54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

سالار نور کے چہرے کو دیوانہ وار دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔
نور کا چہرہ لال سرخ ہوگیا تھا اس کا دل کر رہا تھا کوئی مچھلی آئے اور آکر اسے سالار کی مضبوط حصار سے چھڑا دے کیونکہ اسکے حصار میں نور کو اپنی سانسیں تھمتی ہوئیں محسوس ہو رہی تھیں
سالار نے اپنا ماتھا نور کے ماتھے سے ٹکرا کر ضرب لگائی۔۔
نور کانپنے لگ پڑی ۔۔۔۔۔
پھر سالار نے اپنا چہرہ اسکے چہرے سے مس کرتے ہوئے گردن میں چھپا لیا ۔۔۔۔
نور کے وجود سے خوشبوؤں کی پھواریں پھوٹ رہیں تھیں۔۔۔ ابٹن،گلاب کا عرق اور مختلف پھولوں کی ملی جلی خوشبو اسکے نتھنوں کے زریعے اسکے اندر تک سرائیت کر رہی تھی اور اسے مدہوش کر رہی تھی.۔۔۔
سالار جو اسے اپنے پر بیتے ہر ایک ظلم کے ہر ایک پل اور ہر ایک لمحے کی داستان سنانا چاہتا تھا اسے اپنے ساتھ اپنے پاس دیکھ کر جیسے سب کچھ بھلا بیٹھا تھا۔۔۔ یاد تھا تو بس اتنا کہ اس کی عین اسکے پاس ہے اسکے قریب ۔۔۔۔ بے انتہا قریب ۔۔۔۔۔۔
سالار کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کی سخت گرفت کسی نازک جان کو تکلیف پہنچا رہی ہے وہ تو بس عین کو سختی سے اپنے اندر بھینچ لینا چاہتا تھا کہ کوئی بھی اسکی عین کو اس سے چھین نہ لے ۔۔۔۔نہ جانے کیسا ڈر تھا جو سالار کے دل کو دہلائے دے رہا تھا۔۔۔۔ کسی پل سکون نہیں تھا اسے ۔۔۔۔ جتنا وہ اسے سختی سے اپنی آغوش میں چھپا نے کی کوشش کرتا اسے اتنا ہی عین اپنے سے دور جاتی محسوس ہوتی۔۔۔۔۔
جب سے میزی نے وہ سب کیا تھا تب سے سالار کو ایک عجیب سی گھٹن نے گھیر رکھا تھا
سالار عین کی خوشبو میں ہی الجھا ہوا تھا کہ اسے عین کی سسکی سنائی دی ۔۔۔۔
عی۔۔۔۔۔ عین۔۔۔۔ کیا ہوا میری عین کو۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سالار بے قراری سے اسکا چہرہ تھامے اس سے بے چینی بھری آواز میں پوچھ رہا تھا۔۔۔اور ساتھ ہی اسکے چہرے پر بے تحاشہ بوسے دینے لگا ۔۔
نور جو سسک رہی تھی سالار کے اس طرح دیوانہ وار رد عمل پر بت بنی اسے بھیگی پلکوں سے دیکھنے لگی جو ابھی تک اپنے اسی فعل میں مصروف تھا ۔۔۔۔
نور نے بے ساختہ اسکے لبوں پر ہاتھ رکھا
سالار ایک دم رک گیا اور پھر ایک نظر عین کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر نظروں کا رخ عین کی طرف کیا جو سبز بھیگی بھیگی آنکھوں سے اسی ہی دیکھ رہی تھی
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔نور نے ہلکی آواز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا
سالار نے اپنے کان پکڑ لئے ۔۔۔۔۔
اور پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
نور یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئ اور ہڑبڑاتے ہوئے وہ دو قدم پیچھے ہٹی ۔۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔۔ یہ ۔۔۔ کیا کر رہے ہیں آپ اٹھیں۔۔۔۔۔
سالار جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکے بوکھلا نے پر محظوظ ہوتا واپس سے کھڑا ہوگیا اور مسکراتے ہوئے اسکے پاس آیا اور جھک کر اسکے کان میں گھمبیر سرگوشی کی ۔۔۔۔۔
اچھا تو پھر کیا پہلے والا ٹھیک تھا۔۔۔۔۔؟؟
شرارت سے کہا گیا معنی خیز جملہ نور کا دل دھڑکا گیا
کیا ضرورت تھی کچھ کہنے کی ۔۔۔ اچھا بھلا۔۔۔
افففف۔۔ نور۔۔۔
نور خود سے ہی دل میں ڈانٹ لگا رہی تھی کہ اسے سالار پھر سے اپنی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔
نور ایک دم سے اچھل کر دور ہٹی اور جلدی جلدی کوئی بہانہ سوچنے لگی
وہ ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔۔۔ آں۔۔۔
ہاں مجھے واشروم جانا ہے۔۔۔
پرانا بہانہ پھر سے آزمایا گیا
اچھھھھااا۔۔۔۔۔۔۔۔
تو۔۔۔۔۔۔ واشروم جانا ہے تمہیں۔۔۔۔۔
آنکھوں میں شرارت بھر کے اسکی طرف قدم بڑھانے لگا اور نور وہ گھبراتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگی
سالار اسکے اس طرح گھبرا نے شرمانے پر محظوظ ہوتا اپنی جان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا
ہہ۔۔۔۔ ہا۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ ممم۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔ مجھ
