54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15 Part 1

نور نے اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں پہ قابو پانے کی کوشش کی مگر نہیں یہ تو اسے آج سہی معانوں میں مارنے کی قدار پہ تھیں جبکہ دل نے تو اسکے سینے سے نکل کر ہی دم لینا تھا
سالار اسکی دل کی دھڑکنوں کو اچھے سے محسوس کر رہا تھا
اسکی خود کی دھڑکنیں بھی آج معمول سے زیادہ دھڑک رہی تھیں
نور کی پھولی ہوئی سانسوں کی حدت وہ اپنے ہونٹوں پر کسی گرم نم ہوا کی صورت محسوس کر رہا تھا
اسکی بری طرح سے لرزتی کپکپاتی ہوئی پلکیں، کپکپاتے لرزتے ہوئے سرخ انگوری لب لال سرخ چہرے کی معصومیت نازک بری طرح سے بگڑتے ہوئے عمل تنفس کے ساتھ حسیں سراپا اسکی ہاتھوں کی بھیگتی ہوئی نرم ہتھیلیاں اسکے جزباتوں کو بھڑکا رہی تھیں
یہ لڑکی اسکے جینے کی وجہ تھی۔۔۔۔۔۔
اسکی چلتی سانسوں کی وجہ۔۔۔۔۔۔۔
ورنہ سالار تو کب کا اپنی زندگی کی ڈور کاٹ چکا ہوتا
وہ عین ہی تو تھی جس نے سالار کو فیصلہ کرنے میں مدد دی تھی اسے اسکے اصل مقصد کی طرف بڑھایا تھا
اسکا سکون اسکے دل کا چین سالار اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے نہ جانے کہاں گم ہو چکا تھا
نور نے جب اسکے چہرے پہ چھائے جزباتوں کو دیکھا تو اسکی جان حلق تک آگئی
اسکی بے دھیانی کو دیکھتے ہوئے نور نے ایک بار پھر کوشش کی اسکے حصار سے نکلنے کی مگر سالار اتنا بھی گم نہیں تھا کہ اس کی اس جدوجہد سے انجان رہتا
اپنی خمار آلود نگاہوں سے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اسکے لبوں کی طرف جھک گیا اور محبت بھری گستاخی کردی
نور کی تو سانسیں ہی بند ہو رہی تھیں مگر اس دشمن جاں کو کیا خبر۔۔۔۔۔۔۔
سالار اب مکمل اسکی قربت کے نشے میں ڈوب چکا تھا آہستہ آہستہ نور کے ایک ایک نقش پر اپنا لمس چھوڑتا چلا گیا
اسکی اس قدر شدت کی نور کہاں عادی تھی گھبراہٹ اور شرم کے مارے اسکی آنکھیں خود پر قابو نہیں رکھ سکیں اور جھرنا
بہنا شروع ہوگیا جبکہ سالار اس سے انجان اپنی ہی بے خودی میں گم تھا
کافی دیر بعد سالار نے اس کی طرف نگاہ اٹھائ تو حق دق رہ گیا
عین اسکی قربت پہ آنسو بہا رہی تھی وہ تکلیف میں تھی اسکی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اسے ناگوار گزرا کہ نور ایسے کیوں بی ہیو کر رہی ہے اس نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا
یہ سالار کی سالوں کی تڑپ کے آگے زرہ برابر بھی نہ تھا
مگر سالار کیا جانے عین کے احساسات اسکے احساسات سے یکسر
مختلف تھے وہ تو اس راہ پر تھی ہی نہیں جس راہ پر چلنے سے انسان اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھتا ہے اپنا آپ تک بھول بیٹھتا ہے
یہ تم کیا کر رہے ہو سالار عین کو کیسے تکلیف پہنچا سکتے ہو
ایسے تو وہ تم سے اور خوفزدہ ہو جائے گی کبھی بھی کھل کر تم سے اپنی دل کی بات نہیں کرسکے گی
تم تو چاہتے تھے کہ بچپن کی اس حسیں یاد کی طرح وہ خود چل کر تمہارے پاس آئے
تمہیں اپنے پیارے پیارے نرم ملائم ہاتھوں سے پیار کرے اور تمہارے آنسو پونچھے۔۔۔۔
تم تو اسے ایسے نہیں دیکھنا چاہتے تھے بزدل ڈرپوک دبو قسم کی۔۔۔۔
تم تو اسے مضبوط ہنس مکھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی اور تمہیں دل کی گہرائیوں سے محبت عشق کرنے والی دیکھنا چاہتے تھے
سالار کے اندر سے آواز آئی اور اسے ہوش کی دنیا میں پٹخا
سالار نے بمشکل اپنے پر لگام ڈالی اور اسے ایک نظر دیکھا
عین ابھی بھی اسی شغل میں مصروف تھی
سالار اٹھا اور اسے بھی اپنے ساتھ اٹھایا پھر پیار سے اپنے ساتھ لگایا اور اسکا کندھا نرمی و محبت سے تھپتھپایا
