Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 14 Part 1
Rate this Novel
Episode 14 Part 1
سالار کو سڈنی آئے ہوئے تین د ن ہوچکے تھے وہ عین کو چھوڑ کے یہاں کس طرح رہ رہا تھا یہ بس وہی جانتا تھا
ابھی بھی وہ موبائل میں اپنے روم کو دیکھ رہا تھا مگر وہاں عین نہیں تھی وہاں تو کیا وہ پورے پورشن میں ہی کہیں نہیں تھی
سالار جب سے گیا تھا عین واپس سے اپنے کمرے میں آگئی تھی
سالارکو معلوم تھا کہ ایسا ہی ہوگا مگر اس نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا
اچھا کیا تم نے عین ورنہ جب میں واپس آؤں گا تو تم کو کسی سے ملنے تو کیا اسے دیکھنے اور سوچنے کی بھی اجازت نہیں دوں گا
تب تم صرف مجھے دیکھو گی۔۔۔۔۔۔
مجھے سنو گی۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے سوچو گی۔۔۔۔۔۔۔
مجھے چاہو گی۔۔۔۔۔۔۔
صرف مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف عین کے سالار کو۔۔۔۔۔!!!!!
اور۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار بھی تمہیں ہی دیکھے گا سو چے گا سنے گا اور چاہے گا بھی تمہیں ہی۔۔۔۔۔۔۔
ہاں عین۔۔۔۔۔۔۔!
عین کا سالار صرف تم سے ہی پیار کرے گا۔۔۔۔۔۔۔
بے تحاشہ۔۔۔۔۔۔۔
بے حساب۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تمہارے سالار نے تم سے تمہاری اجازت کا وعدہ کیا ہے مگر میں نے یہ بھی تو کہا تھا تم سے کہ میں چھوٹی موٹی شرارتوں کے لئے تم سے اجازت نہیں لوں گا
سالار موبائل پہ عین کی نکاح والے ڈریس میں فوٹو دیکھ کر بات کر رہا تھا کہ جیسے یہ فوٹو نہیں سچ میں خود عین ہی ہو اس وقت وہ باتیں کرتا ہوا کوئی دیوانہ ہی تو لگ رہا تھا
اگر عین اسکی باتیں سنتی تو ضرور سوچتی کہ ابھی تو بے تحاشہ بے حساب پیار کی بات کر رہا تھا اور اب اسے چھوٹی موٹی شرارتوں کا نام دے رہا ہے
سالار کے لئے یہ صرف کچھ ہی تو تھا کیونکہ عشق تو سالار نے کیا ہے پل پل تڑپا تو سالار ہے عین تو شائد ابھی محبت کے لفظ
سے ہی نا آشنا ہے تو عشق تو بہت دور کی بات ہے اسکی پہنچ سے بہت دور ۔۔۔۔
اور نہ جانے وہ کب اس تک پہنچ پائے گی یا پھر پہنچ ہی نہ سکے یا شائد پہنچنے ہی نہ دیا جائے لیکن اگر کسی طرح پہنچ بھی جاتی ہے تو کیا وقت کے رہتے اسے کامیاب کر پائے گی اسے اسکی منزل سے ملنے دے گی یا پھر یونہی اپنی معصومیت میں
تہی داماں رہ جائے گی۔۔۔۔۔۔
یہ تو وقت ہی بتائے گا۔۔۔۔۔۔
لیکن وقت تو تب بتائے گا نہ کہ جب قسمت اسے کچھ بتائے گی۔۔
میزی بیٹا یہ آپ کن چکروں میں پڑی ہوئی ہیں کل آپ کی انگیجمنٹ ہے اور آپ کی ڈیٹیں ہی نہیں ختم ہو رہیں آپ کے
پاپا بہت پریشان ہیں اگر ایاز کو پتہ چل گیا تو کہیں رشتہ ہی
نہ ختم کر دے اور آپ جانتی ہیں نہ کہ اس سے بزنس پہ کیسا
اثر پڑے گا۔۔۔۔۔
