54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

نور سوئی ہوئی تھی جب اسے سر پر مانوس سا لمس محسوس ہوا
آہستہ سے اپنی پلکیں وا کیں تو سامنے دادا جان کو پایاانہیں دیکھتے ہی نور نے رونا شروع کر دیا
دادا جان اسکے سر پہ شفقت و محبت سے ہاتھ پھیر رہے تھے
بس بس میری بچی۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کرو شاباش سب بھول جاؤ ایک بھیانک خواب سمجھ کر چلو جلدی سے فریش ہوجاؤ میں آپ کا باہر انتظار کر رہا ہوں
ٹھیک ہے بچہ چلو گھر چلیں نہیں تو سب پریشان ہو جائیں گے
اور دھیان سے گھر میں تمام خواتین کو کچھ معلوم نہیں ہے اور انہیں انجان ہی رکھنا ہے ہم نے نہیں تو آپ کو تو پتہ ہی ہے زرا زرا سی بات پر کتنا پریشان ہو جاتیں ہیں
چلو شاباش۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان اسے فریش ہونے کا کہہ کر خود باہر اسکا انتظار کر نے لگے
نور تھوڑی دیر بعد باہر آئی تو اسے خاموشی سے لیکر گھر کی طرف روانہ ہوگئے
سالار نے ہی دادا جان سے کہا تھا کہ اسے لے جائیں
سالار نہیں چاہتا تھا کہ عین اسکے غصے کا شکار ہو۔۔۔۔۔۔۔۔


سالار نے باکس کھول کر اس میں سے ہرے ر نگ کا سانپ نکالا اور باکس کو بند کر دیا
رباب سانپ کو دیکھ کر لرز گئی ا بھی اسکی نگاہیں اسی پر تھیں کہ سالار نے اسے رباب کی گردن پر رکھ دیا
سانپ نے اسکے گلے میں جاتے ہی گھیرا ڈال لیا اور اپنی گرفت سخت تر کر دی
رباب کا سانس لینا دوبھر ہو رہا تھا بند ہو تیں سانسوں کے ساتھ اس نے سانپ کو ہٹانے کے لئے ہاتھ بڑھا یا تو سالار نے اسے روک دیا
اگر تم نے اسے ہاتھ لگایا تو یہ تمہیں کاٹ لے گا پھر دو سیکنڈ کے اندر اندر تم مر جاؤگی سفاکیت سے سالار نے تنبہہ کرنا ضروری
سمجھا۔۔۔۔
رباب کے ہاتھ وہی ٹھر گئے
آنسو بھری آنکھوں سے وہ اسے دیکھنے لگی
اسکی آنکھوں میں موجود سوالوں اور بے چارگی کو دیکھتے ہوئے
طنزئیہ مسکراہٹ ابھری پھر قدرے آگے کو جھکتے ہوئے اس نے وحشت سے بھرپور خوفناک آنکھوں سے اسکی آنکھوں میں دیکھا
آئندہ ۔۔۔۔۔عین ۔۔۔۔۔۔سے دور رہنا
چبا چبا کر کہا گیا
آئندہ تمہاری وجہ سے وہ کسی مصیبت میں آئی تو اسے تمہارے حلق میں ڈالوں گا اور نکالو گا بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔Got it۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دھاڑا
رباب سکتے کے عالم میں اسے سن رہی تھی اسکے ایکدم دھاڑنے پہ بمشکل سر ہاں میں ہلاسکی
سالار نے جب دیکھا کہ رباب کا چہرہ خطرناک حد تک سفید پڑ چکا ہے اور بمشکل ٹوٹ ٹوٹ کر سانس لے پارہی ہے تو اس نے آرام سے سانپ ہٹا کر باکس میں ڈال کر بند کر دیا
رباب گلے کو مسلتے ہوئے بے تحاشہ کھانسنے لگی
دفعہ ہوجاؤ۔۔۔۔۔۔۔
سالار غرایا
رباب بجلی کی سی تیزی سے یہاں سے بھاگ گئی
