54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

برہان رباب کو لیکر اس جگہ سے کافی آگے نکل چکا تھا پریشانی سے اسکے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے وہ بس یہی سوچے جا رہا تھا کہ جو رباب کی ظاہری حالت نظر آرہی ہے سچ اسکے برعکس ہو
رباب اب خود کو سنبھال چکی تھی وہ جتنا اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی اسے کم ہی لگ رہا تھا دل ہی دل میں وہ واپس جا کر شکرانے کے نفل ادا کرنے کا پکا ارادہ کرچکی تھی
برہان سے اب مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا اس نے سائڈ پر کار روک دی اور فورا” رباب کی طرف رخ کیا رباب بھی گاڑی رکنے پر اسی کی طرف دیکھ رہی تھی
رباب سب سے پہلے تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم ٹھیک تو ہو۔۔۔۔۔۔ میرا ۔۔۔۔۔میرا مطلب تم ۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کچھ بھی ۔۔۔۔۔۔ مینز کے
کچھ۔۔۔۔۔۔ ایسا ویسا۔۔۔۔۔۔۔ برہان کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کن الفاظوں میں اس سے وہ بات پوچھے جو اسے کب سے آگ کی بھٹی میں جھلسا رہی تھی
رباب اسکی بے ترتیب بات کو اچھی طرح سمجھ چکی تھی اسی لئے اب وہ گہری سانس لے کر اسے سب بتانا چاہتی تھی
برہان ۔۔۔۔۔۔۔
ہاں رباب بتاؤ دیکھو گھبرا نے اور ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نہ ہمیشہ تمہارا ساتھ دینے کے لئے۔۔۔۔۔
رباب کی آہستہ آواز میں پکارا پر برہان نے اسے مزید حوصلہ دیا
ایسا کچھ نہیں ہے برہان میں بلکل ٹھیک ہوں تم جیسا سوچ رہے ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کی اس نے میری آبرو کی حفاظت کی۔۔۔۔۔۔
رباب نے نم تشکرانہ آنکھوں سے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے برہان کی جان واپس لوٹائی جو رباب کی بکھری حالت اور بے طرح رونے سے حلق تک آچکی تھی
ہا ہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک گہری سانس برہان نے خارج کی جیسے نہ جانے اسکے سر سے کتنا منوں بوجھ رباب نے اپنے الفاظوں سے سرکا دیا ہو۔۔۔۔
اب جب اسے تسلی ہوچکی تھی تو وہ پھر سے اپنے ازلی موڈ میں لوٹ آیا تھا اور تیکھی غصے سے بھری نظروں سے اسے گھور نے لگا
اشارہ ایسا تھا کہ سب طوطے کی طرح الف سے یے تک ساری روداد سنائی جائے۔۔۔۔۔
رباب نے بھی بنا دیر کیے اسے سب بتانا شروع کیا
اس نے اسے سب بتایا کہ کس طرح اس رات جب یہ پانچوں ریسٹورنٹ گئے تھے اور پھر کیسے میکی نے اسے دھمکی دی
اور پھر۔۔۔۔۔۔
جب میکی نے اسے مری میں بھی آکر اسے ڈر آیا دھمکایا
رباب نے اپنا آپ بہت مشکل سے نارمل کیا تھا اور آگے کے بارے میں سوچنے لگی نور کو تو وہ کزی صورت اسکے حوالے کرے گی
یہ تو بلکل ہی نا ممکن ہے تو وہ اسکے بارے میں سوچ ہی نہیں رہی تھی وہ تو بس وہ فوٹوز کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ کیسے واپس لے پھر وہ ایک فیصلے پر پہنچ کر اس نے نور کا گیٹ آپ کیا
اور نکل گئی اسکے دئیے ہوئے اڈریس پر ۔۔۔۔۔۔
جب رباب وہاں پہنچی تو اندر جانے سے پہلے اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی گھڑی کو ایک نظر دیکھا
ہوٹل سے نکلنے سے پہلے ہی رباب نے ایک میسج برہان کو اور ایک میسج سالار کو کردیا تھا سالار کو تو اس نے سب سچ سچ بتا دیا تھا اور ساتھ ہی میکی کی فوٹو بھی بھیج دی تھی
سالار نے جب میسج پڑھا تو غصے سے اسکا دماغ بھنا ہی گیا
کس کی اتنی ہمت جو سالار شجاعت کی عزت پر ہاتھ ڈالے۔۔۔۔
برہان کو رباب نے میسج پر صرف ایڈریس اینڈ کیا تھا اور ٹائم بتا کر اسے پہنچنے کا کہا تھا
برہان پہلے تو حیران ہوا کہ رباب اس کو اتنی سنسان جگہ اتنی رات کو کیوں بلا رہی ہے مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے چلا گیا
