54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

کافی دن ہوگئے میں نے میاں جی کی خیر خبر نہیں لی ابھی تک ۔۔۔۔۔۔
رباب اپنے کمرے میں جلے پیر کی بلی بنی یہاں وہاں چکر لگائے جا رہی تھی اسے کسی پل چین نہیں مل رہا تھا کیونکہ برہان صاحب کی اسکے ہاتھوں درگت جو نہیں بنی تھی کیونکہ برہان صاحب ہر بار کی طرح اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرنے کو نکل پڑے تھے یہاں تک کہ اظفر کو بھی نہیں لے کے جاتا تھا تو رباب کو کہا ں لے کے جاتا۔۔۔۔۔۔بس یہی خلش تھی رباب کو کہ مجھے تو کم از کم لے جائے اب تو یہ بہانہ بھی نہیں بنا سکتا تھا کہ ایک نامحرم لڑکی کا غیر مردوں میں کیا کام ۔۔۔۔۔۔ اب تو وہ اسکی شرعی بیوی بن چکی تھی.
آہہہہہ۔۔۔۔۔۔ برہان ۔۔۔۔۔۔آہہہہہہ
غصے سے دانت چباتے ہوئے برہان کا نام ایسے لیا جیسے خود برہان اسکے دانتوں میں آکر بیٹھ گیا ہو ۔
بس اب تمہاری خیر نہیں ۔۔۔۔ یا اللہ کیسا بے غیرت ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نہیں۔۔۔ بے غیرت نہیں ۔۔۔کیسا عزت و احترام سے بھرا شوہر نوازا ہے مجھے کہ کم از کم پیار کے دو بول ہی بول لے اپنی بیوی کو مگر نہیں اس میں تو رومینس نام کی تو کوئی چیز ہی نہیں پائی جاتی ۔۔۔۔۔۔
رباب منہ ہی میں بڑبڑاتے ہوئے ہاتھ نچا نچا کر برہان کے روم کی طرف بڑھ رہی تھی
اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے اور ہلکی ہلکی روشنی نکلنا شروع ہوئی تھی
رباب نے آہستہ سے روم کا ڈور کھولا اور پھر لاک کرکے برہان کی طرف بڑھی جو رات کو لیٹ آنے کی وجہ سے شرٹ اتارے اوندھا منہ پڑا مزے سے سو رہا تھا
واہ برہان صاحب واہ بڑے مزے سے نیندیں اڑائی جا رہی ہیں ابھی بتاتی ہوں تمہیں تو۔۔۔!!!!
رباب بڑے مزے سے چلتی ہوئی برہان کے پاس آئی اور اسے گہری نیند سوتے ہوئے دیکھ کر شیطانی انداز میں کھل کر
مسکرائی ۔۔۔
رباب نے نیلے ر نگ کی پٹیالہ شلوار اور شارٹ شرٹ پہن رکھی تھی بالوں کا رفلی سا جوڑا بنائے دوپٹہ سلیقے سے کندھے پر پھیلائے بہت پیاری لگ رہی تھی
اس نے دوپٹے میں چھپائی بلیک کلر کی لپ اسٹک نکالی اور اسکی کمر پر ہونٹوں کے نشان بنا نے لگی ۔۔۔۔۔۔ اب آئے گا مزا۔۔۔۔۔۔ ہی ہی ہی۔۔۔۔
رباب اپنا کارنامہ انجام دئیے کھڑی دانت نکال رہی تھی کہ اسکی ہنسی کی آواز پر برہان کی نیند ٹوٹی اور آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں تو سامنے رباب کو کھڑا دیکھ کر اسکے لبوں پر دلکش مسکراہٹ چھاگئی ۔۔۔۔
برہان کو لگ رہا تھا کہ وہ ابھی بھی نیند میں ہی ہے اور کوئی خواب دیکھ رہا ہے اور کتنا پیارا خواب دیکھ رہا ہے کہ اسکی جان اسکے سامنے اپنی من موہنی صورت لئے کھڑی ہے
