Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 26
Rate this Novel
Episode 26
میم آپ کو کچھ چاہیے ۔۔۔۔؟؟؟
ہہ۔۔ ہا۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔۔۔۔۔
نور جو حیرانی و پریشانی کی تصویر بنے اپنے ساتھ ہو رہی اس اچانک افتاد پر گھبرا ئی ہوئی پرائیویٹ جہاز کی ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی کہ اپنے ساتھ بیٹھی پیاری سی ماڈرن لڑکی کی آواز سن کر ہڑبڑا گئی تھی۔۔۔۔۔
آج شام کو ہی اسے سالار کا میسج موصول ہوا تھا کہ وہ کسی کو بھیج رہا ہے اسے ریسیو کرنے
یہ سن کر نور جو اپنے ساتھ ہوئے کچھ دیر پہلے ہوئے حادثے کو لیکر خوفزدہ تھی اب حیرت کے سمندر میں ڈوبی یہی سوچے جا رہی تھی کہ سالار نے اچانک اسے کیوں بلایا ہے ۔۔۔۔۔
خیر جو بھی ہے خود ہی پتہ چل جائے گا
جب کچھ سمجھ نہ آیا تو خود کو انہی الفاظوں سے تسلی دے کر ونڈو سے باہر جھانکنے لگی ۔۔۔۔
نور مکمل طور پر اس حادثے کو فراموش کر چکی تھی یا پھر یوں کہا جائے کہ سالار کے خیالات اسے اپنے علاوہ کچھ اور کہاں سوچنے کی اجازت دیں گے۔۔۔۔
سامنے بیٹھی لڑکی نور کو دلچسپ نظروں سے دیکھ رہی تھی
نور ہلکے پیرٹ گرین کلر کے سادہ سی فراک اور چوڑیدار کے ساتھ اسی سے ملتا حجاب لئے اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ مقابل کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔۔۔
میرا یہ حال ہے تو سالار سر کا کیا ہوتا ہوگا
بہت ہی برا ہوتا ہوگا ۔۔۔۔ ہاہا۔۔۔۔
دل ہی دل میں خود سے ہی باتیں کرتے ہوئے وہ من ہی من ہنس رہی تھی کہ کوئی تو ہے جو ان سب کا انتقام سالار شجاعت دی ڈیول سے لے رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
سالار نے صبح سے سب کو گھما ڈالا تھا ہر کوئی کبھی یہاں بھاگتا تو کبھی وہاں۔۔۔۔ سالار نے سب کو گھن چکر بنا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔
سب ہی جانتے تھے کہ سالار کے دل کی دھڑکن اسکی جان حیات اسکی بیوی آرہی ہے اس لئے کوئی بھی کمی بیشی غلطی سے بھی نہ ہونے پائے جب سالار اپنے دیگر کاموں کے لئے اتنا سخت ہے تو یہاں تو پھر بات اسکی من چاہی بیوی کی ہے ۔۔۔
پورے گھر کو محل کی طرح سجایا گیا تھا سالار کوئی بھی کمی نہیں رہنے دینا چاہتا ۔۔۔
کبھی کچھ ہدایت جاری کرتا تو کبھی کچھ۔۔۔
ٹھیک ہے اپوائنمنٹ میں خود لے لوں گا تم دوسرے کام دیکھ لو۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ پھر سے کہہ رہا ہوں دوبارہ کہنے کی زحمت نہ پڑے آفس یا کچھ اور بھی ۔۔۔۔ کسی قسم کا کوئی بھی فضول کام مجھ تک نہیں پہنچنا چاہیے ورنہ تمہاری گردن ہوگی اور میرا ہاتھ ۔۔۔ سمجھے۔۔
سالار نے سرد نظروں سے اسے وارن کیا۔۔۔
جی۔۔۔ جی سر ۔۔۔۔۔
کریم بےچارا اب کیا کہتا سوائے جی ہاں کرنے کے۔۔ تھوڑی دیر قبل جو نرم تاثر تھا اب کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا جیسے کچھ دیر پہلے تھا۔۔۔
