Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 12
Rate this Novel
Episode 12
گھر والے سب حیرانی سے سالار کو دیکھ رہے تھے
چلو عین۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
سالار نے عین کو اپنی نظروں کی زد میں رکھتے ہوئے بولا
مگر عین صاحبہ تو ششدر سی منہ کھولے کھڑی تھی
لیکن سالار بیٹا رخصتی تو نور کی پڑھائ مکمل ہونے کے بعد تھی نہ۔۔۔۔۔۔؟؟
جی بلکل تھی۔۔۔۔۔۔!!
لیکن اب عین میرے ساتھ میرے پورشن میں رہے گی
نہایت سپاٹ انداز میں شمائلہ بیگم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا گیا
کیوں دادا جان۔۔۔۔۔۔۔؟؟
آخر میں دادا جان کی طرف رخ موڑ کر نرمی سے تائید چاہی
دادا جان تو اسکے نرمی سے بولنے پر ہی سرشار اثبات میں سر
ہلا گئے۔۔۔۔
آخر کیوں نہ ہوتا ایسے انہوں نے اسے اسکی زندگی کی پتنگ کی ڈور جو تھما دی تھی ۔۔۔۔۔
نور کے ہاتھ پیر پھول گئے اور بری طرح کانپنے لگی۔۔۔۔
اسکی حالت کو دیکھ کر ہونٹوں کو دانتوں تلے دبایا اور پھر اچانک جھک کر نور کو کسی قیمتی متاع کی طرح اپنے مضبوط
کسرتی بازؤوں میں اٹھا لیا
یہ دیکھ کر باقی سب کا منہ کھل گیا۔۔۔
جبکہ سالار تو عین کی طرف نظروں کا مستقل زاویہ بنائے
اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنے قدموں پہ چل پڑا۔۔۔
کسی کی بھی اسکے اٹل لہجے کو دیکھ کر اسے روکنے کی ہمت نہ ہوئی
نور اسکے بہت قریب تھی وہ اسکی سانسوں کی گرمی کو کسی جلتے الاؤ کی طرح محسوس کر رہی تھی اس نے اپنی آنکھیں زور سے بھینچ لیں گھبرایٹ کے مارے اسکا سانس تک پھول چکا تھا
نور کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اکیلی ہواؤں میں اڑ رہی ہو اور بس اب نیچے گرنے ہی والی ہے۔۔۔۔
مگر دوسری طرف سالار فتح کے نشے میں چور اپنے لبوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے اپنے پورشن میں داخل ہوگیا
اس وقت اسکے پورشن میں ان دونوں کے سوائے کوئی تیسرا موجود نہیں تھا اسکا پورا پورشن ساؤنڈ پروف تھا اپنے تمام ملازموں کو پہلے ہی چلتا کر چکا تھا
ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی مگر ان دونوں کے دھڑکتے
ہوئے دل اس پر اسرار خاموشی میں ایک میٹھا سا ساز بکھیر رہے تھے
وہ صرف اور صرف اپنی عین کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف اسکے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاہتا تھا کہ ان دونوں کے سوا یہاں کوئی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکی موجود گی کو محسوس کرے اور عین اسکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے اٹھائے لاؤنج میں آیا جہاں ہر طرف گلاب ہی گلاب تھے
پورا فلور گلاب کی پتیوں کی موٹی تہہ سے کور ہوا تھا
نور کے جب اعصابوں پر چھا جانے والی خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی تو اس نے بے ساختہ اپنی آنکھیں کھولیں
آنکھوں کے کھلنے پر جو منظر اس کی آنکھوں سے ٹکرایا تو وہ
آنکھیں پھاڑے ششدر سی دیکھنے لگی
نور کو پھول بے حد پسند تھے جبکہ ان کی خوشبو کی تو وہ دیوانی تھی
