54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

سالار کسی کام سے آفس گیا تھا جس وجہ سے نور نیچے ینگ پارٹی کے پاس گپیں ہانک رہی تھی
اس وقت مین موضوع یونی کی طرف سے جانے والا مری کا ٹرپ
تھا
تم لوگوں کے ایگزیمز ہونے والے ہیں اور تم لوگ ٹرپ پر جا رہے ہو
نور کا مری کا نام سن کر منہ میں پانی آرہا تھا ان کو جیسے یاد دلایا تھا کہ ان کے ایگزیمز ہونے والے ہیں
ارے نہیں وہ سر کہہ رہے تھے کہ ایگزیمز سے پہلے مائینڈ فریش ہوجائے گا تو بچے فریش دماغ سے پڑھ سکیں گے
ہاں پہلے تو جیسے باسی دماغ سے پڑھتے ہیں نہ۔۔۔۔۔
اظفر کے پیٹ میں بھی مڑوڑ اٹھ رہے تھے کیونکہ اسکے والدین اسے ہرگز ایسی جگہ نہ جانے دیتے کہ جہاں پہاڑیاں ہوں اور گرنے کا خطرہ ہو ۔۔۔۔
بقول برہان کے اگر تم کہیں گر گرا گئے تو تمہارا تو صرف دانت اور بال ہی ملیں گے کیونکہ تمہارے اندر تو گوشت ہی گوشت ہے
ہڈیاں تو نظر ہی نہیں آتیں۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔۔ کہیں تم لوگ اس لئے تو نہیں پھلا پکوڑا بنے ہوئے کہ ہم جا رہے ہیں اور تم لوگ نہیں۔۔۔۔۔۔
رباب نے جیسے کھوج لگائی
جبکہ اظفر اور نور کا منہ لٹک گیا
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے یار دکھی مت ہو۔۔۔ کیونکہ یونی نے ما بدولت
یعنی رباب اکبر مرزا کی شان میں یہ اعلان کیا ہے کہ اگر ہم باہر سے کسی کو لے جانا چاہیں تو لے جا سکتے ہیں
رباب نے شان بےنیازی سے ان کو اطلاع پہنچائی۔۔۔۔
واؤ سچ میں۔۔۔۔۔ نور بچوں جیسے خوشی میں اچھل ہی پڑی لیکن اظفر تو اور ہی دکھی ہوگیا کہ اب اکیلے ہی غم منانا پڑے گا وہ پیر پٹختے ہوئے چپس اور کوک کی بوتل اٹھا کر منہ بنا کر نکل گیا
رباب نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں جب اس نے نور کی طرف دیکھا تو وہ پریشانی سے اپنی انگلیاں منہ میں رکھ کے چبا رہی تھی
ای۔۔۔۔۔۔۔ یو۔۔۔۔۔۔ گندی۔۔۔۔۔ ہٹاؤ ۔۔ رباب نے اسکی انگلیاں اسکے منہ سے نکالیں رباب اسکی اس عادت سے بہت نالاں رہتی تھی
مگر نور کو اتنی عادت ہوگئی تھی کہ اسے خود پتہ نہ چلتا کہ کب اس کی ننھی معصوم انگلیاں اسکے منہ میں جاکر اپنی قابل رحم حالت پر دہائیاں دے رہی ہیں۔۔
سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔. نور منمنائی
چھوڑو تم یہ بتاؤ کہ اچانک تمہارے فیس پر ہیپی ایکسپریشن
ڈپریسڈ ایکسپریشن کیسے بن گئے
رباب میں نے تمہیں بتایا تو ہے سالار کے بارے میں پھر بھی تم۔۔۔
نور نے منہ بسورا۔۔
اس نے رباب کو ہر بات بتائی تھی سوائے کچھ کچھ باتوں کے جو وہ کبھی نہ بتاتی۔۔
تم ایویں ہی ٹینشن لے رہی ہو یار دیکھو اب تک کا دیکھا جائے تو
مجھے پکا یقین ہے کہ سالار بھائ تم سے بے حساب۔۔۔۔ بے حد عشق محبت پیار ویار سب کچھ ملا کر کرتے ہیں اور وہ بھی اسی وجہ سے روک ٹوک کرتے ہوں گے
نور نے رباب سے شوخی سے کہا
لیکن اب کیا کروں مجھے پکا یقین ہے کہ وہ مجھے کبھی نہیں جانے دیں گے نور سالار کی آنکھوں کی وحشت کو سوچتے ہوئے جھر جھری لے کر کہا
ارے تم پر واہ بھی مت کرو میں ہوں نہ دی گریٹ رباب اکبر مرزا
میں تمہیں ایسا ٹرین کرو گی کہ سالار بھائ تو کیا اوباما بھی تمہیں لے جائیں گے ادھر لاؤ اپنا پیارا سا کان۔۔۔۔۔۔