ابو جان یہ سب کیا ہے آخر سالار کرنا کیا چاہتا ہے پہلے میرے بیٹے کے حق پر ڈاکہ ڈالا اور نور سے نکاح کر لیا اور پھر بنا رخصتی کے اسے اپنے ساتھ رکھ رہا ہے اور اب اسے باہر بھی بلالیا آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے کیا آپ مجھے سمجھائیں گے ابوجان۔۔۔۔
آصفہ بیگم جو کب سے موقع کی تلاش میں تھیں کہ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکیں آج جب نور کے چلے جانے کا سنا تو بس جیسے انہیں موقع مل گیا اور بنا رکے ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئیں۔۔
بیٹا جی آپ کو زیادہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسکے لئے میں یہاں موجود ہوں لہذا آپ آئندہ اس موضوع سے پرہیز کریں تو سب کے لئے اور آپ کے لئے بہتر ہوگا ۔۔
مزا سکندر نے سنجیدہ نرم لہجے میں انہیں مکمل طور پر باور کروا دیا تھا کہ سالار کے معاملے میں وہ کسی کی بھی مداخلت برداشت نہیں کریں گے ۔۔۔۔
مرزا سکندر چھڑی اٹھا کر اپنی رعب دار شخصیت سے آصفہ بیگم کا منہ بند کراکے وہاں سے چلے گئے تھے ۔۔۔ انکے پیچھے آصفہ بیگم غصے اور اہانت سے پیچ وتاب کھاتی رہ گئیں
بچپن سے جن کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ پر جنہونے لبیک کہا ہو وہ اگر آج ایسے بولیں تو نفرت نے تو اپنا سر اٹھانا ہی ہے
آصفہ بیگم سالار کو سوچتے ہوئے ناقابل فراموش سخت تاثرات لئے نہ جانے کن سوچوں میں گم ہوچکی تھیں۔۔۔۔۔
سب نہ جانے کون سے طوفان نے سر اٹھانا تھا۔۔۔
نور پیرس پہنچ چکی تھی اپنے ساتھ لڑکی کی ہمراہی میں وہ اس وقت عالیشان بڑے سے خوبصورت وائٹ اینڈ ریڈ کنٹراسٹ کے گھر کے سامنے کھڑے اس حسین گھر کو مبہم خوشنما تاثرات سے دیکھ کر مسکرا پڑی تھی سورج کی پڑتی روشنی نور کے چمکدار چہرے کو اور بھی روشن کر رہی تھی۔۔۔۔
آئیے میم۔۔۔۔
نور گھر کو دیکھنے میں مگن تھی کہ اسکے کانوں میں اس لڑکی کی پیاری سی آواز ٹکرائی
ہممم۔۔۔
نور جیسے ہی گیٹ تک پہنچی سامنے سکرٹ شرٹ میں کھڑی بالوں کا سادہ جوڑا بنائے مسکراتے ہوئے اس پر پھول پھینک رہیں تھیں
نور حیرت و مسرت سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی دروازہ عبور کر گئی ۔۔
یہ سب اسے عجیب لگ رہا تھا مگر پھر بھی وہ خوش تھی۔۔۔
وہ لڑکی اسے لیکر گھر کے اندر آگئی اور اسے سب سے پہلے آرام کرنے کو بولا کہ جہاز میں سفر کی وجہ سے تھکان آگئی ہوگی تو بہتر ہے کہ آرام کر لیا جائے ۔۔
نور بھی واقعی میں تھک چکی تھی سو بنا کچھ بولے جانے ہی لگی تھی کہ اس نے اس لڑکی کو مخاطب کیا ۔۔۔
آپ کا نام کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟
اووو۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔ میں بھی نہ کتنی بھلکڑ ہوں کب سے آپ کے ساتھ ہوں اور نام ہی نہیں بتایا ابھی تک۔۔۔۔
ہائے ۔۔۔۔ مائے نیم از پریہان ۔۔۔۔ آپ مجھے پری کہہ کر بھی بلا سکتی ہیں اگر پریہان سے زیادہ آپ کو سوٹ لگے تو۔۔۔۔۔