مسز سہیل خان نے بظاہر تو بڑے پیار سے کہا تھا مگر دل تو چاہ
رہا تھا کہ منہ توڑ کے رکھ دیں اس سوتیلی بیٹی کا مگر خون کے
گھونٹ پینا پڑے
او ۔۔۔۔۔۔ گاش۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو کیا تکلیف ہے مسز سہیل خان میری ماں کی جگہ ہیں مگر
میری ماں ہے نہیں آپ جو میرے ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتی رہتی ہیں آپ،آئندہ آپ کی جرأت نہیں ہونی چاہیے انڈرسٹینڈ ایک تو میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں اور آپ میری پریشانی بڑھا نے کے علاوہ کرتی ہی کیا ہیں ہونہہ بڑی آئیں کن چکروں میں پڑی ہوئی ہو۔۔۔۔۔
پاؤں پٹختے ہوئے میزی وہاں سے چلی گئی اور سیدھا اپنے روم میں ہی جاکے دم لیا
ایک تو پتہ نہیں سیلی کہاں ہے۔۔۔؟؟؟
کہاں ہو تم سیلی پلیز واپس آجاؤ نہیں تو یہ لوگ میری انگیجمنٹ اس لچڑ سے کرا دیں گے
ابھی وہ پریشانی سے اس بارے میں سوچ رہی تھی کہ اسکے
موبائل پہ ایک میسج موصول ہوا
اس نے جب میسج اوپن کیا تو خوشی کے مارے اچھل ہی پڑی
اور جلدی جلدی اچھے سے تیار ہو کر ایک نظر اپنی تیاری پہ ڈال کر مطمئن ہوتی ہوئی گاڑی کی کیز اٹھا ئیں اور خوش خوش چلدی۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان کو کسی کام سے صدیق صاحب نے دوسرے شہر بھیجا تھا
اسکی واپسی ایک ہفتے سے پہلے نہیں ہونے والی تھی اس لئے
رباب کا موڈ کچھ آف تھا صبح سے وہ غصے میں نہ جانے کتنی بار برہان کو صلواتیں سنا چکی تھی
خود تو چلا گیا مجھے پھنسا گیا یہاں چھمک چھلو نہ ہو تو۔۔۔۔
رباب کلاس اٹینڈ کرنے کے بعد بڑبڑاتے ہوئے کاریڈور سے نکل رہی تھی کہ اچانک اسکی کسی سے ٹکر ہوگئی زمین آسمان اسکی
آنکھوں کے گرد گھومنے لگے تھوڑی دیر بعد جب حواس بحال
ہوئے تو غصے سے بولنے کے لئے کھلا ہوا منہ سامنے دیکھ کر کھلا کا کھلا رہ گیا سامنے والے کا بھی یہی حال تھا
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
دونوں ایک ساتھ بولے
تم ۔۔۔۔۔ تم وہی ہو نہ الٹی والی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتا رباب نے غصے سے اسکی بات کاٹی۔۔۔۔۔۔۔۔
او ۔۔۔۔۔ ڈیکی میکی اپنی حد میں رہو یہ الٹی والی کسے بولا
الٹے تو تم ہو الٹی حرکتیں جو کرتے ہو ۔۔۔۔ شکر کرو تمہیں تو ہم
نے صرف بیوقوف بنایا تھا ورنہ میرا تو دل کر رہا تھا کہ تم جیسے لوگوں کو تو جہنم واصل کردینا چاہیے
کمینے چھچھورے کہیں کے آئندہ اپنا یہ لیچڑ جیسا منہ لائے نہ
میرے سامنے تو تم مجھے جانتے نہیں میں رباب اکبر مرزا تمھیں
تمہاری ساری سگی سوتیلی جائز نا جائز نانیاں دادیاں یاد دلا دوگی آئی سمجھ میں ہونہہ بڑا آیا الٹی والی۔۔۔۔۔
رباب ساری اگلی پچھلی بلکہ برہان کے بھی حصے کی ساری بھڑاس میکی پر نکال کر یہ جا وہ جا ہوگئی جبکہ میکی تو غصے سے پیچ و تاب کھاکے رہ گیا
