54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

نور کمرے میں آئی تو اس نے کپڑے نکالنے کے لئے کب بورڈ کو کھولا تو حیرانی کے مارے اسکی آنکھیں ہی پھیل گئیں
یہ کیا ہے میرے کپڑے کہاں ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سالار اندر آیا تو نور کو پریشان کھڑے پایا
کیا ہوا ہے۔۔۔۔ اسکے بلکل پیچھے کھڑے ہو کر اس نے جیسے ساری کہانی سمجھتے ہوئے آرام سے کہا
م۔۔۔۔۔ میرے کپڑے آپ گھر ہی بھول آئے ہیں یہاں تو سارے کے سارے آپ کے کپڑے ہیں ۔۔۔۔ دیکھیں ۔۔۔ یہ دیکھیں۔۔۔ یہ والا بھی دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔
آئ ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں کیا پہنوں گی
نور اسے بچوں کی طرح ایک ایک ڈریس دکھاتے ہوئے جیسے بہت ہی اہم چیز بتا رہی تھی پھر آخر میں ایک ہاتھ اپنی کمر پر رکھ کر دوسرا سر پر مار کر افسوس کرنے لگی ۔۔۔
نور اس وقت اسی ڈریس میں حجاب کو سٹالر کی طرح اوڑھے کھڑی سالار کو اور اپنا دیوانہ کرنے پر تلی ہوئی تھی
سالار یک ٹک اسکے نئے معصومانہ انداز کو دیکھ رہا تھااور دل ہی دل میں سوچ بھی رہا تھا کہ اور کتنے قاتل روپ اس چھوٹی پٹاخہ میں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
لبوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے نہ جانے کہاں گم تھا
نور نے اسے جب ایسے مسکراتے ہوئے دیکھا تو وہ رونے والی ہو گئ
اسے لگا کہ سالار اسکا مزاق اڑا رہا ہے اسکے اوپر ہنس رہا ہے
اے ۔۔۔۔۔۔۔ نو ۔۔۔۔۔۔ بلکل بھی مت ایسا کرنے کا سوچنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے جب اسے اپنی رونے کی تیاری پکڑ تے ہوئے دیکھا تو سختی سے منع کیا ۔۔۔۔۔۔
یہ ہیں نہ کپڑے اور کتنے کپڑے چاہیے تمہیں ۔۔۔۔۔ اتنے ڈھیر سارے تو ہیں کوئی بھی لو ان میں سے اپنی مرضی کا۔۔۔۔۔
سالار نے اتنے آرام سے بولا کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں عین تو ایسے ہی پریشان ہو رہی ہے
سالار کی بات سن کر نور منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگی
یہ ۔۔۔۔ یہ یہ تو آپ کے کپڑے ہیں میں کیسے پہن سکتی ہوں اتنے بڑے اور کھلے ہیں یہ تو میں تو ان میں گم ہی ہو جاؤں گی ۔۔۔۔
نور نے حیرانی سے پر لہجے میں اسے جیسے پتے کی بات سنائی
یہ کیا آپ کے آپ کے لگائی ہوئی ہے ۔۔۔۔ میں کون ہوں ۔۔۔۔ عین کا سالار۔۔۔۔۔ جیسے عین کا سب کچھ اسکے وجود سمیت سالار کا ہے تو بلکل اسی طرح سالار کا بھی سب کچھ عین کا ہی ہے ۔۔۔۔آئی سمجھ چلو اب جلدی سے یہ کپڑے پہن کر آؤ۔۔۔۔۔ جاؤ ۔۔۔۔۔۔ گوووو۔۔۔۔۔
سالار نے اسکی طرف جھکتے ہوئے بوجھل گھمبیر لہجے میں اسے سمجھایا اور پھر بحث ختم کرتے ہوئے اسکے ہاتھ میں ایک ڈریس تھمایا اور واشروم کی طرف دکھیل دیا
نور حیرت کا مجسمہ بنی واشروم میں کھڑی خود کو آئینے میں دیکھتی تو کبھی ڈریس کو
یہ کیا بات ہوئی یہ کیسی منطق ہے کہ میں ان کے چخے پہن کر اب گھوموں گی ۔۔۔ نور ورطہ حیرت میں ڈوبی غصے میں بڑبڑا رہی تھی
سالار صوفہ کم بیڈ پہ نیم دراز آنکھیں موندے لیٹا تھا
نور آہستہ سے ہچکچاتے ہوئے واشروم سے باہر آئی
