54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

سالار عین کے سینے پر سر رکھے گہری نیند میں گم تھا اسکے خوبصورت چہرے پر ہلکی سی مسکان تھی جب بھی سالار عین کے پاس ہوتا تو ایسے ہی وہ آسودگی میں رہتا تھا
عین بڑے پیار سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی
بہت چاہنے لگی ہوں میں آپ کو سالار ۔۔۔۔ لیکن کیا اب آپ کا پیار میرے لئے ہم ہوگیا ہے جو دوسری عورت میں ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ مجھ سے تو آپ نے کہا تھا کہ میرے علاوہ کوئی بھی آپ کے دل تک رسائی نہیں پاسکتا تو کیوں کسی اور کو اپنے تک رسائی دے رہے ہیں۔۔۔۔۔
عین نم آنکھوں سے سالار کو تکتے فل میں بول رہی تھی کیونکہ وہ ابھی سالار پر یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ اب بلکل ہوش میں آچکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سالار نیند میں کسمسایا تھا شائد عین کی آنکھوں کی ہی تپش تھی جس نے سالار کی نیند میں خلل ڈالا تھا
سالار نے آنکھیں کھول کر عین کو دیکھا جو سالار کے اٹھنے پر فورا”آنکھیں میچ گئی تھی اس لئے سالار کو لگا کہ شائد اسے وہم ہوا تھا کہ عین اسے دیکھ رہی تھی
سالار نے نرمی سے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور پھر شاور لینے واشروم میں چلا گیا
پیچھے عین نے آنکھیں کھولیں تھیں اور اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
پر اسرار مسکراتے ہوئے وہ کچھ سوچ رہی تھی
عین نے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا اور کب کرنا ہے
جیسے ہی اسے لگا کہ سالار اب باہر آرہا ہے فورا” سے اس نے لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں
سالار جب باہر نکلا تو ایک پل کے لئے سالار عین کو دیکھ کر ٹھٹک گیا پھر سر ہلاتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف چلا گیا جبکہ اسکی نظریں مسلسل عین کی طرف ہی تھیں


ثبوت مل گے ہیں مجھے سالار بھائ کب سے کب سے ہم ڈھونڈ رہے تھے آخر کار سارے ثبوت مل ہی گے ہمیں اب سہیل خان اور اسکی بیوی کو کوئ نہیں بچا سکتا۔۔۔۔۔۔
برہان کو جیسے ہی سارے ثبوت ملے فورا”سے پرجوش سا فون اٹھا کر سالار کو کال ملا دی اور ایک ہی سانس میں سب بتا دیا
برہان کو آج جتنی خوشی ہوتی وہ کم تھی کیونکہ کئی سالوں سے وہ اس پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا مگر سہیل خان ہر بار چکما دے جاتا اور برہان ہاتھ ملتا رہ جاتا تھا مگر اب وہ آخر کار کامیاب ہو گیا تھا زیادہ خو شی اسے سالار کے لئے تھی کہ اسکے باپ کے قاتل کے خلاف برہان نے سارے ثبوت اکھٹے کر لئے ہیں اب وہ دونوں نہیں بچ پائیں گے اور سزا حاصل کر کے ہی رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے بے ساختہ آنکھیں بند کیں تھیں کیا کیا نہ یاد آیا تھا اسے ۔۔۔۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کال بند کئے سالارچئر پر سر ٹکائے پھر سے خود کو اکیلا محسوس کر رہا تھا
نہیں ہوں میں اکیلا میرے پاس میری عین ہے
لبوں پر سالار کے دلکش مسکراہٹ چھاگئی تھی اور پھر اب سالار تھا اور عین تھی
سالار اپنے آفس میں بیٹھا آنکھیں بند کیے عین کے خیالوں میں گم ہو چکا تھا۔۔۔۔۔


