54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

میں سہی کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ آپ کا آپ کی وائف کو وہاں لے کے جانا خطرناک ہو سکتا ہے
ایک بار پھر سے کوشش کی گئی تھی
ہمم۔۔۔۔۔۔ تم کہنا چاہتے ہو کہ میری بیوی میرے ساتھ غیر محفوظ ہے۔۔۔۔ میرے۔۔۔؟؟؟ یعنی کہ سالار شجاعت کے ساتھ ۔۔۔۔۔ اپنے شوہر کے ساتھ۔۔۔۔؟؟
بھنویں اٹھا کر سرد ترین لہجے میں سوال کیا گیا
مگر۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بسسسس۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟
تمہیں جو کام سونپا گیا ہے ۔۔۔۔ بہتر ہے کہ وہی ٹھیک سے کر لو تو بہتر ہوگا ۔۔۔۔۔۔میرے کام میں میرے بغیر اجازت ٹانگ اڑا نے والے مجھے سخت ناپسند ہیں۔۔۔۔۔۔۔
گاٹ اٹ۔۔۔۔۔۔
سالار اچانک دھاڑا تھا
فائن ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
Then do whatever you want to do…
مقابل کہہ کر خاموشی سے وہاں سے اٹھا ابھی وہ دو قدم ہی چل پایا تھا کہ سالار نے اسے روکا۔۔۔۔۔۔
مسٹرXyz ۔۔۔۔۔۔!!
آئندہ تم میرے گھر مجھے نظر نہ آؤ۔۔۔۔۔
سالار کہہ کر رکا نہیں تھا بلکہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چل دیا تھا
پیچھے کھڑے شخص نے سر جھٹکا تھا


سالار اپنے گھر واپس آچکا تھا اور آتے ہی تمام ملازموں کی لائن لگ گئی تھی انکے پیچھے ۔۔۔
سالار نے گھر کے اندر تمام فی میل سرونٹس کو رکھا تھا جبکہ میل سرونٹس گھر کے باہر سخت پہرے داری میں تھے۔۔۔۔۔ نور نے جب اس بات پہ غور کیا تو اسے اور بھی اچھا لگا تھا کہ سالار اسکے لئے اتنا پوزیسو ہے۔۔۔۔۔۔
میم یہاں ۔۔۔۔۔ نہیں یہاں دیکھیں ۔۔۔۔۔ جی بس امممم۔۔۔۔۔۔ ہوگیا ۔۔۔۔۔ واؤ پریٹی ۔۔۔۔۔۔ سو پریٹی
میم۔۔۔۔۔۔۔
سالار کی بھیجی ہوئی لڑکی نور کو تیار کر رہی تھی ۔۔۔۔ سالار نے آج صبح ہی اسے بتایا تھا کہ اس کی ایک فرینڈ کی منگنی پہ جانا ہے اس لئے تم تیار ہو جانا ۔۔۔۔۔۔ میں تمہاری ہیلپ کے لئے کسی کو بھیج دوں گا
مگر ہیلپ تو کیا ۔۔۔۔۔ سارا کا سارا کام ہی اسی نے کیا تھا نور تو بس بت بنی سب ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
نور نے بلو کلر کی باربی فراک پہنی ہوئی تھی ساتھ میچنگ حجاب اور لائیٹ میک اپ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
ویسے سا۔۔۔۔۔ سالار مجھے کہاں لیجا رہے ہیں ۔۔
کہیں ۔۔۔۔۔۔ کہیں وہ ۔۔۔۔۔ کہیں وہ مجھے سنو لینڈ تو نہیں لے کے جارہے۔۔۔۔۔
نور یکدم پرجوش لہجے میں بولی کہ کہیں سالار اسکی خواہش تو نہیں پوری کرنے والا۔۔
واؤ کتنا مزا آئے گا نہ ۔۔۔۔
پر وہ ہیں کہاں ۔۔۔۔ ابھی تک نہیں آئے جتنا لیٹ لے کے جائیں گے پھر واپسی پہ بھی اتنی ہی جلدی لے کے آئیں گے
نور کمرے میں ٹہلتے ہوئے دروازے پر نظر رکھے ہوئے تھی
