54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ارے یار دے دو نہ، دیکھو میں تمہارے کتنے کام آتا ہوں نہ تمہیں یونی چھوڑنے بھی جاتا ہوں اور لینے بھی برہان احسان جتانے والے اندازمیں بولا
ہاااااا۔۔۔۔۔۔۔وہ تم مجھے کوئ سپیشل چھوڑنے اور لینے نہیں جاتے بلکہ خود بھی اس یونی میں پڑھتے ہو اور ساتھ میں مجھے بھی گھسیٹ لے جاتے ہو رباب نے ناک چڑھا کر نخوت سے بولا
دراصل رباب کو آرٹ میں ایڈمیشن لینا تھا مگر برہان نے زبردستی اسے اپنے ساتھ بزنس میں ایڈمیشن لے دیا اس وجہ سے دونوں ساتھ میں پڑھنے جاتے تھے
اف۔۔۔۔۔او یار چھوڑو نہ تم کہاں کا موضوع کہاں لے جا رہی ہو
تم سے میں نے صرف ۵ ہزار ہی مانگے ہیں مجھے دے دو پلیز میری بیوٹیفل ایکٹر ۔۔۔۔برہان نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں کہا
جبکہ رباب تو سٹپٹا ہی گئ
ادھر ا’دھر دیکھتے خود کو نارمل کرتے ہوئے اس سے پوچھا
ویسے برہان تم کروگے کیا ان پیسوں کا؟؟؟
بس یار کافی دن ہوگئے ہم نے کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں اچھا سا کھانا نہیں کھایا۔۔
ہائے کون ہم۔۔؟؟؟
میں اور اظفر ۔۔۔۔برہان نے آرام سے بتایا
اچھااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباب کو گہری مایوسی ہوئ پھر کچھ سوچ کر چمکتی ہوئ آنکھوں سے برہان کو دیکھا
دیکھو برہان میری ایک شرط ہے۔۔۔۔!
شرط ۔۔۔۔۔ کیسی شرط ؟؟
مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے برہان جو کہ اسکے پیسے دینے پر ہی خوش ہو رہا تھاایکدم سے بولا
شرط یہ ہے کہ تم مجھے مشاء آپی اور نور کو بھی اپنے ساتھ ڈنر کرانے لے کر جاو گے اور نہ کہ میں تمہیں ۵ ہزار دوگی بلکہ بل بھی میں ہی پے کروگے رباب نے احسان جتانے والے اندازمیں گردن اکڑا کر کہا
جبکہ برہان اسے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا
یہ آج تم اتنی سخی کیسے ہو گئ وہ بھی میرے ساتھ۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔بتاؤ بتاؤ۔۔۔۔۔tell me۔۔۔۔۔۔۔fast۔۔۔۔۔؟؟؟؟
و۔۔۔۔وہ۔۔۔۔برہان یار کیا کہہ رہے ہو
وہ اصل میں نہ آج میرا بڑا دل کر رہا تھا اور دیکھو اب تو رات ہو گئ ہے اسی لئے اب تمہارے ساتھ جانا مجبوری ہے اسی لئے کہہ رہی ہوں مجبوری میں۔۔۔
رباب نے معصوم سا منہ بنا کر سیدھا سیدھا برہان صاحب کو اپنے جال میں قید کر لیا
برہان تو اسکی معصوم شکل دیکھ کر کھو سا گیا
برہان۔۔۔۔۔برہااااان۔۔۔۔۔۔
ہاں؟؟۔۔۔۔ہاں۔۔۔
کہا کھو گئے؟؟
آ۔۔۔۔کہیں نہیں۔۔۔چلو ٹھیک ہے لے چلتا ہوں تم باقیوں کو بھی تیار کرلو اور یاد رکھنا اپنی شرط۔۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔!