نہیں پریہان بھی بہت پیارا نام ہے ۔۔۔۔ میں آپ کو پریہان ہی کہہ کر بلاؤگی ۔۔۔۔
نور ہلکے سے ہنستے ہوئے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
او ۔۔۔۔۔ نائس ۔۔۔۔۔ ویسے اکثر لوگوں کو میرا نام بہت بڑا لگتا ہے ۔۔۔۔۔پریہان نے منہ بناتے ہوئے کہا
اچھااا۔۔۔۔ لیکن بھئی کیوں ۔۔۔۔ کون ہے وہ جسے اتنا پیارا نام بڑا لگتا ہے ۔۔۔۔۔
ہے کوئی صوفی صاحب۔۔۔۔۔ پریہان نے منہ میں بڑبڑایا۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔؟؟؟
کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ بس ایسے ہی ۔۔۔۔ آپ چل کر آرام کر لیں پھر تین چار گھنٹے بعد میں خود ہی آپ کو اٹھا نے آجاؤگی ۔۔۔۔
نور سے کہنے کے بعد پریہان نے اسے اسکے روم میں چھوڑا اور دروازہ بند کرکے چلی گئی
جبکہ نور بھی بیڈ کی طرف بڑھتے ہوئے کمرے کو ستائش سے دیکھ رہی تھی بے شک کمرہ نفاست کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔
نور نے سر تک کمبل تان کر آنکھیں موند لیں اور بہت جلد نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوگئی۔۔
نور کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی اس کے کان میں ہتھوڑے مار رہا ہے ۔۔۔
جھٹ سے اسکی آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ دروازہ ناک کیا جارہا تھا نور انگڑائی لیتے ہوئے اٹھی اور دروازہ کھولا تو سامنے وہی لڑکی پریہان کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔۔
ہیلو میم۔۔۔۔ ٹائم ہوگیا ہے آپ نہا کر فریش ہو جائیں تب تک میں آپ کے لئے کچھ کھانے پینے کے لئے لاتی ہوں ان دونوں نے جہاز میں ہی کھانا کھا لیا تھا اس وجہ سے گھر آکر کچھ نہیں کھایا مگر اب نور کو بھی بھوک محسوس ہو رہی تھی کہ کچھ ہلکا پھلکا ہی کھا لیا جائے
اچھا ٹھیک ہے پریہان پر تم میرا ڈریس کا کچھ کرو۔۔۔۔۔۔
نور نے بے بسی سے کہا کیونکہ سالار نے اسے اتنا وقت ہی نہیں دیا تھا کہ وہ پیکنگ کرسکے ۔۔۔۔۔
ڈونٹ وری میم آپ کا ڈریس ڈریسنگ روم میں موجود ہے آپ پہلے جاکے فریش ہو جائیں پھر چینج کر لیجئے گا اس کے بعد آپ کے لئے ایک سرپرائز بھی ہے مگر پہلے کچھ کھانا پینا ضروری ہے اس لئے میں تو چلی
بائے۔۔۔۔۔
پریہان جو روانی میں بولتے ہوئے سرپرائز کہہ چکی تھی نور کے کھلتے منہ کو دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ یہ کیا کردیا اب تم راز بھی نہیں رکھ سکتی پریہان ۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے وہ فورا”وہاں سے رفو چکر ہوگئی
جبکہ پیچھے نور منہ کھولے حیرت سے دروازے کو دیکھ رہی تھی کہ یہ کیا کہہ کر گئی کچھ پلے ہی نہیں پڑا ۔۔۔۔۔
افففف۔۔۔۔۔۔ ناک چڑھا کر وہ سر جھٹکتے ہوئے فریش ہونے چلی گئی۔۔۔۔۔۔
