
شرافت سے نیچے اترے گا ۔۔۔ تم ۔۔ اور جو بابا سائیں سے مہمان ملنے آیا ہے انکے پاس جائے گا”اسنے حکم دیا ۔۔ہاد کے آنکھیں ابلیں ۔۔
لالا میں دولہا ہوں “وہ گویا اسے سمجھانا چاہ رہا تھا ۔۔۔
دیکھتا ہے مجھے چیخنے کا ضرورت نہیں” دونوں کی چھیڑ خانی پر سب کے قہقہے ابھرے تھے ۔۔
اب شھاب اور عنایت نے ہاد کا ریکارڈ لگا دیا تھا بیلا تو بیٹھے بیٹھے سرخ ہو رہی تھی جبکہ فیروز ایک طرف خاموش کھڑا ۔۔۔ انکی خوشیاں تباہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔
بیٹا سب منہ میٹھا کرنے کی رسم ادا کر لو ۔۔۔”مورے نے جاناں سے کہا ۔۔ جو خود ہاد کا ریکارڈ لگانے میں مصروف تھی ۔۔ سادام سٹیج سےاتر کر مسکراتا ہوا جانے لگا کہ ۔۔ مورے نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔۔۔ سادام وہیں تھم گیا ۔۔۔
وہ تم بڑے بیٹے ہو تو پہلے زریش اور تم منہ میٹھا کراو گے بس اسی لیے روکا تھا”سب انھیں کیطرف دیکھ رہے تھے سادام نے غیر محسوس طریقے سے اپنا ہاتھ آزاد کرایا اور ۔۔ اپنی بیگم کی کھوج میں نگاہ دوڑائی جسے وہ بھلا بیٹھا تھا ۔۔۔
اور تبھی ہال میں ولی ۔۔۔ داخل ہوا کافی ساری میٹھایوں کے شگن اور تحائف کے ساتھ وہ شاہانہ چال چلتا ۔۔۔ ان تک آیا ۔۔ رقیہ بیگم آئزہ شھریار بھی تھے ۔۔۔
ولی نے گاگلز کی اوٹ سے سکن کلر کے خوبصورت سے فراق میں اپنی بیوی کو دیکھا ۔۔۔ جیسے اسکے حسن کو آنکھوں میں چھپا لیا تھا ۔۔ اسنے سادام کیطرف نگاہ گھمائ ۔۔۔
مبارک ہو”ولی نے رسمی سا کہا ۔۔
ہم تو نکاح کر چکا ہے جس کا ہے اسکو دو”بظاہر مسکرا کر لوگوں کو حیران کر دینے والے دونوں ایک دوسرے پر طنز اچھال رہے تھے ۔۔۔
پتہ نہیں کیوں بھول جاتا ہوں تمھارے منہ لگنا دنیا کا فضول کام ہے”ولی نے نگاہیں گھمائ اور فیروز پر نگاہ گئ تو دل کیا اسکی گردن دبا دے ۔۔۔
پھر بھی بار بار لگتا ہے گھامڑ “دونوں ایک دوسرے کی کراس میں گزر کر نکلے ۔۔۔ مگر سادام زیادہ آگے نہ جا سکا ۔۔۔
سفید لانگ میکسی پر مہرون کامدار دوپٹہ لیے بالوں کو پورا کھولے ایک شانے پر ڈالے ڈارک مہرون لیپسٹک لگائے وہ اونچی ہیل میں سمبھل سمبھل کر چلتی ۔۔۔ سادام کو آسمان سے اتری ہوئ پری لگی جو اسکے اعصاب سلب کر چکی تھی وقت کو تھام چکی تھی چارو جانب سے جیسے لوگ غائب ہو گئے تھے اور وہ دونوں تھے بس ۔۔۔
زریش بھی اسی کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔ زرا جھجھک کر زرا شرما کر ۔۔۔
اسنے دو قدم اور اٹھائے ۔۔۔ اور اسکے نزدیک پہنچی ۔۔۔
تو بے ساختہ سادام کے لب ہلے ۔۔۔
تم غضب ہے”وہ بولا ۔۔ زریش مزید شرمائ ۔اور سادام چونکا ۔۔۔
اسکے پیچھے سے میسی بھی اپنے عام کیجول حلیے میں آئ ۔۔۔
اور زریش کو دیکھنے لگی ۔۔۔
یہ میرا ڈریس ہے”وہ حیرانگی سے بولی ۔۔
منظر ٹوٹ چکا تھا سب ہوش میں آ گئے تھے ۔۔۔
زریش کا چہرا یکدم پھیکا پڑا سادام نے زریش کی جانب دیکھا اور یاد آیا کہ جو کمرے میں لباس تھا یہ وہ تو بلکل نہیں تھا ۔۔