ہاں ہاں تم تو فکر ہی نہ کرو اور پھر برہان کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔


پانچھوں اس وقت رات کے ۹بجے اسلام آباد کے مہنگے ریسٹورنٹ میں یٹھے ڈنر کر رہے تھے رباب برہان کے ساتھ اور نور مشاء کے ساتھ بیٹھی ہوئ تھی جبکہ اظفر واشروم گیا ہوا تھا کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا جا رہا تھا
کھانا اختتام پہ تھا کہ اچانک رباب نے برہان کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور اپنی انگلیاں اسکے ہاتھ میں پھنسالیں جبکہ برہان کی منہ کی طرف بڑھا ہوا بریانی کا چمچ وہی اٹگ گیا برہان نے سٹپٹا کر رباب کی طرف دیکھا لیکن رباب تو مزے سے اپنی پلیٹ فنش کرتے ہوئے ایسے شو کر رہی تھی کہ اس نے تو کچھ کیا ہی نہیں ۔۔۔
جبکہ برہان صاحب کو تو یہ تک یاد نہ رہا کہ اس نے اپنے کھلے منہ کے آگے چمچ رکھا ہوا ہے
مشاء اور نور اپنی پلیٹ فنش کرکے اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھیں
برہان۔۔۔۔۔برہان۔۔۔۔؟؟؟
ہہاں۔۔۔۔ہاں۔۔۔کک۔۔۔۔کیا۔۔۔۔کیا ہے برہان نے یوش میں آتے ہوئے کہا
کہاں گم ہو بھئی جلدی کرو نہ بہت لیٹ ہو گئے ہیں جلدی کرو نہیں تو بہت ڈانٹ پڑے گی
ہا۔۔ہاں بس کرلیا۔۔۔۔
چلو اب ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔ رباب نے بڑے آرام سے ان دونوں سے کہا
ہاں چلتے ہیں پہلے یہ موٹا اظفر تو اجائے
پتہ نہیں اتنا کھاتا کیوں ہے جب سے دیکھو گھنٹہ ہو نے کو ہے واشروم میں ہی بند ہے۔۔یہ مشاء تھی
ارے کوئی نہیں چلو ہم تینوں چلتے ہیں اظفر برہان کے ساتھ آجائے گا
کیوں برہان۔۔۔؟؟؟
رباب نے ان دونوں سے کہتے ہوئے آخر میں برہان سے استفسار کیا
ہاہ۔۔ہاں۔۔۔ہاں میں لے آؤگا تم لوگ گاڑی میں بیٹھ کر ویٹ کرو
ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔مشاء اور نور اپنی چیئرز پر سے اٹھیں اور چار قدم چلیں تھیں کہ ایکدم رباب نے کہا
ارے یار میری رنگ کہاں گئی ۔۔۔۔لگتا ہے یہاں کہیں گر گئ ہے
تم لوگ جاؤ میں آتی ہوں ڈھونڈ کر رباب نے اپنی کمال ایکٹنگ کے جوہر دکھائے
اچھا ٹھیک ہے جلدی آنا یہ کہ کر وہ دونوں آگے چل دیں چابی وہ برہان سے پہلے ہی لے چکی تھیں
جب وہ دونوں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو رباب نے اپنی حسین آنکھوں سے برہان کی آنکھوں میں جھانکا اور لبوں پر پیاری سی مسکان لائی اور برہان صاحب تو اسکی مسکان میں ہی کھو گئے ایک عجیب سحر طاری ہو گیا تھا اس پر رباب نے برہان کا بایاں ہاتھ اٹھا کر اپنے بائیں گال پر رکھا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
برہان تم آج کتنے ہینڈسم لگ رہے ہو دیکھو نہ میں تو کنٹرول ہی نہیں رکھ پائی ۔۔۔۔برہان تو اسکی باتوں کے سہر میں ہی گم تھا
اوپس۔۔۔۔۔میں بھی نہ لوگ دیکھ رہے ہیں تم نہ اظفر کو لے کر جلدی آجانا ٹھیک ہے یہ کہہ کر رباب تو نو دو گیا رہ ہو گئی
اوئے برہان کہاں کھویا ہوا ہے کب سے آوازیں دے رہا ہوں۔۔۔