بسسس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بسس۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ مائے۔۔۔۔۔۔۔۔ گڈ۔۔۔۔۔۔۔ گرل۔۔۔۔
ڈونٹ۔۔ڈو دس۔۔۔۔۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔۔۔ ہوں میرا پیارا سا ڈرپوک بچہ۔۔۔۔
کننںںا روتا ہے نہ اففففففف۔۔۔۔۔۔
دیکھو نہ زرا رو رو کر کیسے میری آنکھوں کا حشر نشر کردیا ہے
کتنا سوجھ گئی ہیں۔۔ بہت درد ہو رہی ہے میری آنکھوں میں۔۔۔
سالار نے کسی معصوم بچے کی طرح منہ پھلا کر آنکھیں پٹپٹاتے
ہوئے کہا
نور جو رونے میں مصروف تھی سالار کے اس اچانک عجیب روئیے پہ سب بھول بھال کر آنکھیں پھاڑے کھلے منہ سے اسے تکنے لگی
روئی روئی سرخ گرین آنکھیں اوپر سے اسکی جان لیوا معصومیت سالار پھر سے بہکنے لگا
اف۔۔۔۔۔۔
ایک تو قصور بھی ان لڑکیوں کا ہوتا ہے اتنی پیاری پیاری دل موہ لینے والی شکلیں بنائیگیں تو مجھ جیسے شریف بندے کا دل تو پھر پھسلے گا ہی
سالار اپنے پھر سے اٹھ رہے جزباتوں کو دباتے ہوئے دل میں بڑبڑایا
ایسے کیا دیکھ رہی ہو کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے تمہاری آنکھیں تمہارے ہونٹ تمہارا یہ تل یہ سرخ عارض صاف شفاف چھوٹی سی پیشانی یہ لمبے سے پیارے بال حتی کہ تمہارا پورا یہ وجود میرا ہی تو ہے
تم پوری کی پوری سالار کی عین ہو۔۔۔۔۔۔
Only mine………… !!!!!!!!!
اور بلکل اسی طرح میں صرف اور صرف تمہارا ہوں پورا کا پورا
Only yours…………!!!!!!
اب دیکھو میں بھی تمہاری چیزوں کا خیال نہیں رکھوں گا
تم نے بھی تو میری چیزوں کا خیال نہیں رکھا
کیا حالت بنا لی ہے تم نے میری پیاری سی آنکھوں کی سوج کر کیسے ہرا لال ٹماٹر لگ رہی ہیں
ماتھا پیٹ کر کہا گیا
اب میں بھی رو رو کر تمہاری آنکھوں کا کالا ٹماٹر بنا دوں گا
منہ پھلا کر ناراضگی جتائی گئی
ایسے کرتے ہوئے سالار دی ہٹلر اس وقت سالار دی کیوٹ بچہ لگ رہا تھا اور وہ بھی اتنا بڑا اور ہٹا کٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور اسکی بے تکی بات سن کر ایکدم کھلکھلا کر ہنسنے لگی
وہ تھی ہی ایسی کوئی بھی اسکا دماغ بہت آسانی سے ڈائیورٹ کر سکتا تھا
اسکی ہنسی بھی قاتل دلبرانہ تھی ۔۔۔ ایک اور قصور نوٹ کیا گیا
سالار کی طرف سے مگر بظاہر کن انکھیوں سے اسے محظوظ ہو کے دیکھ رہا تھا
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔ کالا ٹماٹر تو ہوتا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔
معصومیت سے سالار کی عقل پر ماتم کیا گیا
لال ٹماٹر ہرا ٹماٹر اور تھوڑا تھوڑا پیلا بھی ہوتا ہے شیڈ میں مگر
کالا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو سرے سے ہی نہیں ہے ہا ہا ہا۔۔۔۔
نور ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی تھی اور ادھر سالار پاگل ہو رہا تھا اسے ہنستا ہوا دیکھ کر۔۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا ہوا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے مصنوعی خفت سے کہا
چین ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔. چین دی گریٹ اپنا یار وہ تو کچھ بھی کر سکتا ہے کالا تو کیا نیلا جامنی گلابی سب کے سب ٹماٹر اگالےگا
تمہاری طرح تھوڑی نہ ہے بیوقوف۔۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناک سے مکھی اڑائی گئی
نور جو اسکی بنا سر پیر باتوں پہ لوٹ پوٹ ہو رہی تھی اسکے. بیوقوف کہنے پر اسکی ہنسی کو یکدم بریک لگی
کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
میں۔۔۔۔۔۔ میں بیوقوف۔۔۔۔۔۔نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ میں تو بیوقوف بلکل بھی نہیں ہوں
نور نے حیرانی سے اسے معصوم بھرے لہجے میں جیسے اسے یقین دلانا چاہا
کس نے کہا آپ سب سے کہ میں. بیوقوف ہو ں۔۔۔۔۔۔۔!!!
