54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

سالار ایک بار پھر بزنس میٹنگ کے لئے لندن جا چکا تھا
اس لئے رباب بڑی بے فکری سے نور کے آس پاس تھی اس نے اپنے بارے میں کسی کو بھی نہ بتایا تھا
آصفہ بیگم کو جب یہ معلوم ہوا کہ نور کی کی طبعت ناساز ہے تو وہ فورا” نور سے ملنے چلیں آئیں
کیسی ہے میری بیٹی اب۔۔آصفہ بیگم نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر تے ہوئے پوچھا
ٹھیک ہوں اب میں پھپھو جانی آپ پریشان مت ہوں
نور اب پہلے سے کافی بہتر تھی
کیسے پریشان نہ ہوں دیکھو تو کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے کتنی کمزور ہو گئی ہو اور رنگ دیکھو کتنا پھیکا پڑ گیا ہے میری بچی کا۔۔۔
شمائلہ بیگم ان کے لاڈ پیار سے نہال ہوئی جا رہی تھیں کہ کوئی ان کی بیٹی سے ان کی طرح پیار کرتا ہے
ویسے تو سب ہی اسکے لاڈ اٹھا تے نہ تھکتے تھے مگر آصفہ بیگم کی تو بات ہی الگ تھی انہوں نے اسے اپنے سگے بچوں سے بڑھ کر چاہا تھا نور میں تو ان کی جان تھی
نور دواوں کے زیر اثر تھوڑی ہی دیر میں سو چکی تھی پھر اسکے ڈسٹرب ہونے کے خیال سے دونوں لاؤنج میں آگئی تھیں جہاں دادا جان اپنی خاص نشست پر براجمان تھے وہ دونوں جا کر ان کے پاس بیٹھ گئیں
حال احوال دریافت کرنے اور پھر چند ادھر’ادھر کی بات کر نے کے آصفہ بیگم نے دادا جان کو مخاطب کر ڈالا
ابو جان مجھے آپ سے کچھ چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔لاڈ بھرے لہجے میں آصفہ بیگم نے دادا جان کا ہاتھ پکڑ کر کہا
ارے آج میری آصفو کہاں سے آگئی۔۔۔۔۔ مرزا سکندر انہیں بچپن میں پیار سے کہا کرتے تھے
مانگو کیا چاہیے میری بچی کو۔۔۔۔۔۔ شمائلہ بیگم ان دونوں کے انداز کو دیکھ کر ہلکا ہلکا مسکرا رہیں تھیں
ابو جان مجھے نورالعین چاہیے اپنے ارفعان کے لئے۔۔۔ آصفہ بیگم نے بغیر بات کو گول گھما پھرا کر کرنے کے بجائے سیدھا سیدھا بول دیا
شمائلہ بیگم تو خوش ہو گئیں انہیں تو کب سے یہی خواہش تھی مگر بیٹی کی ماں ہونے کی وجہ سے کبھی کچھ کہہ نہ سکیں
مجھے خوشی ہے کہ تم نے ایسا سوچا مگر میں نے نور کے لئے سالار کو سوچ رکھا ہے سالار کی جیسی زندگی گزری ہے احساس کمتری اور محرومیوں میں تو میں چاہتا تھا کہ اس کے لئے کوئی ایسا کوہ نور پاؤں جو اسکی زندگی میں نور ہی نور بکھیر دے اسے اپنا غمزدہ ماضی بھلانے میں مدد کرے اسے نئ حسین دنیا میں لے کر جائے میں اسکے چہرے پہ وہ سکون دیکھنا چاہتا ہوں جو میں کئی سالوں سے نہیں دیکھ پا رہا ہوں بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی
اس لئے نور سے بہتر تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔ ان کی بات پر آصفہ بیگم کا چہرہ بجھ سا گیا جبکہ شمائلہ بیگم تھوڑی حیران سی ہوئیں تھیں
کوئی شک نہیں تھا کہ سالار بزنس اور پرسنالٹی کے لحاظ سے ارفعان سے سو گنا بہتر تھا مگر ایک تو عمر اور مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا اس لئے وہ تھوڑی حیران ہوئیں تھیں مگر پھر سنبھل گئیں اور ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئیں
مرزا سکندر نے جب ان کے بجھے ہوئے چہرے کو دیکھا تو انکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
مگر مجھے باقیوں کا بھی خیال ہے لیکن کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے میں نور بیٹے سے ضرور پوچھوں گا آخری فیصلہ میری بچی کا ہی ہوگا
میں کسی کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کروگا
کیوں شمائلہ بہو تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں نہ۔۔۔۔۔۔۔ ان سے بات کر کے انہوں نے شمائلہ بیگم سے رائے جانی چاہی
نہیں ابو جان آپ کی ہر بات سے میں متفق ہوں
ان کی بات پر دونوں مسکرا دیے اور لاٹھی اٹھا کر نور کے کمرے کی طرف چل دیے اور انہیں یہیں بیٹھ کر انتظار کر نے کا کہا
دادا جان جب نور کے کمرے میں داخل ہوئے نور عصر کی نماز پڑھ کر ابھی فارغ ہوئی تھی اسکے چہرے پہ نور ہی نور تھا بلکل اسکے نام کی طرح ۔۔۔۔
نور نے ان کی طرف دیکھا تو بے ساختہ آگے بڑھ کر بولی ارے دادا جانی آپ کیوں آگئے مجھے بلا لیا ہوتا نہ۔۔۔۔۔۔۔
انکے ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھآیا
کیوں کیا میں اپنی بیٹی کے کمرے میں نہیں آسکتا کیا
ارے نہیں نہیں دادا جانی ایسی بات نہیں وہ دراصل آپ کی طبعت کی وجہ سے کہہ رہی تھی میں
چھوڑو بیٹا کیسی طبعت تم نے کیا مجھے بوڑھا سمجھ رکھا ہے ابھی تو میں جوان ہوں وہ تو الگ بات ہے کہ تمہاری دادی جلدی بوڑھی ہو کر جنت سدھار گئیں
اس بات سے دونوں ہنسنے لگے
میرا بیٹا کیسا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
پیار سے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
میں اب بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔ مسکراتے ہوئے نور نے ان سے کہا
نور بیٹا میں ایک خاص مقصد سے آیا ہوں مجھے امید ہے کہ آپ گھبراؤگی نہیں اور سوچ سمجھ کے فیصلہ کروگی
انکی بات سن کر نور الجھ سی گئی
کیسی بات دادا جانی۔۔۔۔۔۔۔۔!
