Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 22
Rate this Novel
Episode 22
سفید رنگ کی برف پر اپنے سفید پاؤں جماتے ہوئے وہ آگے بڑھتی جا رہی تھی اور اسکی آنکھیں سامنے بنے خوبصورت سے گھر پر پڑیں تھیں اسے دیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں عجیب سی رونق در آئی تھی ۔۔۔
تو ۔۔۔۔ آئیم ۔۔۔۔ ہئیر ناؤ۔۔۔۔۔
سامنے دروازے پر لگے لوہے کے کنڈے سے اس نے دستک دی ۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں پر لگے گاگلز اتار کر اپنے ہینڈ بیگ میں رکھے اور خود کو کمپوز کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
نور ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی ہاتھوں میں چہرہ گرائے ٹی وی دیکھنے میں مشغول تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔
اس نے سامنے لگی کلاک پہ دیکھا ۔۔۔۔۔
سالار کو گئے ہوئے مشکل سے آدھا گھنٹہ ہی ہوا ہوگا کہ وہ واپس بھی آگیا۔۔۔
نور حیران ہوتے ہوئے اٹھی اور دروازہ کھولنے بڑھی ۔۔۔۔
سالار اسے کچھ دیر کا کہہ کر کہیں باہر گیا ہوا تھا
نور نے جب دروازہ کھولا تو حیرانی سے سامنے کھڑی انتہائی خوبصورت ترین لڑکی کو دیکھا
بلیک اوورکوٹ اور ٹائیٹ کے ساتھ اسکی سامنے کھڑی اسے سر سے پیر تک گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔. ۔
واؤ کتنی خوبصورت ہے یہ۔۔۔۔
نور نے دل ہی دل میں اسے سراہا۔۔۔۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسکے کانوں میں اسکی پیاری سی آواز پڑی۔۔۔ اس نے چونک کر اسکی طرف دیکھا تو وہ اسے ہی مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
جج۔۔۔ جی ۔۔۔ کہیئے۔۔۔ کس سے ملنا ہے آپکو۔۔؟؟
نور پہلے تو اسے دیکھ کر تھوڑا لڑکھڑائی مگر پھر سنبھل کر اعتماد سے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
ہیلو سوئیٹ گرل مائے نیم از منیزہ ۔۔۔۔۔۔۔
تم مجھے پیار سے منزی بھی کہہ سکتی ہو ۔۔
منیزہ نے اسکے ٹھنڈ سے پڑتے سرخ گال کھینچتے ہوئے شیرینی لہجے میں اسے کہا
نور اسے دنگ نظروں سے دیکھ رہی تھی جو اس سے ایویں ہی فری ہو رہی تھی اور بڑے مزے سے اندر داخل ہو کر کوٹ بھی اتار کر سامنے جلتی انگیٹھی کے آگے بیٹھ گئی اور ہاتھ سینکنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
آئی نو میں بغیر تمہاری پرمیشن کے اندر آگئی ہوں ۔۔۔ بٹ پلیز میری کنڈیشن دیکھو ایک تو میں پریگننٹ ہوں اوپر سے میری گاڑی خراب ہو گئ ہے اور باہر بہت زیادہ والی سردی بھی ہے
منیزہ نے بچارگی بھرے لہجے میں اسے جیسے ریکوئیسٹ کی تھی۔۔۔۔۔۔
نور اسکی حالت کا سن کر فورا” نرم پڑگئی اور مسکراتے ہوئے اسے تسلی دی کہ کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔
میزی نے بھی شکر کا سانس لیا۔۔۔۔
میں آپ کے لئے کوفی چائے یا سوپ لاتی ہوں ۔۔۔
نور کہتے ہوئے جلدی اٹھی اور کچن کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
جیسے تیسے کرکے اس نے کافی بنا ہی لی آخر۔۔۔۔گھر والوں کو اس نے کئی بار بناتے ہوئے جو دیکھا تھا اس لئے زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔۔
یہ لیں ۔۔۔ یہ رہی کافی۔۔۔ اسکے آگے ٹرے کرتے ہوئے نور نے اسے اپنے خیالات سے باہر نکالا ۔۔
میزی نے اسکے چہرے کو ایک بار پھر سے غور سے دیکھا۔۔۔
نور ییلو کلر کی ہائی نیک اور وائٹ کلر کے ٹراؤزر پہنے کھلے بالوں اور میک اپ سے پاک چہرے کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی مگر اس سے کم۔۔۔۔ بہت کم۔۔۔۔ ایسا میزی کا سوچنا تھا۔۔۔۔۔