عین آچکی تھی اور اس کے بہت پاس تھی اتنا پاس کے وہ ابھی جاکر اسے چھوسکتا تھا مگر پھر سرد آہ بھرتے ہوئے اپنے آپ کو کنٹرول کیا کہ بس تھوڑا انتظار اور پھر وہ ہوگا اور اسکی عین ۔۔۔۔۔۔ سالار کی عین ۔۔۔۔۔۔ پھر وہ اسے اپنی تمام تر شدتوں سے روشناس کروائے گا اسے اپنے تمام غم شئر کرے گا اسکی گود میں سر رکھ کے اپنے تمام زخموں ،تکلیفوں کو آنسؤوں کی صورت بہا دے گا اور پھر سالار عین اپنی زندگی کی نئی شروعات کریں گے ۔۔۔۔
بس کچھ پل کی دوری اور عین پھر میں ان تمام فاصلوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹادوگا ۔۔
سالار اپنے گھر کے تہہ خانے میں تھا جہاں نور تھی نور کے جہاز میں بیٹھنے سے لیکر روم تک کی ایک ایک پل کی حرکت وہ یہاں بیٹھے سامنے لگیں سکرینز پر دیکھ رہا تھا پورے گھر میں اس نے کیمرے لگا رکھے تھے اسکے اور کریم کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں جانتا تھا اس بارے میں۔۔۔۔
جب سے نور آئی تھی سالار کو تو اس کو دیکھنے کے علاوہ اور کوئ ہوش ہی نہیں تھا
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فورا”اٹھے اور دوڑ کے اسے اپنے سینے میں بھینچ لے اور بتائے کہ عین تمہارے بغیر یہ سالار کچھ
بھی نہیں ۔۔۔۔ کچھھھھ۔۔۔۔۔۔ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
مگر پھر اپنے دل کو تسلیاں دیتا کہ تھوڑی ہی دیر ۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔ کچھ پل اور ۔۔۔۔۔ اور پھر عین اسکے پس ہوگی ۔۔۔۔ اسکے پاس۔۔۔۔!!!
نور شاکڈ انداز لئے اپنے سامنے لٹکے ڈریس کو دیکھ رہی تھی کہ یہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سلیو لیس سفید رنگ کی لمبی سی فراک تھی جو شائد اسکے ٹخنوں تک آتی ہوگی اور سفید ہی رنگ کی جینز تھی جو گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تھیں ۔۔۔۔۔۔
میں یہ پہنوں گی ۔۔۔۔۔
نور سمجھ گئی تھی یہ بھی سالار کا ہی کیا دھرا ہے اسی نے یہ ڈریس رکھوایا ہوگا پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے اسے پہن لیا اور ڈریسنگ روم میں سے باہر نکل آئی تھی جہاں پریہان کچھ سنیکس رکھے اسکا ہی ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
نور کو مڑ کر دیکھا تو ساکت ہوگئی نور بے انتہا حسین لگ رہی تھی اور یہ حسین منظر دیکھ کر تو سالار بھی سٹل ہو چکا تھا بنا پلکیں جھپکائے وہ اسکو سامنے لگی ایل ای ڈی پر دیکھ رہا تھا نور دودھیا رنگت سبز حسین آنکھوں کو جھکائے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
واہ ۔۔۔۔۔. آپ تو اس عام سے ویلویٹ کے سادہ سے فراک میں اتنی حسین لگ رہی ہیں تو جب آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آاااا۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔
پریہان کچھ بولتے بولتے ٹھر گئی کہ پری صاحبہ تمہاری زبان کو تو بلکل بھی چین نہیں ہے ابھی سب کھول کے رکھ دیتی اور بعد میں سالار سر سے مار کھاتی اففففف۔۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بعد میں کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
