Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 13 Part 1
Rate this Novel
Episode 13 Part 1
آپ نے یہ کیا کیا ابو جان ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمیں آپ کے فیصلے سے کسی قسم کا کوئی اعتراض ہے آج تک جتنے بھی فیصلے آپ نے کئے ہیں ہم نے اسے سر خم کرکے قبول کئے ہیں کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ہمارے بھلے کے لئے ہی ہوگا سالار بھی ہمیں باقی سب کی طرح عزیز ہے بلکہ وہ تو ہر لحاظ سے اول ہے وہ تو ایک آئیڈیل انسان ہے ایک کامیاب بزنس مین ۔۔۔۔۔۔۔
مگر دکھ تو اس بات کا ہے کہ آپ نے ہمیں آگاہ کرنے کے قابل بھی نہیں رکھا اور اوپر سے ابو جان آپ جانتے ہیں آصفہ کس قدر ازیت میں ہے بہت دکھ پہنچا ہے اسے اسکے شوہر نے اسے کتنی باتیں سنائی ہیں بہت رو رہی تھی وہ ۔۔۔نہ جانے کتنے طعنے دیئے
ہوں گے اسے تو موقعہ چاہیے ہوتا ہے باتیں بنا نے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت سب بڑے دادا جان کے روم میں بیٹھے اپنے سوالات کے جواب مانگ رہے تھے اور انکی طرف سے صدیق صاحب نے بہت سبھاؤ سے بات رکھی تھی
عجیب بات ہے تم لوگوں کو مجھ پر اعتبار ہو کر مجھ سے گلہ کرنے آئے ہو اگر مجھ پر اعتبار ہے کہ میں کبھی تم سب کے لئے کوئی غلط فیصلہ نہیں کروں گا تو بنا کوئی سوال کئے مجھ پر بھروسہ رکھو وگرنہ نہیں ہے تو میں تم سب کے تمام سوالوں کا ابھی جواب دیے دیتا ہوں اور آصفہ کی تو فکر مت کرو اسکے شوہر کے لئے میں کافی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان نے ان سب کے سوالوں کو لاجواب کر دیا اب باقی سب
کیا کہتے دادا جان نے تو قصہ ہی ختم کر ڈالا تھا اس لئے بنا کوئی جواب لئے خاموشی سے سب اٹھ کر چل پڑے
جبکہ پیچھے سے دادا جان نے گہری سانس کھینچی تھی
مٹھاں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
او مٹھاں۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں مرگئی ہو تم ۔۔۔۔
خوبصورت نین نقش کی حامل عورت سفید ساڑھی پہنے بہت دلکش لگ رہی تھی مگر اسکی زبان تو اسکے حسن پہ طعنہ تھی
رات کے دو بجے وہ کسی پارٹی سے بپھرتی ہوئی آئی تھی بات ہی ایسی تھی پارٹی کے دوران اسکے سیل پہ فون آیا تھا جو اسکی فرینڈ نے پک کیا تھا آگے سے کسی سہمے ہوئے بچے کی آواز سنائی دی تھی
م۔۔۔۔۔۔مم ۔۔۔۔ مما ۔۔۔۔ جی جلدی آجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بہت ڈر لل۔۔۔۔ لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بارش بھی ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لائٹ بھی نہیں ہے بہت اندھیرا ہے مما جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ باؤ آکے مجھے آکے کھا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مما مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس آجائیں
نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون پہ ہچکیوں پر روتا بلکتا بچہ اپنی ماں سے فریاد کر رہا تھا
کہ وہ آکے اسے ڈراؤنے ماحول سے بچا کر اپنی ممتا کی آغوش
میں چھپا لے ۔۔۔۔۔۔
اسکی بے چین آواز سن کر اسکی دوست بھی بے چین ہوچکی
اس نے اسے بتایا اور زبردستی گھر بھیجا لیکن اسکا موڈ سخت
خراب ہو چکا تھا وہ غصے میں گھر پہنچ کر اپنی ملازمہ مٹھاں
پر چلا رہی تھی
جی جی بیگم صاحبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مٹھاں نے ڈرتے ڈرتے اپنی مالکن سے کچھ دوری پر کھڑے ہو کر پوچھا