کھٹکے کی آواز پر سالار نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہی ساکت ہوگیا
نور جو خود کو ان کمفرٹیبل فیل کر رہی تھی سالار کے اس طرح کے ری ایکشن پر اور زیادہ کنفیوز ہوگئی تھی
سالار پہلے تو پانچ منٹ تک اسے گھورتا رہا پھر ضبط کا ٹوٹنا تھا کہ سالار کا فلک شگاف قہقہ نمودار ہوا
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
او مائی۔۔۔۔۔۔ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔
نور سالار کو اس طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر پہلے تو دم بخود اسے دیکھنے لگی وہ ہنستے ہوئے کتنا اچھا لگتا ہے نور یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی ہوش تو تب آیا جب سالار اٹھ کر اسکے مقابل آیا
نور پھر سے اپنے خول میں سمٹ گئی
تم نے کپڑوں کو پہنا ہوا ہے یا کپڑوں نے تمہیں۔۔۔ سالار نے مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے اس سے پوچھا
کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔نور نے خفت سے سرخ پڑتے چہرے سے کہا
نور نے سالار کا سفید رنگ کا ہائی نیک پہن رکھا تھا جس کا گلا نور کے حساب سے کافی کھلا تھا اور اس میں سے اسکی نازک سفید پتلی سی صراحی دار گردن نظر آرہی تھی اور ہائی نیک اسکے گھٹنوں تک آتا تھا اسکے نیچے اس نے بلیک رنگ میں سالار کا ہی ٹراؤزر پہنا ہوا تھا نور نے اسکے پائینچے فولڈ کر رکھے تھے
نور کے بال بکھری حالت میں کھلے ہوئے تھے ہائی نیک کے بازو اتنے لمبے تھے کے فولڈ کرنے کے باوجود چھپ سے رہے تھے بار بار وہ اپنے ہاتھ نکالتی اور وہ پھر سے چھپ جاتے ۔۔۔۔۔
اس عجیب حالت میں بھی وہ سالار کو بہت کیوٹ لگ رہی تھی
سالار نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا وہ ایسا کچھ کرنا چاہتا تھا کہ جس سے عین کی سوچوں کا دارومدار صرف سالار کی زات کے گرد گھومتا رہے ۔۔۔۔۔۔ عجیب ہی منطق تھی مگر سالار کے لئے ہر چیز ہی پرفیکٹ تھی جس سے عین اسکے بارے سوچے ۔۔۔۔۔۔
عین کو اسکی ہنسی سے اب تپ چڑ چکی تھی
اگر اتنا ہی میرا سب کچھ آپ کا ہے تو پھر میرے بھی کپڑے پہنے نہ پھر دیکھوں گی کیسے میرا سب تمہارا اور تمہارا سب میرا ہے جیسے ڈائیلاگ مارتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
نور یہ سب صرف سوچ ہی سکی کہنے کی جرأت کہاں تھی اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔
نور اپنے ہی خیالوں میں گم تھی چونکی تو تب جب سالار نے پیچھے سے اسکے گرد حصار باندھا۔۔۔۔۔۔
نور ایکدم ہڑبڑا گئ اور اسی ہڑبڑاہٹ کے چکر میں آگے ہونے کی بجائے بے ساختہ ہی پیچھے ہوئی ۔۔۔۔۔۔
سالار جو آنکھیں موندے دھیرے سے کھڑا اسے محسوس کر رہا تھا کہ اسکے ایکدم پیچھے ہٹنے سے وہ عین سمیت پیچھے کی جانب بیڈ پر سیدھا گر گیا
نور تو اس اچانک پڑنے والی افتاد پر گھبرا ہی گئی اسکے تو چھکے ہی چھوٹ گئے شرم سے اسکے گال لال ٹماٹر ہوچکے تھے دل تو مانو کود کر باہر آنے کی کوششوں میں تھا
نور نے جھجھکتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔ جتنا وہ اٹھنے کی کوشش کرتی اتنا ہی وہ زور سے گرتی ۔۔۔۔۔
