Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
اپنی سڑی ہوئی شکل دکھا نے کا مقصد۔۔۔۔۔
سالار اس وقت ایک چھوٹے سے ہوٹل میں لکڑی کی سادی سی چئیر پر بیٹھا مٹی کے پیالے میں چائے کے ہلکے ہلکے سپ لے رہا تھا اور اپنے سامنے بیٹھے ٹانگ پر ٹانگ جمائے کالے سیاہ رنگ کے شکل کے آدمی سے محو گفتگو تھا جو اپنی نیلی آنکھوں سے طنزیہ تاثر لئے سامنے روڈ پہ دوڑتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا
ہاں ۔۔۔۔ مقصد تو بلکل ہے ۔۔۔۔ اس شخص نے اپنے لبوں پر دو انگلیاں پھیر تے ہوئے سکون سے کہا
میرے پاس اتنا فالتو ٹائیم نہیں ہے تم جیسے لوگوں کے لئے۔۔۔۔ اس لئے جلدی سے پھوٹو۔۔۔۔
سالار کی آنکھوں میں پھر سے وحشت در آئی تھی غصے سے اسکی آنکھیں باہر نکلنے کو تھیں
اسے بس عین کی ہی فکر کھائے جا رہی تھی جسے وہ اکیلے چھوڑ آیا تھا
میزی پاکستان آچکی ہے ۔۔۔۔!!!
اس شخص نے اپنی خیریت کے پیش نظر واپس سنجیدہ ہوتے ہوئے سیدھے سیدھے ملنے کا مقصد بتایا
اسکی بات سن کر سالار پہلے تو چونک پڑا پھر اپنے تاثرات کو قابو رکھتے ہوئے آنکھوں کو جنبش دی کہ اور۔۔۔۔۔۔
اور وہ اس وقت مری میں ہے۔۔۔۔۔
اس مرتبہ سالار نے کوئی تاثر نہیں محسوس ہونے دیا۔
وہ اپنے سیلی کے لئے یہاں آئی ہے ۔۔۔
سالار نے آخری سپ بھرا اور کھڑا ہوا۔۔
وہ اس وقت آپ کے گھر پر ہے
سالار اچانک مڑا جو باہر کی طرف قدم بڑھا چکا تھا۔۔۔ مطلب۔۔؟؟؟
ہونہہ۔۔۔۔۔ اس شخص نے سر ہلایا
سالار غصے سے بھری آنکھوں سے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔ اسے فکر تھی تو بس عین کی نہ جانے اس نے عین کو اب تک کیا بتایا ہوگا یہ سوچ کر ہی اسکی دھڑکنیں بے ترتیب ہوں رہی تھیں سب جان کر عین کا کیا رد عمل ہوگا
کہیں وہ مجھے چھوڑ کر ہی نہ چلی جائے۔۔۔
نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ نہ۔۔۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔ تم مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤگی عین کہیں بھی نہیں ۔۔۔۔ تم کو میں سب سے چھپا لوگا ۔۔۔۔۔ میں تمہیں بہت چاہتا ہوں عین۔۔۔۔ پلیز مجھ سے دور مت جانا اتنے وقت بعد تو مجھے چین وسکون کی نیند نصیب ہوئی ہے ۔۔۔۔۔
سالار گاڑی چلاتے ہوئے شکستہ حالت میں اپنی عین سے بات کر رہا تھا کہ اب سکت نہیں مجھ میں کسی رشتے کو کھونے کی ۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔۔
میزی ۔۔۔۔ دانت آپس میں گھسیٹتے ہوئے اسکا نام لیا جیسے وہ اسکے منہ میں ہی ہو ۔۔۔۔
تمہیں تو میں نہیں چھوڑوں گا اب ۔۔۔ اگر عین مجھ سے دور ہوئی تو میں نہ تو تمہارے پاس سانسیں چھوڑوں گا اور نہ موت ۔۔۔۔۔
سٹیرنگ زور سے جکڑے جس سے اسکے ہاتھ کی نسیں پھٹنے کے در پہ تھیں فل سپیڈ پر گاڑی دوڑا رہا تھا
سالار جب وہاں پہنچا تو جلدی سے دروازہ مارتے ہوئے گھر کے اندر چلا گیا جہاں میزی اسے کہیں نظر نہ آئی البتہ عین واشروم میں شائد شاور لے رہی تھی۔۔۔۔
بے چینی سے چکر لگاتے ہوئے وہ شدت سے عین کے باہر آنے کا انتظار کر نے لگا
عین جب واشروم سے باہر آئی تو سالار نے بھاگنے کے سے انداز میں اسے اپنے ساتھ سختی سے اتنا بھینچ لیا کہ نور کی سانسیں ہی رکنے لگیں یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ سالار کو کیا ہوگیا
