Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 30
Rate this Novel
Episode 30
کون۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
کہیں اکبر چچا تو نہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟….. مارے گئے وہ تو مجھے بھون بھون کے ۔۔۔۔۔ بھون بھون کے رکھ دیں گے
برہان اپنے بال نوچتا ہوا کبھی یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا اسے اپنا نہیں رباب کے لئے ڈر تھا
ڈر تو رباب بھی گئی تھی مگر برہان کی شکل دیکھ کر اسے بڑا مزا آرہا تھا ڈر تو کہیں اڑن چھو ہوگیا تھا
برہان۔۔۔۔۔؟
اوئے برہان ۔۔۔ مر کھپ تو نہیں گیا کہیں ۔۔۔۔؟؟
کب سے ناک کر رہا ہوں کھول کیوں نہیں رہے ہو دروازہ ۔۔۔۔ ٹک ٹک ٹک۔۔۔۔۔ کھول اسکو ورنہ میں نے اسکے اوپر اپنا سارا وزن ڈال دینا ہے پھر بعد میں مجھے مت کہنا کچھ بھی۔۔۔۔۔
کھول بھی ۔۔۔۔ برہہہہہہہان۔۔۔۔۔۔۔
یہ۔۔۔۔ یہ تو اظفر ہے شکر ہے کہ تمہارا باپ نہیں ہے ورنہ میں نے یہاں سے کود کے خودکشی کرلینی تھی۔۔۔
برہان نے شکر کا سانس لیتے کھڑکی کی طرف اشارہ کرکے بتایا
افففف ۔۔۔۔ اووووو۔۔۔۔برہان تم کھڑے ہو کر سوسائیٹ کے رستے ڈھونڈو میں دروازہ کھولتی ہوتی ہوں جاکر ۔۔۔۔ ابھی یہ کہہ کر رباب بڑھی ہی تھی کہ برہان نے جھٹ سے اسے اپنی طرف کھینچا جس سے وہ اسکے سینے سے آلگی کچھ دیر کے لئے تو دونوں سب کچھ بھول گئے ۔۔۔۔
ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کسی اور ہی جہاں میں پہنچ چکے تھے
رباب کے دل نے تو جیسے سپیڈ ہی پکڑ لی تھی
نہ جانے یہ دونوں کب تک ایسے ہی گم رہتے کہ ایک بات پھر سے دستک نے ان کو ہوش کی دنا میں لایا
وہ۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ ہاں تمہارے والد محترم نہ سہی پر اظفر بھی کسی سے کم نہیں ہے کیوں مجھے بدنام کرا نے پر تلی ہوئی ہو۔۔
ہر بڑاتے ہوئے برہان نے مصنوعی درشتگی سے اسے ایک جھٹکے سے پیچھے کیا اور ڈانٹ لگائی
تم ۔۔۔ تم نہ کہیں چھپ جاؤ۔
جلدی کرو اس سے پہلے کہ وہ موٹا مانو بلا سچ میں دروازہ ہی نہ توڑ دے میرا ۔۔۔
برہان اسے بازو سے پکڑتا ہوا واشروم میں لے گیا اور دروازہ بند کردیا
ایک دو سانسیں کھینچ کر اس نے ڈور کھول دیا
کیا۔۔۔۔؟؟؟
ہاں کیا کر کیا رہا تھا تو ۔۔۔۔ ہیں کب سے بجا بجا کے ہلکان ہو گیا ہوں
اظفر تو اس پر چڑھ دوڑا ایک تو اس نے روم الگ کروا لیا تھا اوپر سے اب اندر گھسنے بھی نہیں دیتا ۔۔۔۔۔
تو آیا کیوں ہے یہاں ۔۔۔؟؟؟
برہان نے اسے جلدی فارغ کرنے کی کوشش کی
کھانا بنا نے آیا ہوں۔۔۔۔!!!