سالار اسکے لرزتے وجود کو شدت سے محسوس کر رہا تھا مگر اسکی بوکھلاہٹ اسے زیادہ مزا دے رہی تھی کہ اسکی ہنسی چھوٹ گئی
اتنا دم تم میں نہیں جو سالار شجاعت کا مضبوط حصار توڑسکو
۔۔۔۔۔جنم۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کی گرم سانسیں اسے اپنی گردن پر محسوس ہو رہیں تھیں جس سے وہ اور زیادہ گھبراہٹ میں مبتلا ہو رہی تھی
مممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ میںںںںںںں۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا بکری کی طرح میں ، میں لگائی ہوئی ہے تم نے۔۔۔۔
سالار اسکی بوکھلاہٹ کو انجوائے کرتے ہوئے اسے اور تنگ کر رہا تھا
مجھ۔۔۔۔ مجھے نیند آرہی ہے ۔۔۔۔۔ مجھے سونا ہے۔۔۔۔۔نور نے مری ہوئی آواز میں منمناتے ہوئے اس سے کہا
سالار نے اسے اور تنگ کرنا تھا مگر پھر اس پہ ترس آگیا اور اپنے حصار سے آزاد کیا
چلو لگتا ہے تم نے بھانگ پی لی ہے اور اسکا نشہ تم پہ حاوی ہو چکا ہے نہ جانے میرا نشہ کب تم پہ حاوی ہوگا
سالار نے اٹھتے ہوئے بے چارگی سے کہا مگر نور تو اپنی جان چھوٹنے پہ شکر کرتی ہوئی بلینکٹ سر تک اوڑتے ہوئے فٹ سے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔۔
سالار جانتا تھا کہ اس نے اسکی کوئی بات نہیں سنی پھر کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد جب اسے لگا کہ وہ سو چکی ہے تو اسے سر پر بوسا دے کر اٹھا اور وائٹ کوٹ پہن کر کمرے سے باہر نکل گیا اب عین صبح سے پہلے بلکل بھی نہیں جاگے گی تب تک وہ اپنا کام مکمل کرکے واپس بھی آجائے گا۔۔۔
سالار سیدھا پورچ میں گیا اور گاڑی نکال کر اس میں بیٹھا اور زن سے نکل گیا اب وہ خوفناک وحشی سالار شجاعت تھا عین کے سامنے والا سالار تو کہیں غائب ہو چکا تھا یا شائد وہ تو صرف عین کے لئے ہی تھا مگر باہر دوسروں کے لئے وہ وحشی درندہ تھا


سامنے کھڑی لڑکی ایک قدم پیچھے ہٹی ۔۔۔۔۔
میکی نے اسکے گریز کو ہچکچاہٹ سمجھا اور پھر مسکراتے ہوئے ایک ہی جست میں اسکے مقابل آکر اسے اپنی گرفت میں کر لیا
میکی کی جان کیوں اتنا شرما رہی ہو یار پہلے ہی اتنا لیٹ آئی ہو
اوپر سے مجھے اور تڑپائے جا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔ایک منٹ یہ تم نے نقاب کیوں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ مجھ سے کیسا پردہ بےبی ۔۔۔۔
ہٹاؤ اسے مجھے اپنے دلنشین چہرے کا دیدار کرنے دو۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ اسکا نقاب ہٹانے لئے آگے بڑھایا تو سامنے کھڑے وجود نے اپنا چہرہ پیچھے کر لیا اور نفی میں سر ہلایا جیسے اسے روکنا چاہا ہو اور ساتھ ہی اسے دھکا دے کر خود کو اسکی گرفت سے نکالا
میکی دو قدم پیچھےہٹا مگر پھر سنبھل کر دوبارہ اسے قابو کیا اب اسے غصہ آرہا تھا اس پہ۔۔۔۔
کیا چیز ہو تم میں جتنی نرمی برت رہا ہوں تم اتنا ہی سر پر بڑھے جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔
میکی آگ بگولا ہو کر اسکی طرف بڑھا اور ایک ہی جھٹکے سے اسکا حجاب اتار پھینکا
ایسا کرنے سے اسکے بال بکھر کر چہرے پر پھیل کر اسے چھپا گئے تھے