ٹھیک ہے سمجھ آگیا تم نے مجھے کہا ہے یعنی کہ تم ۔۔۔۔۔۔ اب اس کے آگے بڑھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار آج عین کو تنگ کرنے کے فل موڈ میں تھا اسی لئے شرارت سے اچانک سنجیدہ چہرہ بناتے ہوئے اسکی طرف بڑھتے اسکی بات کاٹ کر بولا جس سے نور اور بھی زیادہ گھبرا گئی اور پیچھے ہوتے ہوتے وہ دیوار سے ٹکرائی۔۔۔۔۔
ہائے اس دیوار کو بھی ابھی آنا تھا تھوڑی دیر بعد نہیں آسکتی تھی
نور جھنجھلا تے ہوئے دل ہی دل میں دیوار کو کوس رہی تھی کہ جیسے سارا قصور اسکا ہو
(نور کی تو منطق ہی نرالی تھی)
سالار مسکراتا ہوا اسکی طرف جھکا
نور نے پھر سے اپنی آنکھیں بند کر لیں
سالار نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پہ نظر جمائے ہاتھ اسکے دائیں طرف سے لے جاتے ہوئے دروازہ کھول دیا
جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نے کلک کی اور پھر سالار کے بولنے پر آنکھیں کھولیں تو نا سمجھی سے کبھی دروازے کو تو کبھی سالار کو دیکھتی۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔؟؟؟ تمہیں واشروم جانا تھا نہ تو جاؤ یہ واشروم ہی ہے میرے خیال سے ۔۔۔۔اگر اندر جاکر واشروم نہ نکلا تو کوئی بات نہیں تمہارے لئے آرڈر کردوگا۔۔۔۔ ہممممم۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔
نور جلدی سے جواب دیتی اندر گھس گئی اور ڈور بند کردیا
سالار جو اسکا اسی کے بیوقوفانہ انداز میں کہتے اسے چھیڑ رہا تھا اسکے آگے سے تپنے کی بجائے ہامی بھرتے ہوئے دیکھ کر ہونق بنا اسے واشروم جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا اسکے اندر بند ہونے کے بعد بے ساختہ قہقہ لگانے لگا۔۔۔۔
سالار شجاعت جو اپنی ہی زات میں گم رہتا تھا جسے صرف سنجیدگی اور غصے کے علاوہ کچھ ہوش نہ رہتا تھا آج اپنی عین کی وجہ سے کھل کر ہنس رہا تھا قہقہے لگا رہا تھا۔۔۔۔
او مائے گاڈ ۔۔۔۔۔۔ او میری بے وقوف حسینہ۔۔۔۔۔
ہاہا۔۔۔
سالار ہنستہ ہوا جا کر صوفہ پر بیٹھ گیا اور کوٹ اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور بیٹھ کر عین کا انتظار کر نے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔


نور واشروم میں کھڑی آگے کا سوچ رہی تھی کہ اب کیا کرے کیونکہ سالار کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے شک تو اسے پہلے ہی ہوگیا تھا اور اب تو یقین میں بدل چکا تھا۔۔۔۔
کیا کروں ۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔ کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اففف۔۔۔۔جلدی کچھ سوچو نور ۔۔۔۔۔۔ہممممممم
ہاں میں کہہ دوگی مجھے بہہہہت سخت والی نیند آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم پرجوش لہجے میں اس نے خود سے کہا
امم۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ نور پاگل ہو کیا۔۔۔۔۔۔
آجکل تو بچہ بھی اچھے سے اچھا بہانہ بنا لیتا ہے
اب کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔
نور ڈریس چینج کر چکی تھی جب وہ واشروم آئی تھی تو وائٹ کلر کی نائیٹی پہلے سے ہی ہینگ کی ہوئی تھی ۔۔۔۔ نور اس ڈریس میں بہت تنگ ہو رہی تھی اوپر سے اتنی اس کی لینتھ تھی کہ بمشکل ہی گرنے سے بچی ہوئی تھی
سب سے پہلے نور نے ہیل اتار دور پھینکی
ہائے اللہ جی میرے پاؤں ۔۔۔۔۔۔توبہ اس ہیل نے تو میرے پاؤں ہی دکھا کے رکھ دیے
پھر نور نے اچھی طرح سے نائیٹی کا دونوں طرف سے معائنہ کیا ۔۔۔۔۔ جب نائیٹی پہننے لائق لگی تو سکون سے پہن لی نہیں تو اسے لگ رہا تھا کہ کہیں پیرس کے ٹائپ والی نہ نکل آئے (بیہودہ)……افف توبہ۔۔۔۔۔۔
پہن تو لی تھی پر پھر بھی سالار کے سامنے جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی
اففف۔۔۔۔۔ نور۔۔۔۔۔ اففف۔۔۔۔۔۔
ایک بھی ڈھنگ کا بہانہ نہیں ڈھونڈ پارہی تم
اب جیسے تم بچوں والے بہانے سوچ رہی ہونا ایسے تو وہ ٹام کروز تمہیں منٹوں میں پکڑ لے گا ۔۔۔۔۔ ہے بھی کتا چالاک اور ہوشیار ۔۔۔۔۔ برہان کے فیبیولیس بہانے کام نہیں آئے اس کے تو میرے تو پھر بھی گھسے پٹے ہیں ۔۔۔۔۔
ہائے میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔
نور روہانسی آواز میں اپنے آپ سے آہستہ سے باتیں کرنے میں مگن تھی۔۔۔۔۔۔
کچھ مت کرو ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔۔!!!
