54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

سالار نے آتے ساتھ ہی کان پکڑ لئے ۔۔۔۔۔۔
سوری سوری سوری سو سوری جنم۔۔۔۔ آج تھوڑا سا لیٹ ہوگیا پلیز معافی دے دینا وہ کیا ہے نہ کہ وہ ۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ وہ ہ ہ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
اب کیا بہانہ کروں ۔۔۔۔ سچ تو بتا نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔ ورنہ جوتے پڑنے ہیں ۔۔۔۔۔۔
ہاں ں ں ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی خراب. ہوگئی تھی جنم۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلی بار نئی گاڑی لوں گا ۔۔۔۔
دیکھوں نہ ہر بار گاڑی ہمارے بیچ فاصلے لے آتی ہے
سالار ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتا جا رہا تھا اور ساتھ ہی شاور لے کر چینج بھی کرچکا تھا
بن شرٹ کے وہ باہر نکلا اور دھڑام سے بیڈ پہ گر کے بلکل اسکے پاس لیٹ گیا ۔۔۔۔
کتنا سوتی ہو تم جنم یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھکتی نہیں ہو سو سو کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیار سے اسکا گال سہلایا گیا
ویسے تمہاری نیند کا میں اچھی طرح فائدہ اٹھا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
معنی خیزی سے کہتے ہوئے سالار نے اسکے ماتھے پر لب رکھے
اگر تمہیں مجھ سے بچنا ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی سے آنکھیں کھولنی ہوں گی ورنہ میں تو کسی حال میں بھی نہیں رکنے والا
سالار نے اسے باہوں میں بھینچ کر اپنا منہ اسکی گردن میں چھپا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ہمیشہ کی طرح ضبط کے باوجود اسکے آنسو اسکا کندھا بھگونے لگے جو مقابل کے دل پہ کاری وار کر رہے تھے
پانچ سال ۔۔۔۔۔۔۔ پانچ سالوں سے وہ ہر دن اس سے ایسے بات کرتا جیسے وہ اسے ہی سن رہی ہو دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔ مگر کہاں وہ تو دنیا سے خفا ہر کسی سے خفا آنکھیں بند کیے پڑی ہوئ
تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پانچ سال پہلے۔۔۔۔۔۔۔
سالار ڈاکٹر کے منہ سے ادا ہونے والے الفاظ سن کر بے ہوش ہو کر زمین بوس ہوگیا تھا
برہان غمزدہ سا اسکی جانب لپکا اور اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا پانی کے چھینٹے ڈالنے سے سالار نے اپنی سوجی ہوئی آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. برہان اسکے گلے لگ کر رو پڑا تھا
سالار ساکت نظروں سے دیوار کو گھور رہا تھا
برہان کو ایک جھکے سے خود سے دور کرتے ہوئے وہ روم کی جانب بڑھا جہاں عین کو رکھا گیا تھا
آرام سے چلتا ہوا وہ اندر داخل ہوا اور عین کے سر پر جا کر کھڑا ہوگیا
چند منٹ اسے گھور نے کے بعد سالار نے اسے اپنی گود میں اٹھا لیا اور ہاسپٹل باہر نکل گیا
برہان حیران سا سالار کی تمام حرکات کو دیکھ رہا تھا
سالار پرائیویٹ جیٹ میں اسے لیکر پاکستان آچکا تھا ساتھ میں برہان بھی تھا
سارے راستے سالار نے منہ سے کچھ نہیں بولا تھا بس عین کو باہوں میں لئے اسکے چہرے کو دیکھی جارہا تھا
برہان نے اسے بلانے کی بارہا کوشش کی مگر سالار کا سکتہ نہیں ٹوٹا تھا
گھر پہنچ کر جب سالار نے عین کو صوفے پر لٹایا تو سب گھر والوں کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا
ہر کوئی دنگ حالت میں کھڑا تھا
دادا جان۔۔۔ چچی جان۔۔۔۔ چاچو ۔۔۔۔۔۔ دیکھیں نہ عین کو اٹھ ہی نہیں رہی کب سے سوئے جارہی ہے آنکھیں بند کئے۔۔۔۔۔۔۔
جانتی بھی ہے کہ مجھ سے اسکی حالت برداشت نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھی کتنے مزے سے سوئی پڑی ہے