عین آنکھیں کھولے چھت کو گھورے جا رہی تھی ابھی بھی اسکے کانوں میں سالار کی آواز گونج رہی تھی جو وہ برہان کو لڑکی کے بارے میں خوبیاں گنوا رہا تھا کہ یہ ہو یہ نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عین ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھی اور پھر اپنے قدم زمین پر بچھے نرم قالین پر جمائے اور دھیرے سے کھڑی ہوگئی
ابھی کوما سے باہر آنے کے بعد عین زیادہ سہی طرح سے نہیں چل سکتی تھی اسے چلنے میں تھوڑی مشکل ہوتی تھی مگر آہستہ آہستہ وہ بہتری محسوس کر رہی تھی
عین دھیرے سے چلتے وارڈروب تک آئی اور نارنجی کلر کا سادہ سا سوٹ نکال کر واشروم چلی گئی پھر سے حجاب کرکے کمرے سے باہر نکل آئی اور گھر میں ادھر ادھر چکر لگانے لگی ۔۔۔۔۔
گھر میں ایک لڑکی کو گھومتے دیکھ کر تمام ملازم حیران ہوکر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ یہ تو مر چکی تھیں تو اب یہاں کیسے آگئیں ۔۔۔۔۔۔
کچھ کو تو عین کا بھوت لگ رہا تھا انہیں لگ رہا تھا کہ بیگم صاحبہ سالار کی تکلیف پر انکی پکار پر بھوت کی شکل میں واپس آگئی ہیں
سارے ملازم ڈر کے مارے عین کے سامنے آتے ہی بھاگ گئے ۔۔۔۔۔
عین جو ملازم سے کچھ پوچھنے آرہی تھی مگر اسکے ایک دم خوفزدہ ہو کر بھاگ جانے پر حیران ہو گئی ۔۔۔۔ پھر دوسرے اور جب تیسرے نے بھی ایسا کیا تو عین کو اب غصہ آنے لگا تھا کہ یہ کیا بات ہوئی
کہیں نظر ی بیگم صاحبہ کی وجہ سے تو۔۔۔۔۔
سالار آپ کی اس کی بیگم کو تو میں پوچھوگی
غصے سے وہ کانپ رہی تھی زیادہ غصہ تو اسے سالار کی نئی بیگم پر آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
سر جھٹک کر وہ آگے بڑھ گئی
غصے میں اسے پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں جارہی ہے


سالار ۔۔۔۔۔۔ تم نے یہ اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔۔ تمہیں کیا لگا کہ تم میرے خلاف ثبوت اکھٹا کرلوگے تو کیا میں پولیس کے ہاتھ لگ جاؤں گا ۔۔۔۔۔
نہ۔ نہ۔۔۔۔۔ ابھی تم بچے ہو لڑکے ۔۔۔۔۔ میں اتنی آسانی سے خود کو حراست میں دے دوں گا یہ تمہاری بھول ہے میں جلد ہی فرار ہو جاؤ گا اور یہ پولیس کچھ بھی نہیں کر پائے گی ۔۔۔ ہا ہا ہا
چچ۔چچ۔۔چچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچارا سالار ۔۔۔۔۔۔ ویسے مجھے بہت دکھ محسوس ہوتا ہے تمہارے لئے کہ تمہارے پاس نہ تمہارا باپ رہا اور نہ ہی ماں چچ چچ افسوس صد افسوس ۔۔۔۔۔ ہاہ۔۔۔ اب کیا کر سکتے ہیں مقدر کا کھیل اسے ہی تو کہتے ہیں نہ۔۔۔۔۔
ویسے تمہارے باپ ناحق مارا گیا تھا میں نے تو اسے کہا تھا کہ وہ میرے اور تمہاری ی ی ماں کے بیچ میں سے ہٹ جائے مگر ۔۔۔ اہہہہ نہیں غیرت جو کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس میں کہنے لگا کہ یا تو وہ مجھے ختم کرے گا یا اپنے آپ کو مگر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ ناجائز رشتہ نہیں بنا نے دوں گا۔۔۔۔۔
سالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(گالی)
باز نہ آیا اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔
مگر بتاتا چلوں کہ یہ آئیڈیا بھی تمہاری اپنی ماں کا تھا میں تو بس اسے زندہ لاش بنا کر چھوڑنا چاہتا تھا مگر تمہاری ماں کو نہ جانے کس کا خوف تھا کہ اسے ختم ہی کرنا پڑنا ۔۔۔
خیر تمہیں تمہاری عین کی یادوں کے سہارے چھوڑ کر جارہا ہوں ڈئیر ۔۔۔۔ افسوس بہت ہوا تھا مجھے سن کر کہ عین بچی بچ نہیں پائی چلو کم از کم میری بیٹی نے اپنا بدلہ تو کمال کا لے لیا آخر خون کس کا تھا۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں کہ وہ تمہارے پاس ہے لیکن بہت جلد اسے میں تم سے چھڑا لوں گا کوئی کمی نہیں ہے میرے پاس پیسوں کی ۔۔۔ ارے میں تو کئی سالوں سال بغیر کچھ کئے شاندار زندگی گزار سکتا ہوں
مگر تم کیا کروگے سالار شجاعت تمہارے پاس تو اب عین بھی نہیں رہی ۔۔۔۔۔ تمہاری پیاری سی وائف۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔
بائے ڈئیر دشمن اگر قسمت میں لکھا ہوا تو ضرور آمنے سامنے ملیں گے ۔۔۔۔
ٹاٹا۔۔۔۔۔ بائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
سالار کمپیوٹر کوئی کام کر رہا تھا کہ اسے ایک میل موصول ہوئی جب سالار نے اسے کھولا اور پھر جیسے جیسے پڑھنا شروع کیا تو اسکا خون کھول گیا
غصے میں اس نے آفس کی ایک ایک چیز اٹھا کر تباہ کردی ۔۔۔۔۔۔۔
عین۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
اچانک عین کا خیال آتے ہی سالار نے گاڑی کی کیز اٹھا ئیں اور اپنی عین کے پاس چلا گیا کہ اب عین ہی تھی جو اسکے پھر سے ہرے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ سکتی تھی