مگر سالار تھا کہ آہی نہیں رہا تھا


یہاں پر فنکشن اپنے عروج پر تھا تمام مہمان رفتہ رفتہ آرہے تھے اور سہیل خان کو گریٹنگز دیتے جارہے تھے جسے سہیل خان خوشی سے قبول کر رہا تھا آخر آج اس کی پیاری بیٹی نے اسکے دوست کے بیٹے کے ساتھ شادی کے لئے ہاں جو کردی تھی وہ بھی بنا کسی سخت شرط کے پہلے تو وہ بہت حیران ہوئے کہ کہاں میزی مان ہی نہیں رہی تھی اور کہاں خود ہی آکر اس رشتے کے لئے ہاں کر گئی تھی۔۔۔ مگر جو بھی تھا سہیل خان کو اور کیا چاہیے تھا اس رشتے میں تو اسے ہر طرح سے فائدے ہی فائدے نظر آرہے تھے اس سے پارٹنرشپ کی تمام دولت کے اکلوتے وارث سے شادی کرنے سے میزی ہی کو ساری پراپرٹی ملنی تھی ۔۔۔۔ پھر عیش ہی عیش کرے گی میری بیٹی ساری زندگی۔۔۔۔۔۔
ایک شاطرانہ مسکراہٹ اسکے چہرے پر سجی تھی مگر کہتے ہیں نہ کہ قسمت ہمیشہ سوچ سے بڑھ کر سرپرائز کر دیتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے کچھ ایسا ہی یہاں بھی ہونا تھا مگر قسمت سے
انجان سہیل خان اپنی پلیننگ کی کامیابی پر خوش ہو رہا تھا
اس انجانے میں کہ اب سالوں پہلے کے کئے گئے گناہ کے کفارے کا وقت آن پہنچا تھا


سالار سے اب مزید انتظار نہیں ہو رہا تھا اس لئے وہ مزید تکلیف زدہ انتظار سے بچنے کے لئے وہ تیز تیز قدم اٹھاتا روم کی طرف بڑھا تھا
جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا سامنے ہی نور ٹہلتے ہوئے نظر آئی اور اسکی آنکھیں بھی دروازے پر لگی ہوئیں تھیں شائد وہ اسی کی راہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی سالار سرشاری سے آگے بڑھا اور اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔ اسکی پکڑ میں ایسی شدت تھی کہ ایک پل کے لئے تو وہ لرز سی گئی ۔۔۔۔۔۔۔
یو سو بیوٹیفل ۔۔۔۔۔۔۔ !!!
سالار اپنا چہرہ نور کے چہرے کے ساتھ شدت سے مس کر رہا تھا
عین۔۔۔۔۔۔۔۔
بھاری آواز میں اس نے اسکے کان میں سرگوشی کی
مجھ سے کبھی دور مت جانا۔۔۔۔۔
میں۔۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔۔۔
بلکل نہیں ۔۔۔۔ سالار کی آواز بولتے ہوئے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔. خوف سا تھا اسکی آواز میں عین کو کھونے کا خوف۔۔۔۔۔۔
بہت مشکل سے میں نے اپنے اندر کے جانور کو قید کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں تو میں بہت برا تھا عین
بہت برا ۔۔۔۔۔ کیا کرتا اس دنیا نے اس کے لوگوں نے مجھے بننے پہ مجبور کر دیا عین۔۔۔۔۔۔۔ورنہ میں بھی نارمل زندگی جینا چاہتا ہوں جیسے برہان رہتا ہے نہ گھر پہ ہنسی مزاق کرتا ہوا خود بھی خوش اور دوسرے بھی خوش ویسے۔۔۔۔۔ویسے رہنا چاہتا ہوں میں ۔۔۔۔۔ میرا دل کرتا ہے مجھ سے بھی سب گھر کے لوگ بات کریں مجھ سے ڈریں مت۔۔۔۔۔ تم تو جانتی ہو نہ عین میں جان بوجھ کر تو ایسا نہیں بنا نہ۔۔۔۔۔۔