سس۔۔۔۔۔ سا۔۔۔ لار۔۔۔۔۔
گھٹن سے اس کی آواز بھی بہت مشکل سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے۔۔
عین۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔
شدت جزبات سے اسکی آواز لڑکھڑا رہی تھی نہ جانے کیسا خوف تھا کہ اگر اس نے اسے الگ کیا تو عین اس سے ناراضگی کا اظہار کرنے لگ جائے گی اور پھر چھوڑ کر دور چلی جائے گی۔۔
عین ۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔ پلیز کچھ بولو ۔۔کچھ تو بولو ۔۔۔۔ پلیز کچھ ایسا بولو کہ تمہارے الفاظ میری ڈھارس بندھ جائیں اور مجھے سکون مل جائے۔۔۔
آ۔۔۔ پ۔۔۔۔۔ کو۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ چھوڑیں میرا۔۔۔۔۔ سانس بند ہو۔۔۔۔۔رہا ہے۔۔۔۔۔
سالار نے جھٹ سے اپنی گرفت کی سختی کو کم کیا اور چہرہ نور کے سامنے کر اسکے معصوم چہرے سے کچھ کھوجنے لگا۔۔۔
نور لمبی گہری سانسیں لے رہی تھی آج تو لگتا ہے مر ہی جانا تھا میں نے۔۔۔ نور خود سے بول رہی تھی کہ اسے سالار کی آواز سنائی دی
عین۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
نور نے بے ساختہ سالار کی آنکھوں میں جھانکا جہاں سالار بے چینی لئے اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا کچھ دیر تک تو وہ اسے ایسے آنکھوں ہی آنکھوں میں ٹٹولتا رہا پھر مطمئن ہوکر کہ اسے ابھی کچھ پتہ نہیں چلا تو لمبی سانس لے کر اپنا ماتھا اس کے سر سے ٹکرایا اور ایسے ہی کھڑا رہا شائد اپنے آپ کو یقین دلا رہا تھا کہ عین اسکے ساتھ ہے اسے چھوڑ کر کہیں نہیں گئی اسکے پاس ہے اور ہمیشہ پاس ہی رہے گی
ایک آسودہ مسکراہٹ اسکے بھرے بھرے لبوں پر اپنی چھب دکھلا نے لگی
کافی دیر بعد خود کو ایسے ہی یقین دلا نے کے بعد سالار نے اسے صوفہ پر بٹھایا اور سوٹ کیس میں سے ایک جوڑا نکالا اور عین کی گود میں رکھ کر اسے چینج کرنے کا کہہ کر خود سوٹ کیس میں وارڈروب میں سے سارے کپڑے نکال کر رکھنے لگا ۔۔۔
ہم واپس جا رہے ہیں۔۔۔۔۔
ہاتھ چلاتے ہوئے سالار نے اسے ایک اور جھٹکا دیا ۔۔۔
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
جلدی کرو وقت نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ نور کچھ کہہ پاتی سالار نے اسے بیچ میں ہی ٹوک کر چپ کرا دیا ۔۔۔۔
نور حیرانی سے اسے دیکھا جو اب پھر سنجیدگی کا خول چڑھائے اپنے کام میں مگن تھا۔۔۔۔
ایک تو انکا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کب کیا ہیں تو کب کیا۔۔۔۔ اف۔۔۔۔
پھر بےدلی سے اٹھ کر چینج کرنے چلی گئی ۔۔۔
میزی آنکھ سورج کی پڑتی شعاوں سے کھلی تھی چکراتے ہوئے سر کے ساتھ مندی مندی آنکھوں سے وہ اٹھ بیٹھی سر پکڑ کر وہ گزدے وقت کے بارے میں سوچنے لگی تھی کہ نور کا چہرہ اسکے سامنے لہرا گیا
غصے سے اس نے اپنے دونوں ہاتھ زور سے بیڈ پر مارے جیسے نور کو مارا ہو ۔۔۔۔
تمہاری بربادی شروع مس نور ۔۔۔۔ اب تمہاری زندگی میں اتنی تنگ کردوں گی کہ تم گھٹن سے مرنا چاہوگی ۔۔۔۔ بس اب تمہیں میرے عتاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا ۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔۔۔ سالار شجاعت بھی نہیں۔۔۔!!!