تھینکس ۔۔۔ مجھے واقعی اسکی ضرورت تھی۔۔
اسکے ہاتھ سے کافی کا کپ پکڑتے ہوئے اس نے تشکرانہ آواز میں کہا۔۔
ویسے آپ یہاں اکیلے آئی ہیں یا پھر اپنے ہسبنڈ کے ساتھ۔۔۔ نور نے اس سے صوفہ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
ہاں۔۔۔۔؟؟….. وہ ایکچلی۔۔۔۔۔ ہاں بلکل میں اپنے ہزبینڈ کے ساتھ ہی آئی ہوں ۔۔۔ وہ میری ایسی حالت کو دیکھ کر اکیلے کہیں باہر آنے جانے نہیں دیتے۔۔۔ میں گھر میں بہت بور ہو رہی تھی
اور اوپر سے وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے تو میں آرام سے گھومنے نکل آئی بٹ کہتے ہیں نہ جب قسمت ہی خراب ہو تو بندہ کیا کرے۔۔۔۔۔
میزی نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔۔
ایسا کیا ہوا۔۔۔۔؟؟
نور نے تجسس کے مارے تیزی سے پوچھا۔۔
وہی یار جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے ۔۔
میزی نے بھی اسکا تجسس بڑھایا۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔؟؟
نور نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔
بے وفائی۔۔۔۔!!!!
نور کی طرف دیکھ کر میزی عجیب انداز میں مسکرائی ۔۔۔ پھر اسکی طرف جھکتے ہوئے بوجھل سرد لہجے میں آنکھوں میں نمی لئے بولی۔۔۔۔۔
نور اسکے اس انداز پر بے ساختہ پیچھے کو ہوئی ۔۔۔ میزی نے اسے ایک پل کے لئے خوفزدہ کردیا تھا ۔۔۔
گاڑی کی بے وفائی۔۔۔ رک گئی بیچ میں ہی وہ۔۔
سانس میں تو سانس اسکی تب آئی جب میزی واپس ویسے منہ بناتے ہوئے دوبارہ بولی۔۔
او اچھا ۔۔۔۔۔ ہاں ایسا اکثر میرے ساتھ بھی ہوا ہے بہت مرتبہ۔۔۔۔
نور نے بھی اپنی بد قسمتی کے بارے میں اسے آگاہ کیا
نہیں ۔۔۔۔ تمہارے ساتھ ایسا نہیں ہوا کبھی۔۔۔ لیکن۔۔۔اب ہوگا ۔۔۔۔ وہ بھی بہت جلد۔۔۔۔۔۔
میزی نے دل میں سوچتے ہوئے اسے دھمکی دی تھی جیسے۔۔۔۔۔۔۔
برہان کے پیٹ میں مڑوڑ اٹھ رہے تھے صبح سے وہ بے چین بے چین پھر رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے کیوں اسے سکون نہیں مل رہا ۔۔۔۔۔
سامنے سے آتے اظفر کو دیکھ کر برہان کے دماغ میں شیطانی کیڑا بلبلایا ۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔ اب سمجھ آئی کہ مجھے چین کیوں نہیں مل رہا آخر۔۔۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چل برہان صاحب اظفر بلے کی زرا کٹ کاٹ کرادی جائے. ۔۔۔۔۔۔۔۔
دل ہی دل میں سارا پلین ترتیب دے کر اظفر کے پاس چل دیا
اور اظفر میاں کہاں غائب ہو یار دکھائ ہی نہیں دے رے تم تو ۔۔۔
ایک تو میں نے تمہیں اتنا اچھا آئیڈیا دیا جس وجہ سے تم یہاں ہو مگر تم تو مجھ سے ایسے چھپ رہے ہو کہ جیسے میں نے تمہاری ساری فریج خالی کردینی ہو ۔۔۔۔۔۔ برہان نے اسکے پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
اظفر جو برگر منہ میں ڈالے کھاہی رہا تھا کہ اسکے ہاتھ مارنے پر اچھو لگ گیا اور بے طرح کھانسنے لگ گیا
نہیں نہیں یار کیسی باتیں کر رہے ہو تم میرے یار مگر مجھے پتہ تھا میرے بغیر تم بور ہو رہے ہوگے ۔۔۔۔ اظفر نے اسے مکھن لگانا ضروری سمجھا تاکہ وہ کہیں اسکی اسکے پیرنٹس سے شکایت ہی نہ کردے ۔۔۔۔۔ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اگر برہان کسی کے ساتھ اچھا کر سکتا ہے تو برا بھی بہت کرسکتا ہے اسی لئے اسکی خوشامد کرنا لازمی سمجھا۔۔۔۔۔
برہان نے زیادہ بات کو طول نہ دیتے ہوئے اسے وہی فل سٹاپ لگادیا اور اپنے پلین کو آگے بڑھایا یہ کیا تم اکیلے اکیلے کھا رہے ہو میں تو تمہیں ڈھونڈ رہا تھا کہ تم اور میں یہاں کے سپیشل کھانے کھائیں جاکر کسی ہوٹل مگر تم تو پہلے ہی پیٹ پوجا کرچکے ہو تو میں اکیلا ہی چلا جاتا ہوں۔۔۔۔