کہنا کس نے ہے یہ بقلم خود عین صاحبہ نے اپنی حرکتوں سے ثابت کیا ہے کہ وہ بیوقوف ہے میرا کیوٹ بچہ۔۔۔۔۔
سالار نے اسکے گالوں کو زور سے ادھر’ادھر کھینچتے ہوئے پیار سے کہا
آئییییییییی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اف چھوڑیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالار کے ہاتھ اپنے گال سے جھٹکے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے سہلانے لگی ساتھ میں اسے گھور نے کا کام بھی کیا
جی۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ میں بیوقوف۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکل۔۔۔۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں ہوں اور۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہی کوئی۔۔۔۔۔ بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وچہ ہوں
نور نے چبا چبا کر غصیلے لہجے میں اسے گھور تے ہوئے کہا
اف قاتلانہ غصہ۔۔۔۔۔۔۔ایک اور قصور۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ہو کیوں نہیں ہو بلکل ہو تم بچہ۔۔۔۔ ہاں مگر وچہ نہیں ہو یہ تم نے خود ہی ایڈ کیا ہے میں نے تو صرف بچہ کہا تھا
سالار نے اپنی بات پر قائم رہا۔۔۔۔۔۔
مم۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بچہ کہاں سے ہوگئی ۔۔۔۔ میں تو آپ کی بیوی ہوں نہ۔۔۔ نور نے تنگ آکر جھنجلا تے ہوئے کہا
ہاں ۔۔۔۔۔ ہو کیوں نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ہماری بیگم صاحبہ ہیں۔۔۔۔۔۔!!
مگر ہم مابدولت آپ کو پیار سے بچہ کہا کریں گے۔۔۔۔۔۔!!!!
تم نے دیکھا نہیں کہ آجکل بوائے فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کو اور ہزبینڈ اپنی وائف کو بےبی بےبی کہتے ہیں
اب بےبی کا مطلب بچہ ہی تو ہوتا ہے نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی سالار ہمیشہ اپنی کرتا ہے کبھی کسی کو کاپی نہیں کرتا ہے اس لئے میں تمہیں بےبی کی جگہ بچہ کہا کروں گا
سالار نے کندھا اچکا کر لاپرواہی سے کہا
نہیں بلکل نہیں آپ ایسا ویسا کچھ نہیں کہیں گے نہیں تو سب میرا مزاق اڑا ئیں گے اتنی بڑی ہو کر میں “بچہ” کیسا لگوںگی
نہیں۔۔۔۔۔۔۔ نو ۔۔۔۔۔۔اینڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور ایور۔۔۔۔۔۔ نور نے کڑک انداز میں کہا
اف ایک اور قصور۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
کیوں نیور بلکہ ایور ۔۔۔۔ ایور۔۔۔۔۔۔۔ اینڈ ہمیشہ ایور سالار نے بھی ڈھٹائی کی حد کردی
نور کو سالار کی ڈھٹائی پر بے حد غصہ آیا اور اسی غصے میں ادھر’ادھر دیکھتے ہوئے نرم پلو اٹھا کر اسکے سر پر مارنے لگی جس سے پلو کی روئی تکیہ کو پھاڑتی ہوئی باہر اڑنے لگی
ایسے کرتے ہوئے کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ یہ وہی کچھ دیر پہلے والی ڈرپوک نور ہے۔۔۔۔۔