رباب تقریبا اسکے کان میں گھس کر اپنا پلین بتا رہی تھی جسے سن کر نور لال و لال ہوگئی تھی پھر اسے دھکا مارا جو اسے اور مشورے سے نواز رہی تھی
استغفار رباب بے شرم لڑکی میں ایسا بلکل بھی نہیں کروں گی
توبہ توبہ نور نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا یا
رباب نے اپنا سر ہی پیٹ لیا اسے اس شرم کی پوٹلی سے کچھ ایسی ہی امید تھی اچھا لاؤ کان دوبارہ اب کی بار نئے سینسر مشورے سے نوازوں گی یہ کہہ کر رباب پھر سے اسکے کان میں گھس گئی
جب پیچھے ہٹی تو نور اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی
اب بس اور کچھ مت بولنا۔۔۔ نور نے اسے کڑے تیوروں سے کہا
اب کی بار تو میں نے سینسر کرکے مشورہ دیا ہے اتنا تو سینسر بورڈ والے بھی نہیں کرتے۔۔۔۔۔
رباب کو تو غصہ ہی چڑھ گیا اب ایسا بھی کیا کہہ دیا میں نے سالار بھائ شوہر ہی تو ہیں اسکے اتنا بھی کیا شرمانا۔۔۔ ہونہہ۔۔۔!
اگر تمہیں مری جانا ہے تو اتنا تو کرنا ہی ہوگا ورنہ بھول جاؤ سب۔۔۔۔۔رباب نے اسے تھوڑا ڈانٹا کہ اسکے بغیر اسکا گزارا جو نہیں ہوتا تھا
اچھ۔۔۔۔۔۔۔اچھا ٹھیک ہے اگر انہوں نے غصہ کیا نہ تو میں تمہارا نام لے دوں گی۔۔۔۔ یاد رکھنا ۔۔ یہ کہہ کر نور اوپر کی طرف چل دی۔۔۔۔
جبکہ رباب نے بے ساختہ سانپ کو اپنے گلے پہ محسوس کیا
اور پھر جھٹ سے سر پر دوپٹہ اوڑھ کر دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے اور ہوگئی شروع اپنی پلین کی کامیابی کے لئے
ورنہ تو نتیجہ میں اسے ہی رگڑا ملنا تھا۔۔۔۔۔۔


سالار جیسے ہی اپنے پورشن میں داخل ہوا تو سامنے نور کو اپنی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے پایا پہلے تو وہ حیران ہوا غور سے دیکھنے پر پتہ چلا کہ بمشکل ہی ہونٹوں کو کھینچ کر پھیلا کر مسکان کی شکل دی گئی ہے
(جیسے ہی سالار بھائی آئیں تم ہنستے ہوئے انکا پرجوش استقبال کرنا)
آپ آگئے سس۔۔۔۔۔۔ سالار۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پہلے تو نور تھوڑا سا لڑکھڑائی مگر پھر مری کو زہن میں رکھتے ہوئے ہمت پھر سے باندھ لی ۔۔۔۔ اسے ڈر بھی بہت لگ رہا تھا مگر ہائے رے مری کی برف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئیں نہ آئیں اسکے بازو سے کوٹ کو دو انگلیوں سے پکڑ کر اندر کی طرف کھینچا۔۔۔۔۔
سالار تو حیرت سے اسکے انداز ہی دیکھے جا رہا تھا
(انکے بازو میں اپنا بازو ڈال کر پیار سے انہیں اندر لانا)
بیٹھیں نہ تھک گئے ہوں گے نہ اتنا کام جو کرتے ہیں صبح جلدی جلدی اٹھنا پھر آفس جانا وہاں جاکر اتنا ڈھیر سارا کام کرنا۔۔۔۔
ایسے ہی اسے کھینچتے ہوئے لاؤنج میں لائی اور پٹر پٹر شروع ہو گئ
ٹشو سے اسکا نادیدہ پسینہ ایسے صاف کر رہی تھی جیسے برتن مانجھ رہی ہو۔۔۔۔۔
بوکھلاہٹ میں وہ اسکے اتنا قریب کھڑی تھی کہ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ سالار کے دبائے ہوئے جزباتوں کو زور زور سے ہوا دے رہی ہے
(اپنے دوپٹے سے آہستہ آہستہ انکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑ کر دیکھتے ہوئے پسینہ صاف کرنا چاہے ہو یا نہ ہو)
نور سالار کے کندھے سے تھوڑا نیچے تک آتی تھی اسی لئے ایڑھیوں کے بل اونچا ہو کر اسکا نا معلوم پسینہ خشک کر رہی تھی
سالار نے اپنی آنکھیں اسکے حسین سراپے پہ ٹکائی ہوئیں تھیں وہ مدہوش سا اسے دیکھ رہا تھا
