54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

رباب اپنے روم سے نکل کر باہر کے نظارے دیکھ رہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی اس نے پیچھے مڑ دیکھا تو میکی سرد نظروں سے اسے گھور رہا تھا رباب اسے دیکھ کر ڈر گئ اور ساتھ ہی سب کچھ یاد آگیا۔۔۔۔
کیسی ہو رباب ڈارلنگ ۔۔۔۔ کہاں غائب ہو یار ۔۔۔۔۔ اب تو دکھتی ہی نہیں تم۔۔۔۔۔۔۔
میکی سرد نظروں سے مسکراتے ہوئے اس سے استفسار کر رہا تھا
میرے کام کا کیا ہوا بےبی ۔۔۔۔؟؟؟
یقیننا”کردیا ہوگا منہ تو تم کر ہی نہیں سکتی تمہارے پاس وقت بلکل بھی نہیں ہے رباب جان آج رات گیا رہ بجے نور اس پتہ پر آجانی چاہیے ۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔ ورنہ تم لوگوں کا مری کا یہ ٹرپ میں اور یادگار بنا نے میں وقت نہیں لگاؤگا بےبی۔۔۔۔۔۔
مری کے ہر گلی محلے روڈ دکانوں پر تمہاری بہن کی حسین تصویریں چسپاں کردی جائیں گیں جسے دیکھ کر تمہارے گھر والے کہیں خوشی سے مر ہی نہ جائیں
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میکی اسے ڈراتے ہوئے وارن کرنا نہیں بھولا
اگر کسی کو بتایا یا چالاکی دکھا نے کی کوشش کی تو میرے ایک بندے کے پاس کاپی موجود ہے تو زرا سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا
ہونہہ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
لاؤگی نہ میری محبوبہ کو میرے پاس ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بے قراری سے اسکی طرف جھکتے ہوئے اس سے پوچھا
رباب تو اتنا ڈری ہوئی تھی کہ اسکے حلق سے آواز تک نہیں نکل رہی تھی
بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میکی کے غرانے پر رباب حواس باختہ سی ہو گئ اور کانپتے لہجے میں جواب دیا
ہہ۔۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔۔ لاؤگی ۔۔۔۔۔۔۔ لاؤگی میں ۔۔۔۔ مم۔۔۔۔۔۔میں وہ عینی کو۔۔۔۔۔۔
میکی اسکی بات سن کر خوش ہوگیا اور مسرور سا اسے ہاتھ سے بائے کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا
رباب اسے ہی دیکھ رہی تھی کہ اسے کسی کی آواز سنائی دی
رباب ۔۔۔۔؟؟؟
ربا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ب۔۔۔۔!؟؟
ہاں کک۔۔۔۔۔ کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
برہان اسے کب سے آوازیں دے رہا تھا مگر رباب نہ جانے کہاں کھوئی ہوئی تھی
رباب نے خود کو سنبھال کر اسے دیکھا
کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔۔ تم پریشان لگ رہی ہو اگر کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
برہان ایسے کیسے ہو سکتا تھا اسکے پریشان چہرے کو نہ پڑھ پاتا
نہیں یار میں بلکل ٹھیک ہوں میں تو بس یہ خوبصورت نظارے دیکھ رہی تھی اور تم نے مجھے ڈسٹرب کردیا ہٹو جانے دو مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے جا کر کافی پیوں میں ۔۔۔۔ رباب اسے اپنے طور مطمئن کرکے وہاں سے چلی گئی مگر پیچھے برہان اسکی پشت کو تکتا سوچ رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوا ہے۔۔۔۔۔۔


سالار کافی دیر سے عین کا انتظار کر رہا تھا مگر وہ تھی کہ آہی نہیں رہی تھی بلآخر جھنجھلا کر وہ اسے لانے اٹھ کھڑا ہوا
