54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

میکی نے اپنے دوستوں کو فون کرکے سب کچھ بتا دیا اور انہیں اسے پک کرنے کا بولا
گاڑی میں بیٹھے میکی اور اس کے دوست غصے سے پیچ وتاب کھا رہے تھے
انہیں اس بات کا بے حد افسوس تھا کہ لڑکیاں ان کے ہاتھوں سے بچ کیسے گئیں آج تک کوئی مچھلی ان کے ہاتھوں سے نہیں پھسلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیر کوئی بات نہیں ایک نہ ایک دن میں تمہیں اپنی گرفت میں لے کر رہوگا
جہاں تم بھاگنا تو دور پھڑ پھڑا بھی نہ سکوگی
خیالوں میں ہی اپنے شکار سے محو گفتگو ہوتے ہوئے میکی نے اپنی آنکھیں موند لیں
اور ایک زہریلی مکار مسکراہٹ اسکے چہرے پہ اپنی مکاری
دکھا نے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباب نے گاڑی دوڑائی تو بنا رکے فاسٹ سپیڈ پر چلاتے ہوئے گھر کے پورچ میں ہی آکے روکی
جیسے ہی گاڑی رکی ان دونوں نے ایک گہری اور پر سکون سانس
کھینچی ۔۔۔۔۔۔۔!
اس وقت صبح کے پانچ بج رہے تھے
دونوں جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلیں تو گیٹ سے ایک اور سفید رنگ کی کار اندر داخل ہوئی
برہان نے جیسے ہی سامنے دیکھا تو اندھا دھند بھاگ کر ان کے
پاس آکر رکا اور بے قرار نظروں سے دیکھنے لگا
آپ دونوں ٹھیک ہیں۔۔۔۔؟؟؟
اس نے پوچھا تو دونوں سے تھا مگر نظریں اسکی رباب کا ہی طواف کر رہی تھیں
تم لوگ ٹھیک تو ہو نہ بچوں۔۔۔۔؟؟؟
دادا جان بھی پریشانی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے استفسار کر رہے تھے
مشاء اور رباب کی تو ان چاروں کی اپنے لئے اس درجہ پیار اور پریشانی کو دیکھ کر آنکھیں نم ہوگئیں
رباب دادا جان کے سینے جھٹ سے جا لگی اور زور و شور سے رونا شروع کر دیا
ارے ۔۔۔۔۔۔ارے بیٹا کیا ہوا؟؟؟
صدیق مرزا نے اسکے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے نرم آواز میں پریشانی سے پوچھا
برہان اسکے اس طرح رونے سے گھبرا ہی گیا
اوہو۔۔۔۔۔رباب بس کردو
کیا کر رہی ہو دیکھو سب پریشان ہو رہے ہیں
کچھ نہیں ہوا دادا جان ابھی تو تھوڑی دیر پہلے جائے وقوع پر شیرنی بنی ہوئی تھی اور اب بھیگی بلی بن گئی ہے
مشاء نے اپنے آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے پہلے تو رباب کو ڈانٹا جو ان سب کو اور پریشان کر رہی تھی
پھر دادا جان اور سب کو تسلی دی اور پھر سارا قصہ اول سے آخر تک سنا دیا
سب رباب کی طرف اسکی عقلمندی پر حیران اور خوشگوار نظروں سے دیکھ رہے تھے
برہان کے آنکھوں میں تو تشکرانہ آنسو تھے
لیکن اظفر کے چہرے پہ الجھن تھی
ایک بات تو بتاو رباب تمہارے ساتھ عینی بھی تھی نہ تو وہ کہاں ہے کیا اندر چلی گئی ہے؟؟؟
اظفر کی بات سن کر تو دونوں ہلنا ہی بھول گئیں
نہیں۔۔۔۔۔۔ہ۔۔۔۔۔۔۔ہم تو جب سے آئیں ہیں یہی ہیں بلکہ ہماری کار کے بعد آپ لوگوں کی کار آئ تھی تو نور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہوئے مشاء نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
تم لوگوں نے گاڑی میں بیٹھ کر سٹارٹ کر نے سے پہلے دیکھا تھا کہ نور اندر ہے بھی یا نہیں
برہان نے تیزی سے پوچھا
اسکی بات پر دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں اور دونوں کا سر ایک ساتھ نفی میں ہلا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟


نور کی جب آنکھ کھلی تو خود کو انجان کمرے میں پایا
پہلے تو وہ کچھ سمجھی ہی نہیں کہ وہ کہاں ہے ؟؟؟؟
ہر جگہ بلیک رنگ نمایاں تھا سفید رنگ بھی استعمال کیا گیا تھا
مگر صرف دو دیواریں جبکہ آمنے سامنے کی دیواریں بلیک رنگ میں رنگی ہوئیں تھیں
بیڈ بھی بلیک جلد کا مہنگا مگر خوبصورت ترین تھا
اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو بائیں ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی
اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا
نور کے جب حواس بحال ہوئے تو سارا واقعہ کسی بدنما خواب کی طرح اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگا
اس کے ساتھ ہی اسکی سبز آنکھوں سے ٹپ ٹپ بارش کی بوندوں کی طرح آنسو کے قطرے اس کے رخسار پر بہہ کر اسکے دامن کو بھگونے لگے
یہ سوچ کر کے وہ کسی غیر شخص کے ساتھ اسکے گھر میں تنہا
اسکی قید میں ہے نور کی جان ہوا ہونے لگی
جسم میں رینگتی چیونٹیوں کی مانند خوف سرائیت کرنے لگا
مما۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔با۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔۔۔۔!
اسکے منہ سے کانپتی ہوئی بے حد ہلکی سی آواز نکلی جو کہ نور کو بھی سنا ئی نہ دی
وہ ابھی اپنی حالت پہ ماتم کناں ہی تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ کسی نے آہستہ سے کھولا اور دو قدم چل کر اندر آیا
نور کو دیکھا تو وہی جم گیا
جبکہ نور نے اپنی بھیگی گھنی پلکوں کی جھالر اس طرف اٹھائ توحیران رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!


یہ سب سٹنگ ایریا میں بیٹھے آگے کا سوچ رہے تھے کہ کیا کریں
پولیس میں جا نہیں سکتے تھے کہ گھر کی عزت کا معاملہ تھا اور اگر جاتے بھی تو FIR درج نہیں ہونی تھی ۲۴ گھٹنوں سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔
اب اسکا ایک ہی حل ہے
مشاء جو کب سے سوچ رہی تھی کہ بولے یا نہ بولے مگر پھر ہمت کرکے بول ہی دیا
کیا؟؟؟؟؟؟
برہان نے سنجیدہ آواز میں پوچھا
وہ ہمیں سالار بھائی کو فون کرکے سب بتا دینا چاہیے اب بس وہی ہیں جو نور کو ڈھونڈ کر لاسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔جاںتی بھی تو ہو کہ سالار بھائ کتنے غصے والے ہیں ان کو بتانا ایک اور جنگ عظیم لانے کے برابر ہوگا
پہلے تو وہ اتنا نہ بھڑکتے مگر تم لوگوں کی عظیم کارکردگی جان کر تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ معاف کرے پتہ نہیں کیا کریں گے
اظفر نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا
اسکی بات سو فیصد درست بھی تھی مگر اسکے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا
کیونکہ اسکے پاس ایسے کئی ریسورسس تھے جن کے استعمال سے وہ باآسانی نور کو تلاش کر سکتا تھا بغیر اپنی گھر کی عزت پر کوئی آنچ لائے
کوئی بھی ایسا کام نہیں تھا جو سالار شجاعت نہ کر سکتا ہو اور نہ کر سکا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشاء ٹھیک کہہ رہی ہے اب ہمارے پاس اسکے علاوہ اور کوئ راستہ نہیں بچا
یہ کہہ کر دادا جان نے صدیق مرزا کو سالار کو فون کرنے کو کہا
ابھی صدیق صاحب فون نکال کر نمبر ڈائل کرنے ہی والے تھے کہ دادا جان کے موبائل کی بیل بجی ۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان نے نمبر دیکھا تو سالار کا پاکستان کا نمبر شو ہو رہا تھا
سالار پاکستان آگیا دادا جان اونچی آواز میں بڑبڑائے جو کہ سب نے سنی اور دادا جان کی طرف متوجہ ہو گئے
دادا جان نے فون اٹھا کر کان سے لگا یا
بنا کچھ بولے وہ دوسری طرف کی بات سن رہے تھے جبکہ باقی سب کی نظریں دادا جان کے پل پل بدلتی تاثرات کی طرف تھیں
جو پہلے تو حیرانی میں بدلے اور پھر الجھن کا شکار ہوئے
دادا جان نے فون بند کیا تو سب کی نظریں خود پر پاکر ایک جملے میں ان کے تمام سوالوں کا جواب دیا
نورالعین سالار کے پاس بحفاظت موجود ہے
جبکہ باقی سب حیران نظروں سے دادا جان کو جاتے ہوئے دیکھنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