سالار تم ایسے کیسے کر گئے میرے ساتھ ۔۔۔کیوں کیا تم نے ایسا ۔۔۔۔ تم تو کہتے تھے کہ تم مجھے چاہتے ہو ۔۔۔ تمہاری سانسوں میں تمہاری چاہت تمہاری زندگی بستی ہے تو پھر کیسے کسی اور کو ان سانسوں میں شراکت دے دی ۔۔۔۔
کیسےےےےےے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آاااااا۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے سیلی کیسے۔۔۔۔۔۔۔
میزی سالار کے اس وار پہ ٹوٹے ہوئی ڈال کی طرح بکھر کر گر چکی تھی ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رودی شائد آخری مرتبہ
تاکہ اب انتقام لیتے وقت کوئی بھی چیز اس کے راستے میں نہ آسکے۔۔۔۔۔۔
اب تم میرا بدلہ دیکھو گے سیلی ۔۔۔۔۔ میرا بدلہ۔,
سر سالار شجاعت واپس چلا گیا ہے مری سے اور اپنی وائف کو بھی ۔۔۔۔۔
ظاہر ہے اسے بھی ساتھ ہی لے کر جائے گا نہیں تو جن بھوت کے لئے چھوڑ جائے۔۔۔
سفیان جو ابھی اپنے سینئر کو بتا ہی رہا تھا کہ اس شخص نے بیچ میں ہی اسکی بات کو ٹوک دیا ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔ میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ وہ پہلی بیوی سے بھاگ کر گیا۔۔۔۔۔۔
بھاگ کر نہیں سفیان اپنی بیوی کو بچا کر گیا ہے سالار شجاعت کبھی اپنے باپ کو خاطر میں نہ لائے تو یہ تو پھر بھی اسکی مجبوری کی بیوی ہے ۔۔۔ اسے تو وہ یوں چٹکیوں میں مسل کر رکھ دے ۔۔۔۔۔
مگر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی سر سالار شجاعت نے سہیل خان کی بیٹی سے شادی کیوں کی جب کہ وہ اس
سہیل خان اسکے دشمن اول کی لاڈلی دختر ہیں۔۔۔۔؟؟؟
وقت۔۔۔۔۔ وقت سفیان۔۔۔۔ وقت سب بتادےگا اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔۔۔۔۔ وہ عجیب مسکراہٹ ہونٹوں پہ لائے کسی سوچ میں گم بولا
اور سناؤ اس میکی کے گھر والوں کا۔۔۔ معاملہ کہاں تک پہنچا ۔۔۔۔؟؟؟
معاملہ کہاں پہنچنا تھا سر ۔۔۔ سالار شجاعت نے کبھی کچھ چھوڑا ہے جس سے ہوئی اسے ہاتھ ڈال سکے نہ جانے کون ہے وہ جو ہمیشہ اسے بچا لیتا ہے ۔۔۔ ہر بار خبر پہنچ جاتی ہے اسے ۔۔۔