دیکھ لوں گا تمہیں میں رباب اکبر مرزا ابھی تم نے میرا اصل روپ نہیں دیکھا نہ بہت جلد یہ میکی تمہیں تمہاری اوقات ازبر
کرا دے گا وہ بھی سود سمیت۔۔۔۔۔۔۔
میکی غصے سے لہو چھلکاتی آنکھوں سے اسے جاتے ہوئے دیکھ کر بولا جو کب کی جا چکی تھی اپنی بربادی کو بلاوہ دے کر۔۔۔
میزی ریڈ ٹاپ پہنے بیچ پر کھڑی سیلی کا انتظار کر رہی تھی
آج اتنے دنوں بعد وہ سیلی کو دیکھے گی اس سے ملے گی۔۔۔۔۔
میزی کی سیلی سے ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی تھی سیلی میزی کو پہلی نظر میں ہی اچھا لگا تھا مگر اسکے لئے دیئے انداز دیکھ کر اسکی کبھی ہمت ہی نہیں ہوئی اسے مخاطب کرنے کی
سیلی تو ویسے بھی لڑکیوں سے خار کھاتا تھا اپنے میں مگن نہ جانے اسے کس چیز کا غرور تھا آہستہ آہستہ میزی کی پسندیدگی
پیار میں بدل گئی مگر سیلی تو اسکے پیار کو رد کرتا اسکی وقتی جزباتیت اور مکھیوں کی طرح ہر پھول پر منہ مارنے کا نام دے کر چلا گیا تھا جبکہ میزی غصے میں ہر وہ کام کرنے لگی
جو ایک مسلمان لڑکی ہونے کے ناطے ڈوب مرنے کا مقام ہو
مگر میزی تو ایسے کرتی جیسے یہ تو کوئی معمولی کام ہو
کلبنگ ڈانسنگ فلرٹنگ تو جیسے اسکا معمول بن گیا تھا
اسی دوران اسکی ملاقات میکائیل سے ہوئی وہ بھی اسی طرح کے شوق میں گم خوش شکل نوجوان تھا میزی اسے خاصی پسند آئی تھی اور وہ آہستہ آہستہ ہر جگہ اسکے ساتھ پایا جانے لگا میزی بھی اسکے ساتھ وقت گزارتی مگر کبھی حد پار نہیں کی تھی وہ خود کو ابھی بھی سیلی کی امانت سمجھتی تھی
اسکی آنکھیں ہر وقت اسے تلاشتی تھیں اور پھر شائد قدرت کو اس پہ ترس آہی گیا اور ایک پارٹی میں ہوئی سیلی سے اسکی
اتفاقا” ملاقات رفتہ رفتہ ہر روز میں بدلنے لگی سیلی کی بھی یکایک اس میں دلچسپی بڑھتی چلی گئی اور اب وہ بھی اسے
ٹائم دینے لگا تھا ہر جگہ دونوں ساتھ ساتھ رہنے لگے اسکے آنے سے میزی میکائیل کو اگنور کرنے لگی تھی جس کا میکائیل کو غصہ بھی آتا تھا مگر کیا کرتا مجبوری جو تھی جب تک اس سے اپنا کام نہیں نکال لیتا اسے چھوڑ نہیں سکتا تھا اب تو وہ اسکی ضد بن گئی تھی کہ ایک نہ ایک دن وہ اپنا کام پورا کرکے رہے گا
لیکن اب اچانک سیلی کی واپسی ایک بار پھر سے اسکے کام میں روڑے اٹکانے لگی تھی
میزی سمندر کی لہروں کی خوبصورتی میں اپنے آپ اور سیلی کا عکس دیکھ رہی تھی کہ ایکدم پیچھے سے کسی نے اپنی مضبوط بازؤوں سے اسکے گرد حصار باندھا میزی نے چونک کر دیکھا تو ہمیشہ کی طرح وہی اسٹائل وہی چھا جانے والی جاندار
مسکراہٹ لئے سامنے سمندر کے کھیل کو دیکھ رہا تھا
او۔۔۔۔۔۔۔۔ سیلی ۔۔۔۔۔ آئی ۔۔۔۔۔۔۔ مس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یو ۔۔۔۔۔۔۔۔سو۔۔۔۔سوسومچ مائے بےبی اسکے گال پر اپنے ہونٹ رکھے جزبات سے چور لہجے میں اپنی بےقراری جتائی