مگر یہاں آکر تو اس کے سہی معنوں میں ہوش ہی اڑ گئے تھے
اور بس پھر تم بلکل اینڈ پہ پاکستان کی کچھ سست پولیس والوں کی طرح نازل ہوگئے۔۔۔۔۔
آخر میں رباب نے ٹینشن کو رفع کرنے کے لئے بات کو مزاح کا روپ دیا۔۔۔۔۔۔
لیکن برہان اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا
تم خود کیا ۔۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔ کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔سمجھتی کیا ہو ۔۔۔۔۔ ہاں
تم کہیں کی ٹارزن ہو کیا یا کنگفو ماسٹر ہو تم یا کسی ریسلر کی اماں جان ہو تم جو تم اس امید پہ بیٹھی ہوئی تھی کہ وہ آئے گا اور تمہیں بچائے گا تمہاری سو کال واہیات فلموں کی طرح ت۔۔۔۔۔۔۔
شٹ اپ ۔۔۔۔۔۔۔ یو ۔۔۔۔۔۔ بلڈی۔۔۔۔۔۔ ڈیش ڈیش ڈیش ڈیششش۔۔۔۔۔نہ ہو تو۔۔۔۔۔۔تمہیں اگر کسی ہینڈسم پیارے ریسلر بندے سے میرا رشتہ بنانا ہی تھا تو گرل فرینڈ یا پھر وائف بھی تو کہہ سکتے تھے
نہ۔۔۔ یہ اماں جان کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ الو کا پٹھ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
شکر کا الو پڑھا نہ ہو تو۔۔۔۔ اور ہاں میری ایکٹنگ اور میری جان میری فلموں کو تو بلکل بھی مت گھسیٹنا ۔۔۔۔ میں بول رہی ہوں
۔۔۔۔۔۔ ورنہ رباب اکبر مرزا سے کوئی برا نہیں ہوگا۔۔۔۔ سمجھے۔۔۔۔۔
رباب جو مزے سے برہان کی اپنے لئے فکر کو اسکی غصے سے بھری آواز میں انجوائے کر رہی تھی کہ اسکے کسی ریسلر کی اماں جان کا حوالہ دے کر تو پھلجڑی رباب کو کھڑا ڈالا تھا اب وہ کہیں سے بھی ڈری سہمی بے تحاشہ روتی دھوتی رباب بلکل بھی نہیں لگ رہی تھی بلکہ یوں لگ رہا تھا کہ وہ تو شائد کوئی رباب کے روپ میں کوئی ہمشکل تھا
برہان منہ کھولے اسکی احمقانہ باتیں سن رہا تھا
اب میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو چلاؤ گاڑی اب کیا ساری رات میرے حسین چہرے کا ہی دیدار کرتے رہوگے ۔۔۔۔۔ کبھی حسین خوبصورت دوشیزہ نہیں دیکھی تم نے ۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔۔
رباب اب فل رباب اکبر مرزا والے روپ میں آچکی تھی اسی لئے اسے مزید نہ چھیڑتے ہوئے افسوس بھری نگاہ اس پر ڈال کر چابی گھما ئی کہ اب اور کچھ بچا ہوا دماغ نہ ضائع ہوجائے
تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا رباب ۔۔۔۔۔۔
میرا تو پھر پانچ دس فیصد کچھ نہ کچھ ہوجائے گا مگر تمہارا ۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔۔ تمہارا تو وہ بھی نہیں ہونا ۔۔۔۔
اب برہان بچارا کیا بولتا ۔۔۔۔۔ اس لئے بہت کچھ کی چاہ دل میں ہی رکھتے ہوئے خاموشی سے ایک بار پھر سے گاڑی سٹارٹ کر نے کی کوشش کی۔۔۔
مگر بار بار کوشش کے باوجود بھی جب گاڑی نہ چلی تو چڑ کر گاڑی سے باہر نکل کر چیک کرنے لگا اب اس کو کیا آفت پڑگئی
او نو ۔۔۔۔۔۔ گاڑی کو بھی ابھی خراب ہونا تھا برہان نے زور سے بولتے ہوئے گاڑی کو رکھ کے دی۔۔۔۔۔
آہاں مزا ہی آگیا واؤ راستے میں گاڑی خراب ہیرو کا موڈ بھی خراب اوپر سے طوفانی رات او ہو کتنا مزا آئے گا
رباب برہان کے تاثرات دیکھتے ہوئے اسے اور رہا رہی تھی جبکہ برہان اسے اگنور کئیے ادھر’ادھر نظر دوڑا رہا تھا کہ کوئی مدد لے سکے
یہ علاقہ ہوٹل سے کافی دور تھا اور یہاں آس پاس گنے چنے ہی گھر نظر آرہے تھے ان میں سے ایک سجے دھجے گھر کے سامنے جاکر برہان نے گھنٹی بجائی ۔۔۔۔۔۔ برہان نے سختی سے رباب کو گاڑی سے باہر نکلنے سے منع کیا تھا مگر رباب بھی کیا کبھی برہان کی کسی بات کو مان سکتی تھی ۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ کبھی نہیں اسی لئے چپکے چپکے اسکے پیچھے آکر کھڑی ہوگئی کہ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ اس کے پیچھے ہی کھڑی ہے نئی مصیبت بن کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام وعلیکم۔۔۔۔۔۔!!!!!!
