54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15 Part 2

کالے سیاہ لباس بیٹھا شخص سامنے رکھی فائل کو بغور دیکھ رہا تھا اسکے چہرے پر کرختگی کے آثار تھے
مؤدب انداز میں اسکے سامنے کھڑا بندہ اسکی طرف متوجہ تھا
فائل پڑھ کر سامنے میز پر پٹخ دی اور غصے سے کھڑا ہوگیا
کب تک ۔۔۔۔۔ آخر کب تک بچے گا یہ میرے ہاتھوں سے ۔۔۔۔
زور سے ہاتھوں کو مسلا گیا کہ جیسے وہ اسکے ہاتھوں میں اس شخص کا سر ہو غصے سے اسکی نسیں پھول چکی تھیں
سر ۔۔۔۔۔!
ریلیکس ہم ایک نہ ایک دن اسکے خلاف ثبوت اکھٹا کر ہی لیں گے اور اسے مات دے کر اسکے غرور کو پاش پاش کر دیں گے
سامنے کھڑے بندے نے اسے پر ٹھنڈا کرنا چاہا
آخر کب سفیان آخر کب ہوگا یہ اتنے وقت سے میں اسکے پیچھے پڑا ہوا ہوں مگر بے سود جتنا میں اسکے پاس پہنچتا ہوں وہ اتنا ہی دور نظر آتا ہے آخر وہ ہمیشہ بچ کیسے جاتا ہے اس نے سختی سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا
کول ڈاؤن سر آپ فکر مت کریں ہم پوری کوشش کریں گے اور میں نے اپنا ایک خبری اسکے پیچھے چھوڑ رکھا ہے بہت جلد وہ ہمیں فائدہ مند خبر دے گا
آئی ہوپ سو ایسا ہی ہو اس ،خص نے تھکے تھکے انداز میں سر سہلایا
سر آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔؟؟؟
ہوں ۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ڈونٹ وری سفیان۔۔۔۔۔
تم مجھے یہ بتاؤ کہ جن لڑکوں کے بارے میں پتہ کرنے کا بولا تھا
وہ کام ہوگیا یا نہیں۔۔۔؟
جی سر ہو گیا ہے ان کے بارے میں تمام معلومات حاصل ہو گئی ہیں اب آپ بتائیں کہ کرنا کیا ہے ان کے ساتھ۔۔۔۔۔۔
سفیان کی بات پر اسکے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ نمودار ہوئی
کرنا کیا ہے بچوں کا سکول بیگ کھول کر انکا سکول ورک میڈیا میں پھیلا دو آخر دنیا کو بھی تو پتہ چلنا چاہیے کتنے لائق فائق بچے ہیں ان امیر سیاستدانوں کے۔۔۔
فائن سر کام ہو جائے گا سفیان نے ہنستے ہوئے تائید ی انداز میں سر ہلایا
سر ایک اور بات سالار شجاعت بھی ان بندوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے سفیان کی بات پر اس نے چونک کر اسکی طرف دیکھا
کچھ بھی کرو سفیان سالار شجاعت ان تک نہیں پہنچنا چاہیے
یہ میرا شکار ہیں انہیں میں اپنے طریقے سے ہی ہینڈل کروں گا
سالار شجاعت نہیں اس نے غصے سے سفیان کو وارن کیا
جج۔۔۔۔۔ جی سر۔۔۔۔۔!
ہونہہ ویسے بھی میں نے اسکے لئے پہلے ہی انتظام کر دیا تھا
اب وہ انکے پیچھے تو نہیں آئے گا کیونکہ میں نے اسے بھٹکا دیا ہے اس شخص نے پر سکون لہجے میں انفارم کیا
سفیان کریم کیا کہہ رہا ہے آجکل کوئی خبر بھی دے رہا ہے یا وہی دھات کے تین پات۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔. نہیں سر آپ تو جانتے ہی ہیں نہ وہ سالار شجاعت سے کتنا ڈرتا ہے اس لئے لیٹ سہی مگر انفارمیشن پہنچاتا رہتا ہے
سفیان نے ہنس کر اس شخص کو بتایا
کریم کو بولنا کہ وہ چوکنا رہے کہیں پکڑا نہ جائے کہ وہ ہمارا آدمی ہے ورنہ خود تو پھنسے گا ہی ہمیں بھی ساتھ میں گھسیٹ لے گا
جی سر ۔۔۔۔۔ سفیان بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا
ہونہہ تو ٹھیک ہے ان لڑکوں کا کام جلد سے جلد کرو کہ آئندہ کبھی کسی لڑکی کے ساتھ ایسا نہ کرسکیں۔۔۔۔۔۔۔
Ok sir۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!