برہان نے افسردہ چہرہ بناتے ہوئے ایسے کہا کہ جیسے وہ تو اسکے بغیر ایک نوالہ بھی نہ لیتا ہو۔۔۔۔
اظفر سدا کا بھوک کا بھوکا کھانے کا نام سنتے ہی ایسے رال ٹپکانے لگا کہ جیسے صدیوں سے بھوکا ہو ۔۔
ارے نہیں نہ برہان یہ تو میں نے صرف چکھا ہی ہے کھانے کا تو سوچا تک نہیں ۔۔۔ تم چلو نہ کہا چلنا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے بھی دراصل بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔ اظفر اسے کھینچتے ہوئے کہنے لگا
برہان اسے حیرانگی سے تکنے لگا کہ جمبو سائز کا پورا برگر ہڑپ کرکے کہہ رہا ہے کہ صرف چکھا ہی ہے۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔ ہاں چلو چل کے کھاتے ہیں (سب کچھ)………..
برہان اسے لیکر ایک اچھے سے ہوٹل میں آیا اور مینیو سے دونوں نے یہاں کی فیمس ڈش آرڈر کیں ۔۔۔۔۔
برہان اپنی آنکھیں ادھر’ادھر گھما رہا تھا کہ اسے سامنے ایک لڑکی دکھی جو شاید دوسرے ملک کی لگتی تھی اسکے ساتھ اسکی دوستیں بھی تھیں برہان جو اظفر کے لئے کچھ اور ہی سوچے ہوئے تھا اب اپنا پلین چینج کرچکا تھا
آں۔ں۔ں۔. اظفر یار تمہیں نہیں لگتا کہ اب تمہارا بھی کوئ پارٹنر ہونا چاہیے جس سے تم باتیں شاتیں کرو ۔۔۔۔۔ برہان نے اسے جیسے پتے کی بات بتائی ہو
یار ۔۔۔۔۔ کیوں جلے پہ نمک چھڑک رہا ہے جانتا بھی ہے تیرے بھائی کو وہ موٹا سمجھتی ہیں حالانکہ میں موٹا نہیں ہیلتھی ہوں ۔۔۔۔ کھاتے پیتے گھرانے کا لڑکا۔۔۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔۔
اظفر نے غرورانہ انداز میں گردن اکڑا کر اسے آرام سے بتایا
ہاں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے تو ۔۔۔۔ تو فکر مت کر میں ہوں نہ تیری سیٹنگ ایک پٹاخہ لڑکی سے کراؤں گا
یہ سن کر تو اظفر کی بانچھیں ہی نکل آئیں اپنی خوشی میں وہ یہ غور ہی نہیں کرسکا کہ برہان آج اس پہ کچھ زیادہ ہی مہربان ہو رہا ہے
یار ررررررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظفر تو خوشی کے مارے گنگ ہی ہوگیا
وہ دیکھ سامنے کیا پیاری لڑکی ہے پنک ڈریس والی تیرے ساتھ بلکل سوٹ کرے گی ۔۔۔۔۔ برہان نے اسکا دھیان اسی فورین لڑکی کی طرف دلایا
مگر یار وہ تو یہاں کی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔ اظفر اسکی خوبصورتی سے مرعوب تو بہت ہوا مگر سر کھجاتے نقص بھی نکالا
ارے پاگل ایسی لڑکیاں پٹائی بہت ۔۔۔۔ مم۔۔۔میرا مطلب ہے کہ پٹ بہت جلدی جاتی ہیں۔۔۔نہ۔۔۔۔۔ تو رک میں تیری آج سیٹنگ کروا ہی دوں۔۔۔۔ برہان کہتے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا اور اظفر تو خوشی میں سالن والے ہاتھوں سے ہی بال سیٹ کرنے لگا
تھوڑی دیر بعد برہان لڑکی کے ساتھ آتا ہوا دکھائی دیا
اظفر نے جب دیکھا تو نادیدہ کالر درست کیا ۔۔۔۔۔
برہان اسکے سامنے والی چئیر پر بیٹھ گیا اور وہ لڑکی ان دونوں کے درمیان والی چئیر پر بیٹھ گئ
اظفر یہ ہاندے ہے اور ہاندے ۔۔۔۔۔ اظفر ۔۔۔۔۔۔
برہان نے ان دونوں کا آپس میں تعارف کروایا
لڑکی اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی
اظفر تھوڑا گڑبڑایا پھر برہان کے اشارہ کرنے پر سنبھل بھی گیا اور ایک انداز سے بیٹھ گیا جیسے کہیں کا سیٹھ ہو ۔۔۔۔۔۔
پھر اس نے دیکھا کہ اس نے برہان سے کچھ کہا ہو جس کا اسے بلکل بھی کچھ سمجھ نہیں آیا
Bak,o gibi gurunuyorsun fil…….!!!!