سیم ہیئر مائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیلی نے بھی اسکے گال پر اپنے دہکتے ہونٹوں کو رکھا اور زور سے کاٹا جسے میزی نے ہنستے ہوئے قبول کیا
اور پھر سیلی کو آنکھوں سے اسکی ادھوری بات مکمل کرنے کا بولا
مائے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
سیلی نے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا اور دو قدم اس سے دور کر ڈوبتے سورج پر نظریں جما کر چمکتی ہوئ آنکھوں سے محبت بھرے لہجے میں بولا
مائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیوٹیفل ایور گرین وائف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
میزی خوشی سے سرشار چمکتے چہرے کے ساتھ دوڑتے ہوئے زور سے اسکے گلے لگ گئی جبکہ سیلی اسکے گلے لگنے سے چونک گیا
اور اپنا ایک بازو اسکی کمر کے گرد رکھ کر دوسرے ہاتھ کو اپنی
پاکٹ میں ڈال دیا اور دور ڈوبتے سورج کو دیکھ کر مسکرا دیا
عین اپنے کمرے میں بیٹھی کل کے ٹیسٹ کے بارے میں تیاری کر رہی تھی کہ اسکے موبائل میں رنگ ہوئی اس نے چونک کر سر اٹھایا اور موبائل کو اپنی خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں سے غصے
سے گھورا جیسے اسکی بے وقت مداخلت سے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں نگلنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔
جب موبائل پھر بھی نہیں ڈرا تو کتاب کو ٹھک سے بند کر کے
موبائل کو ایسے اٹھایا کہ ابھی اسکی جان لے کر ہی دم لے گی
موبائل کی سکرین پر اسکی نظر پڑی تو انجانے نمبر سے کال آتی ہوئی موصول ہوئی نمبر کافی بڑا تھا اور پاکستان کا تو بلکل بھی نہیں لگتا تھا
اس نے زور سے یس کا بٹن پریس کیا اور کان سے لگا کر پھاڑ کھانے والے لہجے میں اگلے بندے کے چودہ طبق روشن کرنا شروع کردئیے
ہیلو۔۔۔۔۔ ہیلو ہیلو ہیلو دوزخی کہیں کے تمہیں چین نہیں ہے کہ پاکستان کی ایک نہایت ہی زہین فتین قابل ہوشیار معصوم اور
سب سے زیادہ عقلمند بچی پڑھائی میں ۱۵ چاند لگا نے کے لئے اتنی گرمی میں (نادیدہ پسینہ پونچھتے ہوئے) بیٹھی سر توڑ
محنت کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
لیکن نہیں تم کو کیا تم لوگ تو ہو ہی پاکستان کے دشمن تم لوگ تو چاہتے ہی نہیں ہو کہ پاکستان ترقی کرے تم انگریز فرنگی
افریقی اور اور جو کوئی بھی ہو آئندہ فون کرنے کی گستاخی
بلکل بھی مت کرنا ورنہ میں تمہارا نمبر رباب اکبر مرزا دی گریٹ
ایکٹر کو دے دوں گی اور پھر وہ تمہیں اپنی مردہ ایکٹنگ سنا سنا کر سنا سنا کر اس دنیا سے ہی اٹھا دے گی
سمجھ آئی کہ نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔
اگر نہیں آئی تو بھاڑ میں جاؤ میں کیا کروں۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔۔!