کہاں ہے وہ منحوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلا کر پوچھا گیا
وہ وہ جی آ۔۔۔۔۔۔ آپ کے روم میں جاتے ہوئے دیکھا تھا
ملازمہ کی بات سن کر وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
اپنے روم میں پہنچی تو پانچ سالہ بچے کو اپنے قیمتی بیڈ پہ جوتوں سمیت چڑھا ہوا پایا
اسکا دوپٹہ اپنے منہ پر رکھے ہچکیوں سے رو رہا تھا
یہ دیکھ کر تو اسے اور غصہ چڑھا جلدی سے آگے بڑھی
ہیل کی ٹک ٹک پہ اس نے ڈرتے ڈرتے دوپٹے کی اوٹ سے دیکھا تو اپنی ماں کو دیکھ کر وہ ایکدم سے روتے ہوئے اٹھا اور بھاگ کر اس سے لپٹنا ہی چاہا تھا کہ اس کی ماں نے زوردار چانٹا اسکے نازک رخسار پر دے مارا جس سے بچہ لڑکتا ہوا دور جا گرا
تیری ہمت کیسے ہوئی مجھے فون کرنے کی اسے بری طرح جھنجھوڑتے ہوئے غرا کر پوچھا اور ساتھ ہی ایک اور تھپڑ مارا جس سے بچے کے ہونٹوں کے کونے سے خون نکلنے لگ پڑا لیکن
پھر بھی وہ اپنی ماں کی آغوش میں چھپنا چاہتا تھا اسے اپنی
ظالم ماں سے نہیں اس خوفزدہ موسم سے ڈر لگ رہا تھا
مم۔۔۔۔۔۔۔ مما جی ڈر للگگ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔
تھپڑ کی وجہ سے اسے بولنے میں تکلیف ہو رہی تھی
چپ منحوس جب سے میری زندگی میں آیا ہے جینا اجیرن کر دیا ہے میرا نہ کسی پارٹی کو انجوائے کرنے دیتا ہے نہ سکون سے رہنے دیتا ہے کم بخت مارا مر کیوں نہیں جاتا تو ۔۔۔۔۔۔
مر جا تاکہ جان چھوٹ جائے میری اس عزاب سے۔۔۔۔۔
بچی اور زور سے رونے لگا اسے باہر کڑکتی ہوئی بجلی سے خوف
آرہا تھا
چپ کر جا چپ نہیں تو آج مجھ سے نہیں بچے گا اسے ڈراتے ہوئے کوفت سے کہا
اثر نہ ہوتے دیکھ کر اسے اور غصہ آیا اور اسکا گلا پکڑ کر دبانے لگی
آج تو تو گیا اچھا ہے تیرا باپ بھی نہیں گھر پہ جان چھوٹ جائے گی میری اس عزاب سے اسکا گلا دباتے ہوئے سفاکیت سے کہا اسے زرا بھی اپنے بچے پر رحم نہیں آیا
وہ تڑپ رہا تھا اسکی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے اسکا سانس بند ہو رہا تھا
شائد قدرت نے ابھی اسکے لئے اور امتحان لکھے تھے ننھی سی جان کے لئے کہ باہر سے گاڑی کا ہارن سنائی دیا جو اس بات کا پتہ دے رہا تھا کہ اسکا شوہر آگیا ہے کوفت سے سر جھٹکتے ہوئے اسکا گلا چھوڑا اور اسے گود میں اٹھا کر جلدی سے اپنے کمرے سے باہر نکل سٹور روم کی طرف چلنے لگی
اسکے سلوک کے باوجود بچہ اس سے لپٹ کر سکون محسوس کر رہا تھا
سٹور روم میں آکر اس نے اسے پٹخنے کے انداز میں زمین پہ پھینکا اور دروازہ بند کرکے خود کو کمپوز کرتی چل دی ہمیشہ کی طرح اپنے شوہر کو اپنے حسن کے جال میں پھانس کر سب کچھ فراموش کر ادینے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ بچہ روتے روتے نہ جانے کب بے ہوش ہو پڑا تھا
سالار سویا ہوا تھا کہ اچانک اسکے چہرے پہ تناؤ کی کیفیت طاری ہونی شروع ہوئی اسکا پورا جسم پسینے کی صورت بھیک
گیا تھا
اچانک سے اس نے آنکھیں کھولیں اور لمبے لمبے سانس لئے اسکی
آنکھوں میں کرب تھا
اس کی فورا”نظر عین پر پڑی جو بے خبر ابھی تک سو رہی تھی
عین سوتے ہوئے کسی معصوم پنچھی کی مانندلگ رہی تھی کہ سارا دن اڑتے پھر تے دنیا کی سیر کرنے کے بعد رات کو تھک ہار کے اپنے گھونسلے آرام کرنے کی غرض سے سو چکی ہو۔۔۔۔۔
پنچھی تو پھر صبح ہی صبح جاگ جاتا ہے یہ نہ جانے کون سی قسم کا پنچھی ہے جو ابھی تک گہری نیند سویا ہوا تھا
سالار کو اپنے موبائل کی روشنی بلنک کرتی محسوس ہوئی اسکے ماتھے پہ دو بل نمایاں ہوئے
