Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
نور اپنے کمرے میں کھڑی وارڈروب میں سے کپڑے سلیکٹ کر رہی تھی
آج تانیہ اور ماہ نور کی برتھڈے تھی تو رباب نے نور کو اسپیشلی کہا تھا کہ وہ لازمی اچھا سا تیار ہو اپنی بھانجی پلس بھتیجیوں کے لئے۔۔۔۔۔۔
یہ لو بھئی جلدی سے اب ریڈی ہوجاؤ کب سے اس میں منہ دیئے کھڑی ہو تم۔۔۔۔۔۔
رباب نے آتے ہی لتاڑا تھا کیونکہ ساری تیاریاں ہوچکی تھیں سب نیچے کھڑے نور کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آئے تو کیک کٹ ہو مگر نور تھی کہ وہ بے دلی سے تیار ہونے میں لگی تھی
رباب نے اسے ریڈ کلر کی شیفون کی ساڑھی دی تھی اور ساتھ ہی میچنگ جیولری بھی رباب نے اسے حجاب لینے سے منع کیا مگر نور پھر بھی اسکارف لپیٹے ڈریسنگ روم سے باہر نکلی گیلے نم بالوں میں وہ بہت جازب نظر لگ رہی تھی بال تو اب پہلے جیسے تھے نہیں مگر پھر بھی نور کو یہ اسٹائل بھی سوٹ کر رہا تھا نور تیار ہونے کے بعد نم گیلے بالوں کا جوڑا بنائے اسکارف لپیٹے جلدی سے باہر آئی تھی کیونکہ پہلے ہی اس کی وجہ سے بہت دیر ہوچکی تھی اور اب وہ مزید تاخیر نہیں کرنا چاہتی تھی نور نیچے آئی تو سب نے اسکی تعریف کی اور پھر کیک کٹ کیا گیا ۔۔۔۔۔ کیک کٹنے کے بعد بچیاں تو اپنے کھیلنے میں لگ گئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور دادا جان کے پاس بیٹھی کیک کی پلیٹ پکڑے اسے گھورے جا رہی تھی کہ ایک دم سامنے نظر پڑنے پہ اسکی آنکھیں کھلیں کی کھلیں رہ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔
سالار گرے کلر کے تھری پیس سوٹ میں سرد سنجیدہ نظروں سے چلتا ہوا اس کی طرف ہی آرہا تھا
اسے دیکھ کر نور ایک پل کے لئے تو سانس لینا ہی بھول گئی اتنے دنوں بعد جو دیکھ رہی تھی دشمن جاں کو ۔۔۔۔۔۔۔
سالار اسکے پاس پہنچتا کسی کو بھی خاطر لائے بغیر عین کو ایک جھٹکے سے اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور تیز قدموں سے چلنے لگا
عین اس اچانک پڑنے والی افتاد پر بوکھلا ہی گئی تھی اور اوپر سے سالار کی سب کے سامنے اس حرکت نے اسے شرم و خفت سے لال کر دیا تھا
سالار آگے بڑھ رہا تھا کہ شمائلہ بیگم سامنے آئیں تو سالار کے قدم بمشکل رہے تھے ورنہ شائد زبردست تصادم ہوتا
اگر آج مجھے کسی نے بھی روکنے کی کوشش کی تو پھر جو میں کروگا وہ آپ سب لوگوں کو شائد نہیں یقیننا” اچھا تو بلکل بھی نہیں لگے گا
ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولتا وہ سب کو ششدر کر گیا تھا
دادا جان نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا
سالار نے پھر سے اپنے قدم آگے بڑھا لئے تھے
باہر نکل کر عین کو غصے میں ہونے کے باوجود بھی سالار نے اسے آرام سے کسی قیمتی متاع کی طرح فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور گاڑی کو فل سپیڈ پر چلانے لگا
عین زبان پر قفل لگائے سہمی ہوئی بیٹھی تھی گاڑی تو جیسے ہواؤں میں اڑ رہی تھی