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم میرا ساتھ دو گی نہ میرے ساتھ نارمل زندگی جینے میں میری ۔۔۔۔۔مم۔۔۔مدد کرو گی ۔۔۔۔۔
سالار کے ان الفاظوں نے نور کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہ شخص جس کے غرور و تکبر سے وہ خود چڑتی تھی اصل میں تو وہ محبتوں خوشیوں اور توجہ کا ترسا ہوا تھا اوپر سے کڑک اور اندر سے بلکل ٹوٹا ہوا تھا بکھرا ہوا تھا۔۔۔۔
نور کی آنکھوں میں آنسو چمک پڑے تھے جو سالار کی تکلیف پر آئے تھے
نور اسکے ساتھ لگی اپنی آنکھیں موند گئی اور دل میں ایک پکا ارادہ کرتے ہوئے اس نے سالار کو ہاتھ سے پکڑ کر تھوڑا پیچھے کیا
سالار نے چونک کر اسے دیکھا
نور نے اپنی گلابی آنسؤوں سے بھری ہوئی سبز کانچ آنکھیں اسکی بادامی آنکھوں میں گاڑ دیں
سالار اسکی نشیلی گلابی آنکھوں میں ڈوب چکا تھا
میں دوگی آپ کا ساتھ ۔۔۔۔ آپ کو ایک اچھی اور پیاری زندگی کی طرف لے کر جاؤں گی ۔۔۔۔
میرا وعدہ ہے آپ سے ۔۔۔۔
محبت سے بولتے ہوئے نور نے اسکا چہرہ اپنے. چھوٹے سے ہاتھوں میں بھرا تھا اور اعتماد سے اس سے وعدہ کیا تھا
سالار نم آنکھوں سے پہلے تو اسے دیکھتا رہا پھر بے ساختہ اسکے لبوں پہ جھکا اور اپنے لبوں میں اسکے لبوں کو قید کر لیا۔۔۔۔۔۔
نور اور سالار کی دھڑکنیں ایک ساتھ زور و شور سے دھڑک رہی تھیں۔۔۔۔۔
نور نے اپنے ہاتھ سالار کی گردن میں ڈال کر آنکھیں موند لیںں جبکہ سالار اسے پیار کرتے ہوئے کمر میں بازو ڈال کر اسے اوپر اٹھا چکا تھا
دوسرے ہاتھ سے سالار نے اسکا حجاب اتارا تھا اور اسکے بالوں کو کھول کر ان میں ہاتھ پھیرتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھ گیا تھا
اور پھر ایک اور شام انکی محبت کی گواہ بنی تھی۔۔۔۔۔۔


نور گہری نیند میں تھی جب اسے اپنے اوپر بوجھ سا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔یوں لگا جیسے وزنی بوری رکھ دی ہو کسی نے ۔۔۔۔۔
دھیرے سے نیند سے بھری آنکھیں کھولیں تو اپنے اوپر سالار کو جھکے ہوئے پایا جو اسکی خمار زدہ آنکھوں میں ہی دیکھ رہا تھا
نور زیادہ دیر تک اسکی جزبے لٹاتی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکی اور شرماتے ہوئے فورا” نظریں جھکا لیں تھیں۔۔۔۔سالار اسے شرم سے نظریں جھکا تے دیکھ مسکراتے ہوئے اس پر اور جھکا تھا اور نرمی سے اسکی حیا سے بوجھل لرزتی پلکوں پر اپنے لب رکھ دئیے تھے
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ساختہ ہی اس نے اسکا نام لیا تھا جو ہمیشہ کی طرح سالار کے دل کی ٹھنڈک بڑھا گیا تھا
جی ۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔۔ جان۔۔۔۔۔۔۔۔ سالار کی جان۔۔۔!!!!