اتنی صبح صبح کسی کی سالار کو کال کرنے کا مقصد نہایت اہم
ہوگا نہیں تو کس کی اتنی ہمت کہ سالار شجاعت کو کے آرام میں
محمل ہوسکے
ان دونوں کے اوپر رات بھر پڑتی موتیے کے پتیوں کی پت جھڑ کی تنی چادر کو توڑتے ہوئے سالار نے عین کا سر تکیے پر رکھ دیا
اور اس کے اوپر اچھے سے بلینکٹ اوڑھ دیا
موبائل اٹھا کر کان سے لگا یا دوسری طرف کریم تھا اسکا سیکریٹری جانے اس نے ایسا کیا کہا تھا کہ اسکی آنکھیں آگ برسانے لگیں گردن کی نیلی نسیں پھٹنے کو تیار تھیں موبائل پہ اسکی گرفت اتنی سخت تھی کہ بس ٹوٹنے کی کسر رہ گئی تھی
اس نے مڑ کر اپنی میڈیسن کی طرف دیکھا
اسے دیکھتے ہی سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا
میکانکی انداز میں چل کر اسکے پاس آیا اور اپنے لب اسکے ماتھے پہ رکھ دیے
کچھ دیر بعد ہٹا تو اسکے چہرے پہ پہلے جیسا کوئی تاثر موجود نہیں تھا
وہ رات والا سالار شجاعت بن چکا تھا
عین کا سالار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت جلد واپس آؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور پھر سے اسکے ماتھے پہ ہولے سے ہونٹ رکھے اور بنا دیکھے
تیز تیز قدم بھرتا باہر نکل گیا
آگر دیکھ لیتا ایک بار پھر سے تو جا نہ پاتا۔۔۔۔
لیکن اسکا جانا بہت ضروری تھا ابھی تو کھیل شروع ہی ہوا تھا
سڈنی کے مشہور sea food restaurant میں بیٹھی انتہائی خوبصورت لڑکی سنہرے چمکیلے بال گوری رنگت اور نیلی آنکھیں لئے وہ ٹیبل کے سامنے رکھی چئر پہ بیٹھی کسی کا انتظار کرتی معلوم یو رہی تھی
اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا
بہت جلد ایک خوش شکل لمبے قد کا نوجوان لڑکا اسکے پاس آیا اور پیچھے سے ہگ کرکے اسکی گال پہ کس کیا
مگر اس مغرور لڑکی نے اسے پہنچا تے ہوئے نراضگی سے اسکے ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹائے
اسکا انداز دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ اس کی جل پری کا موڈ کچھ زیادہ ہی خراب ہے
اب وہ لڑکا اسکے مقابل بیٹھ چکا تھا اور طرح طرح سے اس کی منتیں کر رہا تھا اسے راضی کرنے کی لیکن وہ لڑکی اسے کوئی بھاؤ نہ دیتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی
جبکہ اس لڑکے نے تاسف سے اپنی برانڈڈ گھڑی کو دیکھا
وہ صرف ۵ منٹ ہی تو لیٹ ہوا تھا
اگر وہ اس لڑکی کو پرسنلی جانتا نہ ہوتا تو حیران ضرور ہوتا
مگر وہ اسے دو سالوں سے جانتا تھا پچھلے دو سالوں سے وہ اسکا بوائے فرینڈ تھا مگر مجال ہے جو اس لڑکی اسے حد سے زیادہ فری ہونے دیا ہو۔۔۔۔۔۔
بہت موڈی تھی وہ آخر کیوں نہ ہوتی اتنے امیر باپ کی بیٹی جو تھی وہ حد سے زیادہ لاڈ پیار نے اسے بگاڑ کے رکھ دیا تھا
انتہائی ضدی مغرور حسینہ دوسروں کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھنے والی غروروتکبر تو اس کی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا
کہنے کو تو وہ مسلمان تھی مگر اسکے کرتوت تو مسلمانوں والے
قطعی نہ تھے
ماں باپ فرض ہوتا ہے کہ اولاد کو اسکے اصل کے بارے میں آگاہ کرنا کہ وہ کون ہے کیا ہے کس لئے اس دنیا میں آیا ہے مگر اسکے ماں باپ کو کوئی غرض ہو تو تب نہ۔۔۔۔۔۔
انہیں تو پارٹیز نام شہرت اور اونچے سے اونچا مقام پانے کی ضد تھی ہر کوئی خود کو ٹوپ پر رکھنے کے جنوں میں تھا اور اسی جنوں میں حرام گناہ کا مطلب بھول بیٹھا تھا
ایسے میں انکی اولاد انکے نقش قدم پر نہیں چلے گی تو کس کے
چلے گی
یہ بھی اپنے امیر ماں باپ کی امیر بیٹی میزی تھی