نور ڈر سے کانپے جا رہی تھی اسے لگ رہا تھا آج تو وہ سالار کے غصے سے نہیں بچے گی
سالار فل سپیڈ پر گاڑی دوڑا رہا تھا اس کی ساری توجہ سامنے سڑک پر مرکوز تھی کہ نہ جانے سڑک پر کون سا نمونہ کھڑا دیا گیا ہو جو اپنی نظریں ہی نہیں جھپک رہا تھا
سالار نے ایک دم بریک لگائی تو گاڑی چررررر کی آواز پر رکی۔۔۔
عین نے خوف سے بند کی آنکھیں کھولیں تو سامنے گھنے جنگل کو پایا
وہ حیرانی سے اردگرد دیکھ رہی تھی کہ ایک بار پھر سالار نے اسے اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور گاڑی لاک کرتا جنگل کے دوسرے رخ چل دیا
ہائے اللہ کہیں یہ مجھے جانوروں کی خوراک بنانے تو نہیں لائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوف سے عین کی آنکھیں پھٹنے کو تھیں
عین کا اسکارف جو پہلے ہی ڈھیلا پڑ چکا تھا اب تو گر گیا تھا عین کے سارے بال اسکے منہ پر آرہے تھے
سالار تیز تیز ایسے چل رہا تھا جیسے وہ اکیلا ہو اسکے کندھے پر کچھ ہو ہی نہ ۔۔۔۔۔
سالار جنگل کے بیچ و بیچ بنے درخت پر بنے ووڈن ہاؤس کی طرف آیا اور اسے کندھے پر ہی رکھے لکڑی کی سیڑھیوں پر قدم جماتا اوپر چڑھا اور ووڈن ہاؤس میں داخل ہو کر دروازہ پہلے اچھی طرح سے بند کیا اور پھر عین نیچے بچھے گدے پر پھینکا اور خود بھی اسکے ساتھ ہی گرا اسکے اوپر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کے اس طرح کرنے پر عین کے منہ سے چیخ نکلی جسکا گلا سالار نے اپنے دہکتے لبوں سے گھونٹا تھا
عین جو پہلے ہی اسکے وزن کو برداشت نہیں کر پارہی تھی اسکے اس طرح کرنے سے اسکی بچی کچی سانسیں بھی رکنے لگی تھیں
سالار اپنے عمل میں گم ہر شے سے بیگانہ اپنے دل کی بےچینی و تڑپ کو رفع کرنے میں مگن تھا وہ اسے محسوس کرنا چاہتا تھا کب سے وہ اس سے دور تھا ۔۔۔۔۔۔ پورے ایک ماہ سے ۔۔۔۔۔ ایک ماہ سے اس نے اسے دیکھا نہیں تھا ۔۔۔۔ محسوس نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔ اب تو سالار کو لگنے لگا تھا کہ اگر وہ عین کے پاس نہیں گیا تو وہ مر ہی جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ اسے اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔ عجیب سی گھٹن تھی اسکے وجود میں ۔۔۔۔۔۔ بلآخر خود سے ہارتے ہوئے وہ دوڑتے ہوئے عین کے پاس گیا تھا کیونکہ اب اس سے مزید دوری اسکے لئے سوہان روح تھی ۔۔۔۔۔۔۔
عین کو لگ رہا تھا کہ اب سالار نہیں رکا تو وہ مر جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار جب کافی دیر تک نہیں ہٹا تو عین نے اپنے چھوٹے نازک ہاتھوں سے اسکے سینے پر رکھے تھے اور خود سے دور کرنے کی ناممکن سی کوشش کی تھی جو یقیننا” بے کار گئی تھی بلکہ الٹا وہ پچھتائی تھی کیونکہ سالار نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کے ایک ہاتھ سے ٹائی نکال کر اسکے دونوں ہاتھ سختی سے پیچھے لکڑی کے پلر کے ساتھ باندھ دئے تھے
جبکہ اس دوران سالار ایک ایک سیکنڈ کے لئےبھی اس سے دور نہیں ہوا تھا