اب بھی اسی شخص کا دیکھ لیں میکی کو کتنی بے رحمی سے مارا کہ اسی کے گھر والے اسے پہچان ہی نہیں پارہے تھے ۔۔۔ اسکے باپ نے تو غم میں سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لی ہےاوپر سے سارا معاملہ کسی جانور کے سر تھوپ دیا پتہ نہیں کس بچارے جانور کا نام بدنام کیا ہوگا۔۔۔
سفیان بےبدلی سے سالار شجاعت کے کارنامے کی نئی بریفنگ دے رہا تھا
وہ تم بھی تو ہو سکتے ہو سفیان جو یہاں کی خبریں اسے پہنچاتا ہے ۔۔۔۔ اس شخص نے ابرو اچکا کر اسے ڈراوا دیا
سفیان یہ سب سن کر سچ میں ڈر گیا
سر xyz یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
فضول گوئی سے پرہیز کیا کرو اور اصل مدعے پر آؤ ۔۔۔۔ہمارے خبری نے کوئی انفارمیشن دی ابھی تک کہ نہیں ۔۔۔۔
سر ان کو میک اپ سے فرصت نصیب ہو تو کوئی خبر دیں ۔۔۔۔
واٹ۔۔۔۔۔؟؟؟
میرا مطلب ہے سر آپ کو پتہ تو ہے کہ وہ ایک لیڈی ہے اوپر سے کممم۔۔۔۔ عمر بھی تو ظاہر ہے ایٹیٹیوڈ تو دکھانا ہی ہے نہ۔۔۔۔ سفیان جل کر بولا اسکی ہمیشہ سے اس سے ان بن رہی تھی اسی لئے وہ دونوں اکثر لڑتے رہتے تھے۔۔۔
کس کی بات کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔
اس نے چونک کر پوچھا
اور کس کی سر ون اینڈ اونلی زہییییین ۔۔۔۔ فطین۔۔۔۔ دی گریٹ پریہان شیر خانی۔۔۔۔۔۔(ہم تو جیسے نٹھلے ہیں نہ۔۔۔۔۔ ہونہہ) سفیان چڑ کر بولا
او ۔۔۔۔۔ پر یہ تو خبری نہیں تھا ہمارا یہ تو ۔۔۔۔۔.
بلکل سر لیکن موصوفہ آجکل سپیشل سروسز بھی دے رہی ہیں ۔۔۔۔ منہ بنا کر کہا گیا
ہا ہا ہا۔۔۔ دھیان رکھنا اسکے سامنے کہیں لیڈی نہ بول دینا۔۔۔ جانتے ہو اسے کتنی سخت چڑ ہے اس لفظ سے۔۔۔۔۔ اس نے اسے وارن کرنا لازمی سمجھا
وائے ناٹ سر ۔۔۔۔ میں نے مکھیوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال کر مرنا تھوڑی ہے۔.
ہا ہا ہا ۔۔۔۔ آنے دو اسے یہ تو میں لازمی بتاؤ گا اسے۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔ مکھیوں کا چھتہ۔۔,۔۔۔
اب پیچھے سفیان بچارا گھگھیا کر رہ گیا مگر اپنے تاثرات مہارت سے چھپا گیا۔۔
ہائے اللہ جی خیر۔۔۔۔۔۔!!!!
سالار عین کو لیکر واپس خواب جہاں آچکا تھا اور آتے ہی سٹڈی روم میں گھسا خود کو لاک کے کئے نہ جانے کیا کر رہا تھا ۔۔۔۔.