(دیکھو یہ تو کسی ہا تھی کی طرح لگ رہا ہے)
اسکی بات پر برہان نے بمشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا
کیا کہہ رہی ہے یہ برہان ۔۔۔؟؟
اظفر بے چینی سے اس سے پوچھنے لگا کیونکہ وہ بلکل بھی اس کی زبان نہیں سمجھ پا رہا تھا
آں ں ں۔۔۔۔۔ یہ کہہ رہی ہے کہ تم بلکل جہان کی طرح لگ رہے ہو۔۔۔۔۔
ہیں۔۔۔ ؟؟؟ یہ جہان کون۔۔۔۔؟؟….
اظفر نے منہ میں ڈالے ہوئے چکن پیس کے ساتھ عجیب آواز میں بولا جس سے اس لڑکی کو کراہئیت محسوس ہوئی کیونکہ بولتے ہوئے
اسکے منہ سے کھانا بھی باہر کو نکل رہا تھا جیسے وہ اس سے پناہ مانگ رہا ہو۔۔۔
تجھے نہیں معلوم۔۔۔۔ بھول گیا تو اسے یار نہ کر ۔۔۔چچ چچ چچچ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تجھ سے یہ امید تو بلکل بھی نہیں تھی ۔۔۔۔
برہان نے افسوس کرتے ہوئے کچھ زیادہ ہی دکھ بھرے لہجے میں اس سے کہا کہ اظفر کو واقعی میں لگا کہ اس نے کوئی گناہ کبیرہ کر دیا ہے۔
اب بتا بھی دے برہان یار کیوں سسپنس کرئیٹ کر رہا ہے ۔۔۔ جانتا بھی ہے کہ سسپنس مجھ سے ہضم نہیں ہوتا ۔۔ اب تکہ بوٹی منہ میں ٹھونستے ہوئے اظفر نے اسے اپنی گول مٹول آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔۔
یار جنت کے پتے والا جہان ۔۔۔۔۔ مشاء کے ناول کا ہیرو جہان ۔۔ جس کے زکر سے وہ تمہیں اکثر چڑھاتی رہتی ہے۔۔۔۔
برہان نے تاسف سے سر ادھر سے’ادھر مارتے ہوئے ڈرامائی انداز میں کہا
یہی ملا تھا اس کو کیا ۔۔۔۔ اور باقی ہیرو مر گئے تھے جو اس سے ملادیا مجھے۔۔۔۔
اور اسے کیسے پتہ اسکے بارے میں کیا ہمارے ناول باہر کے ملک میں بھی مشہور ہو رہے ہیں۔۔
کیا بات کرتے ہو یار اظفر ترکی میں ہی تو رہتا تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اسے کیسے نہیں معلوم ہوگا اس کے بارے میں۔۔۔۔۔۔
ہاں یہ تو تو ٹھیک کہہ رہا ہے میں بھی نہ کتنا پاگل ہوں ۔۔۔ ہے ہے ہے۔۔۔۔۔ بے ڈھنگے انداز میں ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
وہ تو ۔۔۔تو ہے بلکل۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔ اس لڑکی نے پھر سے برہان سے پوچھا۔۔
یہ کہہ رہا ہے کہ تم اسے بہت اچھی لگ گئی ہو اور اب وہ تمہارے ساتھ بھی وہ ہی کچھ کرے گا جو باقی لڑکیوں کے ساتھ کرتا ہے۔۔۔
برہان نے ڈرے لہجے میں کہا
کیا۔۔۔۔؟؟؟
لڑکی نے غصے اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت سے برہان سے پوچھا۔۔۔۔
بال کاٹنا۔۔۔۔۔ جب بھی کوئی لڑکی اسے پسند آتی ہے تو وہ انکے بال کاٹ کر انہیں گنجا کرنے تک کی ساری ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیتا ہے۔۔