سالار منہ میں بڑبڑاتے ہوئے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا عین کو دیکھے جا رہا تھا
جہاں سب گھر والے برہان سے مختصرا”سارا واقعہ سننے کے بعد نور کے پاس دوڑے آئے تھے جہاں سب نور کو ہی پہلے سے ہی اٹھا نے کی کوشش کر رہے تھے
پھر کیا تھا پتہ چلنے کے بعد تو خواب جہاں میں صف ماتم بچھ گئیں تھیں کسی کو بھی نور کے مرنے کا یقین تک نہیں آرہا تھا سالار ویسے ہی چپ چاپ بیٹھا بس دیوار کو ہی گھورے جا رہا تھا
سب ا نتظامات ہوچکے تھے نور کو بھی کفن پہنا دیا
گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم ضبط کے بندھن کھو بیٹھیں تھیں جب نور کو لے جانے کے لئے آئے تھے
سب گھر پریشان سے انکی طرف بڑھے تھے اور اسی چکر میں نور کے پاس سوائے سالار کے کوئی بھی نہیں تھا
سالار لرزتے قدموں سے چلتا ہوا عین کے پاس آیا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر اتنی زور سے بھینچا تھا کہ نور کی ہڈیاں ٹوٹنے کے قدار پر تھیں
سالار کی آنکھوں کے سامنے وہ تمام منظر ایک بار پھر لہرا نے لگے تھے
ابھی وہ ان مناظر میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک سالار کو ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا جیسے۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک دم عین کو خود سے الگ کرکے اسکا چہرہ دیکھا جو کب سے ساکت تھا پھر دوبارہ اپنے ساتھ سختی سے بھینچا تو سالار کی خشک ہوئی آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔
میری عین ۔۔۔۔۔۔۔ میں جانتا تھا کہ تم مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔۔۔۔۔ اپنے سالار کو نہیں چھوڑ سکتی اکیلا ۔۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہے جا رہے تھے
جب سالار نے عین کو اپنے ساتھ بھینچا تھا تو اسے لگا کہ عین کا دل دھڑکا ہو ۔۔۔۔۔
اسے جھٹکا لگا تھا ۔۔۔۔ مگر پھر جب دوبارہ اسے لگا یا تو کافی ٹائم تک اسکے دھڑکنوں کو محسوس کرتے ہوئے اسے اب کوئی شک نہیں تھا کہ اسکی عین زندہ ہے ۔۔۔
مگر ڈاکٹر نے تو۔۔۔۔۔۔۔۔
پر جب پہلے سالار نے اسے گلے لگایا تھا تو تب تو اسکی دھڑکنیں ایک دم ساکت تھیں ثھری ہوئیں جیسے ایک مرے ہوئے انسان کی ہوتی ہیں۔۔۔۔
جو بھی ہو اس وقت سالار کے پاس وقت نہیں تھا بلکل بھی اس لئے اس نے عین کو برہان کے ساتھ مل کر وہاں سے غائب کروا دیا تھا
برہان کو بھی سب سمجھانے کے بعد کہ کوئی تو ہے جو میزی کے ساتھ ملا ہوا ہے کیونکہ جب وہ نقلی نرس انکے پاس آئی تھی تب انہیں پتہ چلا تھا کہ میزی ملک چھوڑ کر بھاگ چکی ہے تو پھر وہ کون تھی جو منہ چھپائے وہاں آئی تھی
ہو سکتا ہے کہ وہ یہاں بھی موجود ہو اس لئے. بنا کسی کو بھی بتائے کہ عین زندہ ہے اسے وہاں سے ہٹادیا تھا اور اسکی جگہ سالار نے دو پنچنگ بیگ رکھ دیے تھے پھر برہان نے لیٹ ہو جانے کا کہہ کر فورا” سے جنازہ اٹھایا تھا اور پھر لحد میں بھی ان دونوں نے اتارا تھا اس طرح کسی کو بھی شک نہیں گزرا تھا عین کی جگہ کچھ اور ہے۔۔۔۔۔۔
یہاں سے فارغ ہونے کے بعد سالار نے اپنے الگ اسلام آباد والے گھر میں عینی کو لے کر آگیا تھا اور عین کا خفیہ علاج شروع کروا دیا تھا جس کا سالار اور برہان کے علاوہ کسی کو بھی نہیں پتہ تھا
چیک آپ کرنے اور کچھ ٹیسٹ وغیرہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے یہ بتایا تھا کہ عین کو دل کے مقام پر ایک ایسا انجیکشن دیا گیا تھا جس سے کچھ دیر تک ہارٹ دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے اور نارمل انسان ایک دم مردہ کی طرح ہو جاتا ہے اور اگر وقت کے رہتے دل پر دباؤ نہ ڈالا جائے تو دل سچ میں مردہ ہو جاتا ہے اور انسان کی موت یقینی ہوتی ہے