نور کمرے میں بیٹھی بور ہو رہی تھی ۔۔۔ اب پتہ نہیں مجھے یہاں چھوڑ کر خود نہ جانے کہاں روپوش ہو گئے ہیں۔۔۔۔ اففففف۔۔۔۔۔ اب میں کیا کروں۔۔۔۔ نور ادھر ادھر’ادھر نظریں گھمائے خود سے باتیں کر رہی تھی کہ اسے کسی کی رونے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔
ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟ یہ کون رو رہا ہے؟؟؟؟
نور اٹھی اور آواز کا تعاقب کرتے ہوئے ٹیرس میں آگئی اور جب سامنے گملے کے پیچھے دیکھا تو ایک بلی بارش کے پانی سے سکڑی سمٹی ٹھٹر رہی تھی۔۔ نور کو اسے دیکھ کر ایکدم رونا آگیا اور دوڑ کر اسے اپنے نازک بازؤوں میں اٹھا لیا۔۔۔
ہائے ۔۔۔۔۔ اتنی سردی میں آپ یہاں کیا کر رہی تھیں ۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔ اف نہ جانے کب سے ہو آپ یہاں ۔۔۔۔ پیار سے بولتے ہوئے نور اسے اندر روم میں لے آئی اور وارڈروب میں سے ایک ٹاول نکال کر اسکا پورا گیلا جسم خشک کرنے لگی ۔۔۔
چچچ۔۔۔۔۔ بے چاری کہیں بیمار ہی نہ پڑجائے۔۔۔
نور جلدی سے اسے بلینکٹ اوڑھا کر کچن میں گئی اور ایک پیالے میں دودھ گرم کیا اور واپس روم میں آئی اور بلی کو اٹھا کر دودھ پلانے لگی ۔۔۔۔ بلی بھی شائد کافی دنوں سے بھوکی تھی اسی لئے غٹاغٹ سارا دودھ پی گئی اور اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔ نور نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا اور کہا کہ کیا تمہیں اور چاہیے تو بلی صاحبہ جھٹ سے بول پڑیں۔۔۔۔ میاؤؤں۔۔۔۔۔۔
اوووو۔۔۔۔۔ میری پیاری رہا میں ابھی لاتی ہوں ۔۔
نور کہہ کر گئی اور فورا”ہی ایک اور دودھ کا پیالہ لے آئی اور اسکے آگے رکھا۔۔۔۔بلی مزے سے اب دودھ پی رہی تھی۔۔۔
نور نے کچھ سوچتے ہوئے اٹھی اور اپنے پہلے والے روم میں چلی آئی ۔۔۔ چھپتے چھپاتے وہ محتاط قدموں سے چل رہی تھی کہ کہیں سالار کو پتہ ہی نہ چل جائے کہ وہ اس کی موجودگی میں نیچے گئی ہے ۔۔۔۔
جلد ہی وہ اپنے ہاتھ میں کچھ پکڑے واپس آئی تب تک بلی صاحبہ پیالہ چٹ کرچکی تھیں
یہ دیکھو میں تمہارے لئے کیا لائی ہوں ۔۔۔
اسکے سامنے کوئی ڈریس سوئیٹر کرتے ہوئے جوش سے بولی اور پھر خوشی خوشی اسے پہنا بھی دیا۔۔۔۔۔
ارے واہ دیکھو تمہیں. میرا بچپن کا سوٹ آبھی گیا ۔۔۔ نور چہکتے ہوئے بولی اور جھٹ سے اسکی بلائیں بھی لے ڈالیں۔۔
تم کو پتہ ہے یہ میرا بچپن کا ڈریس ہے جو میں نے ماما سے مانگ کر اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور کبھی کبھی نکال کر اپنی بچپن کی یادیں اور باتیں تازہ کرتی تھی ۔۔۔ نور کھوئے کھوئے انداز میں بولی اور بلی کے میاؤں میاؤں کرنے پر واپس اسکی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔
کیا تمہیں اور بھوک لگی ہے ۔۔۔۔؟؟؟
میاؤؤؤں۔۔۔۔۔۔
اچھا رکو میں تمہارے لئے بسکٹ لے کر آتی ہوں خالی دودھ بھی نہیں پینا ہوتا نہ کچھ کھانا بھی پڑے گا تمہیں ۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔ رکو میں ابھی آئی کہتے ساتھ ہی نور کچن کی طرف بڑھ گئی اور سالار اس سب سے بے خبر ابھی تک سٹڈی روم کا دروازہ لاک کئے نہ جانے کون سے خزانے تلاش کر رہا تھا۔۔۔۔
ہاں سنو۔۔۔۔۔۔۔