کک۔۔۔ کچھ. نہیں. ۔۔۔۔ آپ جلدی سے کچھ کھالیں پھر باہر بھی جانا ہے نہ ۔۔۔۔۔
کہاں جانا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
جی۔۔۔۔ تھوڑا انتظار کریں سب پتہ چل جائے گا
پھر ان دونوں نے مل کر کچھ سنیکس کھائے اور پھر پریہان نور کو لیکر باہر گارڈن کی طرف چل پڑی۔۔۔ نور بھی اب چپ کر گئی کہ خود ہی پتہ چل جائے گا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔
نور جب گارڈن میں پہنچی تو گارڈن کے بیچ و بیچ وائٹ کلر کے چاروں طرف ریشمی پر دے گرے ہوئے تھے اسکے اردگرد رنگ برنگے پھول لگائے گئے تھے کچھ تو ایسے تھے کہ اس نے پہلے کبھی دیکھے ہی نہ تھے سفید پھولوں کے کارپٹ پر ننگے پاؤں رکھتے ہوئے وہ آگے بڑھ رہی تھی جب وہ اندر داخل ہوئی تو طرح طرح کی خوشبوؤں نے اسکا استقبال کیا ۔۔۔۔۔
پریہان نے اسے مصنوعی گلاب کے سفید فوارے کے بیچ سرخ رنگ کے پھولوں سے بنائی گئی جگہ پر بیٹھا دیا منظر اب کچھ یوں تھا کہ گلاب کے. بڑے سے خوبصورت پھول میں سے چاروں طرف سے پانی گر رہا تھا اور نور گلاب کی ایک پتی کے ساتھ ٹیک لگائے اسکے بیچ بیٹھی ہوئی تھی اور پانی کی چادر نے اسکے اردگرد پردہ حمائل کر دیا تھا نور مبہوت ہوکر اپنے ساتھ یہ سب ہوتا دیکھ رہی تھی اسکی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ کچھ بھی بول سکے بس چپ چاپ سب دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
تمام گرلز سرونٹس نے ایک خاص لباس زیب تن کر رکھا تھا جو جو کچھ ساڑھی کی شیپ کا تھا اور کچھ میکسی ٹائپ ۔۔۔۔
ان سب نے باری باری نور جو سفید ہی رنگ کے پھولوں سے سجانا شروع کردیا کھلے کال بال جو اردگرد بکھرے کسی مور کے پنکھ کی تشبیح دے رہے تھے بہت حسین لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔
ان سب نے اسکے سر پر ٹی آرا رکھ دیا تھا کانوں میں لمبی پھولوں کی بالیاں، گلے میں بھاری پھولوں سے مکلمل طور سے بھرا ہوا ہار پہنایا جو اسکے پیٹ تک آرہا تھا پاؤں میں پھولوں کی بنی پائل ،ہاتھوں میں گجرے بازؤوں پر پھولوں سےہی بنا ہوا پہنایا تھا،پیچھے بالوں پر پھولوں کی لمبی لمبی لڑیاں لگا دی تھیں جو ان مور کے پنکھوں کو اور خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
پھر باری باری سب نے اس پر گلاب کا عرق چھڑکا اور پھر ہلدی اور ابٹن کا لیپ جو چاندی کے تھال میں تھا وہ نور کے گالوں گلے بازؤوں اور ٹانگوں پر لگانے لگیں ۔۔۔۔
نور مسکرا رہی تھی جس کا اسے خود بھی پتہ نہیں تھا ۔۔۔
سالار جو کب سے مبہوت سا اسے بے خود سا دیکھے جا رہا تھا اسکی مسکراہٹ کے جلووں نے تو جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ۔۔۔۔
مسکرا نے سے نور کے نچلے لب کے نیچے کا تل بھی مسکرا رہا تھا جو سالار کی دل کی دھڑکنوں کو بڑھا نے کے لئے کافی تھا