نور اس وقت ہلکے لائیٹ ییلو کلر کے پرنٹڈ مہنگے کاٹن کے سوٹ میں اور ساتھ ہی میچنگ لائیٹ ہی ییلو حجاب کیے ٹھنڈا تاثر دیتی سیدھا اسکے دل میں ٹھنڈک اتار رہی تھی
اوپر سے گرمی بھی کتنی ہے نہ دیکھیں نہ کتنا پسینہ آرہا ہے آپکو۔۔۔۔۔۔ سر بھی درد کر رہا ہوگا ۔۔۔۔ میں آپکو ٹیبلیٹ دوں چائے کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ ویسے جوس بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ابھی نور کچھ بولتی ہی کہ سالار نے اسکی کمر میں ہاتھ رکھ کر اپنے ساتھ لگا کر اوپر اٹھا لیا جس سے نور کا چہرہ اسکے بلکل سامنے آگیا۔۔۔۔
نور کی تو بولتی ہی بند ہو گئی بے چارہ سا منہ بنا کر سالار کو دیکھنے لگی
سالار اسکی دل کی دھڑکنوں کو محسوس کر رہا تھا جو بہت تیز دوڑ رہی تھیں اپنے ایک بازو سے اسکی کمر کو جکڑے دوسرے ہاتھ سے اپنی شہادت کی انگلی اسکے چہرے پہ پھیرنے لگا
تو کیا کہہ رہی تھی تم ۔۔۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔
اسکی گھمبیر آواز نور کے کانوں میں پڑی تو نور بری طرح لرز اٹھی چاہ کر بھی وہ کچھ بول نہ پائی
اپنے لبوں کے کونوں کو نیچے لٹکا کر رونے کی پوری پوری تیاری کر لی گئی تھی
سالار نے جب اس کو ایسے دیکھا تو وارن کرنا ضروری سمجھا
خبردار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
اگر تم نے ایک قطرہ بھی میرے موتی کا بہایا تو میں وہ ضرور کر دوں گا جسے سوچ کر تم نے یہ تیاری پکڑی ہے
سخت لہجے میں انگلی اٹھا کر تنبیہ کی۔۔۔۔
نور نے فورا اپنے آنسو روک کر اپنا سر زور زور سے ہلایا مبادہ وہ جو کہہ رہا ہے کر ہی نہ لے ۔۔۔۔۔
گڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے معصوم انداز پر سالار نے مسکراتے ہوئے کہا
اب یہ بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔ اس سب کی وجہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سالار نے اسکے گال کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے اسکی اوٹ پٹانگ حرکتوں کے بارے میں جاننا چاہا
وہ رباب اور برہان بھائی مری جا رہے ہیں میں نے بھی جانا ہے
پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
بڑی مشکل سے سرخ چہرے کے ساتھ ضبط کرتے ہوئے نور نے منمناتے ہوئے کہا
اتنا معصوم دلبرانہ انداز کہ کس کے ہوش نہ اڑیں مگر سامنے سالار تھا جس نے آخر کار اپنے بے لگام ہوتے جزباتوں کو لگام ڈال ہی لی۔۔۔۔۔۔
اس کے اس طرح بولنے پر سالار نے اسکا سر پیچھے سے پکڑ کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور کسی چھوٹے بچے کی طرح سہلانے لگا
ٹھیک ہے جنم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرور جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ میں خود تم لوگوں کے ساتھ جاؤں گا
تمہیں اکیلے اتنی دور بھیجنے کا میں رسک بلکل بھی نہیں لے سکتا ۔۔۔۔۔۔ جزبات سے چور لہجے میں آنکھیں موند کر اسکے کان میں سرگوشی کی پھر اسکے کندھے پر بوسا دیا۔۔۔۔۔
چلو اب تم نو دو گیا رہ ہو جاؤ ورنہ میں آؤٹ آف کنٹرول ہو جاؤں گا اسے زمین پر اتارتے ہوئے سالار نے اسے الرٹ کیا۔۔۔۔۔
پاؤں زمین پر لگتے ہی نور فل سپیڈ میں وہاں سے بھاگ گئی
افففففففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنم میرا بہت برا حال کرنے والی ہو تم