دیواروں پہ موتیے کے کھے ہوئے پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں
جنہوں نے بلیک رنگ کی دیواروں کو اپنے سفید رنگ میں چھپا سا دیا تھا۔۔۔
چھت کے بلکل درمیان سفید رنگ کا بڑا سا ہیروں کی چمک لئے
مہنگا خوبصورت ترین فانوس ایستادہ دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا
پورے لاؤنج میں اس کی مدھم روشنی کے علاوہ اور کوئ روشنی نہ تھی لیکن پھر بھی یہ آنکھوں کو چندھیا دینے والی مات رکھتی تھی
اس کے آس پاس چھت پر بے تحاشہ سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے ستارے لٹک رہے تھے جو فانوس کی شعاوں کے ساتھ مل کر کسی پرستان کا منظر پیش کرہے تھے
فانوس کے بلکل نیچے درمیان میں شیشے کا خوبصورت ڈانسنگ کپل شو پیس رکھا ہوا تھا
نور یہ دیکھ کر جیسے سب کچھ ہی بھول چکی تھی وہ مبہوت
زدہ انداز میں یہ سب حیرانی سے دیکھ رہی تھی اسے کچھ بھی یاد نہ رہا تھا اگر یاد رہا تو یہ کہ یہ سب اسکے لئے کیا گیا ہے
کیا وہ اتنی خوش قسمت ہے کہ اسکے لئے اتنا کچھ کیا گیا
اس کے چہرے پہ پیاری سی مدھم مسکان در آئی تھی آنکھوں میں چمک لئے اپنے اطراف سجے اس پرستان کو تک رہی تھی
اس کے چہرے پر چھائی چمک اور مبہوت انداز کو وہ محظوظ ہو کر دیکھ رہا تھا جو یہ تک فراموش کر چکی تھی کچھ دیر قبل وہ اسکی قربت پہ بوکھلائے جارہی تھی
سالار کے چہرے پہ سجی مسکان اور گہری ہوگئی جیسے جتلا
رہی ہو کہ کہا تھا نہ ایک دن تم میری گرفت میں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے جہاں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں تمہیں سب کچھ بھول جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں صرف میں ہوں گا اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
سالار نے اسے ابھی تک اپنے بازؤوں میں اٹھایا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس شو پیس کے پاس پہنچ گیا پھر اسے لے کر
دو تین سٹیپ اوپر چڑھا اور ایک بٹن دبایا
اس کے بٹن دباتے ہی شیشہ اوپر کو اٹھا اور انکے اندر جانے کا راستہ بنا۔۔۔ ان کے اندر جاتے ہی وہ بند ہوگیا اور مصنوئی سنو فال ہر طرف بکھرنے لگی پھر ہلکا ہلکا میوزک چلنا شروع ہوا۔۔۔۔
ان کے کانوں میں گانے کے بول گھلنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے اسے ابھی تک نہیں اتارا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی نظریں مسلسل اسی پہ ٹکی تھیں
سالار نے گھمبیر سرگوشیانہ آواز میں اسے پکارا
عین۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نور نے بے ساختہ اسکی طرف دیکھا اور اسکی نظروں سے بیاں
ہوتے احساسات میں گم ہوگئی
نہ جانے اسکی آنکھوں میں ایسا کیا جادو تھا جو وہ یوں بری طرح جکڑی گئی تھی
گانے کے بول ان کے اطراف میں گونج کر انہیں ہر طرف سے بیگانہ کر گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
سانس لینے سے بھی زیادہ تم ضروری ہوگئے
جی رہے تھے ہم ادھورے تم سے پورے ہوگئے
سالار کی نظریں دیوانہ وار اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں
جیسے انہیں سمجھ ہی نہ آرہی ہو کہ کہاں پر ٹھہریں۔۔۔۔۔۔۔!