بولیں بولیں نہ اب کہیں گے مجھے بچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور اسے مارتے ہوئے بے رحم انداز میں بولی
مارتے مارتے اچانک نور نے اپنے ہاتھ روک لئے اور خوفزدہ نظروں سے سالار کو دیکھنے لگی
یہ کیا کیا نور تونے شہد کی کڑوی مکھی ۔۔۔ نہیں بلکہ کڑوی مکھے کو چھیڑ ڈالا اب تو یہ ہٹلر تمہیں نہیں چھوڑے گا کچا چبا جائے گا
نور نے اسے سہمی سہمی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنی آنکھیں بھینچ لیں
سالار جو آنکھیں موندے نور کے ہاتھوں باخوشی پٹ رہا تھا اسکے اچانک رکنے پر آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا جو ڈر کے مارے آنکھیں بھینچ بیٹھی تھی
سالار کو جب سمجھ آیا تو ہلکی سی مسکان اسکے چہرے پہ آئی
ڈر گئی میری شیرنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زیرلب بولا
اور پھر دوسرا پلو اٹھا کر اسکے چہرے پر ہلکا سا پھینکا کہ کہیں زور سے نہ لگ جائے۔۔۔۔۔
نور جو ڈری سہمی بیٹھی اپنی درگت بننے کا سوچ رہی تھی مگر اچانک اپنے چہرے پہ کچھ لگنے سے جھٹ سے آنکھیں کھولیں
اور جب اپنے چہرے پہ پڑنے والی چیز کو دیکھا تو وہ تکیہ تھا
نور نے حیرانی سے سالار کو دیکھا جو لڑاکا عورتوں کی طرح اپنی کمر کے گرد ہاتھ رکھے مصنوئی غصے سے گھور رہا تھا
یہ چیٹنگ ہے اگر تمہیں پلو فائٹ کرنی ہے تو بتاؤ تو سہی مجھے تاکہ میں بھی تیار ہو کر مقابلے میں کود جاؤں تم تو اکیلے ہی مزے سے شروع ہو گئ
سالار نے نور سے نروٹھے انداز میں کہتے ساتھ ہی وہی تکیہ اٹھا کر اسکے کندھے پر ہلکا سا دے مارا۔۔۔۔۔
نور اسے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتی حیران و پریشان بنی کسی مورت کی طرح سٹل بیٹھی ہوئی تھی
سالار نے جب اسے ویسے ہی بیٹھے ہوئے دیکھا تو اسے ہلایا
کیا دیکھ رہی ہو شروع ہو جاؤ یا پھر تم مجھ سے ہارنے کا سوچ کر ڈر گئ ہو سالار نے عین کا دھیان ہٹانے کے لئے اسے تپایا اور وہ تپ بھی گئی
میں کیوں ہاروں گی ابھی روکیں ابھی مزا چکھاتی ہوں نور نے اسے رکھ کے ایک تکیہ مارا اور ہوگئے شروع ایک دوسرے کو مارنے لیکن سالار صرف مارنے کی ایکٹنگ کر تے ہوئے اس سے بس مار ہی کھائے جا رہا تھا اگر اس وقت سالار کو کوئی یوں پٹتے ہوئے دیکھ لیتا تو ضرور غش پہ غش کھاتا ۔۔۔ ۔
پورے کمرے میں روئی اڑ اڑ کر سنو فالنگ کا نظارہ پیش کر رہی تھی اور یہ دونوں ہنستے مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو ہرا نے کے در پہ تھے
آخر کار سالار نے اپنی ہار تسلیم کی اور نور کی جیت ہوئی
دونوں تھک کر بیڈ پر چت سیدھا لیٹے چھت کو گھور رہے تھے دونوں کی سانسیں پھول چکی تھیں جسے وہ اب درست کر رہے تھے
اچانک سالار نے اسکی طرف رخ کرکے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے مدھم گھمبیر آواز میں پکارا
عین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟!!