ایکدم سے بے چینی نے سالار کے پورے وجود کو اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔۔۔
بس کچھ دیر اور ۔۔۔۔۔۔۔
سالار کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ عین کے پاس جائے اور اسے بتائے کہ وہ کتنی حسین لگ رہی ہے کسی شہزادی کی طرح۔۔۔۔ جو مجھے دیوانہ کر رہی ہے۔۔۔۔
ساری سرونٹس نور کے گرد گول دائرے میں گول چکر لگا رہی تھیں اور کچھ گنگنا بھی رہی تھیں جو نور کو تو بلکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسکا مطلب کیا ہے مگر پھر بھی مسکرائے جا رہی تھی۔۔۔۔
اور پھر بس ۔۔۔۔ اب سالار شجاعت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اس نے فون اٹھایا اور ایک نمبر پر میسج سینڈ کیا اور پھر سامنے دیکھنے لگا اور اپنے حکم کی تکمیل کا انتظار کر نے لگا۔۔۔۔
پریہان نے میسج کھولا تو سالار کا میسج تھا
اس نے جا کر نور کی آنکھوں پر سفید پٹی باندھ دی ۔۔۔۔
اسکے اس عمل سے نور چونک پڑی پر بولی کچھ نہیں۔۔۔۔
پریہان نے سب کو اشارہ کیا اور اپنے ساتھ سب کو لیکر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
کافی دیر ہوگئی نور کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا صرف خاموشی نے محسوس ہو رہی تھی
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی اسے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی جو اسی کی طرف بڑھ رہے تھے قدموں کی چاپ میں تیزی سی تھی جیسے کوئی جلدی سے آرہا ہو ابھی وہ کچھ سمجھی نہیں تھی کہ اسے اپنے کان کے پاس کسی کی گرم تیز سانسیں محسوس ہوئیں
۔۔۔۔۔۔۔ عین۔۔۔۔۔!!!!
نور دھک سے رہ گئی تھی ۔۔۔
سس۔۔۔۔ سالار۔۔۔۔
بے آواز لبوں
نے حرکت کی تھی ۔۔۔۔۔
سالار تھوڑا پیچھے ہوا اور اسے کندھوں تھام کر گرتی ہوئی بوندوں کے بیچ لاکر کھڑا ہوگیا
پانی کی ٹھنڈی بوندیں ان دونوں کو بھگو رہی تھیں ۔۔۔
سالار نے عین کو اپنے قریب تر کر لیا تھا ۔۔۔
نور ساکت کھڑی اپنی اور سالار کی تیز دھڑکتی دھڑکنوں کو محسوس کر رہی تھی
سالار نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھا اور پھر اسکی نظر اسکے لب کے نیچے کانپتے تل ہر گئی ۔۔۔۔۔
نور نے وجود سے گلاب اور ابٹن کی ملی جلی خوشبو اٹھ رہی تھی جو سالار کو مدہوش کر رہی تھی سالار نے مزید دیر کئے بنا اس پر جھکا اور کانپتے تل پر اپنے تشنہ لب رکھ دیئے۔۔۔۔۔۔
نور نے ایک دم اس سے دور ہونا چاہا پر سالار نے ایسا ہونے نہیں دیا اور گرفت مضبوط کردی ۔۔۔
کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھایا تو نور سرخ اناری چہرہ لئے کانپ رہی تھی
سالار نے اسکے سر پر بوسا دیا اور اسے اپنی نظروں کی زد میں رکھتے ہوئے الٹے قدم چلتا آہستہ سے وہاں سے چلا گیا
نور پیچھے کھڑی اپنی بے ربط سانسوں کو سنبھال رہی تھی سالار کی اس حرکت نے اسے بہت کچھ باور کروا دیا تھا۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔!!!