سالار نے پھر اس پر رحم کھا کر اپنا چہرہ اوپر کیا تھا اور عین کو غور سے دیکھنے لگ گیا تھا
عین کا تنفس بری طرح سے بگڑ چکا تھا وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی اگر سالار اسکو نہ بخشتا تو شائد اسکی سانسیں واقعی ہی بند ہو جاتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معلوم ہوا کہ جب کسی کی سانسیں روکیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے
سرد آواز میں اسکے کان میں بولتا وہ اس کے رگ و پے میں سنسنی پھیلا رہا تھا
تم نے بھی میرے ساتھ ایسا ہی کیا ہے جانتی ہو کتنا تڑپا ہوں میں ۔۔۔ کتنی تکلیف ہوئی مجھے تم سے دور ہو کر ۔۔۔۔۔ تم نے ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا کہ میں تمہارے بغیر جیسے رہوگا ۔۔۔۔۔۔۔
تو اب سزا تو بنتی ہے نہ ۔۔۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی اسکی کان کی لو کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا تھا
بایاں ہاتھ بڑھاکر اسکی ساڑھی کا پلو ایک جھٹکے میں کھینچا تھا جس سے نور کو وجود میں چیونٹیاں رینگتی محسوس ہونے لگیں
سالار نے اسکے کندھے سے بلاؤز کو زرا سا نیچے سرکایا تھا اور اپنے لب اس پر رکھے تھے
سس۔۔۔۔۔ سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سشششششش۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عین کے منہ سے گھٹی گھٹی سی آواز سرگوشی میں نکلی تھی جو سالار نے اپنے بھاری ہاتھ سے بیچ میں ہی روک دی تھی اور پھر وہ اس پر جھکتا چلا گیا اور اپنی شدتیں و محبتیں اس کے نازک وجود پر پھیلانے لگا
عین بے بس سی اسکی شدتوں پر پگھلی جارہی تھی اور سالار اسے سمیٹے اپنی دیوانگی و جنوں کی داستان رقم کر رہا تھا
آخر تھک ہار کر عین نے خود کو سالار کے سپرد کر دیا تھا جو بھی ہو وہ اسکا محرم تھا اسکا شوہر اسکا مجازی خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند کی روشنی پوری آب وتاب سے چمک رہی تھی اس جنگل میں چھائی خاموشی اور ہلکی چاند کی روشنی ماحول کو فسوں خیز کر گئی تھی
اس پر سالار کی بڑھتی شدتیں
عین کو بوکھلائے دے رہی تھیں
سورج کی روشنی چھن سے کھڑکی کے راستے نور کے چہرے پر پڑ رہی تھی
نور نے کسمسا تے ہوئے آنکھیں کھولیں تو پہلے تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ ہے کہاں پر مگر پھر جب یاد آیا تو رات کا ایک ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگا شرم سے سر جھکائے نور ہلکا سا مسکائی تھی پھر جلدی جلدی سے ادھر’ادھر دیکھتے کہ کہیں سالار تو نہیں دیکھ رہا مگر جب تسلی ہوئی کہ وہ یہاں نہیں ہے تو نور اپنے سر پر چپت لگاتی اٹھ بیٹھی اپنے وجود پر نظر پڑی تو سالار کی گرے شرٹ نے اسکو چھپا رکھا تھا
ایک بار پھر سے نور کا چہرہ سرخ ہوا تھا
سامنے ہی صوفہ پر اسکا ڈریس رکھا ہوا تھا اور اسکے سامنے پڑی لکڑی کی ٹیبل پر ناشتہ بھی موجود تھا
