Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 14 Part 2
Rate this Novel
Episode 14 Part 2
سہیل خان نے سڈنی میں اپنے عالیشان بنگلے میں آج رات عمدہ پارٹی کا انتظام کیا تھا جہاں وی آئی پی شخصیات مدعو تھیں
ہر طرف رنگو بو کا سیلاب امڈ آیا تھا ہر قسم کی ڈرنک کا شاندار پیکج تھا
مسز سہیل گلے میں بیش قیمتی ڈائمنڈ سیٹ پہنے کالے رنگ کی سلیو لیس گھٹنوں سے اوپر آتی ڈریس اور گہرے میک اپ میں سب پر قیامت برپا کر رہی تھیں سب پر اپنے حسن کے جلوے بکھیر رہی تھیں اس عمر میں بھی انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا
تمام لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ تبھی انکی مہمان چاؤ نے خاصے پر زور لہجے میں انکا دھیان اینٹرینس کی طرف راغب کیا جہاں سے فور پیس سکائی کلر کے سوٹ میں ہلکی سی سٹبل اس بالوں کو جیل سے پیچھے کی طرف سیٹ کئیے
خوشبوؤں میں بسا اپنی شاندار پرسنالٹی کے ساتھ اپنے سیکریٹری کریم کے ساتھ ایک انداز سے قدم بڑھاتا ہوا ان کی
طرف ہی آرہا تھا
سب لوگوں کی نظریں اسکی طرف اٹھ رہی تھیں اور وہی پر جم رہی تھیں وہ لگ ہی اتنا شاندار رہا تھا کہ کوئی حد نہیں۔۔۔۔۔
مگر اسکی کچھ جتلاتی ہوئی نظریں کسی ایک خاص چہرے پہ تھیں اس چہرے پر جس چہرے سے وہ بے حد بے حساب نفرت کرتا تھا جب بھی یہ چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے لہراتا تو اسکے روم روم میں ازیت ہی ازیت سرائیت کرنے لگتی
اسکا بس نہیں چلتا کہ وہ اس چہرے کو مسخ کرڈالے۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا ہی حال اسکا اس وقت بھی تھا۔۔
اتنے سالوں بعد وہ اس چہرے کے روبرو تھا ایک دنیا اس چہرے کو حسین مانتی تھی مگر سالار شجاعت کے لئے یہ چہرہ بد صورت ترین چہرہ تھا آنکھوں میں عجیب سرد پن ڈال کر اس کو ایک نظر دیکھ کر وہ سہیل خان کی طرف متوجہ ہوا
او۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔ ینگ مین آج کہیں یہ چاند رستہ تو نہیں بھول گیا اتنے عرصے میں پہلی بار آپ کی ہمارے غریب خانے میں آکر آمد ہوئی ہے سہیل خان نے قدرے حیرانگی سے پوچھا
ایک نظر اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر سالار نے بائیں ہاتھ سے اپنے سٹائلش گلاسس اتارے پھر اپنی پینٹ کی پاکٹ سے اپنا دایاں ہاتھ نکال کر اس سے مصافحہ کیا پھر ٹھرے ہوئے لہجے میں بولا
میں نے سوچا کہ کیوں نہ جہنم میں جنت کے چاند کی تھوڑی ٹھنڈک ہی پہنچا دی جائے اس نے ادھر’ادھر معیوب لباس میں کھڑی عورتوں پر نظر ڈال کر اسکی بات کا اپنے انداز میں جواب دیا
سہیل خان اسکی بات کو سمجھ کر قہقہہ لگانے لگا
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے بھئی برخوردار یہ بھی تو ہمیں ہماری خود ساختہ جنت کی ٹھنڈک پہنچاتی ہیں۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔ بلکل بجا فرمایا آپ نے مگر صرف آپ جیسوں کے لئے۔۔۔۔۔
سالار نے جیسوں پر زور ڈال کر کہا جس کو سہیل خان نے استہزائیہ مسکرا کر دیکھا پھر اسکا تعارف اپنے ساتھ کھڑے مختلف بزنس سرکل سے آئے لوگوں سے کرا نے لگا
اور یہ رہیں ہماری جان ہماری بیوٹیفل سی وائف ماہ وش سہیل خان اسکی کمر کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے اسکا تعارف سالار سے کرایا جو سالار کو ہی کب سےمرعوب زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی اسکی شاندار پرسنالٹی کو دل ہی دل میں سر اہا تھا جس کا سالار کو باخوبی اندازہ تھا
اس نے سالار کے آگے ہاتھ کرتے ہوئے ہیلو کہا