میزی کی ملاقات میکائیل سے دو سال قبل ڈانس کلب میں ہوئی تھی میزی کی خوبصورتی اور امیری کو دیکھتے ہوئے وہ اس پر لٹو ہی ہو چکا تھا
اس نے کئی طرح سے اسے امپریس کرکے اپنی گرل فرینڈ کے مرتبے پہ فائز کر ہی لیا تھا
اور یہی تو چاہتی تھی وہ لڑکی کہ ہر کوئی اسکا دم بھرے اسکے پیچھے پاگل ہوجائے اور ایسا ہی میکائیل نے کیا تھا
مگر بد قسمتی سے ۵ منٹ لیٹ ہونے کی صورت وہ اسے ناراض کر بیٹھا تھا اب وہ کم از کم ایک مہینے تک اسکے تر لے منتیں کرے گا تب جا کر وہ اسے جان بخشی دے گی
سورج کی شعاوں نے اسکے چہرے پہ اپنی ںروشنی ڈالی تو نور نے کسمسا کر اپنی آنکھیں وا کیں پہلے تو وہ ان جانی نظروں سے پورے کمرے کو دیکھتی رہی پھر جیسے اچانک اسے سب یاد آگیا کل کا دن کسی عجیب خواب سے کم نہیں تھا ایک ایک کرکے
اسے سب یاد آتا گیا
نور کل کے عجیب غریب سالار کے بارے میں سوچ رہی تھی اور اپنی بے خودی پر جی بھر کر شرمںندہ اور غصہ آیا
ابھی وہ اسی بارے میں سوچ رہی تھی کہ یکدم دروازہ کھلا اور جیسے سیلاب امنڈ آیا مشاء رباب اور گھر کی تمام خواتین ایک ساتھ اندر داخل ہوئیں اصل میں ملازمہ سے معلوم ہوا تھا کہ سالار صبح ہی صبح جا چکا ہے تو ان کو مزید صبر نہیں رہا اور
چلی آئیں
لیکن یہاں کا حال دیکھ کر اور نور سے ڈھکے چھپے الفاظوں میں استفسار کر کے انہیں اطمینان حاصل ہوا اور ساتھ ہی ساتھ خوش بھی ہوئیں کہ سالار اس سے واقعی میں محبت کرتا ہے
انکے دل میں جتنے بھی واہمات تھے وہ سب جیسے کافور ہوگئے
تھے رباب اور مشاء کو اسے ریڈی کرکے لانے کا کہہ کر خود نیچے چلی گئیں
ہائے اللہ جی ۔۔۔۔۔۔ میں مر گئی
ہمارے خواب جہاں میں کوئی وہ بھی سالار شجاعت دی ہٹلر
مین اپنی نور سے۔۔۔۔۔ مطلب عین سے اتنی گہری محبت بلکہ عشق کرتے رہے اور ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔۔۔۔
نور نے حیرانی سے رباب کی طرف دیکھا تو مشاء فورا” بولی
ارے اسے کیا گھور رہی ہو سو فیصد سچ ہی تو کہہ رہی ہے
سالار بھائ تم سے بے انتہا عشق کرتے ہیں تبھی تو دیکھو کیا کیا
نہیں کیا انہوں نے تمہارے لئے اور تمہاری اجازت کے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی مشاء کچھ اور بولتی ہی کہ نور نے نروٹھے انداز میں مشاء کو ٹو کا جس سے یہ دونوں ہنس پڑیں
او میری پیاری بہنا رباب نے اسے لاڈ بھرے انداز میں زور سے گلے لگایا تو نور انہیں دکھا نے کے لئے مسکرا پڑی
شائد اسے بھی کچھ کچھ ان کی باتوں پہ یقین آنے لگا تھا مگر وہ کیسے اس دن والی بات بھول جاتی جب سالار اسے اس رات
لے کے گیا تھا اور کتنا غصہ کیا تھا اس پر جس کی وجہ سے وہ آج بھی ڈرتی تھی اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو نور جلدی سے اب نیچے چلو وہاں تمہارے دونوں بھائ منہ پھیلائے بیٹھے ہیں ان کو نا کر درست کرو تم اور ساتھ ہی سب بتا دیا
پھر یہ تینوں ڈریسنگ روم میں گئیں
رباب نے جب بڑی سی شیشے کی وارڈروب کھولی تو حیرانی سے منہ ہی کھل گیا سالار کے ڈریسز کے بیچ نور کے بے حساب
نہایت خوبصورت ترین ڈریسز لٹک رہے تھے جیسے سالار کے حصار میں ہوں اسکے ساتھ ساتھ میچنگ حجاب اور باقی تمام
ضروری اشیاء تھیں
نور بھی حیرانی سے سب دیکھ رہی تھی
رباب نے اسکے لئے پنک کلر کا پیارا سا فراک نکالا اور نور کو تیار کرنے لگ پڑیں
تیار ہو نے کے بعد نور بہت پیاری لگ رہی تھی پھر وہ ان کے ساتھ نیچے چلی گئی اظفر اور برہان کے موڈ ٹھیک کرنے ہمیشہ کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