برہان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔۔۔ خیال یہ تھا کہ کہ چھو نے سے یہ حسین منظر غائب ہو جائے گا ہمیشہ کی طرح مگر ہوا اسکے برعکس۔۔۔۔۔
برہان نے جب اپنی طرف ہلکا سا اسے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا تو وہ سیدھا اسکے اوپر ہی آگری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آاااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔
غلط سمجھے یہ چیخ رباب کی نہیں برہان کی تھی
چپ ۔۔۔۔۔ آواز نہ نکلے تمہاری برہان۔۔۔۔ ورنہ ایک کھا لو گے مجھ سے۔۔۔۔
رباب جو برہان کے اس طرح کھینچنے ہر حواس باختہ ہوچکی تھی ۔۔۔۔ لیکن جب برہان نے چیخ ماری تو فورا” اسکے لبوں پر اپنا مرمریں ہاتھ رکھ کر چپ کرا نے لگی ۔۔۔۔
حد ہوتی ہے برہان اب جب غلطی سے تھوڑا رومینس جھاڑ ہی لیا تھا تو پھر یہ فضول میں کسی نازک اندام کلی کی طرح چلانے کی کیا ضرورت تھی ہاں۔۔۔۔۔
زرا تم میں چھچھورا پن نہیں ہے برہان کیا ہو تم تھوڑی شرم کر لو تم ۔
رباب ویسے تو بہت شرمیلی لڑکی تھی مگر برہان کو ایسے کرتے ہوئے دیکھتی تھی تو اسے زچ کرنے کا بھرپور فائدہ اٹھاتی تھی ۔۔۔
بہت ہی بے شرم
ہو تم تو رباب کوئی اپنے شوہر کو ایسے کہتا ہے ہے اور ویسے بھی لڑکیاں تو مرتی ہیں مجھ جیسے شوہر کے لئے جس عزت و احترام دے ۔۔۔۔
برہان اسے خود پر سے دھکا دے کر ہٹاتے ہوئے چلا کر بولا ایک تو صبح صبح نیند خراب کردی اوپر سے اسی پر الزام تراشیاں شروع کردیں
ہا۔۔۔۔۔۔
برہان ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ہاو۔۔۔۔۔۔۔
رباب۔۔۔۔؟؟؟
نکلچی۔۔۔۔۔ چھچھوندر۔۔۔ بندر۔۔۔۔۔ ؟؟؟
بے شرم۔۔۔۔۔ بے حیا۔۔۔۔۔۔لومڑی۔۔۔۔؟؟؟؟
ہا۔۔۔۔ برہان کچھ تو شرم کرلو۔۔۔۔۔۔
رباب نے روہانسی آواز میں کہا
وہی تو کب سے میں ہی کر رہا ہوں ۔۔۔ کچھ تم بھی کرلو لڑکیوں پہ زیادہ سوٹ کرتی ہے ۔۔۔
برہان نے دانت پیستے ہوئے شرمندہ کرنا چاہا رباب کو۔۔۔
برہان تم نہ ۔۔۔۔ تمممم۔۔۔۔۔
ٹک ٹک ٹک۔۔۔۔۔؟؟؟
ہائے اللہ مر گیا اب تو میں۔۔۔۔۔
دروازہ ناک ہونے پہ برہان عورتوں کی طرح سینہ پیٹتے ہوئے بولا
او بزدل میاں جی یہ میرا ڈائیلاگ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ رباب نے ہنستے ہوئے اسکی حالت پر چوٹ کی ۔۔۔۔۔۔
تمہارا تو میں ۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ برہان کچھ کہتا دروازہ ایک بار پھر ناک ہوا مگر توڑنا کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا
کککککککککککک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان جو ہکلا رہا تھا رباب کے کمر پر کر ارے تپھڑ پر کچھ اونچا ہی بول گیا
کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟..