اچانک ہی اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔۔۔
ن۔۔۔نہیں یہ میرا ہے ۔۔ مج۔مجھے نواب جی نے لا کر دیا تھا”زریش نے فورا صفائ دی ۔۔۔
نہیں یہ میں نے لیا تھا سادام کے ساتھ جا کر”وہ غصے سے بولی ۔۔ جبکہ زریش رو دینے کو تھی ۔۔ سادام کو مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔ رفتہ رفتہ سب انکی طرف متوجہ ہو رہے تھے ۔۔جبکہ ولی جاناں شھریار آئزہ ہاد بیلا شھاب وہ سب تو ان کو پہلے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔
میسی ہم نے اپنا بیگم کو یہ ہی لباس دلایا تھا ۔۔۔ تم نے اپنا گم کر دیا ۔۔ اب زیادہ شور مت ڈالو۔”دو ٹوک لفظوں میں اسنے بات ختم کی ۔۔ زریش کا دل کیا اچھلے ۔۔
جبکہ میسی سوچ میں پڑ گئ کہ آخر اسکا ڈریس کہاں گیا۔ ۔۔
شھاب کے دانت نکلے
بہت اچھا ہوا تمھارے ساتھ”اسنے کہا ۔۔۔ تو وہ اسے گھورنے لگی ۔۔۔
منہ بند کریں اپنا”اسنے کہا ۔۔
ویسے کتنے افسوس کی بات ہے وہ شادی شدہ مرد ہے”شھاب اسکے پیچھے ہوا ۔۔۔
تو میں نے کچھ کہا ہے”میسی نے ٹکا سا جواب دیا ۔۔
کنواروں پر بھی نگاہ ڈال لیتے ہیں”وہ زرا گھیری نظروں سے اسکو دیکھتا بولا جبکہ میسی ۔۔۔ اسکی صورت دیکھنے لگی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمکو شرم نہیں آتا ۔۔۔۔ اس نیت خرابی پر”سادام نے غصے سے دیکھا ۔۔۔
نہیں آتا ۔۔۔ “اسنے اسکیطرح ہی جواب دیا ۔۔
سادام نے اس سے نگاہ چرائ ۔۔ وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ سادام اسکو بھری محفل سے اٹھا کر لے جاتا ۔۔۔
لالا اب آ بھی جائیں ہم ویٹ کر رہیں ہیں پہلے منہ میٹھا آپ کرائیں گے “جاناں نے اسکو یاد دلایا ۔۔۔ تو وہ زریش کا ہاتھ تھامتا ۔۔
فیروز کے دل پر قدم رکھتا سٹیج پر چڑھا تو وہ دونوں اتنے بھرپور لگ رہے تھے کہ سب انکی جوڑی کو سرہانے لگے جس میں ولی بھی شامل تھا وہ دونوں ایکدوسرے کے ساتھ کافی مکمل لگ رہے تھے ۔۔۔
دونوں نے منہ میٹھا کرایا ۔۔۔ اور سادام نے بڑا سا رسگلہ زریش کے منہ میں ڈال دیا ۔۔
زریش حیران رہ گئ جبکہ اتنا زیادہ ۔۔۔ اسنے سادام کی جانب دیکھا ۔۔ جس نے تھوڑا سا اسکے ہونٹوں پر لگا ۔۔ اٹھا کر کھایا ۔۔۔
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔جبکہ ۔۔۔ ہاد کی سیٹی نے اسکا تعقب کیا تھا ۔۔ زریش بری طرح شرمائ
اور ایک طرف ہو گئ ۔۔۔ جبکہ سادام کے لبوں کی مسکراہٹ کافی گھیری ہو گئ تھی ۔۔۔
جاناں نے منہ میٹھا کرایا ۔۔۔ تو مورے نے زبردستی ولی کو اسکے ساتھ بھیجا ۔۔ وہ اس عورت کی بات تو نہ سنتا ۔۔۔ مگر ۔۔اسوقت وہ خود جاناں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا ۔۔۔ تبھی ۔۔ وہ جاناں کے ساتھ منہ میٹھا کرانے لگا ۔۔اور اپنے بچے کے ساتھ وہ دونوں بھی محفل پر چھائے ہوئے لگے ۔۔۔
جاناں نے ولی کو نوٹس نہیں کیا زیادہ یعنی نو لفٹ کا بورڈ درج تھا جبکہ ۔۔ ولی کون سا سادام سے پیچھے رہ سکتا تھا ۔۔۔