یار ہٹو۔۔۔۔۔۔برہان کو سامنے سے دھکا دیتے ہوئے اندر گھسا اور باتھروم کی طرف بڑھنے لگا
اے۔اے۔۔۔۔۔۔ رک رک ۔۔۔۔۔ کہاں جججا۔۔۔۔۔ جارہا ہے تو ۔۔۔۔۔۔
برہان تو اسے باتھروم جاتے دیکھ کر تو بوکھلا ہی گیا اس لئے باتھروم کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کر گردن تان کر کھڑا ہوگیا
اظفر جو نہانے کے لئے آیا تھا جاتے جاتے ہی اپنی شرٹ اتار چکا تھا
اب سامنے دیوار بنے برہان کو دیکھ کر اسے غصہ ہی چڑھ گیا
کیا ہوگیا ہے تجھے برہان ۔۔۔۔۔ مسئلہ کیا ہے تیرے ساتھ آخر ۔۔۔۔۔ میرے باتھروم کا شاور خراب ہوگیا ہے اس لئے تیرے باتھروم میں نہانے آیا ہوں۔۔۔ ہٹ اب جانے دے مجھے۔۔۔۔
نن۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ آاا۔۔۔۔۔ ارے میرا یار اتنے دنوں بعد آیا ہے میرے روم میں تو کیوں نہ کچھ پرانی یادیں دہرائیں جائیں۔۔۔۔
اظفر کو بیڈ کی طرف کے جاتے ہوئے برہان نے پیار سے بولا
جبکہ اظفر نے تو مانو چھکے ہی چھوٹ گئے تھے
برہان کون سی یادیں بول رہا ہے اور۔۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔یہ۔۔۔یہ۔۔۔۔۔
یہ کس چڑیل کی چمیاں لیتا رہا ہے تو برہان۔۔۔
کہیں تیرے اوپر کسی چڑیل وڑیل کا تو نہیں سایہ ہوگیا
اور ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ تو مجھ۔۔۔۔۔ مجھے کیوںںں۔۔۔۔ بیڈ پہ لے جا رہا ہے کہیں تجھے مجھ میں چڑیل تو نظر نہیں آرہی
اظفر کا بولنا تھا کہ برہان جو اپنے اوپر. لیک رنگ کے بنے ہونٹ دیکھ کر بخوبی سمجھ چکا تھا کہ یہ ضرور رباب میڈم کا ہی کام ہے۔۔۔
اظفر کو یہاں سے رفو چکر کرنے کا آئیڈیا سوجھا تھا پھر بعد میں اس چڑیل سے نپٹنے کا ارادہ رکھ دیا۔۔۔۔
ہائے اظفر تم آج کتنے ہینڈسم لگ رہے ہو۔۔۔۔
اسکے منہ پر پیار سے تھپکی دی۔۔۔۔
اور کتنے کیوٹ بھی ہو تم ۔۔۔۔
اب اسکا گال کھینچا گیا تھا
بر۔۔۔۔۔ برہان قسم سے یار تو نہ وہ والی فلم کا کریکٹر لگ رہا ہے مجھے۔۔۔۔۔
اظفر ہکلاتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کے اسے دور ہٹتے ہوئے کہا جو اسی کی طرف بڑھ رہا تھا
کون سی فلم کا کریکٹر۔۔۔۔؟؟؟
ممم۔۔۔۔ ماں کا لاڈلا بگڑ گیا۔۔۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی اظفر نو دو گیا رہ ہو گیا
جبکہ پیچھے کھڑا برہان افسوس سے سر ہلانے لگا ۔۔۔۔
چل بھئی برہان اب ایک اور تمخہ مل گیا تجھے۔۔
جلتی پر تیل کا کام اس پر رباب کے قہقہے نے کیا جو جاتے ہوئے اسے ہی دیکھ کر لگا رہی تھی
نور شیشے کی دیوار کے سامنے کھڑی بڑی سی مچھلی کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی کہ اسے سالار نے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا گیلے نم بال اسکے کندھے کو بھگو رہے تھے نور سر جھکائے اسے محسوس کر رہی تھی نہ جانے سالار نے اس پر ایسا کیا جادو پھونکا تھا کہ وہ اسے روک بھی نہ پائی تھی۔۔۔
تم جانتی ہو عین مجھے تم سے محبت کب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
جب تم پانچ سال کی تھی تب سے ۔۔۔۔ تب سے تم نے مجھے قید کر لیا تھا
میں اس دن کسی سے کر آیا تھا کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ کوئی مجھے پیار نہیں ۔۔۔۔۔ نہیں کرے۔۔۔۔گا۔۔۔۔۔۔ میرا خیال نہیں رکھے گا۔۔۔۔۔۔
میرے موم ڈیڈ کی طرح مجھے ہمیشہ کے لئے سب اکیلا چھوڑ دیں گے ۔۔۔۔۔۔ میں ساری زندگی محبت کے لئے ترسوں گا ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ اور سسک سسک کر یونہی مر جاؤں گا