مخمور لہجے میں سالار تو اس پر واری جانے لگا
آپ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔۔ نے کہیں جانا تھا
نور نے لرزتے ہوئے اسے کہا تھا نظر تو وہ اٹھا ہی نہیں پارہی تھی ایک تو سالار شرٹ لیس تھا اوپر سے اپنی بے باک جزبے لٹاتی آنکھوں سے اسکے سراپے کا بغور جائزہ لئے جا رہا تھا
ہممممم ۔۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔۔ جانا تو ہم دونوں کو تھا مگر اب صرف میں جاؤں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کسی کہ بھی غلیظ نظر تمہارے پاک وجود پر پڑے ۔۔۔۔۔۔ میں برداشت نہیں کر پاؤںگا اور کہیں اس شخص کو جان سے ہی نہ ماردوں اور پھر مجھے پھانسی کی سزا پر تمہیں بیوہ نہ بننا پڑے اس لئے کنٹرول کر رہا ہوں ورنہ اب تمہارے بغیر ایک سیکنڈ بھی دور نہیں رہا جاتا۔۔
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!؟؟
نور اسکی بات پر چیخ ہی پڑی نم ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے گھور نے لگی
آپ کی ہمت کیسے ہوئی ایسا کہنے کی اللہ آپ کو میری عمر بھی لگادے
میں آپ کے بغیر اب نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔۔ بلکل۔۔۔۔۔ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ آپ میری ۔۔۔۔۔۔۔ رو۔۔۔۔۔روح ۔۔
میں اتر۔۔۔۔۔. چکے ہیں۔۔۔۔۔۔
اللہ آپ سے پہلے مجھے بلا۔۔۔۔۔۔۔
ششششششش۔۔۔۔۔.
نور جو ہچکیوں سے روتے ہوئے سالار کو کہہ رہی تھی ایک دم سے سالار نے اسکے ہلتے سرخ لبوں پر اپنا انگوٹھا رکھ دیا اور سختی سے ٹوکا
آئندہ ایسی بکواس مت کرنا میرے سامنے ۔۔۔ورنہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
کہتے ساتھ ہی اس نے اسکے ماتھے پر بوسا دیا اور پھر پیچھے ہٹ کر بیڈ سے اتر گیا
سالار کو بہت زیادہ خوشی ہوئی تھی عین کے منہ سے اپنے لئے یہ سب سن کر دل نے ایک پل کے لئے خاموشی اختیار کرلی تھی جس پل کا اسنے اتنے وقت سے انتظار کیا تھا کہ کبھی عین بھی اسے محبت کرے گی اسکی پر واہ کرے گی اسکے لئے پریشان ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔
آج جب اسکی خواہش کو تکمیل ملی تھی تو اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے کیا نہیں کرے کیا دنیا کو چیخ چیخ کر بتائے کہ آؤ دیکھو تم لوگ کہتے تھے نہ کہ مجھے کوئی پیار نہیں کرےگا ۔۔۔۔۔ کسی کو میری پر واہ نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بھی میرے لئے پریشان نہیں ہوگا ۔۔۔آؤ اب دیکھو ۔۔۔۔ دیکھو آکے کہ مجھے جس سے محبت ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ جس کی توجہ چاہتا تھا میں۔۔۔۔۔۔۔ آج وہ میرے لئے پریشان ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ اور مجھ سے محبت بھی کرتی ہے لیکن اظہار نہیں کر پارہی ۔۔۔۔۔ مگر کوئی بات نہیں ایک دن وہ بھی آئے گا جب میری عین مجھ سے اظہار محبت بھی کرے گی
لیکن اگلے ہی لمحے عین کے منہ سے اپنے لئے موت کا سن کر اسکی ساری خوشی عین نے پل بھر میں ملیا میٹ کردی تھی اسکی مسکرا ہٹ یکدم سمٹ کر رہ گئی تھی غصے سے اس نے لب بھینچ لئے تھے۔۔۔۔
اسی لئے وہ فورا” ہٹا تھا کہ کہیں غصے میں کچھ کہہ ہی نہ دے اسے۔۔۔۔۔
نور اسکی پشت کو دیکھ رہی تھی جہاں بڑا سا ٹیٹو پوری آب وتاب سے براجمان تھا