رباب دھوپ میں کھڑی گاڑی کا انتظار کر رہی تھی گرمی سے اسکا برا حال ہو چکا تھا
اف ایک تو اتنی گرمی اوپر سے یہ ڈرائیور نہ جانے کہاں رہ گیا ہے اللہ جی آج تو لگتا ہے کہ میں جل بھن کر تندوری چکن بن جاؤں گی
ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میکی جو کسی کام سے یونی میں رکا ہوا تھا رباب کو کھڑا دیکھ کر اسکے پاس آیا
ہائے رباب جان۔۔۔۔۔۔۔ کمینگی سے کہتے ہوئے اسے گھور کے دیکھا پھر ہنستہ چلا گیا
رباب جو ایک تو پہلے ہی گرمی سے تلملا رہی تھی اوپر سے اسکی ہنسی نے اور تیل چھڑک دیا
اوئے باندد کی شکل والے یہ منہ اور مسور کی دال تمہارے کیا ابا کی لاٹری نکل آئی ہے کہ تم جو یہ اپنے پیلے گٹر جیسے دانتوں کی نمائش کر رہے ہو دفعہ ہوجاؤ میرے سامنے سے ۔۔
ورنہ میں نے ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا سر پھاڑ دینا ہے اس ہیل سے۔۔۔۔۔۔
رباب کی بکواس سن کر تو میکی تلملا اٹھا ایک جھٹکے سے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اسکے کان کے پاس غرایا
اب بول چوہیا کہیں کی تیری یہ گز بھر کی زبان اور اکڑ دو منٹ میں نہ نکال دی نہ تو میرا نام میکی نہیں۔۔۔۔۔۔
رباب اس حملے کے لئے کہاں تیار تھی اس اچانک پڑنے والی افتاد پر وہ بوکھلا گئی اسکے ساتھ لگی وہ بری طرح کپکپا رہی تھی
سنسان سڑک پر کوئی بھی نہ تھا اوپر سے وہ اس کے غصے کو چھیڑ بیٹھی تھی
دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کہتی ہوں چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباب نے کسی حد تک خود کو مظبوط ظاہر کیا مگر اسکا خوف میکی سے چھپ نہیں سکا تھا اسکی لرزاہٹ کو وہ بہت اچھے سے محسوس کر رہا تھا
ارے ۔۔۔۔۔۔ بے بی ڈر گئ۔۔۔ ابھی تو اتنا بول رہی تھی نہ مارو نہ
رباب بے بی اپنی اس نازک سی ہیل سے مجھے تاکہ میں آرام سے تمہارے ان نازک ہاتھوں سے مار کھا سکوں۔۔۔۔
دانت پیستے ہوئے اسکے ہوش اڑے چہرے کو دبوچتے ہوئے اسکے کان میں غرایا
ویسے تم بھی کم نہیں ہو حسن تو تم میں بھی ہے مگر عینی سے کم ۔۔۔۔ اس نے تو میکی کی راتوں کی نیند تک اڑا دیں ہیں
ایک پل چین نہیں ہے اسکے بغیر ۔۔۔۔
ایسا نشہ تو مجھے کسی میں بھی نہیں چڑھا جو اسے حاصل کیے بغیر مجھ پہ چڑھ گیا ہے یہ نشہ اتارے نہیں اتر رہا
اسے اتارنے کا میرے پاس ایک ہی حل ہے میرے پاس اور وہ حل ہے اسے۔۔۔۔۔۔۔ حاصل۔۔۔۔۔۔ کرنا۔۔۔۔۔ میکی اسے دبوچے جنونی انداز میں بول رہا تھا
رباب اسکی باتیں سن کر خوف و غصے کی ملی جلی کیفیت سے گزر رہی تھی
تم۔۔۔۔۔۔ بےبی تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اسے لیکر میرے پاس آوگی