لیکن دیکھو تم ۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔۔ آئی میرے پاس ۔۔۔۔۔ مجھے سہارہ دینے ۔۔۔۔۔ مجھے خوشیاں دینے۔۔۔۔میرے جینے کی وجہ بن کر ۔۔۔۔۔۔
سالار نم آواز میں اسے اپنے دل کی تمام روداد سنا رہا تھا جو اس نے کئی سالوں سے اپنے دل میں دبا کر رکھی تھی
اب وہ دونوں صوفہ پر آگئے تھے اور سالار نے اپنا سر اسکی گود میں رکھ دیا تھا اور اسکے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھے پھر سے بولنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔
میں اس وقت میٹرک میں تھا جب میری لڑائی کچھ لڑکوں سے ہوئی تھی
گھر واپس آکر میں باغ کے پچھلی سائڈ والی جگہ پر چلا جاتا تھا جہاں میں جی بھر کر روتا تھا۔۔۔۔ یہ بات کسی کو بھی آج تک نہیں پتہ چلی عین۔۔۔۔۔ لیکن میں آج صرف تمہیں بتا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
اس دن بھی میں رونے کے لئے ہی گیا تھا وہاں
مگر شائد خدا کو مجھ پر ترس آہی گیا تھا اسی لئے تمہاری صورت مجھے اللہ نے ایک پیاری سی ہری پری دے دی تھی
ہری پری کہنے پر نور کے لب مسکرائے
تم نہ جانے کہاں سے رینگتے رینگتے وہاں آگئی تھی اور آتے ہی مجھے دیکھ کر اونچا اونچا ہنسنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔ ہاہا۔۔۔۔۔
سالار بتاتے ہوئے ہنس پڑا
سچ میں آج بھی جب وہ سب یاد کرتا ہوں نہ تو تمہاری شکل سوچ کر بہت ہنسی آتی ہے
کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نور نے بے ساختہ پوچھا
وہ اس لئے جنم کیونکہ تمہارے دو اوپری دانت کے علاوہ اور کوئ بھی دانت نہیں تھا
تم ہنستے ہوئے بہت عجیب سی لگی تھی مجھے
حالانکہ تم سب کو کیوٹ لگتی تھی پر پتہ نہیں مجھے کیوں عجیب سی لگتی تھی پر اچھی والی عجیب لگتی تھی مجھے۔۔۔
اسکی بات پر نور نے منہ پھلالیا مگر سالار اپنی ہی رو میں بولے جارہا تھا
تم سیدھا میری طرف آئی تھی اور آتے ہی میری گود میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
نور کے شرم سے لال ہوئے
ہائے نور کتنی بے شرم تھی تم بچپن میں کسی بھی لڑکے کے گود میں
جاکر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔
پھر تم ٹکر ٹکر مجھے گھورنے لگی ۔۔۔۔ لیکن میں تمہیں حیرانی سے دیکھ رہا تھا کہ کوئی بھی بچہ جس کے پاس نہیں آتا تھا اس کے پاس تم کیسے آگئی۔۔
ابھی میں اسی حیرانگی میں تھا کہ تم نے میرے چہرے پر اپنے ہاتھ مارنے شروع کردئیے اور مارتے ہوئے تم مسلسل کھلکھلا رہی تھی
نور دلچسپی سے اسکی بات سن رہی تھی کہ اسے یہ سب سننا بہت اچھا لگ رہا تھا
مجھے بہت سکون ملا تھا نور تمہارے ایسا کرنے سے کیونکہ جسکے گالوں پہ ہمیشہ سختی کی مار پڑی ہو اگر وہاں معصومیت بھرے نرم نازک ہاتھ خوشی سے تھپتھپا رہے ہوں تو تو وہ تھپتھپاہٹ زخموں پہ مرہم محسوس ہوتی ہے
تم مجھے دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھی
مجھے تمہاری مسکراہٹ بہت اچھی لگ رہی تھی مجھے اس سے سکون مل رہا تھا
پھر اسی پل تم نے ہی میرے تمام سوالوں کے جواب دے کر مجھے اک نئی زندگی سے روشناس کروایا تھا عین۔۔۔۔۔۔
کون سے سوالوں کے جوابات۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
نور نے تیزی سے پوچھا تھا
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
