54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

اب چلیں گے بھی آپ یا پھر بیچ سڑک میں ہی ڈیٹ منانے کا ارادہ ہے میاں جی ۔۔۔۔۔۔۔
رباب نے تو آج قسم ہی کھا لی تھی برہان کو زچ کرنے کی
یہ دونوں کب سے سڑک کے بیچ کھڑے لفٹ مانگ رہے تھے مگر بقول برہان کے جب رباب جیسی آفت ساتھ ہو تو کبھی کچھ اچھا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
ہٹو تم تمہیں تو لفٹ مانگنی بھی نہیں آتی۔۔۔۔ میں بتاتی ہوں کیسے لفٹ لیتے ہیں
کہتے ساتھ ہی اس نے دیکھا کہ ایک وائٹ کلر کی کرولا آرہی تھی رباب جھٹ سے اپنی پرانی جوبن پہ آتے برہان کی سائڈ گرگئی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔
جیسے ہی رباب برہان کی طرف گری برہان کے تو مانو ہوش ہی اڑ گئے ۔
رباب۔۔۔۔۔۔۔!!
رباب آنکھیں کھولو یار کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔۔۔ رباب ۔۔۔۔ برہان فکرمند سا چلاتے ہوئے اسے اپنے بازؤوں میں مضبوطی سے تھامے جھنجھوڑ رہا تھا۔۔۔ بوکھلاہٹ کے مارے اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کرے تو کرے کیا ۔۔۔۔??
اتنے میں ان کے سامنے گاڑی رکی اور گاڑی میں سے بڑی عمر کی خاتون باہر نکلیں اور پھرتی سے انکے پاس آئیں اور رباب کو اس سے چھیننے لگیں (وہ الگ بات تھی کہ چھین نہیں پارہی تھیں اتنا دم جو نہیں تھا) اے چھوڑ ۔۔۔۔ چھوڑ لڑکی کو بے غیرت انسان شرم نہیں آتی جوان جہان لڑکی کو اغوا کرکے لے جاتے ہوئے ۔۔۔۔۔ اماں بی ماتھے پر تیوری ڈالے اسے گھور تے ہوئے بولیں جبکہ برہان اس اچانک پڑنے والی افتاد پر گھبرا گیا پہلے ہی وہ اتنا بوکھلا یا ہوا تھا کہ اب مزید کی کسر ان اماں بی نے نکال لی تھی
اوپر سے ان کا اس طرح کا الزام اگر برہان رباب کی وجہ سے پریشان نہ ہوتا تو ضرور انکی بات کا جواب کچھ یوں ضرور دیتا کہ نہیں اور تو کیا آپ کو اغوا کر لیتا ۔۔۔۔۔۔۔
مگر مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کرنی پڑی۔۔۔۔۔
دیکھیں پلیز ہماری مدد کریں میری وائف بے ہوش ہوگئی ہے اسے ہاسپٹل لے کر جانا ہے آپ باقی کی کی ساری تفتیش بعد میں کر لیجئے گا
برہان نے بہت مشکل سے اپنے چڑچڑے پن کو قابو کرکے کہا تھا ورنہ تو دل تو کچھ اور ہی کرنے کو چاہ رہا تھا
اماں بی نے کھوجتی نظروں سے ان دونوں کو اچھی طرح گھورا پھر انہیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا لیا
بیچ میں برہان اور اسکے دائیں طرف اماں بی اور بائیں طرف رباب تھی ۔۔۔۔
رباب سن دونوں کو بنا کوئی بھنک لگے مزے سے اپنا سارا بوجھ برہان کے کاندھوں پہ ڈالے آنکھیں موند کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔
اے چھورے بیچ میں تم کیوں بیٹھ گئے ہاں ابھی یہ کن ۔۔۔۔فرم نہیں ہوا کہ یہ تمہاری پکی والی بیوی ہے۔۔ اماں بی کی زبان کو کہاں چین تھا کہ وہ چپ کر جائیں راستے میں بھی وہ بےچارے ڈرائیور کے کان پکاتی آئیں تھیں اب صد شکر کے ڈرائیور کی جان چھوٹ کر ان کی جان ہاتھ میں آگئی۔۔۔
اچھا ااا۔۔۔۔ تو پھر یہ کب کن۔۔۔۔۔۔ فرررم ہوا ہے کہ یہ میری کچی والی بیوی ہے۔۔۔۔۔
برہان کے دوبدو جواب پر اماں بی ہڑبڑا گیں اب برہان بچارا کب تک برداشت کرتا پہلے ہی رباب ہوش میں آنے کا نام نہیں لے رہی تھی اوپر سے ان کی زبان شریف رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی
اے ۔۔۔ لڑکے دیکھ میرے ساتھ زبان مت چلانا ورنہ میں ابھی گاڑی سے اتار دوگی سمجھے ۔۔۔
اماں بی بھی کہاں اب رعب میں آنے والی شے تھیں پوری پوری مقابلہ بازی پہ اتر آئیں ۔۔
رباب نے سوچا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادہ ایکٹنگ لفٹ سے ہاتھ ہی نہ دھلوا بیٹھے ۔۔۔۔۔۔
اس لئے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھول لیں۔
برہان نے جب رباب کو ہوش میں آتے ہوئے دیکھا تو جھٹ سے اسکی طرف متوجہ ہوا اور فکرمندی سے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے طبعت کا پوچھنے لگ گیا
رباب تم ٹھیک تو ہو اچانک تمہیں کیا ہو گیا تھا۔۔؟
مم۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں بس چکر سے آگئے تھے
رباب نے نقاہت سے بھری آواز بنا کر کہا
اچھااا۔۔۔ تو تمہیں چکر آرہے تھے کہیں۔۔۔۔۔ ؟
نہیں پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم کیا واقعی میں میاں بیوی ہو ۔۔۔؟؟
جی۔۔۔۔ جی آنٹی جی ہی دونوں میاں بیوی ہی ہیں۔۔۔
رباب کے جواب پر اماں بی کو تسلی ہوئی مگر پھر زہن میں کچھ آتے ہی انہوں نے برہان جو آدھا رباب کی طرف مڑا ہوا تھا کا کندھا پیچھے سیٹ کی بیک پر رکھ کے مارا کیونکہ انہیں رباب کو دیکھنے میں مشکل پیش آرہی تھی
ہاں سچ ۔۔۔۔ ابھی تم کہہ رہی تھی کہ تمہیں چکر آرہے تھے اس لئے بے ہوش ہوگئی تھی تو کیا یہ چکر ابھی ابھی ہی آئے تھے یا پھر پہلے سے مسلسل آرہے تھے ہیں بتاؤ تو زرا۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ جی ہاں ۔۔۔ بب۔۔۔ بلکل بلکل مجھے تو چکر کل سے اتنے آرہے ہیں اتنے آرہے ہیں کہ بس۔۔۔۔ رباب نے اپنی عقل کے مطابق جواب بنایا کہ کہیں ایکٹنگ کر تے ہوئے پکڑی نہ جائے اس لئے
میری مانو تو ہاسپٹل سے اپنا مکلمل چیک اپ کر والو کہیں کوئ۔۔۔۔۔
نہیں نہیں ایس۔۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے وہ بس میں نے ناشتہ نہیں کیا تھا نہ آج تو اسی لئے طبعت خراب ہوگئی تھی گھر جا کر آرام کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی۔۔۔۔
برہان خاموش تصویر بنا کبھی اس طرف تو کبھی اس طرف منہ موڑ موڑ کر ان دونوں کی باتیں سمجھنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا مگر کچھ پلے نہ پڑ رہا تھا
پھر کافی دیر بحث مباحثے کے بعد آخر کار رباب نے گھر سے کافی فاصلے پر گاڑی رکوا دی کہ کہیں زبردستی ٹیسٹ کروانے کے چکروں میں گھر میں ہی نہ گھس جائیں۔۔۔
رباب یہ کیا کہہ رہی تھیں کون سا مکلمل چیک اپ۔۔۔؟؟
تمہیں نہیں سمجھ آئی ؟؟؟اچھی بات ہے ۔۔۔ سمجھ نا بھی مت ۔۔۔ ویسے بھی اس سے تمہارا کوئی لنک نہیں ہے اوکے میاں جی ۔۔۔۔
پھر ملیں گے بائے امممماں۔۔۔۔۔۔۔۔
رباب تو رفو چکر ہوگئی پیچھے سے برہان اپنی گال پہ ہاتھ رکھے آنکھیں پھاڑے رباب کی پشت کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔


نور ریسٹورنٹ پہنچ چکی تھی اور اور اپنی چئیر پر بیٹھے منزی کا انتظار کر رہی تھی
او ۔۔۔ ہائے سو سوری یار تھوڑی دیر ہوگئی میرے ہسبنڈ تو مجھے آنے ہی نہیں دے رہے تھے اوپر سے میری کنڈیشن ہی ایسی تھی اس وجہ سے وہ کچھ زیادہ ہی کئیری ہوگئے ہیں مجھ سے محبت جو اتنی کرتے ہیں۔۔۔.