ہاں ۔۔نہیں۔۔وہ کہاں تھے تم ہاں کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے اب چلو زیادہ باتیں مت کرو پہلے ہی لیٹ ہوچکے ہیں لڑکیاں باہر گاڑی میں انتظار کر رہی ہیں اظفر کو منہ کھولتا دیکھ کر برہان نے تیز تیز کہا اور اپنی جیب میں سے بٹوا نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


چلو برہان کا کوئی دوست مل گیا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ تم لوگ جاؤ وہ ہم دونوں کو ڈراپ کر دے گا
چلو چلو جلدی چلیں پہلے ہی لیٹ ہوچکے ہیں
رباب نے آکر ان دونوں کو بتایا اور ڈرائوینگ سیٹ پر بیٹھ کر کار بھگادی ۔۔۔۔۔۔۔۔


برہان نے جیسے ہی جیب میں ہاتھ ڈالا تو خالی جیب اسکا منہ چڑا رہی تھی
اسے رباب کی ساری کارستانی اب سمجھ آرہی تھی
تمہیں تو میں چھوڑو گا نہیں رباب۔۔۔دانت چبا چبا کر سوچا
دراصل یہاں آتے وقت برہان نے رباب سے سارے پیسے لے لئے تھے
سیفٹی کے لئے مگر رباب بھی آخر رباب ہی تھی برہان سے بات کرتے وقت چالاکی سے والٹ اڑالیا ۔۔۔
اب جبکہ ان دونوں کے پاس پیسے نہیں تھے تو بیچاروں کو سارے برتن دھونے پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظفر تو فری میں ہی مارا گیا
آئندہ کبھی کھاتے وقت واشروم نہیں جاؤں گا
اظفر نے دل میں پکا ارادہ کیا۔۔۔۔۔۔۔


ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او مائی گاڈ ۔۔۔
واہ رباب کیا کمال کر دیا واہ ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے نور اگر تمہارا بھائ تمہیں یوں ہنستے ہوئے دیکھ لے نہ تو کیا ہی مزہ آئے گا مشاء نے ہنستے ہوئے نور سے کہا
کیا کروں آپی رباب نے کارنامہ ہی ایسا انجام دیا ہے
ہینڈسم۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔۔
اس وقت رات کے ۱۱:۳۰بج رہے تھے اور یہ تینوں جنگل کی طرف کا شارٹ کٹ استعمال کر رہی تھیں تاکہ جلدی پہنچ سکیں
لیکن کیا پتہ یہ شارٹ کٹ ان کی زندگی کا ہی شارٹ کٹ نہ بن جائے۔۔۔۔۔
تینوں مزے سے میوزک سنتے ہوئے جا رہی تھیں کہ اچانک کار ایک جھٹکے سے رک گئی رباب نے سٹارٹ کر نے کی بہت کوشش کی مگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا
افوہ اب کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔!
مشاء نے پریشانی سے جھنجلا کر کہا
مشششاء آپی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے میں نور کی سہمی ہوئی آواز آئ
نور بہت ہی سہم گئی تھی
وہ تھی ہی ایسی سدا کی ڈرپوک مادام۔۔۔۔۔۔۔
ارے کچھ نہیں ہوگا نور دیکھو ابھی ہم گھر چلتے ہیں
رباب نے نور کو کمزور سا حوصلہ دیا جبکہ وہ دونوں خود بھی اندر سے ڈری ہوئیں تھیں
کالی اندھیری رات اوپر سے تین جو ان لڑکیاں ان کی تو جان ہی سولی پر لٹکی ہوئی تھی
ہر طرف خاموشی کا راج تھا
کوئی بھی زی روح موجود نہیں تھا سوائے ان تینوں کے
اتنے میں ایک جیپ آکر ان کے پاس رکی
او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے جان بہاراؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا انتظار ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
جاری۔۔۔۔