میکی کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو سر پٹ بھاگی
میکی نے اسے بھاگتے ہوئے دیکھا تو اسے خونخوار نظروں سے گھور تے ہوئے اسکے پیچھے لپکا
رباب جو نور کا گیٹ آپ لے کر اسکے پتے پہ آئی تھی اب مزید ضبط کھوتے ہوئے لرزتی ہوئی ٹانگوں سے وہاں سے بھاگی آخر تھی تو وہ ایک لڑکی ہی چاہے کتنی بھی بولڈ کیوں نہ ہو ہر لڑکی کو اپنی عزت سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور جب وہ ہی خطرے میں ہو تو دل موت کو ترجیح دیتا ہے
رباب جتنا تیز بھاگ سکتی تھی بھاگ رہی تھی وہ کسی بھی صورت میکی کے ہاتھ نہیں لگتا چاہتی تھی ۔۔۔۔ ابھی تو وہ نور کے دھوکے میں ہی اتنا غصہ کر رہا ہے تو جب اسے حقیقت پتہ چلے گی تو نہ جا نے وہ میرے ساتھ کیسا سلوک کرے گا ۔۔۔۔ رباب نے بے ساختہ جھر جھری لی۔۔۔۔۔۔۔وہ بار بار اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ اللہ سے اپنی حفاظت کے لئے دعاگو بھی تھی۔۔۔۔۔
میکی بھاگتے ہوئے اسے آوازیں دے کر ڈرا رہا تھا کہ وہ سامنے آجائے مگر وہ تھی کہ سامنے ہی نہیں آرہی تھی
رباب نے جب میکی کی آواز قریب سے سنی ایک طرف بنی جگہ پہ چھپ کر بیٹھ گئی
عینی بےبی کہاں ہو آپ اب بس آجاؤ نہ سامنے اور مت ترساؤ
عینی۔۔۔۔۔!!
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔
یار تو مجھ سے ایسے ڈر رہی ہو کہ جیسے میں تمہیں زندہ کھا ہی جاؤں گا چلو بس بہت ہوگیا یہ لکا چھپی کا کھیل اور موڈ نہیں ہے میرا یہ سٹوپڈ سی گیم کھیلنے کا ۔۔۔۔۔۔۔ میکی باتیں کرتے ہوئے ساتھ ساتھ اپنی نظریں بھی گھماتا جارہا تھا کہ اسے ایک جگہ کچھ رنگین نظر آیا وہ شائد عینی کے کپڑے تھے
میکی کے لبوں پر شاطر مسکراہٹ چمکی ۔۔۔۔۔۔۔۔
او تو یہاں ہے میری بےبی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میکی دل میں ہی بولتا ہوا دھیرے سے اس طرف بڑھا
رباب ڈری ہوئی بیٹھی تھی کہ اچانک کسی نے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف پلٹا۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی میکی کو عینی کی جگہ رباب کا چہرہ دکھا تو حیرانی سے ایک منٹ کے لئے تو کچھ بول ہی نہیں پایا
رباب اسے دیکھ کر سفید پڑچکی تھی
تم ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔ یہاں۔۔۔۔کک۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
حیرت کے مارے اسکی بولتی ہی بند ہو گئی تھی
او تو دھوکہ دیا تم نے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ میرے ساتھ چالاکی۔۔۔۔۔۔میکی کے ساتھ فراڈ ۔۔۔۔۔۔ اب تم مجھ سے کیسے بچوگی ۔۔۔۔۔ عینی کو تو میں حاصل کر ہی لوں گا مگر تمہیں میں اب کسی قیمت نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔ تیرا تو میں وہ حشر کروں گا کہ تجھے کوئی پہچان ہی نہ پائے گا۔۔۔۔۔
میکی نے سفاکیت سے کہتے ہوئے اس کی طرف بڑھا
رباب ہمت کرکے پھر سے اٹھی اور پھر سے بھاگنا شروع کردیا اس کی یہی کوشش تھی کہ وہ مر جائے گی مگر اسکے ہاتھ کسی قیمت نہیں لگے گی۔۔۔۔۔۔
رباب بھاگتی جارہی تھی اسے بس میکی سے میلوں دور رہنا تھا