برہان نے دل ہی دل میں اظفر پر ہنستے ہوئے اسکے بارے میں گوہر افشانی کر رہا تھا جبکہ وہ تو کھاتے ہوئے ایسے شرما رہا تھا کہ برہان اسکا رشتہ پکا کر رہا ہو۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔ لڑکی زور سے چیخی جس سے برہان تو کیا اظفر بھی ڈر گیا ۔۔۔ اظفر نے تو باقائدہ اپنے دل نازک پر ہی ہاتھ رکھ لیا تھا
اسکی اتنی ہمت کہ یہ میرا سر گندا کرے گا۔۔۔ میرا۔۔۔۔ اسے تو میں سیدھا کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
ارے ارے بیوٹیفل لیڈی ۔۔۔۔ گندا نہیں ۔۔۔ گنجا ۔۔۔گنجا۔۔۔۔
یسں یس وہی ۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے اپنے پرس سے ایک قینچی نکالی اور پھر اپنا موبائل برہان کے ہاتھ میں دیا مووی بنا نے کے لئے اور پھر قینچی تھی۔۔۔۔۔۔۔ برہان کے قہقہے تھے ۔۔۔۔۔۔اور اظفر بچارے کی چیخیں۔۔۔۔۔۔
اممممم۔۔۔۔۔ یہ گھر بہت خوبصورت ہے یار ۔۔۔
میزی ستائشی آواز میں اس سے کہہ رہی تھی
نور تو بس خوشی خوشی اپنی نادانی میں اسے تھینکس ہی کیے جارہی تھی۔۔
اسے یہاں پر کافی وقت بیت چکا تھا اور اتنی دیر میں یہ دونوں فرینڈ تک بن چکی تھیں اور اپنے اپنے نمبرز کا تبادلہ بھی کر لیا تھا آپس میں ۔۔۔۔
منزی آپ یہاں آئیں مجھے بہت اچھا لگا ۔۔۔
نور نے مسرور لہجے میں اس سے کہا ۔۔۔۔نور بھی
اکیلی بور ہوگئی تھی مگر پھر اسکی وجہ سے وہ کافی اچھا فیل کر رہی تھی۔۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔ یو سو سوئیٹ مائے گرل ۔۔۔۔۔۔
منزی نے بھی اسے اپنے گلے لگایا اور پھر چند باتوں کے بعد اس سے الوداع لیتے ہوئے وہ وہاں سے نکل گئی اور تیزی سے دور کھڑی کار میں بیٹھ کر وہاں سے چل دی ۔۔۔ کہ اب بات برداشت سے باہر ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے جتنی باتیں جاننی تھیں وہ جان چکی تھی۔۔۔۔
میزی نے اپنے خاص بندے سے سیلی کی لوکیشن اور کچھ انفارمیشن دینے کا کہا تھا
اسی سے اسے اسکے بارے میں یہ سب پتہ چلا تھا ۔۔۔۔
پہلے تو اسے یقین ہی نہیں آیا تھا مگر پھر اس نے اپنی ٹون میں آتے ہوئے دماغ سے سوچا اور اسی سوچ کے تحت وہ دئیے گئے ایڈریس پر پہنچی تھی اسی آدمی نے لوکیشن ٹریس کرکے اسے بتایا تھا کہ سیلی اس وقت وہاں نہیں ہے
نور سے مل کر وہ اتنا تو جان چکی تھی یہ چڑیا اسکا کچھ نہیں بگاڑسکتی یہ تو بہت سیدھی سادھی ٹائیپ تھی بے انتہا بے وقوف ۔۔
سیلی تم نے مجھ سے بے وفائی کرکے اچھا نہیں کیا ۔۔۔ بلکل بھی اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔
اب اسکا خمیازہ تو تمہیں بھگتنا ہی پڑے گا
تو چلو۔۔۔۔۔
Let the game begins …..