نور چلتے چلتے گھر کے سب سے الگ گوشے میں آچکی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ شائد یہ کوئی تہہ خانہ ہے ۔۔۔۔
تجسس کے مارے نور آگے بڑھی اور پھر چند قدم بعد اسے دروازہ نظر آیا جو باہر سے تو بند تھا مگر لاک نہیں کیا گیا تھا اور شائد سالار نے یہی غلطی کردی تھی
نور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی ہر طرف گھور اندھیرا چھایا ہوا تھا کچھ نظر نہیں آرہا تھا اس نے ہاتھوں سے ٹٹولتے ٹٹولتے سوئچ بورڈ ڈھونڈا اور پھر ٹھک کی آواز سے پورے کمرے میں روشنی پھیل گئی اور جو منظر نور کو نظر آیا وہ اسکے ہوش اڑا نے کے لئے کافی تھا
نور آنکھیں پھاڑے ۔۔۔۔۔۔ سامنے لٹکے وجود کو دیکھ رہا تھا جس کے دونوں ہاتھ رسیوں سے اوپر کی طرف چھت سے باندھے گئے تھے اور پاؤں زمین پر لگی کیلوں سے باندھے گئے تھے
مم۔۔۔۔۔ میزی۔۔۔۔۔۔ نور کے منہ سے سرسراتی ہوئی مدھم آواز نکلی اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ جو وہ دیکھ رہی ہے آیا وہ حقیقت ہے یا کوئی خواب ۔۔۔۔۔۔۔
میزی کی بھی اس پر نظر پڑی تو کچھ تکلیف اور کچھ ندامت سے آنسو بہانے لگی ۔۔۔۔۔۔
نور کا تو میزی کی حالت دیکھ کر ہی سر چکرا گیا تھا آنسو تو جیسے اسکی آنکھوں سے ابل پڑے تھے وہ اس وقت اپنے ساتھ کی گئی میزی کی زیادتی کو سراسر فراموش کر چکی تھی
اسکا مطلب کہ سالار میزی کو میری حالت کی سزا دے رہے تھے۔۔۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی نور نے اور بھی زیادہ رونا شروع کردیا تھا
میزی نور کو اپنے لئے روتا ہوا دیکھ کر مزید شرمندہ ہوئی کہ جس کو اس نے مارنے کے کیا کیا نہیں کیا وہی لڑکی آج اس کے لئے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!