وہ روم میں جب اینٹر ہوا تو نور سامنے گلاس وال کی طرف منہ کیے نہ جانے کیا کر رہی تھی کہ اسے سالار کی آنے کا بھی نہیں پتہ چلا ۔۔۔۔
سالار اسکے قریب گیا تو اسے کچھ عجیب سی آواز آئ اور نور شائد کچھ کر رہی تھی مگر کیا۔۔۔،؟؟
سالار نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا
عین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کی اچانک آواز سن کر نور پہلے تو سٹل ہو گئ پھر آہستہ سے اسکی طرف رخ موڑا ۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ڈرتے ڈرتے اس نے سالار سے بولا
سالار پہلے تو اسکے عجیب انداز پر چونکا پھر وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا
تم یہاں کیا کر رہی تھی میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا باہر کھانے کی ٹیبل پر مگر تم نہ جانے یہاں کونسی کھچڑی پکا رہی ہو
سالار پہلے اسکے انتظار میں چڑ چکا اب مزید چڑ کر جواب دیا
نور نے سر کو نفی میں ہلایا اور یہ بول کر باہر نکل گئی کہ اسے بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔
سالار بھی سر جھٹک کر اسکے پیچھے آیا
نور ٹیبل پر بیٹھ چکی تھی سالار کچن سے جاکر ایک ڈش لایا اور نور کے سامنے رکھ دی
نور نے ایک حیران نظر ڈش کو دیکھا اور ایک سالار کی طرف دیکھا
یہ کیا ہے۔ ۔۔۔۔؟؟
نور نے صدمے بھری آواز میں اس سے پوچھا
سالار نے اسکے برے برے منہ بناتے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا پھر ڈش کی طرف۔۔۔۔۔۔
یہ اسکا نام ڈیڈ بوائلڈ میٹ ہے ود سالٹ بلیک پیپر اینڈ اوریگانو ۔۔
یہ ہیلتھ کے لئے بہت اچھا ہوتا ہے آج سے بلکہ جب تک ہم یہاں مری میں ہیں تمہیں یہی سب کھانا ہے کیونکہ سردی کی وجہ سے تم بہت جلد بیمار پڑجاتی ہو اس لئے خدانخواستہ اللہ نہ کرے اگر تم بیمار ہو گئ تو اس بیماری سے لڑنے کے لئے تم میں طاقت تو ہو
سالار نے تو مزے سے کہہ بھی دیا مگر نور سے مزے سے بلکل بھی سنا نہیں گیا
سالار نے اس کے بول کو فل بھر دیا پھر اپنا بھی بھرا اور اسے کھانا شروع کیا اور اسے بھی کھانے کا اشارہ کیا
نور تو منہ کھول کر اسے یہ عجیب و غریب ڈیڈ بوائلڈ میٹ کھاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ایک تو اسکی شکل سبحان اللہ اور اوپر سے اسکا نام سن کر ہی خوف آنے لگتا۔۔۔۔۔۔
سالار نے جب اسے ساکت بیٹھے ڈش کو گھور تے ہوئے دیکھا تو سارا قصہ فورا”سے سمجھ گیا اور پھر اسے کڑے تیوروں سے وارن کیا
عین تمہارے پاس دو آپشن ہیں ایک یہ کہ میری فیمس ڈش آرام سے ساری فنش کرو یا پھر میرا نکاح کی رات تم سے کیا ہوا وعدہ بھول جاؤ۔۔۔۔
چوائس از یورز ۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔۔!!!!
نور اسکے چہرے کو تاسف سے دیکھ رہی تھی جو اسے کھائی اور کنواں آپشن میں دے کر یہ کہہ رہا ہے کہ اپنی مرضی کی جگہ چوز کرکے کود جاؤ۔۔۔
اتنا اچھا نام کیوں رکھ لیا ۔۔۔۔۔ بھلا یہ بھی کوئی نام ہوا ڈیڈ بوائلڈ میٹ۔۔۔۔۔ ہائے اللہ جی کہیں مرا ہوا کتا تو نہیں۔۔۔۔ شکل بھی ویسے ہی ہے خوفناک سی ۔۔۔۔ اگر میں نے اسے کھا لیا تو کہیں میرے پیٹ میں ہی نہ بھونکنا شروع کردے۔۔۔۔نور کو سوچ کر ہی الٹی ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اب کیسے پوچھوں ان سے کہیں سزا کے طور پر کچا کتا ہی نہ کھلا دیں کم از کم یہ پکا ہوا تو ہے ۔۔۔۔.