کام ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔
ظاہر ہے ٹریٹ تو بنتی ہے ۔۔۔۔ ہاں ہاں ۔۔۔۔
اتنے عرصے سے جو نہیں ہو رہا تھا وہ کردیا۔۔۔
ہونہہ ۔۔۔۔ تو تم کر لیتے یہ سب مجھے کیوں کہا تم نے۔۔۔۔ اب اتنا بھی آسان نہیں تھا سہیل خان کی بیٹی ہے وہ ۔۔۔۔ شاطر چالاک آدمی کی۔۔۔
چلو اب آگے کا تو کام آسان ہوگا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اب فون رکھو اور ہاں باس کو بھی بتا دینا مجھے شائد موقع نہ ملے ہونہہ ۔۔۔۔
چل میکائیل بیٹا ایک لیول تو پار کر لیا تو نے اب اگلا بھی کر لے ۔۔۔۔۔
میزی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افففف۔۔۔۔۔
اب نہ جانے کب تک یہ سب کرنا پڑےگا۔۔۔۔۔
یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
سالار جب کافی دیر بعد سٹڈی روم سے نکلا تو سامنے کا منظر دیکھ کر تو اسکے ہوش ہی اڑ گئے۔۔۔۔
نور بلی کو صوفے پہ بٹھائے اسکے سامنے بیٹھی لاڈ کر رہی تھی۔۔۔۔
ارے میری شونا۔۔۔۔ ہمممممم۔۔۔۔۔۔ گچو ۔۔۔۔ گچو۔۔۔۔۔۔آئی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔ تم کتنی سوفٹ سوفٹ ہو میری عین ۔۔۔. کتنی پیالی ہو۔۔۔۔۔ امممماہ۔۔۔۔۔
فلائنگ کس دی گئی بلی صاحبہ کو ۔۔۔۔
سالار کو تو یہ دیکھ کر طیش ہی چڑ گیا۔۔۔۔۔
ایک تو اس بلی کو ایسے تیار کرکے لاڈ اٹھا رہی ہے جیسے یہ ہمارا بچہ ہو ۔۔۔۔۔ اور اوپر سے فلائنگ کس کی جارہی ہے ۔۔۔۔۔ مجھے تو کبھی پیار سے دیکھا تک نہیں اور اسے ۔۔۔۔۔.
عین۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
غصے سے بلند آواز میں اسے بلایا۔۔
نور ڈر کے مارے اچھل ہی پڑی ۔۔۔۔۔۔
کیا کرتے ہیں آپ۔۔۔۔۔ ابھی عین ڈر جاتی۔۔۔۔۔
سالار کو چڑ کر ٹوکتے ہوئے بلی کو پیار سے سہلایا
سالار تو اس بلی کو عین کہنے پر ہی آگ بگولا ہو گیا۔۔۔۔
سالار کو لگا کہ شائد سننے میں غلطی ہوئی ہے اس لئے پھر سے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔۔۔؟؟؟؟
یہ عین ہے۔۔۔۔۔!!!!
کیاااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نہیں یہ عین نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔۔!!!!
یہ عین ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!
نہیں کہا نہ۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔!!
ہاں کہا نہ۔۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔!!
میاؤؤؤؤؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔?????
اسکی تو میں تمہیں نظر نہیں آرہا میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں۔۔۔
سالار کو بلی کی بے جا مداخلت بلکل بھی پسند نہیں آئی اس لئے اسکی طرف غصے سے لپکا اور اسے سنا ڈالیں جیسے وہ انسانوں کی ہی تو سنتی ہے زبان ۔۔۔۔۔
خبردار ۔۔۔۔۔!!!!!
اگر آپ نے اسے ہاتھ بھی لگایا تو مجھ سے برا کوئی بھی نہ ہوگا۔۔۔۔۔
اس تک پہنچنے کے لئے آپ کو میری لاش پر سے گزرنا ہوگا۔
نور کچھ زیادہ ہی جزبات میں بہہ گئی تھی مگر پھر جلد ہی سالار کے بدلتے تاثرات کو دیکھ کر اسے اچھی طرح اندازہ ہوگیا کہ اب بچنا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔(دونوں کا)……….
جاری۔۔۔۔۔۔۔
