Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224

Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Last updated: 9 September 2025

54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Junoon

By Naina Khan

 

نور شیشے کی دیوار کے سامنے کھڑی بڑی سی مچھلی کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی کہ اسے سالار نے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا گیلے نم بال اسکے کندھے کو بھگو رہے تھے نور سر جھکائے اسے محسوس کر رہی تھی نہ جانے سالار نے اس پر ایسا کیا جادو پھونکا تھا کہ وہ اسے روک بھی نہ پائی تھی۔۔۔ تم جانتی ہو عین مجھے تم سے محبت کب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ جب تم پانچ سال کی تھی تب سے ۔۔۔۔ تب سے تم نے مجھے قید کر لیا تھا میں اس دن کسی سے کر آیا تھا کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ کوئی مجھے پیار نہیں ۔۔۔۔۔ نہیں کرے۔۔۔۔گا۔۔۔۔۔۔ میرا خیال نہیں رکھے گا۔۔۔۔۔۔ میرے موم ڈیڈ کی طرح مجھے ہمیشہ کے لئے سب اکیلا چھوڑ دیں گے ۔۔۔۔۔۔ میں ساری زندگی محبت کے لئے ترسوں گا ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ اور سسک سسک کر یونہی مر جاؤں گا لیکن دیکھو تم ۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔۔ آئی میرے پاس ۔۔۔۔۔ مجھے سہارہ دینے ۔۔۔۔۔ مجھے خوشیاں دینے۔۔۔۔میرے جینے کی وجہ بن کر ۔۔۔۔۔۔ سالار نم آواز میں اسے اپنے دل کی تمام روداد سنا رہا تھا جو اس نے کئی سالوں سے اپنے دل میں دبا کر رکھی تھی اب وہ دونوں صوفہ پر آگئے تھے اور سالار نے اپنا سر اسکی گود میں رکھ دیا تھا اور اسکے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھے پھر سے بولنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔ میں اس وقت میٹرک میں تھا جب میری لڑائی کچھ لڑکوں سے ہوئی تھی گھر واپس آکر میں باغ کے پچھلی سائڈ والی جگہ پر چلا جاتا تھا جہاں میں جی بھر کر روتا تھا۔۔۔۔ یہ بات کسی کو بھی آج تک نہیں پتہ چلی عین۔۔۔۔۔ لیکن میں آج صرف تمہیں بتا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اس دن بھی میں رونے کے لئے ہی گیا تھا وہاں مگر شائد خدا کو مجھ پر ترس آہی گیا تھا اسی لئے تمہاری صورت مجھے اللہ نے ایک پیاری سی ہری پری دے دی تھی ہری پری کہنے پر نور کے لب مسکرائے تم نہ جانے کہاں سے رینگتے رینگتے وہاں آگئی تھی اور آتے ہی مجھے دیکھ کر اونچا اونچا ہنسنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔ ہاہا۔۔۔۔۔ سالار بتاتے ہوئے ہنس پڑا سچ میں آج بھی جب وہ سب یاد کرتا ہوں نہ تو تمہاری شکل سوچ کر بہت ہنسی آتی ہے کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ نور نے بے ساختہ پوچھا وہ اس لئے جنم کیونکہ تمہارے دو اوپری دانت کے علاوہ اور کوئ بھی دانت نہیں تھا تم ہنستے ہوئے بہت عجیب سی لگی تھی مجھے حالانکہ تم سب کو کیوٹ لگتی تھی پر پتہ نہیں مجھے کیوں عجیب سی لگتی تھی پر اچھی والی عجیب لگتی تھی مجھے۔۔۔ اسکی بات پر نور نے منہ پھلالیا مگر سالار اپنی ہی رو میں بولے جارہا تھا تم سیدھا میری طرف آئی تھی اور آتے ہی میری گود میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔ نور کے شرم سے لال ہوئے ہائے نور کتنی بے شرم تھی تم بچپن میں کسی بھی لڑکے کے گود میں جاکر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔ پھر تم ٹکر ٹکر مجھے گھورنے لگی ۔۔۔۔ لیکن میں تمہیں حیرانی سے دیکھ رہا تھا کہ کوئی بھی بچہ جس کے پاس نہیں آتا تھا اس کے پاس تم کیسے آگئی۔۔ ابھی میں اسی حیرانگی میں تھا کہ تم نے میرے چہرے پر اپنے ہاتھ مارنے شروع کردئیے اور مارتے ہوئے تم مسلسل کھلکھلا رہی تھی نور دلچسپی سے اسکی بات سن رہی تھی کہ اسے یہ سب سننا بہت اچھا لگ رہا تھا مجھے بہت سکون ملا تھا نور تمہارے ایسا کرنے سے کیونکہ جسکے گالوں پہ ہمیشہ سختی کی مار پڑی ہو اگر وہاں معصومیت بھرے نرم نازک ہاتھ خوشی سے تھپتھپا رہے ہوں تو تو وہ تھپتھپاہٹ زخموں پہ مرہم محسوس ہوتی ہے تم مجھے دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھی مجھے تمہاری مسکراہٹ بہت اچھی لگ رہی تھی مجھے اس سے سکون مل رہا تھا پھر اسی پل تم نے ہی میرے تمام سوالوں کے جواب دے کر مجھے اک نئی زندگی سے روشناس کروایا تھا عین۔۔۔۔۔۔ کون سے سوالوں کے جوابات۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ نور نے تیزی سے پوچھا تھا جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