ظالم حسینہ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
گہرا سانس خارج کرکے سالار نے خود کو کمرے کی طرف گھسیٹا۔۔۔۔۔۔


ساری پیکنگ ہوچکی تھی اور سب تیار بھی تھے اظفر بھی اپنے والدین سے چھپ کر جا رہا تھا یہ مشورہ بھی برہان نے دیا تھا اسے کہ کیسے پتہ چلے گا ان کو اظفر بھی خوش ہوگیا بنا سوچے کے برہان اتنا مہربان کیوں ہو رہا ہے
برہان اظفر مشاء اور رباب اپنی الگ دو گاڑیوں میں جا رہے تھے
جبکہ سالار اور نور الگ سے تیسری گاڑی میں جا رہے تھے اسکی ساری پیکنگ سالار نے خود کی تھی اور وہ اسے لیکر نکل بھی چکا تھا
نور کی ساری کی ساری خوشی ملیامیٹ ہوچکی تھی پہلے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی کہ سب کے ساتھ انجوائے کرے گی برف میں کھیلے گی اچھل کود کرے گی مگر سالار نے اسکی ساری کی ساری پلیننگ پر پانی پھیر دیا تھا بڑے مزے سے نور کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر نکل پڑا تھا
نور منہ پھلا کر باہر کے نظارے دیکھ رہی تھی
اسکی جھنجھلاہٹ کی سب سے بڑی وجہ تو اسکے کپڑے تھے جو سالار نے سختی سے سارے پہننے کو بولے تھے
موٹی گرم گھٹنوں تک آتی وائٹ فراک کے اوپر تین بغیر آستینوں کے سوئیٹر اور فراک کے نیچے بھی ایک ہائی نیک تھا اور ڈبل سوکس کے اوپر جوگرز ہاتھوں میں دستانے حجاب کے نیچے اور اوپر ایک ٹوپی اور آخر میں فر والا سٹائلش اوورکوٹ ۔۔۔۔
نور اس وقت پھولا ہوا وائٹ بھالو لگ رہی تھی وہ سالار کو۔۔۔۔۔
گاڑی چلاتے ہوئے سالار گا ہے بگاہے اس پر گہری نظر بھی ڈالتا جا رہا تھا مگر دل تھا کہ بھر ہی نہیں رہا تھا
لیکن نور تو خود کو کپڑوں سے بھری ہوئی کوئی الماری سمجھ رہی تھی
اسے تو یہ فکر ستائے جا رہی تھی کہ سب دیکھیں گے تو کیا کہیں گے کتنا ہنسیں گے اس پر۔۔۔۔۔۔
سالار اچھے سے جانتا تھا کہ سردی نور کو کتنی زیادہ لگتی ہے وہ تو اسے ایسے پکڑتی ہے جیسے مکھیاں آم کو۔۔۔۔۔۔۔
سالار اسکے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا یہ لوگ صبح صبح ہی نکلے تھے
تھوڑی دیر بعد عین اور سالار مری پہنچ چکے تھے
سالار اسے لیکر بلکل الگ تھلگ جگہ آیا تھا جہاں ان دونوں کے سوا اور کوئی بھی نہ تھا آس پاس صرف برف ہی برف تھی اور بے تحاشہ خوبصورتی سورج کی پڑتی شعائیں جب زمین پر پڑی برف پر ٹکراتی تو آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی نظر آتی
یہ لوگ لکی تھے کہ اس موسم میں شدید ترین بارش کی وجہ سے سنو فالنگ بھی ہوئی تھی ورنہ ایسا عام دنوں میں نہیں ہوتا
عین یہ منظر نظارے دیکھ کر مبہوت رہ گئی تھی پیاری سی مسکان اسکے لبوں سے چپک کے رہ گئی تھی
سالار عین کو اس طرح دیکھ کر بے پناہ خوشی محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
جب جب عین ہنستی مسکراتی خوش ہوتی تو سالار کو یوں لگتا کہ اسکا سیروں خون بڑھ گیا ہو۔۔۔۔۔۔
سالار نے عین کے لئے پیار سا پلین ترتیب دیا تھا۔۔۔
سالار عین کو اور خود کو ایسی دنیا میں لے کر جانا چاہتا تھا کہ جہاں صرف وہ دونوں ہوں نہ کوئی تیسرا نہ کوئ غم نہ کوئی دردناک بے رحم ماضی ہو۔۔۔۔۔۔
صرف اور صرف یہ دونوں ہوں انکی خوشیاں ہوں مسکراہٹیں