یہ سن کر سالار کو جہاں چین ملا تھا کہ اگر وہ عین کو سختی سے نہ بھینچتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر دوسرے ہی پل اسے خطرناک حد تک غصہ چڑھا تھا کہ ایسا کون ہے جس نے عین کو ایسا انجیکشن لگایا تھا
تب سے اب تک پچھلے پانچ سالوں سے عین کوما میں تھی جو کہ اس انجیکشن کا ہی سائڈ ایفیکٹ تھا
ڈاکٹر کے مطابق اس کا ایکزیکٹ دورانیہ بتانا مشکل تھا کہ کب تک عین کوما سے باہر نکلے گی ہو سکتا ہے کہ جلد ہی ہوش آئے یا پھر ساری زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے وہ کچھ بول ہی نہیں پایا تھا کیونکہ سالار نے اسے دھکا دیا تھا اور سرد آواز میں اسے خبردار کیا تھا کہ ایسی منحوس باتیں اپنے منحوس منہ سے نہ کرے ۔۔۔۔ میری عین جلد ہی ٹھیک ہوجائے گی
وقت گزرتا گیا اور عین کو ہوش نہیں آیا
مگر اتنا ضرور ہوا تھا کہ عین اب سن اور محسوس کر سکتی تھی مگر کچھ بول نہیں سکتی تھی ہل نہیں سکتی
وہ روز سالار کی بے تکی باتیں اسکے بہانے اسکا چھونا اسکی محبت اسکی فکر اور اسکے آنسؤوں کو وہ روز محسوس کرتی تھی دل ہی دل میں اسکے ہر سوال کا جواب بھی دیتی تھی اور اسکی تڑپ پہ تڑپتی بھی تھی مگر کیسی بےبسی تھی کہ وہ اسے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی بے بس و لاچار بنی وہ سالار کی تکلیف کو اپنے دل پر محسوس کرتی رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر اتنے سالوں میں کچھ اچھا ہوا تھا تو وہ یہ تھا کہ عین نے اپنے انجان جزباتوں کو نام دے دیا تھا ۔۔۔۔۔۔
عشق کا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے احساس ہوچکا تھا کہ وہ سالار سے بے انتہا عشق کرتی ہے ۔۔۔۔۔ بے انتہا۔۔۔۔۔۔
عین کو بھی اپنے ٹھیک ہونے کی جلدی تھی پھر جب ول پاور بھی ہو تو پھر مریض کیسے نہ ٹھیک ہو اور یہاں تو پھر بھی عشق کا معاملہ تھا
سالار کے گرتے آنسو عین کو تکلیف پہنچا رہے تھے مگر وہ کچھ بھی نہیں کر پارہی تھی
جنم۔۔۔۔۔۔ بہت تکلیف میں ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو نہ برہان کی بھی شادی ہوگئی اور اسکے دو جڑواں بچیاں بھی ہیں بہت پیاری ہیں اینجل کی طرح ۔۔۔۔۔ مجھے بھی ایسی اینجل چاہیں عین۔۔۔۔۔ میں بھی نارمل زندگی چاہتا ہوں ۔۔۔۔ تم کیوں نہیں اٹھتی ۔۔۔۔۔ کیوں نہیں اٹھتی۔۔۔۔۔۔
سالار کے لب اسکے کندھے کو چھو رہے تھے اور عین کی دل کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے
عین کو سالار کی گرم سانسیں. اپنے چہرے کے انتہائی قریب محسوس ہوئیں اور پھر سالار کے لب اپنے لبوں پر محسوس ہوئے
سالار تو اپنے میں تھا مگر سالار کی اس جسارت نے عین کے رگ و پے میں بجلی سی بھر دی تھی اسکا پورا چہرہ سالار کی قربت سے لال اناری ہوچکا تھا کہ جیسے ابھی خون بہنا شروع ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے جب چہرہ تھوڑا اونچا کرکے اسکی طرف دیکھا تو سالار چونک گیا
اتنے عرصے میں پہلی بار عین نے اسکی جسارت پر کچھ ری ایکشن دیا تھا جو کہ اسکا اسکی قربت پہ سرخ ہونا تھا
اسکا مطلب عین ۔۔۔۔۔ عین۔۔۔۔ سب فیل کر سکتی ہے ۔. وہ مجھے محسوس کر سکتی ہے
سالار کو بے پناہ خوشی محسوس ہوئی تھی
اسکا مطلب تم ٹھیک ہو رہی ہو عین ۔۔۔۔۔ اب میں جان گیا ہوں کہ تمہیں کیسے ٹھیک کرنا ہے
سالار اسکی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں کچھ سوچ کر پلین بنا چکا تھا
پھر مسکراتے ہوئے اس پر نظر ٹکائے پھر سے اس پر جھکا تھا اور شوخ سی جسارت کر گیا
عین جو اسکے ہٹنے پہ سنبھلی ہی تھی کہ پھر سے اسکی گستاخی کرنے پر دوبارہ سے بلش کرنے لگی جبکہ سالار مسرور سا اسے پیار کئے جارہا تھا کہ سب وہ دن دور نہیں جب عین بلکل ٹھیک ہوگی ۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