54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

نور کی آنکھ کھلی تو خود کو کمرے میں اکیلا پایا بستر سے نکل کر واشروم منہ ہاتھ دھوکر آگئی
سالار اسے کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا گھومتے گھومتے وہ کونے میں بنے چھوٹے سے روم میں داخل ہوئی جہاں جم کا تھوڑا بہت سامان تھا اور سالار ڈمبلز اٹھائے ایکسرسائز کرنے میں مصروف تھا
سالار کی نظر عین پر پڑی تو دلکش مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھو لیا ۔۔۔۔۔۔
نور کل والے حلیے میں ہی تھی اور کھلے لمبے بالوں میں وہ سیدھی اسکے دل میں آرہی تھی
نور اسکی نظروں کے حصار میں ہچکچاتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور اسکے ہاتھ میں پکڑے بڑے بڑے موٹے ڈمبلز کو دیکھ کر حیرانگی سے دیکھ رہی تھی جسے سالار نے ایسے پکڑا ہوا تھا کہ وہ ڈمبلز نہیں پلیٹیں ہوں
سالار اسکی بچوں جیسی دلچسپی کو محظوظ ہو کے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ۔۔۔۔۔۔۔ بھاری نہیں لگ رہے آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔ نور نے جھجھکتے ہوئے پوچھا
اممممم۔۔۔۔۔۔. نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت سے جواب دیا۔۔۔۔۔
سالار کو خوشگوار حیرت ہو رہی تھی کہ نور خود چل کر اسکے پاس آئی اور پھر اب خود سے مخاطب بھی کر رہی تھی
سچ میں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نور نے جانچتی نظروں سے پوچھا
ہاں۔۔۔۔۔۔
میں اٹھاؤں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نور نے اشتیاق بھرے لہجے میں اس سے کہا
تم۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
تم نہیں اٹھا پاؤگی جنم۔۔۔۔۔۔۔ یہ بہت بھاری ہیں ۔۔۔۔۔ تم جیسی نازک سی جان کہاں اٹھا پائے گی اسے۔۔۔۔
سالار پہلے تو حیران ہوا پھر ہنستے ہوئے اسے گہری نظروں سے دیکھتے منع کیا کہ کہیں خود کو زخمی ہی نہ کرلے۔۔۔۔۔۔۔
پھر میں کیا کروں مجھے یہاں بند کرکے آپ خود بڑے مزے سے یہ اوپر نیچے کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ میں کیا مکھیاں ماروں۔۔۔۔۔
نور اپنے طور پر تو منہ میں بڑبڑایا تھا مگر سالار کے تیز کانوں نے اسکی بڑبڑاہٹ آرام سے سن لی تھی
یہاں آؤں عین۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سالار نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے پاس بلایا
کک۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔ کیوں آؤں؟؟؟؟
آرہی ہو یا پھر۔۔۔۔۔۔
آتی ہوں میں۔۔۔۔۔۔ کہتے ساتھ ہی نور اسکے مقابل کھڑی ہوگئی
تمہاری بوریت میں دور کرتا ہوں۔۔۔۔۔
جج۔۔۔۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔؟؟؟
نور اسکی بات پہ بوکھلا ہی گئی
سالار نے اسکے آگے اپنا مظبوط کسرتی بازو کیا اور اسے مظبوطی سے پکڑ نے کو کہا
نور نے اچنبھے سے سالار کو دیکھا اور پھر بازو کو زور سے پکڑ لیا مگر بازو تھا کہ مچھلی جو پکڑ میں ہی نہیں آرہا تھا
ایک تو پتہ نہیں انکے ڈولے وولے اتنے موٹے کیوں ہیں کیا یہ ڈائیٹ نہیں کرتے ۔۔۔۔ کیا پتہ چربی ہی چڑی ہو اور یہ اسے ڈولے سمجھ رہے ہوں۔۔۔۔۔۔۔
نور سے جب اسکے بازو نہ پکڑے گئے تو اپنی خفت مٹانے کے لئے خود کو اس طرح تسلیاں دینے لگی کہ اس میں اس کا کیا لینا دینا یہ ہی موٹے ہیں۔۔۔۔۔۔
جنم۔۔۔۔۔ ایسے پکڑو۔۔۔۔۔ سالار نے اسے صحیح سے پکڑایا اور پھر اچانک ہی اسے اسی بازو اوپر اٹھا لیا
نور نے تو ایکدم کی کاروائ پر ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں اور چیخنے لگ پڑی
سالار نے اسے تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوگا تم بہت انجوائے کرو گی
نور نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور نیچے دیکھا وہ زمین سے اوپر سالار کی باوز سے لٹک رہی تھی
یہ کیسی انجوائے منٹ ہے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
نور نے پریشانی سے پوچھا
ایسی ۔۔۔۔۔!!!