اللہ جی میں اسے بکرا سمجھ کے کھارہی ہوں اگر یہ سچ میں کتا نکلا تو سارا قصور انہی کا ہوگا ان کو ہی سارا گناہ ملے
نور دل ہی دل میں اللہ سے مخاطب تھی
سالار نے پھر سے اسے دیکھ کر اپنی ایک آئی برو اچکائی ۔۔۔۔ جیسے کہہ رہا ہو سنا یا اور اچھے سے سناؤں۔۔۔۔
نور نے ہڑبڑی میں جلدی جلدی سانس روک روک کر کھانا شروع کردیا کہ دوسرے آپشن سے تو لاکھ گنا یہی بہتر ہے کہ وہ یہ ڈیڈ بکرا ہی کھا لے ۔۔۔۔۔۔۔
سالار اسے دیکھ کر مسکرا دیا پھر سارا ختم کروانے کے بعد اسے روم میں جا کر کپڑے چینج کرنے کو بولا کیونکہ ہڑبڑی میں کھاتے ہوئے اس نے اپنے سارے کپڑے خراب کر لئے تھے
نور نے بھی شکر ادا کیا اور جلدی سے اٹھ کر روم میں چلی گئی کہ مبادہ کہیں وہ اب کچھ اور ڈیڈ ویڈ نہ کھلادے۔۔۔۔۔۔۔


ہائے میزی کیسی ہو یار کیسا لگا تمہیں پاکستان ۔۔۔۔؟؟؟؟
میزی اور میکائیل اس وقت مری کے فائیو سٹار ہوٹل میں بیٹھے لنچ کر رہے تھے جب میکائیل نے میزی سے اسکی رائے جانی چاہی
اوں ۔۔۔۔۔۔۔ابھی تو میں آئی ہوں یار جب گھومو ں پھروں گی تو پتہ چلے گا نہ۔۔۔۔ ویسے جتنا یہاں آتے وقت دیکھا ہے بہت ہی زبردست لگا
میزی نے سچائی سے کہا وہ سچ میں یہاں کی خوبصورتی سے مائل ہوچکی تھی پاکستان اسے واقعی میں شاندار لگا تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ پاکستان ہے بھی لاجواب۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر بتاؤ چلو گی میرے ساتھ ملکہ کوہسار کی دوسری ملکہ سے ملاقات کروانے ۔۔۔۔۔۔۔۔
میکائیل نے میزی کو مکھن لگا تے ہوئے کہا
نو میں اکیلے میں وزٹ کرنے کو عادی ہوں ایسے مجھے مزا نہیں آتا
میزی نے اسکے ارادوں پہ پانی پھیر دیا
میکائیل نے دل ہی دل میں اسے سو صلواتیں سنا ڈالیں مگر بظاہر مسکراتے ہوئے کہا
گڈ ۔۔۔ تو ٹھیک ہے تم انجوائے کرو مگر یار کچھ ہمیں بھی تو مہمان نوازی نبھانے کا شرف حاصل کرنے دو ۔۔۔۔۔۔ پلیززززز۔۔۔۔!!!