اپنے کمرے میں بند ہو کر سالار کے اس رویے اور حرکت پر پھوٹ پھوٹ کر رودی


نور گھر آچکی تھی اور اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی جو بھی گزرے دن ہوا اس سے اس کے اعصاب بری طرح متاثر ہوئے تھے جس سے اسے بہت تیز بخار ہوگیا تھا
ڈاکٹر نے اسے نیند کا انجیکشن لگا دیا تھا اور اسے آرام کر نے کا کہا تھا اس سے یہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی
کتنا پڑھتی ہے نہ میری بچی اسی لئے بیمار ہو گئ ہے
اسے کتنا کہتی ہوں میں کہ کبھی آرام بھی کر لیا کرو مگر نہیں کہاں سنتی ہے یہ لڑکی
شمائلہ بیگم نے پریشان کںن لہجے میں اسکے سر پہ ہاتھ پھیر تے ہوئے کہا جو پیلا پڑچکا تھا
ٹھیک کہہ رہی ہو شمائلہ مجھے تو لگتا ہے کہ اسے کسی کی نظر لگ گئی ہے ہمیں اسکی نظر اتارنی چاہیے
حورم بیگم بھی نور کو لیکر بہت ٹینس تھیں
نجمہ بیگم اور نسیمہ بیگم کا حال بھی ان سے جدا نہ تھا تمام گھر والے اسے لیکر بہت پریشان تھے رات گئے ہر کوئی اسے دیکھنے آتا رہا
اگر کوئی نہ آیا تو رباب اور سالار ، سالار تو گھر پہ ہی نہیں تھا
اور رباب وہ تو ابھی تک خود خوف کے اثر اثر تھی
کسی نے نور کیا ہو یا نہ کیا ہو برہان نے اس بات کو بہت نوٹ کیا تھا
رباب اور نور تو دو جسم ایک جان ہیں تو اسکی بیماری کے دوران
اسے ملنے ایک بھی بار کیوں نہ آئی جبکہ وہ تو اپنے کمرے میں کم
نور کے کمرے میں زیادہ پائی جاتی تھی
پتہ کرنا ہوگا
یہ سو چ کر برہان اٹھا اور رباب کے کمرے کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔


رباب کمرے میں بند لائٹ آف کئے اپنے بستر میں چھپی لیٹی ہوئی تھی
اسے نور کے بارے میں پتہ چلا تھا مگر بہت چاہنے کے باوجود بھی اسکے پاس جانے کی ہمت نہ کر پائی
جب بھی وہ جانے کا سوچتی تو سالار کی خوفناک آنکھیں یاد آیا تیں
ابھی بھی وہ نور کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ دروازے پہ دستک ہوئ
آجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانپ کے لپٹنے کی وجہ سے اسکے گلے میں بہت درد ہو رہا تھا جس سے اسے بولنے میں مشکل ہو رہی تھی
برہان اندر داخل ہوا اور اسکے سرہانے جاکر کھڑا ہوگیا
اسکی حالت دیکھ کر تو برہان حیران ہوگیا
بکھرے بال سوجی آنکھیں اور شکن زدہ کپڑے۔۔۔۔۔۔
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے رباب تم نے۔۔۔۔برہان اسکی حالت پہ بہت پریشان ہو چکا تھا جبکہ رباب اپنا چہرہ جھکائے خاموش بیٹھی تھی
کچھ دیر تک برہان اسکے جھکے سر کو دیکھتا رہا پھر اس سے فاصلے پہ بیٹھتے ہوئے اسے خاموش پاکر خود ہی بول پڑا
میں جانتا ہوں رباب کہ تمہیں گلٹ فیل ہو رہا ہے کہ اگر تم ایک بار
ایک کر لیتی کہ نور گاڑی میں ہے بھی یا نہیں تو ایسا نہ ہوتا
مگر تم یہ بھی تو دیکھو نہ کہ تم نے کتنی بہادری سے اس سیچوئشن کو ہینڈل کیا تھا