سالار نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی گردن کے پیچھے باندھ لئے اور خود گول چکر کاٹنے لگا
پہلے آہستہ اور پھر تھوڑے تیز کردئے
نور کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جھولے سے جھولا کھول رہی ہے
اسے بہت مزا آنے لگا تھا پہلے تو وہ بہت ڈر رہی تھی
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔ نور کھلکھلا کر ہنس رہی تھی اسکے ساتھ اسکے کھلے حسین ریشمی بال بھی اک ادا سے جھوم جھوم رہے تھے
کتنا حسین منظر تھا یہ ۔۔۔۔۔ نور کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ سارا دن ایسے ہی سالار کے بازؤوں سے لٹکے جھولتی رہے ۔۔۔۔۔۔ ہائے کتنا مزا آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔
سالار اسکی آواز میں خوشی محسوس کر کے اپنے اندر چین ہی چین محسوس کر رہا تھا
پھر کافی دیر وہ اسے ایسے ہی کھلکھلا تے ہوئے سنتا رہا۔۔۔۔۔۔


رباب بڑے مزے سے بیڈ پہ بیٹھی برہان کو ادھر سے ‘ادھر چکر لگاتے ہوئے دیکھ رہی تھی اسے برہان کو ستانے میں بہت ہی مزا آرہا تھا۔۔۔
اب میں گھر میں کیا جواب دوں گا کہ یہ سب کیا کیسے کیوں ہوا
اکبر چچا کو جب پتہ چلے گا تو وہ تو مجھے اپنی شکاری بندوق سے شکار کر ڈالیں گے ۔۔۔ کہاں پھنس گیا یار ۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیئر ہبی ۔۔۔۔۔ اب آپ سونا نہیں چاہیں گے کیا ۔۔۔۔۔ ویسے تو آج ہماری ۔۔۔۔۔ وہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔ والی رات ہے بٹ اسکے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔۔۔۔ نہ تو میں دلہن بنی ہوں اور نہ تمہارے پاس میری منہ دکھائی کے لئے کوئی گفٹ ہوگا
رباب نے کچھ اس انداز سے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ نہ جانے کتنا بڑا نقصان ہوگیا ہو۔۔۔۔۔۔۔
رباب تمہارے اندر زرا بھی شرم نام کی کوئی ملتی جلتی چنی سی بھی کوئی چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ مجھے تو کہیں بھی نظر نہیں آرہی۔۔۔۔
برہان پہلے ہی سے تپا بیٹھا تھا اوپر سے رباب کے ڈرامے ہی نہیں بند ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ رباب کو پسند نہیں کرتا تھا وہ تو اسے دیوانگی کی حد تک چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
مگر اس طرح سے وہ اسکی ہوجائے گی اسے کہیں سے بھی گوارا نہیں تھا ۔۔
برہان رباب کو چاہنے سے زیادہ اسکی ہزار گناہ عزت کرتا تھا وہ اسے عزت سے اپنے نام کرنا چاہتا تھا ایسے اس عجیب سیچوئشن میں نہیں کہ جس میں ان پر گھٹیا الزام لگا ہو جو کہ بلکل غلط تھا برہان کو اپنی فکر نہیں تھی وہ جانتا تھا کہ وہ لڑکا ہے اور اسی پلس پوائنٹ کی وجہ سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا مگر رباب لڑکی تھی اور معاشرہ ہمیشہ لڑکی پر ہی انگلی اٹھاتا ہے اسی کی زندگی جینا اجیرن کر دیتا ہے جو کہ برہان رباب کو اس طرح کے ظالم کٹہرے میں قطعی نہیں دیکھنا چاہتا تھا اسی لئے وہ بہت پریشان تھا کہ کیا کرے نہ بتا سکتا تھا نہ چھپا سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
یوں رباب کی شرارتیں اسے اور کوفت میں مبتلا کر رہی تھیں
اوووووو ۔۔۔۔ مسٹر چھمک چھلو ۔۔۔۔۔۔۔ حد میں رہو اپنی حد میں ورنہ ایسا نہ ہو کہ ان فیوچر تم جب میرے وہ کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔
ہاں ں ں۔۔۔۔۔۔ جورو کے غلام۔۔۔۔۔ ٹائپ والے شوہر بن جاوگے تو روز ناک رگڑا رگڑا کر معافی منگوایا کروں گی۔۔۔۔۔
رباب نے دونوں ہاتھ پیچھے رکھتے ہوئے بیڈ پر نیم دراز پاؤں پر پاؤں رکھ کرجھلاتے ہوئےگردن اکڑا کر کہا کہ سنبھل جاؤ ابھی سے اور زرا تمیز سے بات کرو مجھ سے ورنہ میں نے ہی سب ساری زندگی تمہارے سر پر مسلط رہنا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ خوشنما زندگی کو بد نما زندگی نہ بنا دوں۔۔۔۔
جبکہ برہان کا تو بس ہی نہیں چل رہا تھا کہ اسکا گلا پکڑ کر پکڑ کر ۔۔۔۔۔ اوففففففف۔۔۔۔۔۔ ایک تو اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔۔۔!!!!
رباب یہ دیکھو میرے ہاتھ۔۔۔۔۔۔۔۔ برہان نے ہاتھ جوڑ کر اسکے سامنے کیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھ پر رحم کرو سکون سے سو جاؤ
مجھے تو اب نیند کبھی آنی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
ہائے برہان ۔۔۔۔۔۔ چچ چچ چچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تو ابھی سے ایڈوانس میں معافی مانگنے لگ گئے ہو ۔۔۔۔۔۔ ہائے تم شوہروں کی بھی کیا زندگی ہوتی ہے بچارے۔۔۔۔۔۔ ساری زندگی بیوی کی ہاں میں ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ہی کٹ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اچھا ہی ہوتا ہے تم شوہر کونسے معصوم ہوتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا اب مزید مت بولنا بس اب میں سونے لگی ہوں تم یہی کہیں سو جانا ہاں چلو میری تو گڈ نائیٹ بٹ تمہاری بیڈ نائیٹ ۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔
گڈڈڈڈڈڈڈ نائیٹ مائی ہینڈسم چھمک چھلو۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی آنکھ ماری اور چادر سر تک تان کر سو گئی
جبکہ برہان دانت پیستا اپنے فیوچر کو لے کے مزید گھبرا گیا تھا
ہائے ربا میرا کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
جاری۔۔۔۔.