نور نے ارد گرد نظر دوڑائی تو یہ ایک اوپن روم کچن اور لاؤنج ووڈن ہاؤس تھا کونے میں ایک دروازہ تھا شائد واشروم تھا وہ ۔۔۔۔۔۔۔
پورا ہاؤس ماحول کے لحاظ سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا
مطلب کہ سالار نے پہلے سے ہی ساری پلیننگ کر رکھی تھی اور اتنا اچھا انتظام کیا تھا
نور جھجھکتے ہوئے اٹھی اور پھر ڈریس اٹھا کر واشروم فریش ہونے چلی گئی
سالار نیچے اتر کر کالا ٹراؤزر پہنے بغیر بنیان شرٹ کے ایکسرسائز کر رہا تھا
سالار عین کو سب سے دور یہاں لے کر آیا تھا جہاں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی بھی نہ تھا
سالار کو عین پر جتنا بھی غصہ تھا وہ سارا کا سارا کل رات ہی اتر گیا تھا جب عین نے خود سپرد گی کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
نور چینج کرنے کے بعد چھوٹے گول شیشے کے سامنے آکر بال بنانے لگی جو دیوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا بالوں بنا کر نور نے کپڑوں کا جائزہ لیا ہلکے ییلو کلر کا ڈریس تھا بنا دوپٹے کے تو حجاب بھی نہیں تھا ساتھ ۔۔۔۔۔ نور جھجھکتے ہوئے ڈور کھول کر نیچے اتری اور پھر سامنے سالار کو بنا شرٹ کے دیکھ کر لڑکھڑا گئی اور پھر اپنا رخ ہی اس سے موڑ لیا
سالار نے اسے دیکھ لیا تھا اور اسکے انداز پر قہقہہ لگاتا اسکے پاس آیا اور کمر سے پکڑ کر اپنے حصار میں لے کر منہ اس کے نم کھلے بل بالوں میں چھپا لیا
نور نے نکلنے کی کوشش کی مگر بھلا سالار ایسا کرنے دے سکتا تھا کیا ۔۔۔۔۔ بلکہ اس نے تو اور بھی گرفت سخت کر دی تھی اور اپنے اسکی گردن پر رکھ دیے تھے
عین اسکی بڑھتی گستاخیوں پر کانپنے لگ پڑی تھی ۔۔۔۔
جب وہ سالار کو الگ نہیں کر پائی تو رونے لگی اسے رہ کر غصہ چڑھ رہا تھا سالار پر ایک تو وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ ہنی کون منانے کے بعد جب دل پورا بھر لیا تو اب اسکے پاس آگیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہونہہ۔۔۔۔۔۔ ٹھرکی کہیں کے۔۔۔۔۔۔۔
سالار کو جب اسکے چہرے پر نمی محسوس ہوئی تو فورا” سے اسکا رخ اپنی طرف موڑا تھا
عین۔۔۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔۔تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔
سالار کے بےچینی سے پوچھنے پر عین کو تو مانو تپ ہی چڑھ گئی تھی
پاگل ہو گئی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار جو انگلیوں کی پوروں سے اسکے آنسو صاف کر رہا تھا عین کے ایک دم چیخ کر ہاتھ جھٹکتے ہوئے سنا تو وہ حیران ہی تو ہوگیا تھا
کیا کہہ رہی تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
سالار نا سمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا جو اب منہ ہاتھوں میں چھپائے رو رہی تھی
پہلے یہ اپنا رونا بند کرو تم فورا””
عین نے جب رونا بند نہ کیا تو سالار جھنجھلاتے ہوئے بولا اسے اسکا رونا تکلیف دے رہا تھا