نہ جانے سالار کب وہاں آیا اور اسکی ساری باتیں بھی اپنے کانوں سے ملاحظہ کر لیں اور اب پیچھے سے اس کے گرد اپنا حصار قائم کے اسکے کان میں سرگوشی کر رہا تھا
نور تو اس کی یہاں موجودگی پر ہی بوکھلا گئی۔۔۔۔
آ۔۔۔۔۔ اااااااا۔۔۔۔۔۔ پ۔۔۔۔۔۔۔ اندر۔۔۔۔۔ کککیسے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اتنی دیر لگا دی تم نے واپسی میں جنم کہ مجھے لگا کہ کہیں تم بےہوش وے ہوش تو نہیں ہو گئ ۔۔۔۔ اسی لئے ناک کرنے ہی والا تھا تم اپنے آپ سے ہی کچھ بڑبڑا رہی تھی بس پھر دوسری سائڈ سے اسکے دوسرے ڈور سے اندر آگیا اور تمہاری ساری باتیں سن لیں ۔۔۔۔۔ صرف باتیں ہی سنی ہیں میں نے اچھا ۔۔۔۔۔۔
سالار نے سنی پر زور دیتے ہوئے کہا تو نور کو تسلی ہوئی مگر ساتھ ہی ساتھ خود کو کوس بھی رہی تھی کہ جسے وہ شاور سیکشن سمجھ رہی تھی وہ تو اندر آنے کا دوسرا راستہ تھا
اب کیا ساری رات یہں گزارنی ہے میری جنم نے۔۔
سالار نے اس کے لمبے کھلے بالوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا تو نور جھٹ سے اس سے الگ ہوئی کیونکہ اس بار گرفت سالار نے ہلکی رکھی تھی
پھر باہر نکلتے ہوئے تیزی سے بولی
ہاں چلئے نہ ویسے بھی یہاں کتنی گھٹن ہے ۔۔۔
واہ بھئی پہلے نہیں تھی گھٹن ۔۔۔ میرے آنے سے ہی گھٹن بھی آگئی۔۔۔۔۔
سالار نے بھی اسے دوبدو جواب دیا
نور نے اسے ان سنا کر دیا
نور پھر سے جاکر شیشے کی دیوار سے باہر فش دیکھنے لگ پڑی کہ جیسے اس سے زیادہ ضروری تو کچھ ہے ہی نہیں. اس دنیا میں۔۔۔۔
سالار نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف پیش قدمی کی اور اسکا رخ ایک جھٹکے سے اپنی طرف موڑ کر دیوار سے لگادیا اور دونوں طرف ہاتھ رکھ کر تمام فرار کی راہیں بند کر دیں
بس بہت ہوگیا جنم۔۔۔۔۔یہ گریز ۔۔۔
یہ فرار اب اور نہیں۔۔۔۔۔۔۔
سالار گھمبیر بھاری آواز میں اس سے بولا
نور کے تو پسینے چھوٹ گئے ۔۔۔۔ پورا جسم کانپنے لگ پڑا ۔۔۔۔۔
سالار اسکی دھڑکنوں کو بخوبی محسوس کر رہا تھا
اسکے طرف جھکتے ہوئے سالار نے خمار زدہ آواز میں سرگوشیاں کرنے لگا
اسکے لب گانے کے طرز پر تھرکنے لگے
I wrote your name in the sky,
But the wind blew it away.
I wrote your name in the sand,
But the waves washed it away.