عین نے آنکھیں گھما کر اسکی طرف دیکھا
دو منٹ کی خاموشی کے بعد سالار نے پھر سے خاموشی کو توڑا
میری دوست بن جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔””’
میرا کوئی دوست نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
تم میری اور میں تمہارا پکا گہرا والا دوست بن جاتے ہی ۔۔۔۔Besty’sوالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسرا کوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے امید بھری نظروں سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
پلیز عین۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
اسکی پکار میں نہ جانے ایسا کیا تھا کہ اس کا سر بے ساختہ اثبات میں ہل گیا اور سالار کی امید کو ٹوٹنے سے بچا گیا
تھینکس عین۔۔۔۔۔ تھنکیو سو مچ.۔۔۔۔۔۔۔
ہم ایسے ہی پکے والے بیسٹیزبن کے رہیں گے ہمیشہ۔۔۔۔۔۔۔
ہے نہ عین ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔۔۔سالار نے بچوں جیسے پرجوش لہجے میں عین کی تائید چاہی جسے نور نے مسکراتے ہوئے دے بھی دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او میری عین۔۔۔۔۔ فرط مسرت سے سالار نے اسے اپنے گلے لگایا
نور تو سٹپٹا ہی گئی جبکہ سالار اپنی ہی خوشی میں مگن رہا
وہ۔۔۔۔۔ وہ مجھے واشروم جانا ہے
نور کی ہلکی منمناتی ہوئی آواز اسکے کانوں میں پڑی۔۔۔۔
سالار جیسے ہوش میں آیا ہو۔۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔. ہاں جاؤ ۔۔۔ نور کو خود سے الگ کرتے ہوئے اسکے شرم سے گھبراتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
سالار کے چھوڑنے پر عین تیزی سے واشروم میں بھاگ گئی اور اپنی بے طرح زور زور سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھا
اسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر سالار کی باتوں کو یاد کرتی ہوئی منہ پہ ہاتھ رکھ کر دھیرے سے ہنس پڑی


وہ مجھے کالج جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار اور نور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب نور نے سالار سے کالج جانے کے بارے میں کہا
پہلے تو سالار نے ان سنا کر دیا اور اپنے ناشتے کی طرف متوجہ رہا
نور نے اسے پھر متوجہ کرنا چاہا کیوں کہ وہ لیٹ ہو رہی تھی
سالار بھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور بھائی کہتے کہتے ایکدم رک گئی اور اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
سالار نے اسے گھور کے دیکھا
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کہوگی تم مجھے۔۔۔۔۔
سنجیدہ آواز میں تنبیہ کی گئی
جج۔۔۔۔۔ جی اس نے شرمںندہ ہوتے ہوئے سر ہلایا
آپ مجھے کالج چھوڑ دیں گے۔۔۔۔؟؟؟؟
ایک دفعہ پھر سے وہی بات دہرائی
سالار نے لاسٹ سپون لے کر نیپکین سے منہ صاف کیا اور پھر عین کی طرف دیکھا جو کہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ایک لفظی جواب دیا گیا
نور نے اسے اچھنبے سے دیکھا پھر کچھ سمجھتے ہوے بولی
او اچھا اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو میں ڈرائور کے ساتھ چلی جاتی ہوں
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ تو میں تمہیں چھوڑنے جاؤگا اور نہ ہی ڈرائور
سالار پھر سے سنجیدہ ہو چکا تھا
لیکن کیوں آج میرا ٹیسٹ ہے اور میں نے بہت محنت سے تیاری بھی کی ہے
نور پہلے حیران ہوئی پھر بے چارگی سے کہا
عین میری بات غور سے اپنے اس چھوٹے سے دماغ میں بٹھالو ہمیشہ کے لئے۔۔
جب میں تمہارے پاس ہوں گا ۔۔۔۔ تمہارے سامنے ہوں گا
تمہارا سارا دھیان تمہاری ساری توجہ یہ صرف میرے لئے ہی ہونی چاہیے اور کسی کے لئے بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ ہی تم کسی سے ملنے نیچے جاؤگی نہ ہی فون پہ کسی سے بات کرو گی آور نہ ہی کالج جاؤگی
ہاں البتہ جب میں چلا جاؤں تو تم یہ سب کر سکتی ہو۔۔۔۔۔!!!!
لیکن میرے سامنے نہیں۔۔۔
اور ہاں ایک اور بات میرے ہوتے ہوئے یا میری غیر موجود گی میں بھی تم کسی بھی لڑکے سے بات تک نہیں کرو گی کسی سے فری نہیں ہوگی سمجھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار اپنی چئیر پر سے کھڑے ہو کر ایک نظر نور کو دیکھا اور اسکے دونوں طرف ہاتھ رکھ کے جھکتے ہوئے اسکی آنکھوں میں
دیکھتے ہوئے سختی سے باور کروایا
جبکہ نور تو منہ کھول کر حیرت کا مجسمہ بنی بیٹھی دہی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