دروازہ کھلنے پر ایک بزرگ باہر نکلے تھے برہان نے سلامتی بھیج کر انہیں اپنی پرابلم بتائی اور مدد کے لئے درخواست کی۔,۔۔۔۔۔۔
جبکہ بزرگ اسکے پیچھے کھڑی کسی لڑکی کو روتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ کبھی اسے دیکھتا تو کبھی اس لڑکی کو ۔۔۔۔۔
یہ لڑکی کون ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
برہان جو اپنی ہی دھن میں لگا ہوا تھا بزرگ کی غصیلی آواز سن کر چونک گیا ۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بزرگ کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اس نے جب پیچھے مڑ کے دیکھا تو رباب کو کھڑا پا کر دل ہی دل میں اسے سو دوسو سنا ڈالیں۔۔۔۔ وہ بزرگ کی نظروں میں نظر آتے خدشے کو صحیح طرح سے سمجھ چکا تھا اب تو اسے یہی دھڑکا تھا کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں ۔۔۔۔۔۔
وہ بابا جی ۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔۔
میں بتاتی ہوں آپ کو کہ میں کون ہوں۔۔۔۔۔ میں وہ عورت ہوں جسے دیکھ کر اس دنیا کے بھیڑیے چیر پھاڑ کھانے کو دوڑتے ہیں
آج بھی ایک وحشی بھیڑیا اسی نیت سے میری طرف بڑھا تھا مگر وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ میرے اللہ نے مجھے بچا لیا ایک فرشتہ بھیج کر۔۔۔۔۔ آخر میں رباب نے اپنی شاندار ایکٹنگ کے جوہر دکھاتے ہوئے بزرگ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تو بزرگ کو وہ فرشتہ اپنا آپ لگا اور وہ بھیڑیا سامنے کھڑا ہوا لڑکا ۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر وہ ہوا جو برہان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا
ان دونوں کو اندر لے جا کر برہان سے سختی سے ایسی ایسی ۔۔۔ تفتیش کی گئی کہ ایک پل کے لئے تو برہان خود کو واقعی میں کوئی بھیڑیا لگنے لگا
رباب اپنی ایکٹنگ کا آج سائڈ ایفیکٹ دیکھ کر بوکھلا گئی کہ اس نے تو بابا جی کو شیشے میں اتارنے کے لئے کیا تھا مگر یہ تو الٹا ہی ہوگیا کام نکلوانے کے چکر میں برہان بچارے کی تو واٹ ہی لگ گئی
مگر پھر برہان کے ہونق زدہ تاثرات دیکھ کر رباب کو مزا آنے لگا
بس اب ایک ہی راستہ تمہارے پاس یا تو میری بات مانو یا پھر سزا قبول کرو۔۔۔۔۔۔
برہان جب انہیں سمجھا سمجھا کر تھک گیا تو بزرگ نے جزبات میں کچھ زیادہ ہی بہہ کر اپنا فیصلہ سنا ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن با۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاموش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا تو تمہیں اس مظلوم لڑکی سے ابھی اسی وقت نکاح کرنا ہوگا یا پھر دوسو کوڑے کھانے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب برہان بچارا کیا کرتا دوسو کوڑے تو بلکل بھی نہیں کھا سکتا تھا اس سے بہتر تھا کہ وہ نکاح ہی کرلے۔۔۔۔۔
نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔ میں نکاح کرنے کے لئے تیار ہوں ۔۔۔۔۔ برہان اس امید پہ حامی بھری کہ شائد اب رباب کچھ بولے گی مگر جب اسے الٹا مسکراتے ہوئے دیکھا تو اور ہی آگ لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں ہی بابا جی نے خود اپنے بچوں کو گواہ قرار دے کر ان دونوں کا نکاح پڑھا دیا
رباب تو اس اچانک نکاح ۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ اس اچانک فلمی ٹائپ نکاح پہ ہی انتہائی خوش تھی
چلو ہاجرہ ان کو کھانا سانس کھلاؤ اور سونے کا انتظام کرو اس وقت تو کوئی مکینک نہیں ملے گا صبح ہی کچھ کرسکیں گے
بابا جی تو اپنی زوجہ محترمہ کو آرڈر دے کر چلے بھی گئے سونے مگر پیچھے برہان صاحب کی نیندیں حرام کر گئے
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!