رباب بھاگ رہی تھی کہ اچانک اسکا پاؤں مڑا اور وہ منہ کے بل گرنے ہی لگی تھی کہ کسی نے اسے گرنے سے بچا لیا
رباب جو آنکھیں بند کیے کسی کی بازؤوں میں لٹکی ہوئی تھی کہ کسی مانوس آواز کے آنے پر فورا”سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔۔
اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر رباب بے ساختہ اللہ کا شکر ادا کیا کہ ایک بار پھر اس نے اسکی عزت کی حفاظت کی تھی
رباب ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہو یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے کیا ہوا ہے رباب تم۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔ سب ۔۔۔۔۔کیا کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔تم ۔۔۔۔
ٹھیک تو ہو۔۔۔۔۔. برہان اسکی بکھری ہوئی حالت دیکھ کر سخت گھبرا گیا تھا اوپر سے وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے جارہی تھی اس نے اپنے ساتھ لگی رباب کو دیکھا اور پھر اردگرد کہ جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برہان اسکی حالت پہ پریشان اس پر چیخ پڑا۔۔۔
رباب میرا دل بند ہو جائے گا میری جان پلیز کچھ تو بولو۔۔۔۔
رباب کو برہان کی بھیگی بھاری آواز سنائی دی جیسے وہ بمشکل خود کو رونے سے روک رہا ہو رباب کی حالت ہی ایسی تھی بنا دوپٹے کے بکھرے الجھے بال اجڑی اجڑی سی حالت اسکا دل چیر رہی تھی کیا کچھ اسکے دماغ میں نہیں آرہا تھا مگر وہ سختی سے تمام بری زہریلی سوچوں کو جھٹکے جارہا تھا
ب۔۔۔۔۔ ببر۔۔۔۔ بر۔۔۔۔۔ ہا۔۔۔۔۔ن. ۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ یہاں سے چلو ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز جلدی سے چلو پلیییییییزززز۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ربط الفاظوں سے رباب نے اٹکتے ہوئے اس سے التجا کی ۔۔۔۔۔ اس وقت وہ کہیں سے بھی نڈر شرارتی رباب بلکل نہیں لگ رہی تھی برہان کو۔۔۔۔۔۔۔
حالات کے مدنظر برہان نے مزید کچھ بھی پوچھے اسے اپنے گھیرے میں لے کر گاڑی میں آکر اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور پھر منہ پر ہاتھ پھیر تے لرزتے ہاتھوں سے گاڑی سٹارٹ کی اور اس سنسان علاقے سے نکل گیا


میکی رباب کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک کہاں غائب ہو گئی وہ کہ اچانک اسے ایسے لگا کہ جیسے کوئی اسکے پیچھے کھڑا ہوا ہے
اس نے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی سفید کپڑوں میں عجیب سا آدمی کھڑا تھا وہ اسے سرد لال آنکھوں سے گردن ٹیڑھی کیے اسے وحشی نظروں سے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے ایک شکار اپنے شکاری کو دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار اپنے سامنے کھڑے بندے کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ اس چہرے کو مسخ کر ڈالے ۔۔۔۔۔ اسکی آنکھیں باہر نکال دے اسکی زبان چھلنی چھلنی کردے ۔۔۔
اور پھر اس نے ایسا کیا بھی ۔۔۔۔۔۔۔
میکی اسکی خوفناک آنکھوں کو دیکھ کر کانپ اٹھا تھا
کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تمہاری موت۔۔۔۔۔۔۔!!!!