بیٹا آصفہ نے تمھارے لئے ارفعان کا رشتہ ڈالا ہے مگر میں نے تو سالار کا سوچ رکھا تھا اب تم ہی فیصلہ کرو کہ تم ان دونوں میں سے کسے چنتی ہو
دادا جان نے تو بم ہی پھوڑا تھا اسکے سر پر نور کا تو سالار کا نام سن کر ہی دھچکا لگا
دادا جان نے اسے اپنی طرف حیران نظروں سے دیکھتے ہوئے پایا تو گلا کھنکار کر اپنی طرف متوجہ کیا
بولو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کچھ سمجھ نا آیا تو نور ایکدم سے بولی
دادا جانی ابھی تو میں پڑھ رہی ہوں تو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا کہہ کر نور خاموش ہوگئی اور بے چارگی سے دادا جان کو دیکھنے لگی
او ہو بیٹا جانی اس میں تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے بیٹا ابھی تو صرف نکاح ہوگا اور پھر رخصتی آپ کی پڑھائ مکمل ہونے کے بعد جب آپ کہیں
اب نور کیا کہتی کبھی نہ کبھی تو یہ سب ہونا ہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہستہ آواز میں کہا گیا
شاباش میرا سمجھدار بچہ اب یہ بھی بتا ہی دو کہ میں آصفہ کے لئے ہاں سمجھوں یا پھر سالار کے لئے۔۔۔۔امید بھری نگاہ ڈالی
سالار بھائ تو کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔میں ان کے ساتھ نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔
نور نے بے ساختہ جھر جھری لی
وہ دادا جانی آپ,۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ آصفہ پھپھو کو ہاں بول دیں
سر جھکا کر دادا جان کو اپنا جواب دے دیا
اسکے جواب پر پہلے تو وہ بجھ سے گئے پھر سنبھل گئے
خوش رہو بیٹا اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے اور باہر نکل گئے
جب انہوں نے اسکا فیصلہ آصفہ بیگم کو سنایا تو انکے ساتھ شمائلہ بیگم بھی خوشی سے نہال ہوگئیں
آصفہ بیگم نے مٹھائی منگوا کر سب میں بانٹی اور منہ بھی میٹھا کرو آیا نور کے سر کا صدقہ بھی دیا
گھر کے مردوں سمیت سب ہی دادا جان کے فیصلے سے متفق تھے
ینگ پارٹی نے تو نور کے کمرے میں دھاوا ہی بول دیا اور نور کی وہ کھنچائی کی کہ نور کا تو گھر سے بھاگ جانے کا جی چاہا رباب تو کچھ زیادہ ہی اس کے پیچھے پڑ گئی
جب بات برداشت سے باہر ہوگئی تو باتھروم میں بھاگ گئی اور خود کو بند کر دیا اور اپنے سرد چہرے پہ ہاتھ رکھ لئے
جبکہ اسکی اس حرکت پر فلگ شگاف قہقہے ابل پڑے


سالار جب میٹنگ سے نبٹ کر آرام کرنے کی غرض سے گھر پہنچا تو ایک بری خبر اسکا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی
سالار نے کوٹ اتار کر دور اچھالا ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی کہ اسکا فون رنگ کیا
فون پہ نمودار ہوتے نمبر کو دیکھ کر سالار نے جھٹ سے فون اٹھایا
بنا کچھ بولے دوسرے طرف کی بات سننے لگا
سالار کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا اس کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ کہ دوسری طرف سے کیا کہا گیا ہے
دوسری طرف سے فون کب کا کٹ چکا تھا مگر سالار فون کان سے لگائے ویسے ہی کھڑا تھا
اچانک سالار کے چہرے پہ غصے کے تاثرات نمودار ہوئے
اور جیسے طوفان سا آگیا سالار نے چیختے ہوئے پہلے تو موبائل توڑا پھر کمرے کی ایک ایک چیز تباہ کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