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ہی لیکر آوگی ۔۔۔۔۔۔ تاکہ میں اپنی آگ بجھاسکوں
جو مجھے روز خاکستر کر رہی ہے اسکے لئے۔۔۔۔۔۔
رباب نے غصے سے اسے زور سے جھٹکا اور دو قدم پیچھے ہٹی
تھو ہے تم پر۔۔۔۔۔ تم نے سوچا بھی کیسے میں۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اسے تمہارے پاس لیکر آوں گی۔۔۔۔۔۔۔ خواب میں بھی نہ لیکر آوں تمہارے پاس اور تم مجھے حقیقت کا کہہ رہے ہو۔۔۔۔ بھول ہے تمہاری۔۔۔۔۔ رباب نے اسے تمسخرانہ انداز میں لتاڑا۔۔۔۔
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی بات پر میکی زور زور سے ہنسنے لگا
چچ چچ چچ۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے یار خواب میں تو کیا تم حقیقت میں بھی لیکر آوگی اسے میرے پاس۔۔۔۔۔ شاید تم لوگ بھول چکے ہو
تم سب کے موبائل ابھی تک میرے پاس ہی ہیں اور ان میں تم سب حسینوں کی فوٹوز بھی ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ بھی بڑی پیاری پیاری
تو سوچو میں انکے ساتھ کیا کیا کر سکتا ہوں
رباب یہ سب سن کر سن سی کھڑی رہ گئ
چلو میں تمہیں ایک ڈیمو دکھاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔
میکی نے اپنا موبائل نکال کر اس کی اسکرین رباب کے سامنے کی
جس میں مشاء کی تصویر کو ایڈیٹ کرکے نہایت بیہودہ لباس میں اس صفائی سے کیا گیا تھا کہ وہ سچ ہی لگ رہا تھا مگر تھا تو وہ جھوٹ۔۔۔۔۔۔ مگر دنیا والے وہ کہاں اسکے پیچھے کی صفائی دیکھتے ہیں۔۔
رباب نے موبائل پکڑ نے کے لئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا تو میکی نے موبائل اپنی جیب میں رکھ لیا
تو کیا کہتی ہو ۔۔۔۔۔۔ رباب ۔۔۔۔۔ اکبر ۔۔۔۔۔۔ مرزا۔۔۔۔۔ صاحبہ لاائیں گیں عینی کو میرے پاس۔۔۔۔ ورنہ تم جانتی ہو میں کیا کر سکتا ہوں
دیکھو ایک ڈیل کرتے ہیں۔۔۔۔۔
تم خاموشی سے اسے میرے پاس لیکر آؤ ۔۔۔۔۔ قسم سے کہتا ہوں اسے چھوڑ کر تم دونوں کو بھول جاؤ گا اور تمہارا نام کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا
ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ پھر تم تینوں ہی بدنام ہوجاؤگی لیکن اگر تم میرا ساتھ دو تو تم اور تمہاری ںوہ دوسری بہن بچ جاؤگی اور خاندان کی عزت بھی تو بتاؤ کیا کہتی ہو
میکی نے تو سفاکیت کی حد کردی تھی
رباب اب اسکے جال میں پوری طرح الجھ چکی تھی
سوچ لو۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھی طرح سے سوچ بچار کرکے مجھے جواب دینا
ہوں۔۔۔۔ اسکا گال تھپتھپا کر وہ مڑا اور چلا گیا
جبکہ رباب پیچھے کھڑی سوچوں میں گم ہوچکی تھی۔۔۔۔۔!!!