عین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
مسکراتی دھیمی گھمبیر آواز میں پکارا گیا
عین جو ابھی فون بند کرنے ہی والی تھی کہ موبائل میں سے اپنے نام کی پکار سن کر تو ڈر ہی گئی فون بمشکل چھوٹتے
چھوٹتے بچا۔۔۔۔
کک۔۔۔۔۔۔۔ کک۔۔۔۔۔ کون ۔۔۔۔۔ کون۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ہکلاتے ہوئے بمشکل پوچھا
عین کا سالار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جزبات سے چور محبت بھرے لہجے میں جواب دیا گیا
دوسری طرف عین تو بس بے ہوش ہونے کو تھی کہ اس نے اسے اتنا کچھ سنا ڈالا اب نہ جانے وہ کیا کرے گا کہیں فون سے ہی نہ
ہاتھ نکال کر میرا گلا دبا دے۔۔۔
آاا۔۔۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی لڑکھڑاتی ہوئی آواز پر سالار محظوظ ہوتا اسی کے انداز میں بولا
جی۔۔۔۔۔۔۔۔ جج۔۔۔۔۔۔۔۔۔جج۔۔۔۔۔۔۔ججی۔۔۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مم مم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں(کچھ زیادہ ہی ہو گیا)…
اسکی نقل اتارنے پر سالار کی خوبصورت چھوٹی سی پیشانی پر
دو لکیریں ابھریں۔۔۔
نہ۔۔۔۔۔ نہ نہ جنم میری چھوٹی سی پیشانی پر اتنا وزن مت ڈالو
ان دو لکیروں کا ابھار سہن نہیں کر پائے گی
عین نے سٹپٹاتے ہوئے ادھر’ادھر دیکھا کہ اسے کیسے پتہ چلا
پھر کچھ بولنے کی کوشش میں اپنے لب وا کئے ہی تھے کہ
سالار نے اسے پھر سے پکارا
عین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اس کی آواز نہیں آئی تو خود ہی بول پڑا
عین جنم ہنس کر دکھاؤ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیار بھرے لہجے میں عجیب سی فرمائش کی گئی عین کو تو ایسا ہی لگتا تھا
عین تو کنفیوژن کے مارے کچھ کہہ ہی نہیں پارہی تھی
میں تمہیں ۵ منٹ بعد فون کرتا ہوں یہ کہہ کر سالار نے فون بند کر دیا
ابھی وہ موبائل کو گھور ہی رہی تھی کہ ٹھیک ۵ منٹ بعد پھر سے فون بجا۔۔۔۔
اس نے فون اٹھا کر کان سے لگا یا سالار نے جھٹ سے کچھ بھی سنے اس سے کہا
عین جنم کھڑکی میں دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
عین حیران پریشان سی کھڑکی کے پاس گئی اور پردہ ہٹا کر باہر جھانکا تو بے ساختہ اسکے ہونٹوں پر ہنسی امڈ آئی
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر عین پیٹ پکڑ کر بچوں کی طرح کھلکھلا کر ہنس رہی تھی اور ادھر سالار آنکھیں موند اپنے بستر پر نیم دراز فون ریکارڈ پر
لگائے اسکی نرم مسحور کر دینے والی جلترنگ ہنسی کو اپنے وجود کی پور پور میں اتار رہا تھا
جبکہ عین فون کو بھلائے نان سٹاپ ہنسے ہی جارہی تھی
اسکے اس طرح ہنسنے سے اسکی سبز آنکھوں سے آنسو کسی موتی کی طرح بہے جا رہے تھے
سامنے کا منظر کچھ یوں تھا کہ سالار کا پینسنٹھ سالہ پرسنل شیف بنیان پہنے لان میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ سانس کھینچ کر زور زور سے ہنس رہا تھا
جبکہ اسکے چہرے پہ سراسیمگی چھائی ہوئی تھی ہلتی ہوئی توند اور زور سے ہنسنے کے ساتھ فیس کے ایکسپریشن خاصے مضحکہ خیز تھے جسے دیکھ کر عین بے ساختہ ہنسے ہی جارہی تھی
یہ سب سالار کا ہی بندوبست تھا اسکی ہنسی سننے کے لئے اور وہ سو فیصد کامیاب بھی ہو چکا تھا اسکی کھنکتی ہنسی کی صورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