میزی نے آتے ساتھ ہی نان سٹاپ بولنا شروع کردیا تھا ۔۔۔ نور مسکراتے ہوئے اس کی باتیں انجوائے کر رہی تھی
اٹس اوکے ۔۔۔ لگتا ہے کہ آپ کے ہسبنڈ آپ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔۔۔ نور نے اپنی نرم آواز میں میزی سے کہا کہ کچھ پل کے لئے تو میزی بھی چونک گئی ۔۔۔۔ ہونہہ ۔۔۔ سیلی کو بھی اس نے ایسے ہی ان اداؤں سے اپنے قابو کیا ہوگا
ہاں ں ں۔۔۔ بلکل بہت بہت ہی زیادہ اتنا کہ ۔۔۔۔۔
دیر چھوڑو تم بتاؤ کیا کھاؤگی ۔۔ میزی کچھ بولتے بولتے رک گئی اور دھیان ہٹانے کے لئے مینیو کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔۔۔
کھانا کھاتے ہوئے میزی نور سے اپنے ہزبینڈ کے بارے میں کافی باتیں کرتی ہے کہ وہ کیسا ہے کیا ہے کیا کھاتا لیتا ہے وغیرہ ۔۔۔۔۔۔
نور کو لگتا ہے جیسے میزی سالار کے بارے میں بتا رہی ہو کیونکہ اسکے ہزبینڈ کی ایک ایک عادت سالار سے جو میل کھاتی تھی۔۔۔
یوں ہی باتیں کرتے ہوئے ڈنر ختم کرکے دونوں باہر آجاتی ہیں اور میزی کی ہی فرمائش پر واہ کرتے ہوئے آئس کریم کھا رہی ہوتی ہیں تو میں نے تو اپنے سوئیٹ ہزبینڈ کے بارے میں اتنا کچھ بول دیا مگر تم نے ابھی تک کچھ نہیں بتایا اپنے ہزبینڈ کے بارے میں۔۔۔۔؟؟
اممم۔۔۔۔ کیا بتاؤں میں ۔۔۔۔؟؟
ارے یہی کہ تم لوگوں کی ارینج میرج تھی یا پھر لوو و میرج آنکھوں میں شرارت سمو کر نور سے پوچھا۔۔
آاا۔۔۔۔ دونوں ہی۔۔۔۔!!
کیا مطلب دونوں ہی۔۔۔؟؟
میزی نے اچھنبے سے پوچھا
مینز کے میری طرف سے ارینج اور انکی ۔۔۔۔ طرف سے لو۔۔۔۔
نور نے شرماتے ہوئے اسے کہا جبکہ نہ جانے کیوں اسے سالار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کچھ انوکھا سا محسوس ہو رہا تھا کچھ عجیب سا ۔۔۔ پر جو بھی تھا بہت اچھا تھا اس سے پہلے نور کو ایسا فیل نہیں ہو ا تھا اور اب تو اسے سالار کی کمی بھی بہت بری طرح سے کھل رہی تھی سالار کو سوچتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ۔۔۔۔ نور بھی اپنی بدلتی ہوئی حالت پہ حیران تھی کہ یہ اسے کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔
نور کیا ہوا کہاں گم ہو گئ ہو تم۔۔۔۔
نور ابھی خود کا تجزیہ کر ہی رہی تھی کہ اسے میزی کی آواز سنائی دی
ہاں۔۔۔۔ کہیں نہیں ۔۔۔ وہ بس ایسے ہی ۔۔۔
اممم۔۔۔ میرے خیال سے اب ہمیں چلنا چاہیے کافی دیر ہوگئی ہے ۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے ضرور تم یہیں رکو میں کار لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ویٹ ۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میزی واپس مڑگئی اور نور وہی کھڑے انتظار کر نے لگی۔۔۔
ابھی اسے کھڑے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ فون کی چنگھاڑتی ہوئی آواز اسکے کانوں کے پر دے پھاڑ گئی ۔۔۔۔
فون کی سکرین کو دیکھا تو سالار کی کال تھی نمبر باہر کا تھا۔۔۔۔ یہ کب چلے گئے باہر ۔۔۔۔حیرانی سےسوچتے ہوئے نور نے فون اٹھا کر کان سے لگایا اور مدھم آواز میں سلام کیا۔۔۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔۔ کیسی ہو عین۔۔۔۔؟؟
سالار نے مدھم بوجھل آواز میں بولا جیسے صدیوں کی مسافت طے کر رہا ہو۔۔۔۔
نور کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔۔۔ یہ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔۔ کہیں بیمار تو نہیں ہو گئے ۔۔۔۔
عین۔۔۔۔۔۔!!!