کیوں نہیں میکائیل ضرور ویسے بھی میں یہاں فرسٹ ٹائم آئی ہوں اس لئے تمہاری مدد ضرور لوں گی اور ہم ملتے بھی رہیں گے بٹ تم جانتے ہو میں اکیلے میں زیادہ کمفرٹ فیل کرتی ہوں۔۔۔
میزی نے اسے ٹالنا چاہا وہ جلد از جلد اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی کیونکہ اسے سیلی کو مل کر سرپرائز بھی کرنا تھا مگر اسکا فون آف آرہا تھا
اچھا ٹھیک ہے میں اب آرام کرنا چاہتی ہوں فلائٹ کی وجہ سے کافی تھک چکی یوں نو جٹ لیک سو ایکسکیوزمی ۔۔۔۔۔۔
میزی اسے ہاتھ سے بائے کہتی وہاں سے نکل گئی
جبکہ پیچھے میکائیل ہاتھ ملتا رہ گیا
ہونہہ سیلی سے ملنے کی جلدی ہے اس کو دیکھ لوں گا کیسے ملتا ہے تمہیں سیلی۔۔۔۔۔۔۔۔
سیلی کے نام کو ایسے چبایا کہ جیسے وہ خود سیلی ہو ۔۔۔۔۔ اسے سیلی سے ویسے بھی بہت چڑ تھی ہر بار وہ اسکے کام میں ٹانگ اڑا دیتا تھا
پیر پٹختے ہوئے کافی غصے سے چلا گیا۔۔۔۔۔


میکی سنسان جگہ پہ بنے گھر میں عینی کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا آج وہ بہت خوش تھا کہ اس کی محبت عینی اسکے پاس آرہی ہے اور وہ اسے ہمیشہ کے لئے اپنے پاس رکھ لے گا اور کبھی نہیں جانے دے گا کبھی نہیں ۔۔۔۔۔۔
اب آبھی جاؤ نہ بےبی اور کتنی دیر لگاؤگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میکی بے چینی سے ادھر’ادھر چکر لگانے لگا
اچانک اسکے پیچھے کچھ کھٹ پٹ سنائی دی میکی نے فورا مڑ کر دیکھا تو ساکت ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے پیچھے وہ کھڑی تھی جس نے اسکی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں
سبز کانچ سی آنکھیں اسی کی طرف دیکھ رہی تھیں
میکی آہستہ آہستہ قدم بڑہاتا اسکی طرف بڑھ رہا تھا
سامنے کھڑا وجود بلکل جم کے کھڑا تھا جیسے وہ کوئی انسان نہیں کوئی بت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ۔. ۔۔۔۔ تم آگئی میری جان ۔۔۔۔۔۔۔ میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے سر سے پیر تک دلچسپی سے تکتا اس سے بول رہا تھا مگر وہ خاموش کھڑی اسے صرف سن رہی تھی ۔۔۔۔۔
تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو عینی۔۔۔۔ بہت زیادہ ۔۔۔. بہت بہت زیادہ۔۔۔۔۔۔۔
آئی لو یو سو مچ ۔۔۔۔۔۔
تمہاری آنکھیں مجھے اپنی طرف کھینچتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
میکی اسکے سامنے کھڑا تھا اور یک ٹک اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھا رہا تھا
میں تم سے نکاح کر لوں گا عینی ۔۔۔۔۔۔ مگر ابھی کے لئے تو میری طلب پوری کردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت پیار کرتا ہوں میں تم سے ۔۔۔۔۔۔۔
و۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی عینی بےبی نکاح میں کیا ہوتا ہے بس تین بار قبول ہے ہی تو بولنا ہوتا ہے تو لو وہ ابھی بول لیتے ہیں
میکی کو عینی قبول ہے۔۔۔۔۔ قبول ہے۔۔۔۔۔۔ قبول ہے
عینی کو میکی بھی قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔۔ ۔ !!!
چلو بن گئے ہم میاں بیوی۔۔۔۔۔۔ اب تو آجاؤ میرے پاس ۔۔
میکی نے اپنی با ہیں کھول کر آنکھیں بند کیں اور اسے اپنے پاس آنے کو بولا
لیکن وہ سامنے ویسے ہی کھڑی رہی
جب وہ نہ آئی تو میکی نے اپنی آنکھیں کھولیں اور عینی کی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ ویسے ہی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی
تمہیں شرم آرہی ہے نہ ۔۔۔۔۔ نیور مائنڈ میں آتا ہوں تمہارے پاس۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ عینی کی طرف بڑھا
جبکہ یہ گھبرا گئی
یا اللہ مدد کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!