I wrote your name in my Heart,
…….And forever it will stay…..
I’d like to run away,
From you,
But if you didn’t come
And find me…
I would die.
The happiest day of my life
Was the day that I met you
Always loving and understanding
With a heart of gold too
You’d always show how much you care
With the loving things you do
From a tender kiss to a warm
Embrace and whisper
“……I LOVE YOU……”
We’ve had a lot of happy times
And also have some tears
But our love for each other
Still remained strong,
Throughout the years
All good things have to
come to an end it’s sad I know
But true though in my Heart
I know that I will always loves you
And your heart of gold
My thoughts , my dreams
I never thought they would come true
Days went by..
And I was still dreaming of you.
The feeling I get it cant be defined
When I look into your eyes,and you look into mine
I ache it night cause I’m not with you
I wish so much that I could kiss you…
Your eyes…..
Your heart…..
Your touch….
Aen salar you mean so much.
Your on my mind 24/7
When I’m with you I feel like I’m in heaven
.
I’ve made mistakes in the past
Things the same, never seems to last
I’m sorry for all that I’ve done to you
But no matter what, I will always
…….LOVE YOU…….
سالار کے ہاتھ اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو شدت سے محسوس کر رہے تھے
نور مکمل طور پر سالار کے سہارے کھڑی تھی کہ اب اسکی ٹانگوں میں اتنی طاقت ہی نہیں محسوس ہو رہی تھی کہ وہ اپنا بھی بوجھ اٹھا سکیں
سالار نے خمار آلودہ نگاہوں سے اسے دیکھا
لرزتی ہوئی بند پلکیں، کانپتے ہوئے انگوری لب جن پر سرخ رنگ چڑھا کر اور بھی دلکش بنا دیا تھا
سرخ اناری چہرہ اور لرزتا ہوا وجود سالار کے ضبط کو توڑ رہا تھا
اور پھر ضبط نے دغا دے دی سالار اسے ایک ہی جست میں اٹھائے روم کی جانب بڑھ گیا اور پھر اپنی بےقراریوں بے چینیوں اور شدتوں کے ثبوت اس پر نچھاور کرنے لگا
کہیں دور وقت انکے لئےخوش و شادماں تھا مگر قسمت کی آنکھوں میں نمی چمک رہی تھی نہ جانے انکی قسمت میں آگے کیا لکھا تھا جس سے انجان یہ ایک دوسرے میں گم ہوچکے تھے


نور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نور ۔۔۔۔۔؟؟……. نور بیٹا کہاں جارہے ہو۔۔۔۔۔ ؟؟؟
رک جاؤ ۔۔ بیٹا رک جاؤ ۔۔۔۔۔ نور۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
مت تھکاؤ اپنے دادا جان کو اور نور ۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔
ہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ اور نہیں ۔۔۔۔۔ بھاگ سکتا
واپس آجاؤ نور۔۔۔۔ مجھ میں اور طاقت نہیں رہی کہ تمہیں ۔۔۔۔۔ آجاؤ واپس نور ۔۔۔۔
دادا جان تیز تیز چلنے کی وجہ سے ہانپ رہے تھے نور بچپن کی طرح اپنے دادا جان کو اپنے پیچھے دوڑا رہی تھی ۔۔۔۔۔
نور۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نور کہاں گئی۔۔۔۔؟…….. ابھی تو یہی تھی ۔۔۔۔
نور ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دادا جان آگے بڑھ رہے تھے انہیں کسی کے سسکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔
کون ۔۔۔۔۔۔۔ کون رو رہا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مڑ کر دیکھا تو اپنے پیچھے بیٹھے گھٹنوں میں منہ چھپائے روتے ہوئے سالار کو پایا
سس۔۔ سالار ۔۔۔ سالار بیٹا۔۔۔۔ تم کیو۔۔۔
چلی۔۔۔۔۔۔۔ گئی۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔ہمیشہ۔۔۔۔۔۔ کے۔۔۔۔۔۔لئے ۔۔۔۔۔۔۔
سسکتے ہوئے بہت مشکل سے بول پایا تھا وہ
چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آااااااا۔۔۔۔۔
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی آنکھ کھلی تو وہ پسینے سے بھیک چکے تھے
اللہ رحم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رحم کرنا میرے مولا ۔۔۔۔۔۔۔
میرے بچے کی زندگی نے ابھی ہی تو خوشیوں کا منہ دیکھا ہے اب اور اسے کوئی غم نہ دینا ۔۔۔۔۔ کوئی غم نہ دینا۔۔۔۔۔۔
دادا جان اللہ کے حضور سجدے میں سر جھکائے بلکتے ہوئے اپنے سالار کے لئے دعا گو تھے
لیکن اس بات سے بے خبر کہ ایک بہت بڑی آزمائش انکی منتظر کھڑی تھی
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