نور نے اسے پہلے بھی دیکھا تھا دو ایک بار اسے دیکھتے ہی اسے نہ جانے کیوں ڈر سا آتا تھا
سالار الماری کھولے اس میں سے کچھ نکال رہا تھا اور پھر مطلوبہ چیز نکال کر واپس عین کی طرف آیا نور کو دینے سے پہلے اس نے اپنے ہاتھ میں وائٹ کلر کی بہت الگ سی واچ پہنی جو دیکھنے میں بڑی عجیب سی تھی ٹائم کے اوپر تتلی بنی ہوئی تھی جو کہ مختلف رنگوں سے رنگی ہوئی تھی ۔۔۔
سالار نے وہ اتار کر دوسرے ہاتھ میں پکڑی مضبوط مگر نازک سی بلیک کلر کی چین میں ڈال دی جس سے وہ ایک نہایت خوبصورت سا پینڈینٹ بن گیا تھا
عین یہ میرے واچ کا حصہ ہے جو میں تمہیں دے رہا ہوں اسے کبھی بھی اپنے سے جدا مت کرنا یہ بہت سپیشل ہے خاص طور پر میں نے یہ دونوں چیزیں بنوائیں ہیں
یہ ہم دونوں کو جوڑے رکھے گا اور۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ سالار اسے عین کی سفید صراحی دار گردن میں پہناتا فون نے بجنا شروع کردیا
سالار نے برہمی سے فون کو ایسے دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سالم نگل لینا چاہتا ہو
پھر اس کی آواز کو اگنور کرتے ہوئے پینڈیٹ کو عین کے گلے میں پہنا کر پینڈینٹ کی خوبصورتی کو بڑھادیا۔۔۔۔۔
بیوٹیفل۔۔۔۔۔۔
سالار نے کہتے ہوئے اپنے لب اسکی گردن میں سجے پینڈینٹ پر رکھ دئیے۔۔۔۔۔
نور نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کر لیں
فون چیختا چیختا بند ہو چکا تھا
کچھ پل ایسے ہی بیت گئے
ان کو ہوش کی دنیامیں فون کی رنگ لائی۔۔۔۔۔۔
سالار نے بد مزہ ہوتے ہوئے سر اٹھایا اور جارحانہ انداز میں فون کال پک کی ۔۔۔۔۔
کیا موت پڑ گئی ہے تمہیں کریم۔۔۔۔۔۔
سالار تو جیسے کریم کو فون سے باہر نکالنے کے در پہ تھا
نور نے جھجھکتے ہوئے سالار کی طرف دیکھا
نہ جانے دوسری طرف سے کیا کہا گیا تھا کہ سالار کے چہرے پہ چھائے بےزاریت بھرے تاثرات سرد سپاٹ تاثرات میں بدل گئے
پھر اس نے فون بند کردیا
اور دیکھتے ہی دیکھتے سالار نے کپڑے چینج کئے اور دروازے کی طرف بڑھا پھر چند پل رک کر اس نے عین کی طرف دیکھا
دونوں کی نظریں ایک پل کے لئے ملیں۔۔۔۔۔۔
دونوں کا ہی دل نہیں چاہ رہا تھا نظریں الگ کرنے کا ۔۔۔۔۔
سالار کے دل کو نہ جانے کیا ہوا کہ وہ بے ساختہ نور کی طرف مڑا اور تیزی سے آتے ہوئے نور کی کمر میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھا کر سینے میں بھینچ لیا
اس مرتبہ نور نے بھی سالار کے گرد مضبوط گرفت کی تھی مطلب کہ وہ بھی نہیں چاہتی کہ سالار اس سے دور جائے دونوں کے دل بےچینی سے دھڑک رہے تھے۔۔۔
My heart literally hurts.
My chest is in pain.
Life without you
Will never be the same.
I can’t blame you
Because I did you wrong too,
But now that it’s officially over,
I don’t know what to do.
We started out as friends
As I denied my feelings.
You came to me;
You wanted more with more meaning.
I did, but I was scared.
When you tried to be there, I left.
I thought you were better than me,
The best man I ever met.
As time went on,
I regretted my actions,
Got caught up in my insecurities.
They stopped me from acting.
I couldn’t believe you chose me
When I knew you deserve better,
So I carried on,
As if I never met you.