نہیں تو نور تو کیا تم تینوں کے ساتھ نہ جانے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگے برہان نے لب بھینچ لئے
جب رباب تب بھی نہ بولی تو برہان کو غصہ ہی آگیا وہ کب اسے اس حال میں دیکھ سکتا تھا اس لئے فورا” بولا
سمجھ گیا تم اپنی دو ٹکے کی۔۔۔۔۔۔۔نہیں اس سے بھی نیچے فضول
قسم والی ایکٹنگ کر رہی ہو
قسم سے رباب موٹی بہت ہی احمق لگ رہی ہو
تمہیں دیکھ کر تو مجھے وومیٹنگ ہو رہی ہے برہان وومیٹنگ کرنے کی ایکٹنگ کر تے ہوئے بولا
رباب نے اپنا جھکا سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا
وہ ہمیشہ ہی اسکے ساتھ رہتا تھا کوئی فیل کرے یا نہ کرے مگر برہان اسکی کمی سب سے پہلے محسوس کر تا تھا
اسکے اس طرح کے کئرنگ انداز ہی رباب کو ہواؤں میں اڑاتے تھے
رباب نے اپنا آپ سنبھالا کہ اسکی وجہ سے دوسرے کیوں پریشان ہو ں اسی لئے وہ خود کو کمپوز کرتی اسکی طرف متوجہ ہو ئی
اور لبوں پر شریر مسکان لاتے ہوئے اس سے بولی
مبارک ہو برہان۔۔۔۔۔۔۔!
ہیں کیا۔۔۔۔۔؟؟
برہان جو اسکے خوبصورت چہرے کے اتار چڑہاؤ کو سمجھنے میں مصروف تھا اسکی بے تکی بات پر اچھنبے سے بولا
کس چیز کی مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
پہلے تو تم مجھے مٹھائی کھلاؤ وہ بھی برفی اور گلاب جامن
ایک ایک کلو ڈبوں کے ساتھ وہ بھی صرف اور صرف میری۔۔۔۔۔۔۔
رباب کہیں تمہارے دماغ پر گلٹ کا اثر تو نہیں پڑ گیا۔۔۔۔۔۔!
برہان چلو بہانے نہ بناؤ جلدی سے میرا منہ مییٹھا کراؤ چلو شاباش۔۔۔۔
کس خوشی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟!!
ابرو اچکا کر حیرانی سے پوچھا
ہائے شرما رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
او سو سوئیٹ شرم تو آتی ہی ہے ایسی سیچوئشن میں۔۔۔۔۔۔۔
کیسی سیچوئشن رباب کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔حیرانی پہ حیرانی تھی اب تو برہان کو واقعی شک ہو رہا تھا کہ رباب کے دماغ کے پرزے ادھر ‘ادھر نکل گئے ہیں
ارے کس خوشی میں کیا مطلب تمہاری ماں بننے کی خوشی میں یہ کہتے ہی رباب جھپاک سے باتھروم میں بھاگ گئی
جبکہ برہان تو نا سمجھی سے وہیں بیٹھا کا بیٹھا دہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔
جب بات سمجھ آئی تو صدمے سے چیخ ہی پڑا
کیا ااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟
رباب کی بچی دال دال کچھ بھوتنی بریک ڈائننگ افلاطون تم نکلو تو باہر پھر بتاتا ہوں تمہیں میں۔۔۔۔۔۔
استغفار۔۔۔۔۔۔
باپ کا کہتی تو تھوڑا بہت جملہ ٹھیک بھی ہوتا سیدھا سیدھا ماں ہی بنا دیا۔۔۔۔۔۔۔
اسے میں کس اینگل سے ماں دکھتا ہوں
برہان غور غور سے خود کو شیشے میں دیکھ رہا تھا
پھر لا حول واللہ پڑھ کر تن فن کرتا باہر نکل گیا بدلے کا سوچ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