سالار اٹھ چکا تھا کچھ دیر تو چھت کو گھورنے
میں لگا رہا پھر اپنے حصار میں سوئی اپنی جان حیات کو دیکھا جو بڑے مزے سے ہلکا سا اپنے لبوں کو کھولے سو رہی تھی۔۔۔۔
چہرے پر معصومیت ہی معصومیت تھی اور چہرہ الگ رنگ دکھا رہا تھا آج ۔۔۔۔ شائید سالار کی نچھاور کی ہوئی محبت کے ہی رنگ تھے جو اس کو اور خوبصورت کر گئے تھے۔۔۔
سالار نے اپنے بائیں ہاتھ کی پشت سے اسکے چہرے کا طواف کیا مگر ہمیشہ کی طرح جیسے کے نور گہری نیند میں
سوتی تھی ابھی بھی ویسے سوئی پڑی ہوئی زرا بھی نہیں ہلی تھی ۔۔
میری۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔
سالار نے اسکے کانوں میں سرگوشی کی۔۔۔۔۔
مگر بےسود۔۔۔۔۔۔
ہا ہا۔۔۔۔۔
ارے میری بیگم تو نیند کی بے تحاشہ رسیا لگتی ہے ۔۔۔۔ اچھی بات ہے جنم.۔۔۔۔۔۔۔ تو کیوں نہ اب تمہاری اس نیند کا فائدہ اٹھا لیا جائے ۔۔۔۔۔
سالار نے اسکے کان میں کہتے ساتھ ہی اسکی کان کی لو چوم لیا پھر اپنے دہکتے ہوئے لبوں کو اسکی صراحی دار گردن پر رکھ آزاد چھوڑ دیا کہ جس پر جابجا اسکے لب محبت سے اپنا لمس چھوڑتے جارہے تھے
سالار مسلسل اسکے نیم وا لبوں کو ہی دیکھے جارہا تھا پھر اس نے مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹ اسکے لبوں کے ساتھ الجھا دئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نیند میں گم نہ جانے کس خواب کو دیکھنے میں مگن تھی کہ اسے یوں لگا کہ کوئی اس کے لبوں کو کسی گرم چھری سے کاٹ رہا ہو ۔۔.
کیڑا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
دماغ میں ایک ہی چیز لہرائی ۔۔۔۔۔ تو چیخ ہی پڑی
ہائے کیڑا کیڑا کیڑا کیڑا کیڑا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
ایک دم سے آنکھیں کھولیں اور اچھلتے کودتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتر گئی اور چھلانگیں مار مار کر کیڑا کی راپ الاپنے لگی۔۔۔۔
کیڑا کیڑا کیڑا ۔۔۔۔۔۔۔
شششششش۔۔۔۔۔۔ کوئی کیڑا نہیں ہے جنم۔۔ آپ کا لونگ ہزبینڈ آپ کو جگانے کی اتنی سی کوشش کر رہا تھا
سالار بڑے مزے سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اپنے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے تکیے کی صورت جما کر اسکے سراپے کو بغور دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا
نور نے اچانک چلانا چھوڑ کر سامنے دیکھا تو سالار شرٹ لیس گہری بولتی آنکھوں اور لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے ہی سر سے پاؤں تک دیکھ رہا تھا
نور نے فورا” اپنی نظریں جھکا لیں اور جھکانا کیا تھا کہ اسے ایک اور جھٹکا لگا ہائے اللہ
نور کی نائیٹی کا اوپر ی کوٹ غائب تھا اور اب وہ سلیو لیس
سوتی تھی ابھی بھی ویسے سوئی پڑی ہوئی زرا بھی نہیں ہلی تھی ۔۔
میری۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔
سالار نے اسکے کانوں میں سرگوشی کی۔۔۔۔۔
مگر بےسود۔۔۔۔۔۔
ہا ہا۔۔۔۔۔
ارے میری بیگم تو نیند کی بے تحاشہ رسیا لگتی ہے ۔۔۔۔ اچھی بات ہے جنم.۔۔۔۔۔۔۔ تو کیوں نہ اب تمہاری اس نیند کا فائدہ اٹھا لیا جائے ۔۔۔۔۔
سالار نے اسکے کان میں کہتے ساتھ ہی اسکی کان کی لو چوم لیا پھر اپنے دہکتے ہوئے لبوں کو اسکی صراحی دار گردن پر رکھ آزاد چھوڑ دیا کہ جس پر جابجا اسکے لب محبت سے اپنا لمس چھوڑتے جارہے تھے
سالار مسلسل اسکے نیم وا لبوں کو ہی دیکھے جارہا تھا پھر اس نے مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹ اسکے لبوں کے ساتھ الجھا دئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نیند میں گم نہ جانے کس خواب کو دیکھنے میں مگن تھی کہ اسے یوں لگا کہ کوئی اس کے لبوں کو کسی گرم چھری سے کاٹ رہا ہو ۔۔.