I finally got the nerve
To look you in the eye.
Such a beautiful man you are.
It shook me inside.
I tried to mend what I tore,
But the damage was done.
I came back too late.
You found someone.
I’ll never forget your smile.
I’ll never forget your kiss.
But your presence in my life
Will forever be missed
ان دونوں کے کانوں میں نظم کے الفاظ ٹکرائے شائد کسی ملازمہ نے کام کرتے ہوئے ریڈیو فل آواز میں لگایا ہوا تھا سالار کے تھوڑا ڈور کھولنے سے آواز صاف سنائی دے رہی تھی جو ان دونوں کو اور بھی غافل کر گئ
پتہ نہیں مگر ان الفاظوں سے سالار کے دل کو کچھ ہوا تھا
جبکہ نور کو لگ رہا تھا کہ یہ الفاظ اسکے دل سے نکل رہے ہوں جس پر وہ خود بھی بہت حیران تھی کہ کتنے کم وقت میں سالار نے اسکے دل میں اپنی گہری اہمیت بنا ڈالی ہے کہ وہ ایسا سوچنے لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سالار کو وقت کا احساس ہوا
میں جلد آوں گا ۔
سالار نے اسکے سر پر بوسا دیا اور وعدہ کرتے ہوئے اسکے چہرے کو نظروں میں سموتے نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے چلا گیا
نور کی آنکھ سے ایک شفاف موتی پھسل کر سالار کی پہنی شرٹ میں کہیں گم ہوگیا
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟


سالار یہاں سے سیدھا اپنے کمپنی گیا تھا اسے کریم نے فون کرکے بتایا تھا کہ ایک شخص آگ پیٹرول چھڑکتے پکڑا گیا ہے اسکا مقصد یہاں آگ لگانا تھا مگر سخت سیکیورٹی کی وجہ سے الارم بج گیا اور اسے پکڑ لیا گیا
یہ سن کر سالار کی ماتھے کی رگیں تن گئی تھیں
سالار جب وہاں پہنچا تو کریم کے ساتھ دو سیکیورٹی گارڈ کھڑے تھے جنہوں نے اس شخص کو پکڑ رکھا تھا
اسے دیکھتے ہی سالار اپنے آپے سے باہر ہوگیا
زور سے اسکا سر الٹے ہاتھ سے پکڑ کر نیچے زمین پر پٹخ دیا جس سے اس شخص نے دلدوز چیخ ماری اور اسکے سر اور منہ سے خون کا فوارہ نکل پڑا۔۔۔۔۔
کس نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرد آواز میں غراتے ہوئے سالار نے اسکے چہرے پر اپنا بوٹ رکھ کر مسلتے ہوئے پوچھا
ممم. ۔۔۔ منیزہ۔۔۔۔۔۔ منیزہ میڈم ۔۔۔۔ نے۔۔۔۔۔ ۔.
سالار کی اتنی دہشت چڑھی اس شخص پر کہ اس نے ڈرتے ڈرتے فورا” ہی نام لےلیا
سالار کو لگا تھا کہ یہ کام بھی ہمیشہ کی طرح سہیل خان نے کروایا ہوگا مگر میزی کا نام سن کر وہ چونک پڑا۔۔۔۔۔۔۔
اوہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔,
کریم میرا ڈریس ریڈی کرکے میرے آفس روم بھیجو آخر اپنی بیگم کو اپنا دیدار جو کرانا ہے
اور ہاں گفٹ ریڈی ہے نہ میری وائف کی انگیجمنٹ پہ جا رہے ہیں تو گفٹ تو بنتا ہے نہ ۔۔۔
خلاف توقع سالار مسکراتے ہوئے کریم سے بولا جو منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا کہ بجائے یہ کہ وہ غصہ ہو میزی پر الٹا وہ مسکرا رہا تھا
جی۔۔۔۔۔۔ جی سر ایوری تھنگ از ریڈی۔۔۔۔۔۔۔
ہممممممم۔۔۔۔۔۔۔
سالار مسرور سا آگے بڑھ گیا
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!