کیوں بند کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ہچکی)
اور آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتے کون ہیں مجھ پر حکم چلانے والے ۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔ سمجھتے کیا ہیں خود کو آپ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک تو کمزور لڑکی کو اپنے ہی گھر میں قید کرکے اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی کہ وہ دماغی توازن کھونے کے قدار پر آگئی تھی۔۔۔۔۔۔ مجھ سے تو (۔۔۔۔۔) اسکی حالت ہی نہیں دیکھے جارہی تھی ۔۔۔۔۔ بیچاری کتنا تکلیف میں تھی وہ ۔۔۔۔۔۔ کیوں کیا آپ نے ایسا ۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔۔۔ کیسے ظلم کر لیا آپ نے ایک لڑکی پر ۔۔۔۔۔۔ مرد ہیں طاقتور ہیں تو کیا اپنی مردانگی اس طرح دکھا ئیں گے ۔۔۔۔ کسی معصوم لڑکی کو مار پیٹ کر ۔۔۔۔۔۔ اسے بجلی کے جھٹکے دے کر ۔۔۔۔۔ اتنے ظالم ہیں آپ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اتنے کہ ایک لڑکی۔۔۔۔۔۔ ایک لڑکی کے ساتھ ۔۔۔۔۔
اس سے آگے اسکی ہچکی ایسی بندھی کہ وہ کچھ بول ہی نہیں پائی۔۔۔۔۔۔۔
سالار اسکی باتوں پر پر سکون سا خاموشی سے سن رہا تھا جب عین رکی تو ایک ہی جھٹکے میں اپنی طرف کھینچا اور سختی سے اس حد تک بھینچا کہ عین کو لگا اسکی پسلیاں ابھی ٹوٹی تو ابھی۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار سرد سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اسکی آنکھیں جیسے اسکی آنکھوں میں گڑ گئی تھیں
سالار جھکا تھا اور اسکے لبوں پر سخت ترین گستاخی کی کہ اسکے ہونٹوں سے خون کی بوند نکل آئی ۔۔۔۔
درد کی ایک لہر تھی جو اسکے ہونٹوں سے ہوتی جسم میں اتر گئی تھی وہ بے یقینی سے سالار کو دیکھ رہی تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
یہ تمہاری سزا تھی اس غلطی کی جو تم نے اس میزی کو آزاد کروایا وہ بھی اپنے ہاتھوں سے اور خود ہی اسے ہاسپٹل لے کر بھی گئی ۔۔۔۔
اسکی انگلیاں عین کو اپنی کمر میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں
عین کے اندر اچانک ڈر آگیا تھا سالار کا ڈر ۔۔۔۔
سالار بنا اسکی کیفیت جانے اپنی ہی بولے جا رہا تھا
اس لڑکی نے میری جان کی جان لینے کی کوشش کی تھی
اس کو تھپڑ مارے تھے جو میری رگ و جاں مین بستی ہے ۔۔۔۔۔۔ میری عزت پہ وار کیا تھا اس نے۔۔۔۔ کیسے چھوڑ دیتا میں اسے ۔۔۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔
سالار کی بولتے ہوئے آخر میں آواز نم ہوگئی تھی خود سے گلے لگائے اسکی آنکھ سے آنسو بہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے تم نے مجھ پہ کسی اور کو فوقیت دی کیسے۔۔۔۔۔۔۔ کیسے چھوڑ دیا تم نے مجھے عین ۔۔۔۔۔۔ کیسے؟؟؟؟؟
جانتی ہو کتنا یقین تھا مجھے کہ تم مجھے چنوگی میرے ساتھ چلو گی مگر تم ۔۔۔۔ تم نے ایسا نہیں کیا۔۔۔۔۔ تم نے مجھے چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو چنا عین۔۔۔۔۔۔۔