کیڑا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
دماغ میں ایک ہی چیز لہرائی ۔۔۔۔۔ تو چیخ ہی پڑی
ہائے کیڑا کیڑا کیڑا کیڑا کیڑا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
ایک دم سے آنکھیں کھولیں اور اچھلتے کودتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتر گئی اور چھلانگیں مار مار کر کیڑا کی راپ الاپنے لگی۔۔۔۔
کیڑا کیڑا کیڑا ۔۔۔۔۔۔۔
شششششش۔۔۔۔۔۔ کوئی کیڑا نہیں ہے جنم۔۔ آپ کا لونگ ہزبینڈ آپ کو جگانے کی اتنی سی کوشش کر رہا تھا
سالار بڑے مزے سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اپنے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے تکیے کی صورت جما کر اسکے سراپے کو بغور دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا
نور نے اچانک چلانا چھوڑ کر سامنے دیکھا تو سالار شرٹ لیس گہری بولتی آنکھوں اور لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے ہی سر سے پاؤں تک دیکھ رہا تھا
نور نے فورا” اپنی نظریں جھکا لیں اور جھکانا کیا تھا کہ اسے ایک اور جھٹکا لگا ہائے اللہ
نور کی نائیٹی کا اوپر ی کوٹ غائب تھا اور اب وہ سلیو لیس
بازؤوں اور گھٹنوں تک برہنہ ٹانگوں کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
افففف اللہ ۔۔۔۔۔ ڈوب مرو تم نور۔۔۔۔۔۔
فورا” سے اسکا چہرہ لال ہوا تھا ہاتھوں سے چھپا کر خود کو ڈپٹنے لگی ۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔
سالار کا قہقہ گونجا اور نور مزید شرم سے پانی پانی ہوئی ۔۔۔۔۔۔
افففف ۔۔۔۔۔۔ نور ایک جھٹکے سے مڑی اور جھپاک سے واشروم میں بھاگ گئی اور خود کو لاک کرلیا مگر اس مرتبہ دوسرے ڈور کو لاک کرنا بلکل بھی نہیں بھولی تھی
چہرے سے ہاتھ ہٹایا تو چہرے پر معصوم سی شرمیلی مسکان سجی ہوئی تھی
اور پھر اپنی حرکت پر ہنس دی


تم کرنے کے کیا والے ہو سالار شجاعت ۔۔۔۔۔
آخر کیا پلین ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔
اپنے آفس میں بیٹھا مسٹرXyz سوچوں کے بھنور میں الجھا ہوا تھا کہ اب سالار اپنی بیوی کا بدلہ کیسے لے گا
اسے ڈر تھا کہ سالار کے کسی بھی جزباتی قدم سے کہیں اسکی اب تک کی محنت نہ برباد ہوجائے ۔۔۔۔۔
میں تمہیں روکوں گا سالار شجاعت ۔۔۔۔۔
تمہیں اپنی محنت برباد کرنے نہیں دوں گا
کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے اس نے فون اٹھایا اور کریم کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