سالار نے اسکے منہ پر مکوں کی برسات کردی ۔۔۔۔۔۔۔ میزی کو بنا موقع دیے وہ اسے اندھا دھند لاتوں گھونسوں سے مارے جا رہا تھا
میکی کو اپنا آپ اسکے آگے بہت معمولی لگ رہا تھا اوپر سے وہ حیران پریشان سا یہ بھی سوچ رہا تھا کہ وہ ہے کون جو اسے اتنی بری طرح مار رہا تھا
ہو کون تم ۔۔۔۔۔۔۔ میکی نے اس سے کانپتی آواز میں پوچھا
عینی چاہیے تمہیں ۔۔۔۔ گالی۔۔۔۔۔۔۔
وہ میری ہے صرف میری ہے میری عین ہے وہ میری صرف میری جان ہے وہ سالار کی عین ہے وہ اور ہمیشہ میری ہی رہے گی
میرے جیتے جی بھی میرے اور میرے مرنے کے بعد بھی ۔۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔۔۔صرف میری۔۔۔۔۔۔۔۔ سالار اسکے کانوں میں پھنکارا
سالار نے سپنے کوٹ کی جیب میں سے کچھ کانٹوں سے بھرا کوئی شے نکالی اور بنا کوئی موقع دیے اسکے چہرے پر ایک ضرب لگائی
آااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میکی کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی ۔۔۔۔
سالار نے اس پر رکنے پر اکتفا نہیں کیا اور لگاتار اسکے چہرے پر ضربیں کھاتا رہا وہ جنونی ہو چکا تھا
مم۔۔۔۔۔۔مممممم۔۔مجھ۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو
پلللللییییییز ۔۔۔۔۔ممممعاااافففی۔۔۔ فی۔۔۔۔۔ دے۔۔۔۔۔۔
اہ۔۔۔۔۔۔۔ آااااا۔۔۔۔۔!!!!
سالار نے اس کانٹے کو اسکے منہ کے اندر ڈال دیا اور بے دردی سے اسکے حلق میں انڈیلتے ہوئے کھنچا جس سے اسے بہت شدید تکلیف ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ اسکا حال ایسا تھا کہ وہ اپنی تکلیف کو چیخ کر بھی نہیں بیاں کرسکتا تھا
سالار نے ابھی بھی اسے نہیں بخشا اسی کانٹے کو اسکی آنکھوں میں باری باری پیوست کیا اسکی آنکھوں سے خون نکلنے لگ گیا تھا فوارے کی طرح نکلتے خون نے اسکے کپڑوں کو بھی داغدار
کر دیا تھا
سالار کے ہاتھ خون سے بھر چکے تھے
میکی زمین پر لیٹا بری طرح تڑپ رہا تھا اسکا چہرہ تک مسخ ہو چکا تھا
کچھ دیر اسکی تکلیف کو دیکھنے کے بعد جب میکی تکلیف سے بے ہوش ہوگیا تو سالار اٹھا اور جانے سے پہلے اسکی ایک ایک انگلی کو پکڑ کے توڑ دیا
ایک نفرت بھری نگاہ اس پر ڈال کر وہ پلٹ گیا
سالار جب گھر پہنچا تو رات کے تین بج رہے تھے وہ سیدھا واشروم گیا کپڑے بدلنے کے بعد وہ گھر کی پچھلی سائڈ اپنے خون سے بھرے کپڑوں کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا گیا اور عین کے ساتھ آکر لیٹ گیا
کچھ دیر چھت کو گھور نے کے بعد سالار نے عین کا سر اٹھا کر اپنے سینے پر رکھ لیا اور سکون سے مطمئن چہرے کے ساتھ آنکھیں بند کر لیں جیسے وہ تو کچھ کرکے ہی نہ آیا ہو۔۔۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔!!!!!!