اتنا بھی نہ سوچا کہ تم تو پچھلی ساری زندگی انکے ساتھ ہی گزار کر آئی ہو ۔۔۔۔۔پر میرے ساتھ تو کوئی نہیں تھا کوئی نہیں نہ ماں نہ باپ ۔۔۔۔
پھر پتہ چلا کہ جسے میں ماں سمجھ رہا تھا وہ تو تھی ہی نہیں میری ماں ۔۔۔۔۔ میری ماں تو مجھے جنم دے کر چلی گئی تھی مجھے چھوڑ کر ۔۔۔۔۔۔ اور جو تھی وہ تو سوتیلی تھی میرے باپ کی دوسری بیوی ۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے آج اپنے دل میں دبا ایک اور راذ بتا دیا تھا
عین اس انکشاف پر ششدر کھڑی رہ گئی تھی
تم نے مجھے کیوں چھوڑ دیا عین۔۔۔۔۔۔
آااپ۔۔۔۔۔۔ نے بھی تو ۔۔۔۔۔ چھوڑ دیا تھا مجھے اور دوسری شادی کرنے لگے تھے ۔۔۔۔۔ میں نے خود سنا تھا اپنے کانوں سے آپ برہان بھائی سے کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔
عین بھی اسکے ساتھ لگے ۔۔۔۔۔۔ لگے ہاتھ شکوہ بھی کر دیا تھا جو اس سب کی سب سے بڑی اور مین وجہ تھا ۔۔۔۔۔۔
اففففف۔۔۔۔۔ جنم ۔۔۔ وہ تو سب ناٹک تھا ۔۔۔ تمہیں سنا نے کے لئے کیا تھا تاکہ تم کچھ ری ایکٹ کرسکو ۔۔۔ تم اس بات کو پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ ادھر دیکھو میری طرف تم۔۔۔۔۔
سالار یہ سن کر حیران رہ گیا ۔۔۔۔۔ تو گویا یہ وجہ تھی جو عین ایسے بی ہیو کر رہی تھی اس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار اسکا چہرہ اوپر اٹھا تھا مگر جب اپنے غصے کا نشان اسکے لبوں پر دیکھا تو خود پہ بے انتہا غصہ آیا اسے ۔۔۔۔ یہ کیا کیا تھا اس نے۔۔
فورا”جھک کر اسکے لبوں پر پیار کرنے لگا ۔۔۔
پاگلوں کی طرح اسے پیار کئے جارہا تھا جیسے وہ اس کے زخم پر مرہم لگا رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئم۔۔۔۔۔۔ آئم۔۔۔۔ سوری ۔۔۔۔۔۔
مجھ۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔ممممعاف کر۔۔۔۔۔ دو ۔۔۔ پتہ نہیں کیسے کردیا میں نے یہ ۔۔۔۔۔
سالار اسے چھوڑ کر اپنے سر کے بال نوچ رہا تھا
عین کو وہ کوئی پاگل لگ رہا تھا
مم۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔
اچانک سالار آگے بڑھا اور لکڑی کا نوک دار ٹکڑا اٹھا کر اپنے ہونٹ میں گھونپ دیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے خون کی پھوار ابل پڑی تھی
عین پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
یہ ۔۔۔۔۔ ییی۔۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا آپ نے پاگل ہوگئے ہیں آپ ۔۔۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی آپ کی ایسا کرتے ہوئے
کوئی حق نہیں ہے آپ کو خود کو نقصان پہنچانے کا ہاں ۔۔۔۔۔ ہمت بھی کیسے کی۔۔۔۔۔ آپ میرے ہیں ۔۔۔۔ آپ صرف میرے ہیں ۔۔۔۔۔۔ آپ کے وجود پر صرف اور صرف میرا حق ہے ۔۔۔۔ آپ خود کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔ آپ نہیں۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ ہوں۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔!!!