سہیل خان لاؤنج میں اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ بیٹھا شام کی چائے انجوائے کر رہا تھا
مبارک ہو ڈیڈی اتنی بڑی کامیابی ملی ہے آپکو سوری میں آپ کی پارٹی میں نہیں آسکی
منیزہ پارٹی میں نہ آنے کی معذرت کر رہی تھی
نو نو بیٹا۔۔۔۔ اٹس اوکے ۔۔۔۔ ویسے بھی جسے آنا چاہیے تھا وہ تو آگیا تھا سہیل خان نے مسکراتے ہوئے کہا
کون ڈیڈ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سالار شجاعت میزی۔۔۔۔۔جواب ماہ وش کی طرف سے آیا تھا
وہ کیسے آگیا پہلے تو کبھی نہیں آیا تو اپنی ہار پہ کیسے۔۔۔۔۔؟؟؟
میزی نے حیرانگی سے استفسار کیا
آئی ڈونٹ نو بیٹا وائے ہی کمز ان دی پارٹی۔۔۔۔۔۔۔ شاک تو ہمیں بھی لگا تھا مگر کیا کرسکتے ہیں سالار شجاعت کے دماغ میں کب کیا آجائے کچھ بھی پتہ لگانا اتنا آسان نہیں ہے
سہیل خان نے پر سوچ لہجے میں کہا
اتنا بھی مشکل نہیں ہے ڈیڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی میرے ڈیڈی کے آگے آج تک کوئی ٹک پایا ہے
میزی نے لاڈ سے سہیل خان کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کہا
تھینکس بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان دونوں کے پیار کو ماہ وش سہیل خان بڑے کوفت زدہ انداز سے دیکھ رہی تھی جبکہ چہرے پہ بہت پیارے خوشی بھرے تاثرات لائے ہوئے تھے
ڈیڈی مجھے کچھ پیسے چاہیں میں ٹور پہ جانا چاہتی ہوں
کافی ٹائم ہوگیا ہے میں کہیں گھومی پھری نہیں ہوں نہ۔۔۔۔۔۔۔
وائے ناٹ بیٹا میزی سب کچھ تمہارا ہی تو ہے جتنا چاہیے لے لو
کتنی مرتبہ کہا ہے کہ ایسے نہ پوچھا کرو۔۔۔۔۔
سہیل خان نے مصنوئی خفگی سے پیار جتایا۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڈی۔۔۔۔۔۔۔ یو سو سو سو سوئیٹ۔۔۔۔ اماااااا۔۔۔۔۔۔۔۔
سیم ہیئر بےبی ۔۔۔۔۔۔ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔
اوکے ڈیڈی میں اپنے روم میں جا رہی ہوں بائے ٹیک کئر۔۔۔۔۔
بائے بیٹا ۔۔۔۔۔ ٹھیک سے پیکنگ کر لینا اور بھی کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مجھ سے بلا جھجک کہہ دینا اوکے۔۔۔۔۔
جی ڈیڈی اوکے اور پھر وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گئی پیکنگ کر نے اور کنٹری ڈیسائیڈ کرنے کہ کہاں جایا جائے۔۔۔۔۔


میزی اپنے روم میں بیٹھی ہاتھوں پہ نیل پالش لگا رہی تھی کہ اسکے موبائل پہ میکائیل کا نام بلنک ہوا اسکے ماتھے پہ ناگواری کی ایک لہر دوڑی ۔۔۔۔۔۔۔
جب سے سیلی سے اسکی ملاقات ہوئی اور اسکے پیار جتانے پر اس نے میکائیل کو پھر سے اگنور کرنا شروع کردئیا تھا
میکائیل تو اسکے لئے ٹائم پاس تھا جب بھی وہ سیلی کی یاد میں بے چین ہوتی تو اپنا دل بہلانے کے لئے میکائیل کی طرف رخ کر لیتی لیکن ابھی وہ مطمئن اور خوش تھی تو وہ پھر سے اسے اگنور کر رہی تھی
مسلسل پانچویں بیل پر جاکر اس نے تنگ آکر فون اٹھایا
ہیلو میکائیل واٹس اپ بڈی۔۔۔۔۔۔۔۔
میزی نے خوشی کا عنصر شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی مگر دوسری طرف اسکی بےزاری صاف محسوس کر لی گئی تھی
مگر وہ بھی کیا کرتا آخر مجبوری جو تھی جب. تک مطلب پورا نہیں ہو جاتا وہ اسے کسی بھی حال میں چھوڑ نہیں سکتا
حال چال دریافت کرنے کے بعد میزی سے اسے ٹور کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے میزی کو پاکستان وزٹ کرنے کے بارے میں مشورہ دیا
کچھ سوچ بچار کرکے میزی نے ہاں کردی کہ سیلی کو سرپرائز
ہی دے دے گی اسی خوشی میں وہ پیکنگ کرنے لگ پڑی
اور میکائیل بھی آگے کی پلیننگ کرنے لگ پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