ہوں۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے گاڑی کو گھر کے سائیڈ میں بنے پارکنگ میں لا کر شٹر نیچے کردیا اور پلٹ کر عین کی طرف آیا جو گھر کے دروازے کے پاس کھڑی آنکھیں پھاڑے اردگرد کی خوبصورتی کو دیکھ رہی تھی اسے یوں دیکھ کر سالار نے بمشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا اور ڈور کو اوپن کرکے اسے لیکر آگے بڑھ گیا
گھر پورا کا پورا اندر سے لکڑی کا بنا ہوا تھا گھر میں سجاوٹ کا سامان اتنا نہیں تھا مگر سادگی میں بھی بے مثال تھا
اوپن کچن اور دو کمرے تھے ڈائننگ ایریا ٹی وی لاؤنج حتی کہ پورا کا پورا گھر ہی بہت پیارا تھا
عجیب بات تھی مگر باہر کی بانسبت اندر کا ماحول کافی گرم تھا ایسا نور کو لگا
عین نے سارے کے سارے سوئیٹر اتار دئیے تھے سوکس اور دستانے بھی پھر بھی گرم گرم ہی لگ رہا تھا جب غور کیا تو پتہ چلا کہ ہیٹر اےسی آن تھے
چلو سردی کی ٹینشن سے تو بچی۔۔۔۔۔۔ نور نے شکر کا گہرا سانس خارج کیا۔۔۔۔۔
سالار اسے یوں مگن انداز میں اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے خود اسکا جائزہ لے رہا تھا
نور نے حجاب بھی اتارا ہوا تھا اب وہ صرف فراک اور جینز میں ہی کھڑی تھی
سالار اپنے بھاری قدم اٹھا تے ہوئے اس کی طرف بڑھا اسکا رخ اپنی طرف موڑ کر اسکا جوڑا بھی کھول دیا اور اپنی انگلیوں سے اسکے بال سنوارنے لگا
عین اس اچانک افتاد پر چونک کر اسکی طرف متوجہ ہو ئی اور اسکی کارستانی پہ گھبرائی۔۔۔۔۔
سالار نے جب اسے اپنی طرف دیکھتا پایا تو آہستہ سے اپنے ساتھ لگا لیا اور اپنا چہرہ اسکے بالوں میں چھپا کر آنکھیں موند لیں
سالار اسکے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا تھا کسی امرت کی طرح۔۔۔۔۔۔
عین اسکی وجہ سے نروس ہو رہی تھی اور پھر ہچکچاتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا جو پہلے سے ہی اسکی طرف متوجہ تھا
و۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔ وہ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے واشروم جانا ہے
عین جلد سے جلد اس سے الگ ہو جانا چاہتی تھی کیونکہ سالار کی گرفت آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی جا رہی تھی
عین کی آواز سن کر سالار جیسے ہوش میں آیا اور نرمی سے عین کو خود سے الگ کیا
سالار کی آنکھیں خمار سے سرخ ہوچکی تھیں۔۔۔۔
عین اسے دیکھ کر گھبرا رہی تھی۔۔۔۔
سالار نے ابھی بھی اسکا ہاتھ تھام رکھا تھا جیسے اسے چھوڑنے کا من ہی نہ ہو۔۔۔۔۔
بہت دقت اسے دھیرے دھیرے ضبط پاتے ہوئے ہاتھ چھوڑا ۔۔۔۔
ہاتھ کے چھوٹتے ہی عین جھپاک سے اندر کمرے میں بھاگ گئی
پیچھے سالار اسکی پشت کو تکتا رہ گیا
ہانہہہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک لمبا سانس کھینچ کر خارج کیا
کسی دن مار ڈالے گی مجھے یہ چڑیل۔۔۔۔۔۔۔
سالار چہرے پر ہاتھ پھیر تے ہوئے ہولے سے بڑبڑایا
پھر دھیرے سے ہنسا ۔۔۔۔ میری معصوم چڑیل۔۔۔۔۔۔


تمام یونی والے اور برہان لوگ بھی مری پہنچ چکے تھے اور اس وقت ہوٹل کے روم میں ریسٹ کر رہے تھے اور کچھ منچلے باہر انجوائے کر رہے تھے
میکی رباب کی تاڑ میں تھا کہ وہ نظر آئے اور اپنی ڈیل کے بارے میں پوچھے مگر رباب تو اسے نظر ہی نہیں آرہی تھی
اپنے ہاتھ پہ مکا مارتے ہوئے وہ روم کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔!!