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔ بے انتہا ہنستے ہوئے اسکی آنکھوں میں پانی آچکا تھا وہ جنونی ہو کر ہنسے جارہی تھی اور گاڑی فل سپیڈ پر مری کی خطرناک سڑکوں پہ چلا رہی تھی
یار یہ میزی کہاں ہے کب سے فون کر رہا ہوں اٹھا ہی نہیں رہی ۔۔۔۔
میکائیل کب سے اسے فون ملانے کے چکروں میں پریشان ہوا بیٹھا تھا ۔۔۔۔
یار کیا مصیبت گلے ڈال لی ہے میں نے ۔۔۔۔۔
ابھی وہ اسے ہی کوس رہا تھا کہ اسکے فون پر میزی کا میسج موصول ہوا۔۔۔
Come to my room …. now..
آنکھیں پھاڑے وہ بار بار اسکے میسج کو دیکھ رہا تھا کہ آیا یہ سچ ہے کہ رات کے ۱۲ بجے وہ اسے اپنے روم میں بلا رہی ہے۔۔۔
جلدی جلدی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا وہ اپنے روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
میکائیل جب اسکے روم میں داخل ہوا تو سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔۔۔میزی۔۔۔۔؟؟؟
یہ تم ۔۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔ یہ کیا حالت بنا ئی ہوئی ہے تم نے
میکائیل اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا
میکا۔۔۔۔۔۔۔ ئیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے۔۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔دھوکہ۔۔۔۔دیا۔۔۔میک۔۔۔۔
مجھے۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔میزی۔۔۔ کو۔۔۔۔ اپنی ۔۔۔۔۔۔ ب۔۔۔یوی۔۔۔۔بیوی کو
۔۔۔۔ہے کیا اس میں۔۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔ اس سے کہیں زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔خو۔۔۔۔
۔۔۔۔بصورت۔۔۔۔۔ ہوں میں۔۔۔۔۔ پھر بھی۔۔۔۔۔ پھر بھی اس نے اس کو اپنے پاس رکھا۔۔۔۔ مجھے وہاں ۔۔۔۔۔ ہاں میکائیل وہاں اکیلا چھوڑ دیا۔۔۔۔ اور میں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ میرا کیا ۔۔۔۔۔ آاااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کون ہوں اسکی۔۔۔۔۔۔۔ کون ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔
میزی شراب کے نشے میں دھت لڑکھڑاتی آواز اور چال کے ساتھ اس سے اپنا دکھ بیاں کر رہی تھی۔۔۔ لال رنگ کی نائیٹی میں وہ بکھرے بالوں مٹے ہوئے میک اپ کے ساتھ شعلہ جوالہ بنی ہوئی تھی۔۔۔۔
میکائیل کی نظریں بار بار اسکے وجود پر اٹھ رہی تھیں
میں اسے چھوڑو گی نہیں ۔۔۔۔۔۔ اس نے مجھ سے میرا سیلی چھینا ہے ۔۔۔۔ وہ میرا ہے صرف میرا۔۔۔۔۔۔۔ میزی کا۔۔۔۔۔۔۔ منیزہ سالار شجاعت کا ہے وہ ۔۔۔۔ بیوی اسکی میں ہوں صرف میں ہوں ۔۔۔۔۔۔
چھین لوگی میں اس سے اسکی خوشیاں ۔۔۔۔ مارڈالوں گی ۔۔۔۔۔
تباہ کردوں گی اسے ۔۔۔۔۔۔ تباہ۔۔۔۔۔ ت۔۔۔با۔۔۔ہ۔۔۔۔۔۔۔۔
میزی غصے سے چلاتی ہوئی میکائیل کی باہوں میں بے ہوش ہو کر جھول گئی۔۔۔۔۔۔
میکائیل نے جلدی سے اسے بیڈ پر لٹایا اور دروازے کو اندر سے لاک کر دیا۔۔۔۔۔
آخر کار اسے موقع مل ہی گیا جس کی اسے کب سے تلاش تھی
یہاں آنے سے پہلے ہی وہ پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا
اپنے قدم اس نے بیڈ پر بے سدھ لیٹی ہوئی حسینہ پر ڈالی اور اسکے پاس بیٹھ گیا
اس کو دیکھتے ہوئے اسکے لبوں پر پر اسرار مسکراہٹ رینگ رہی تھی ۔۔۔۔
پہلے خود کو تو بچالو مجھ سے میزی ڈارلنگ۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔!!!!!