سمجھ آئی آپ کو ۔۔۔۔۔ آئندہ ایسا کیا نہ تو میں بھی خود کو ایسے ہی نقصان پہنچاؤگی
سمجھے یا پھر لگاؤں ایک تھپڑ ۔۔۔۔۔ عین نے روتے ہوئے بے دھیانی میں کیا بولے جارہی تھی اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ ڈھکے چھپے الفاظوں میں محبت کا اعتراف کر چکی ہے
سالار تو دنگ کھڑا بے یقین چہرہ لئے نم آنکھوں سے عین کو دیکھ رہا تھا جو اس نے کہا تھا کیا وہ سب سچ میں ہوا ہے یا پھر وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے
چلیں بھی اب کہاں کھو گئے ہیں ۔۔۔۔ چلیں مرہم لگاؤں میں اس پر ۔۔۔۔۔۔
عین اپنی آواز سے اسے یقین سونپتی اسے اپنے ساتھ گھسیٹتی سیڑھیاں چڑھتی اوپر لائی تھی اور گدے پر بٹھا کر فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈ نے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کے سامنے بیٹھ کر اسنے روئی پایوڈین میں ڈبوئی اور سالار کے نچلے ہونٹ کے کونے پر رکھ کر پہلے اسے اچھی طرح آہستہ سے خون صاف کیا اور پھر آئنٹمنٹ لگایا
سالار خود کو مکلمل اسکے رحم و کرم پر ڈھیلا چھوڑتا اسکے ہر حکم پر سر خم کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
دو ۔۔۔۔ تمہیں بھی مرہم لگادوں۔۔۔۔۔۔
عین چیزیں واپس فرسٹ ایڈ باکس میں رکھ رہی تھی جب سالار نے ہاتھ آگے بڑہاتے ہوئے کہا
وہ۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔ آپ نے لگادیا۔۔۔۔۔۔
عین نے اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑے ہلکی آواز میں کہا
سالار اسکی رونے کی وجہ سے سبز سرخ آنکھوں میں خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا تھا
کتنے ہی پل ایسے ہی ایک دوسرے کی آنکھوں کو تکنے میں نظر ہوگئے
اچانک عین نے اپنا چہرہ سالار کے چہرے کے قریب کیا اور آنکھیں موند کر اسکی چوٹ پر اپنے کپکپاتے نازک لب رکھ دیے ۔,۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار تو حیرت ورطہ حیرت میں ڈوبا ہوا اسکے لمس کو محسوس کر رہا تھا
اب بچا ہی کیا تھا جو اسے یہ بتا سکے کہ عین اس سے محبت کرتی ہے !!!!!!!!
یہ خیال ہی خوش کن تھا کہ اسکی محبت ،اسکا عشق اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے ورنہ کہاں وہ ڈرپوک نازک سی شرمیلی عین اور یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کی تو مانو آج سب سے بڑی مراد بر آئی تھی
اسے اور کیا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
عین کے آگے دنیا کی ہر شے سالار کے لئے ہیج تھیں۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے میں گم ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کر رہے تھے
دل کی دھڑکنیں بھی آج رقص کر رہی تھیں
ہر چیز جیسے آج انکے ساتھ خوشی سے ناچ رہی تھی
یہ سرد ہو آئیں ۔۔۔۔ پرندوں کے گیت۔۔۔۔۔ انکی خوشی میں خوش جھوم جھوم رہے تھے
دو سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے ہر کوئی آج کی تقریب کے لئے خاص طور پر تیار ہو کر آیا تھا
سالار وائیٹ اینڈ بلیک سوٹ میں سوٹڈ بوٹڈ ڈیشنگ لگ رہا تھا اور اوپر سے اسکے چہرے کی چمک اور لبوں پر چھائی دلکش مسکراہٹ اسکے وجاہت سے بھرپور وجود کو چار چاند لگا رہے تھے
اتنے میں بجتا میوزک ایک دم بند ہوا
اور سامنے سیڑھیوں سے عین اترتی ہوئی آرہی تھی بلیک کلر کے فراک اور بلیک ہی چوڑی دار پاجامہ پہنے ہمرنگ حجاب پہنے سہج سہج کر قدم رکھتی سپوٹ لائٹ کی روشنی میں اتر رہی تھی۔۔۔۔