سانس لینے سے بھی زیادہ تم ضروری ہوگئے
جی رہے تھے ہم ادھورے تم سے پورے ہوگئے
میری دھڑکن تیری دھڑکن
دونوں دلوں کی اک ہے تڑپن
سالار اب اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا اور آہستہ آہستہ ہل
رہا تھا انکے ساتھ شو پیس بھی گول گھوم رہا تھا
میری دھڑکن تیری دھڑکن
دونوں دلوں کی اک ہے تڑپن
گرتی ہوئی مصنوئی سنو فال اور مدھم میوزک ایک الگ ہی سحر پھونک رہے تھے یہ دونوں ایک دوسرے میں گم ہوچکے تھے
سانس لینے سے بھی زیادہ تم ضروری ہوگئے
جی رہے تھے ہم ادھورے تم سے پورے ہوگئے
میری دھڑکن تیری دھڑکن
دونوں دلوں کی اک ہے تڑپن
سالار نے اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکرا کر نور کی آنکھوں میں دیکھا
آنکھیں یہ میری جو بولتی ہیں
دھڑکن یہ تیری وہ تولتی ہیں
پھر سالار نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اسے محسوس کر نے لگا
جبکہ نور ابھی تک اسکی بند آنکھوں کو ہی دیکھ رہی تھی
آنکھیں یہ میری جو بولتی ہیں
دھڑکن یہ تیری وہ تولتی ہیں
سالار نے اپنی ناک کو اسکی چھوٹی سی سرخ ناک سے ٹکرا یا
جینے کے سوالوں میں یوں پیار کا رنگ بھرنا
کہ لفظ سے پھر کچھ بھی مشکل ہو بیاں کرنا
میری دھڑکن تیری دھڑکن
دونوں دلوں کی اک ہے تڑپن
میوزک بند ہو چکا تھا مگر یہ دونوں ایسے ہی کھڑے رہے
کافی دیر بعد سالار نے آنکھیں کھولیں اور اسے لے کر لاؤنج سے باہر نکل آیا
راہداری سے گزرتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جبکہ یہاں کا حال بھی لاؤنج سے مختلف نہ تھا
سالار نے اپنے روم میں پہنچ کر پاؤں مار کر دروازہ بند کردیا
اسکا روم بھی بہت خوبصورت انداز میں سجا ہوا تھا
جہازی سائڈ بیڈ پر White Lilly کے پھولوں کی چادر بچھی ہوئی تھی
فرش پر گلاب اور موتیے کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں
چھت پر چھوٹے چھوٹے لال لہو رنگ دل لٹک رہے تھے دیواروں کو لال گلاب کی بند کلیوں نے ڈھانپ رکھا تھا
سالار نے اسے اٹھائے بیڈ کی دائیں طرف ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھیے سٹول پر بٹھا دیا اور شیشے میں اسکا عکس دیکھتے ہوئے
اسکے حجاب کی پنوں کو نکالنے لگا
نور شرم و گھبراہٹ کے مارے آنکھیں ہی نہیں اٹھا پا رہی تھی
پورا چہرہ اسکا سرخ رنگ میں ڈوب چکا تھا
سالار اس پر نظر جمائے اسکا حجاب اتارتے ہوئے شوخ نظروں سے دیکھ رہا تھا
حجاب اتارنے کے بعد سالار نے اسکے بال کھول دیے
بالوں کے کھلتے ہی ایک لمبی کالی سیاہ ریشمی بالوں کی آبشار
اسکے ہاتھوں کو چھپا گئی
سالار کے اسکے اتنے لمبے گھنے اور حسین بال پہلی بار دیکھ رہا تھا وہ مبہوت سا اسکے بالوں کو دیکھے جا رہا تھا
کافی دیر بعد اس نے گہری سانس لے کر خود کو کچھ حد تک کمپوز کیا اور اسے پھر سے اپنی گود میں اٹھا کر بیڈ کی طرف چل دیا
سالار نے تو شائد آج قسم کھائی تھی کہ اسے ایک قدم بھی نہیں چلنے دینا۔۔۔۔۔۔
بیڈ کے پاس پہنچ کر اس نے نور کو احتیاط سے لٹادیا کہ کوئی تکلیف نہ ہو
بیڈ پر لیٹتے ہی نور جیسے اس کے نرم ملائم بستر میں دھنس سی گئی
اسے ایک نظر دیکھ کر سالار نے اپنا کوٹ اتار کر دور صوفے پر اچھال دیا۔۔۔۔۔۔۔
پھر اسی کو اپنی نظروں کی زد میں رکھتے ہوئے سالار نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیا
یہ دیکھ کر نور بری طرح سٹپٹا گئی اسکے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنا شروع ہو گئے آگے کے بارے میں سوچ کر ہی اس کی جان نکلنے
کے در پہ ہو گئ
سالار اسکی شرم و گھبراہٹ کو بہت انجوائے کر رہا تھا
سالار نے اپنی شرٹ اتار کر بھی دور پھینک دی اب وہ صرف بلیک بنیان میں تھا جو اسکی سفید رنگت پر بہت جچ رہی
تھی۔۔۔۔۔۔۔
نور نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کر لیں کہ جیسے اب کبھی نہ
کھولے گی
سالار کی ہونٹوں کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی اور پھر وہ اسکے
دائیں طرف آکر بلکل اسکے قریب لیٹ گیا
جبکہ نور ایکدم ساکت بنا کوئی حرکت کئے آنکھ بند کر کے چت سیدھی لیٹی ہوئی تھی
نور کو محسوس ہوا کہ سالار اسکے چہرے پہ جھکا ہو
نور نے اپنی سانسیں ہی روک لیں دل ہی دل میں اسکی منتیں
کرنے لگی بولنے کے قابل ہی کہاں تھی وہ اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زبان تو اسکی تالو سے جا چپکی تھی
سالار مسکراتے ہوئے اس کے کان کی طرف جھکا اور سرگوشیانہ آواز میں بولا
گھبراؤ نہیں جنم میں کچھ نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔۔
جب تک تمہاری پڑھائی نہیں مکمل ہو جاتی اور خاص کرکے تب
جب تم مجھے اپنی پوری رضامندی سے اجازت نہ دے دو۔۔۔
ہاں مگر چھوٹی موٹی شرارتوں کے لئے مجھے تمہاری اجازت کی
کوئی پر واہ نہیں۔۔۔۔۔!
نور جو اسکی بات پہ ابھی ریلیکس ہوئی ہی تھی کہ اسکی شوخی بھری آواز پہ پھر سے گھبرا گئی۔۔۔
سالار نے سیدھا لیٹ کر اسے اپنے سینے پر لٹا لیا
شرٹ بھی میں نے اس لئے اتاری کہ اسکے بٹن تمہیں تکلیف نہ دیں۔۔۔۔اس پر اپنا مضبوط حصار بنا کر مزید بتایا
نور اسکی قربت برداشت ہی نہیں کر پا رہی تھی اسکے لرزتے کانپتے وجود کو سالار بہت اچھے سے محسوس کر رہا تھا
سو جاؤ عین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے شدت جزبات سے بہت مشکل سے کہا گیا
ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کردئے اور چھوٹا سا ریموٹ پکڑ کر ایک بٹن پریس کیا جس سے بیڈ کے عین اوپر فکس مشین سے موتیے کے پھول کی پتیاں گرنے لگیں ان پر جیسے پت جھڑ کے موسم میں درختوں پر لگے سوکھے پتے جھڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
دائیں طرف شیشے کی بڑی سی سلائیڈنگ ونڈو سے جھانکتا چاند ان دونوں پر اپنی ٹھنڈی چاندنی پہنچا رہا تھا جیسے انہیں
اپنی طرف سے تحفہ دے رہا ہو
نور اپنے اوپر گرتی نرم پتیوں کو محسوس کرتے ہوئے آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی
سالار نے جب اسکی مدھم گہری سانسوں کو محسوس کیا تو اسکے بالوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اپنے چہرے پر پھیلا لئے ۔۔۔۔۔
جس سے نور اور اس کا چہرہ چھپ سا گیا
اسکی مدہوش کر دینے والی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے سالار نے دھیرے سے اپنی آنکھیں موند لیں
گہری کالی رات نے اسے بھی آہستہ آہستہ اسکے ہمسفر کے ساتھ
نیند کی وادیوں میں اتار گئی
ہر طرف سکون ہی سکون تھا کیونکہ آج سالار شجاعت کو
سالوں بعد سکون و چین نصیب ہوا تھا
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