جیب سے کئ نوٹ نکال کر وہ جاناں پر سے وار کر ایک عورت کے ہاتھ میں تھما چکا تھا ۔۔۔
ایک بار پھر ہٹینگ شروع ہو گئ اور یہاں کچھ فاصلے پر کھڑے سادام کے لب اسکی جیلسی پر مسکرائے تھے ۔۔
چور کا بچہ سب نقل کرتا ہے”وہ بڑبڑایا ۔۔۔۔
یار شھاب لالا ہم پاگل ہیں مطلب “اسنے دہائ دی ۔۔ تو محفل میں زعفران گھل گیا ۔۔
رفتہ رفتہ سب نے رسم۔ پوری کی ۔۔
کھانے کا شاندار انتظام تھا ۔۔
کھانا کھایا گیا ۔۔۔
تو فیروز ۔۔۔ سٹیج کے پاس کھڑی زریش کے نزدیک آیا ۔۔
تم اپنے ماں باپ کی موت بھول گئ ہو “اسنے اچانک سوال کیا تو وہ ڈر گئ ۔۔۔
ن۔۔نہیں آپ کون”زریش پہچان نہ سکی ۔۔
کوئ بھی نہیں”سادام کے دیکھنے پر وہ ٹل گیا ۔۔
سادام لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک پہنچا ۔۔۔۔
زریش کی کلائ پکڑی ۔۔
کیا بات کی ہےا سنے”وہ بے تابی سے پوچھ رہا تھا ۔۔
کون”زریش حیرانگی سے دیکھنے لگی جبکہ سادام کا دل کیا ۔ اپنے سر پر کچھ مار لے ۔۔ اتنی جلدی بھول گئ تھی
وہی جو ابھی یہاں کھڑا تھا ۔۔۔”اسنے ضبط سے پوچھا ۔۔۔
ہاں وہ ۔۔۔ اما ابا کی موت کے بھولنے پر بات کر رہے تھے مگر نواب جی”سادام نےا سکی کلائ پکڑی ۔۔اور اسے پیچھے کیطرف لے آیا ۔۔
آپ آپ کو “
ششششش”اسکی آواز کو اچانک قید کرتا ۔۔۔ وہ اسکا سانس بھی روک چکا تھا ۔۔۔۔
دونوں کے دلوں کی تار ۔۔۔ بے ہنگم ہو گئ تھی ۔۔۔
لمہوں کی مدہوشی ۔۔ دونوں کو دیوانہ کر رہی تھی ۔۔۔
اور اچانک زریش کو خیال آیا ۔۔۔ تو اسنے بمشکل اسکو دور کیا۔۔۔
کتنے بے بے شرم ہیں آپ”اسنے سانس لیتے کہا ۔۔
اور تم چورنی”سادام نے بھی بدلہ لیا ۔۔۔
تم اب ہمکو اکیلا نہ دیکھے سمھجہ آیا ۔۔”شھاب کیا آواز پر اسنے زریش کو وارن کیا ۔۔
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو تم میرے ساتھ نہیں جاو گی”ولی نے اسکی کلائ پکڑی ۔۔ جاناں ایکدم بھکلائ ۔۔
کیا ہو گیا اپکو “اسنے گھورا ۔۔
تم چلو گی میرے ساتھ پہلے کہو پھر ۔۔ چھوڑوں گا”اسکی بے باک نظروں سے وہ گھبراتی ۔۔ اس سے دور ہوئ ۔۔
میں نہیں جاؤ گی”جاناں نے ہاتھ چھڑانے کی تگ و دو میں ادھر ادھر دیکھتے کہا ۔۔۔
کیوں مجھ سے دشمنی لگا رہی ہو دشمن کو پاتال تک پہنچاتا ہوں میں”وہ اسپر گھیری نظریں گاڑتا بولا ۔۔۔
آپکی مجھ سے دشمنی ہی تو تھی”جاناں نے بلآخر ہاتھ چھڑا لیا ۔۔
میری بیٹی کی طرف دیکھو ۔۔کیا تمھیں لگتا ہے یہ ہماری دشمنی کا صلہ ہے”وہ مسکرایا ۔۔
جاناں نے پاؤں پٹخے ۔۔۔
رکو” ولی نے اواز لگائ مگر وہ وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔
اتنا آسان بھی نہیں تھا اسکو منا لینا جسے اب وہ منانے کے لیے بار بار اپنی انا کا خون کر رہا تھا ۔۔
فنکشن کا اختتام ہوا ۔۔۔ تو ایسی دھمکا خیز خبر ملی کہ ۔۔۔ فیروز الٹے قدموں بھاگا تھا ۔۔۔۔ اسکا ڈیرہ اور گھر جل گیا تھا معلوم نہیں کیسے ۔ مگر اسکا سب جل گیا تھا ۔۔۔۔
؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