سوائے گھر والوں کے باہر کا کوئی بھی مردانہ نہیں تھا عورتیں ضرور موجود تھیں
عین بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی
سالار یک ٹک سا اسے گہری چاہت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا
سالار کی نظروں کی تپش عین باخوبی اپنے اوپر شدت سے محسوس کر رہی تھی اور وہ پگھلی جارہی تھی
سالار نے آخری سیڑھی پر عین کے پہنچنے پر
اسکو ہاتھ تھام کر اتارا اور پھر درمیان میں لاکر کھڑا ہوگیا اور بایاں ہاتھ اسکی کمر کے گرد پھیلا لیا ۔۔۔۔ عین نے شرماتے ہوئے اسے آنکھیں دکھا ئیں کہ باقیوں کا ہی خیال کر لو کچھ مگر سالار کو کہاں فرق پڑنے والا تھا۔۔۔۔۔ مزے مسکراتے ہوئے اسے آنکھ ماری اور اسے اور بھی اپنے قریب کیا
نور سٹپٹاتے ہوئے آس پاس دیکھا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ۔۔۔۔ پھر تسلی ہونے پر اسکی طرف دیکھنا ہی چھوڑ دیا کہ یہ کہاں باز آئے گے تم ہی احتیاط کرلو تھوڑی ۔۔۔۔۔
ارے بھئی اپنی بچی کے بغیر ہی کیک کٹ کرلوگے گیا آپ دونوں ۔۔۔۔۔۔۔
رباب کیک پر نظریں رکھے اپنے بھاری وجود کو چھپائے مزے سے بولی
اللہ تعالہ برہان کو ایک اور خوشی سے نواز نے والا تھا
ہاں بھئی کہاں ہیں ہماری جنم کی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار پھر سے شرارت کرتے ہوئے بولا تو سب نے بے ساختہ قہقہے لگانے لگے۔۔۔۔۔
یہ رہی ہماری سب کی جان ۔۔۔۔۔
حورالعین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عین کی گود میں حورالعین کو شمائلہ بیگم نے پکڑاتے ہوئے پیار سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں نے اسے پکڑ کر مسکراتے ہوئے زندگی سے بھرپور مکمل منظر کے ساتھ کیک کاٹا ۔۔۔۔۔۔
آج انکی ویڈنگ اینی ورسری تھی جو سالار نے بڑی دھوم دھام سے منائی تھی
کیمرے نے ان تینوں کی یادگار فوٹو کھینچی تھی
حور بہت جلد سو بھی گئی تھی اور رباب اسے اور اپنی دونوں بیٹیوں کو لئے گھر کے لئے نکل پڑی چونکہ آج انکی اینی ورسری تھی تو وہ ان دونوں کو کچھ ٹائم اکیلے میں بتا نے کے لئے چھوڑ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی سب بھی جاچکے تھے
نور چینج کرنے گئی تھی ۔۔۔۔ سالار نے اس سے کہا تھا
سالار نیچے لاؤنج میں کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا جب عین شرم سے سرخ ہوتی اسکے پیچھے آئی اور سالار اسے دیکھتے ہی مبہوت رہ گیا
تیز مونگیا رنگ کے سلیو لیس گھٹنوں تک آتی ڈریس میں وہ بے پناہ خوبصورت لگ رہی تھی
سالار اسکے آگے ہاتھ بڑھایا جس کو عین نے بنا دیر کئے اپنا ہاتھ اسے سونپ دیا
سالار اسے لئے کارپٹ پہ بلکل درمیان میں آیا اور پھر مدھر سا میوزک بجنے لگا سالار اور عین ایک دوسرے میں کھوئے ڈانس کرنے لگے تھے
انکی آنکھوں کے سامنے ہر وہ منظر گھومنے لگا جو ان دونوں کی زندگی میں خوشی اور غم کی وجہ بنے تھے
دونوں اب اپنی زندگی سے مطمئن تھے خوش و شادماں تھے
اب کوئی بھی غم کا بادل ان پر نہیں آنے والا تھا اگر آیا بھی تو دونوں مل کر اسکا سا منہ کریں گے
سالار نے عین کو اپنی باہوں میں بھر کر اٹھایا اور اپنی منزل کی جانب بڑھ گیا جہاں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں اسکی منتظر تھیں جہاں کوئی بھی انکی خوشیوں کو نظر لگانے والا نہ تھا۔۔۔۔۔۔
سالار اور عین ایک ہوگئے تھے ہمیشہ کے لئے ۔۔۔ تا عمر ۔۔۔۔۔ تک۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
ختم شد