نور من ہی من سوالات کر رہی تھی کہ اسے سالار کی بھیگی بھاری گھمبیر آواز سنائی دی
آپ۔۔۔۔ آپ رو رہے ہیں سالار۔۔۔۔؟؟؟
نور کا یہ پوچھنا تھا کہ سالار کی دائیں آنکھ سے تیزی سے آنسو پھسلا اور تکیے میں جزب ہوگیا ۔۔۔
سالار کو کل رات سے عجیب عجیب وہم ستا رہے تھے عین کو لے کر ۔۔۔ دل بے چین سا تھا جیسے کچھ ہونے والا تھا ۔۔۔ کچھ بہت برا ۔۔۔۔
ابھی بھی وہ بے وقت سویا پڑا تھا کہ برے خواب نے اسکی تمام حسیات بیدار کر دیں اور فورا” سے اس نے عین کو فون ملا دیا۔۔ کہ اب اور ہمت نہیں تھی اس میں کہ کچھ دیر بھی اسکی آواز سنے بنا رہ سکے مگر پھر عین کی اپنے لئے پریشان آواز میں پوچھنے پر بے ساختہ ہی اسکی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا۔۔۔۔۔
سالار۔۔۔۔۔؟؟؟
نور نے بھی اسکی خاموشی سے بے چین ہو کر بے ساختہ اسے پکارا۔۔۔
عین۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاس آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔ مم۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس آو تاکہ میں تمہیں اپنے پناہ میں چھپا لوں سب سے ۔۔۔۔ کوئی ۔۔۔۔ کہ کوئی بھی تم تک پہنچ نہ سکے۔۔۔۔۔۔ پلیز عین۔۔۔۔۔۔ کم ٹو می ۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔
نور فون کان سے لگائے سالار کی لرزتی ہوئی آواز سن رہی تھی اور اپنے زور سے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھے سامنے چلتی جارہی تھی ۔۔۔
اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے بس خاموشی سے دونوں ایک دوسرے کی سانسوں کی آواز سنے جا رہے تھے۔۔۔۔
نور چلتے ہوئے سڑک کے بیچ و بیچ آچکی تھی ۔۔
وہ فون میں اتنا مگن تھی کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ سڑک کے بلکل درمیان چل رہی ہے۔۔۔
سالار آنکھیں موندے اسکی سانسوں کو سن کر اپنے تڑپتے دل کو پر سکون کر رہا تھا کہ اسے اچانک عین کی تیز تیز سانسیں سنائی دیں جیسے وہ کسی سے ڈر رہی ہو۔۔۔۔۔
سالار جھٹ سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
عین۔۔۔۔ ؟؟؟
عین۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔ میری بات کا جواب دو عین۔۔۔۔۔ بولو ۔۔۔۔ تم بولتی کیوں نہیں عین ۔۔۔۔۔عی۔۔۔۔۔ عین میری ۔۔۔ میری بات ۔۔۔۔ ڈیم اٹ بولو۔۔سالار اٹکتی لڑکھڑاتی آواز میں اس سے پوچھے جارہاتھا مگر دوسری طرف سوائے اسکی تیز سانسوں کے خاموشی ہی تھی اسکا دل بری طرح سے دھڑکنے لگا جب عین پھر بھی نہ کچھ بولی تو سالار نے ضبط کھو دیا اور دھاڑتے ہوئے عین کو پکار نے لگا مگر دوسری طرف وہی نتیجہ تھا۔۔
عین ۔۔۔۔۔ عین۔۔۔۔۔۔ تم میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہی ہو ۔۔۔۔ گاڈ ۔۔۔۔ عین۔۔۔۔۔؟؟؟
نور کے کانوں میں سالار کی چلاتی ہوئی آواز پر رہی تھی مگر اسکی زبان تو جیسے تالو سے چپک چکی تھی ۔۔۔ ٹانگوں نے ہلنے سے ہی انکار کر دیا تھا وہ تو سڑک پر جم ہی گئی تھیں جیسے ۔۔۔اسکی نظریں سامنے سے آتے ٹرالر کی طرف تھیں جو بڑی تیزی سے اسکی طرف بڑھ رہا تھا اس میں اتنی ہمت بھی نہیں پڑ رہی تھی کہ وہاں سے ہٹ ہی جائے مگر خوف سے اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔
آنسؤوں سے بھری آنکھوں سے وہ اپنے موت کو اپنے قریب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
سالار کے دل نے جیسے دھڑکنا چھوڑ دیا ہو ۔۔۔
عین۔۔۔۔ دھیمی آواز میں سالار نے اسے پکارا ۔۔
اس سے پہلے کہ سالار کچھ بولتا اسے عین کی چیخ سنائی دی۔۔۔
آااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر نیچے گر چکا تھا۔۔۔
جاری۔۔۔۔!!!!!