ہیلو مسٹر سالار شجاعت ویلکم ٹو آور گرینڈ پارٹی بہت نام سن رکھا تھا آپ کا اپنے ہز بینڈ کے منہ سے آج دیکھ بھی لیا
سالار نے اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا کیا کیا نہیں یاد آیا تھا اسے ۔۔۔۔
کیسے کیسے ظلم نہیں ڈھائے تھے اس نے اس ہاتھوں سے اس پر
اسی کی طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ بڑھایا
ہیلو ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہ وش سہیل خان آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہلکا سا اسکا ہاتھ دبا کر جھٹکنے سے انداز میں چھوڑ کر دوسری طرف رخ پھیر لیا
اسکی اس حرکت پر ماہ وش سہیل خان کو بہت ناگوار گزری
ہونہہ ہار برداشت نہیں ہو رہی
آج کی پارٹی سالار سے پروجیکٹ چھین لینے کی خوشی میں دی گئی تھی سالار کی آمد سے سب حیران بھی ہوئے تھے کہ جو پہلے کبھی نہ آیا آج اچانک اپنی ہی ہار کی دی گئی پارٹی میں آدھمکا تھا
سالار وائن بار کی طرف آیا اور ریڈ وائن کا گلاس اٹھا کر اپنے لبوں سے لگایا جبکہ اسکی نظریں ابھی تک ماہ وش سہیل خان پر ہی تھیں ایسی نظریں جس سے وہ ماہ وش سہیل خان کو سالم ہی نگل جائے لیکن وقت تھا ابھی اس کے لئے پائی پائی کا حساب لینے میں۔۔۔
کریم۔۔۔۔۔
اچانک سالار نے غصیلی مدھم آواز میں کریم کو بلایا
جج۔۔۔۔۔ جی سر کریم ڈرتے ڈرتے بولا کہ وہ اسکے خطرناک تیور کب سے دیکھ رہا تھا
میری ابھی اسی وقت کی پاکستان کی فلائٹ بک کرواؤ ہڑی اپ۔۔
جی۔۔۔۔۔ جی سر میں نے آپ کی فلائٹ بک کروا رکھی ہے پہلے سے ہی آلریڈی آدھے گھنٹے بعد کی ہے سر ۔۔۔
تو پھر چلو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں کریم کو ڈانٹتے ہوئے سالار
دھپ دھپ کرتا آگے بڑھ گیا
جبکہ کریم بے قصور مجرم کی تصویر بنا شکر کرتے ہوئے اپنا منہ ٹشو سے رگڑتے ہوئے ہوئے اسکے پیچھے بھاگا کہ زیادہ نقصان نہیں ہوا
کریم کو پتہ تھا کہ اپنے دشمنوں کا منہ دیکھ کے اسکے باس کا غصہ ضرور ابلے گا اسی لئے اس نے احتیاط”پاکستان کی فلائٹ بک کروا رکھی تھی
پہلے تو وہ لندن اپنے گھر میں ہی غصہ ٹھنڈا کرتا تھا مگر اب اسکی دوا جیتی جاگتی پاکستان میں جو موجود تھی تو وہ پاکستان کا ہی رخ کرے گا
تمام ملازموں کو سالار نے یہاں آکر ایک کثیر رقم بانٹی تھی اور اپنی شادی کے بارے میں بھی بتایا تھا اسکے جوش سے تمتماتے چہرے کو سب نے خاصہ نوٹ بھی کیا تھا
عین اپنے کمرے میں خواب خرگوش کے فل مزے لے رہی تھی
رباب تو یہ تک کہتی تھی کہ نور مجھے تو لگتا ہے کہ تم بھانگ
پی کر سوتی ہو کسی کی اتنی بھی گہری نیند نہیں ہوتی جتنی
تمہاری ہوتی ہے جیسے قبر میں سویا ہوا کوئی مردہ ہو
اسکی بات پر عین اپنے پھولے پھولے گال اور پھلا لیتی جس سے وہ اور زیادہ کیوٹ لگتی۔۔۔
ابھی بھی وہ دنیا سے بیگانی ٹن ہوکے سو رہی تھی رات کے 3 بج رہے تھے
سالار خواب جہاں میں داخل ہو چکا تھا اور اب اسکا رخ سیدھا عین کے کمرے کی طرف تھا وہ تیز تیز قدم بڑھا رہا تھا تاکہ جلد سے جلد عین کے پاس پہنچ سکے ۔۔۔
اسکے کمرے کے سامنے پہنچ کر ایکدم سے دروازہ کھول کر لائٹ آن کی جس سے ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیل گئی اسکی نظر سیدھی عین پر پڑی مگر پھر اسکے ماتھے پہ غصے کی لکیریں ابھریں چہرے پر سخت تاثرات چھا گئے آنکھوں کا رنگ سرخ ہونے لگا
سالار لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا غصے سے عین کی طرف بڑھا جہاں عین صاحبہ اپنے فیورٹ بھالو کو سینے سے لگائے کسی چھوٹے بچے کی طرح سو رہی تھی
سالار نے جھٹ سے عین سے بھالو کو کھینچا کہ جیسے وہ کوئی ٹوئے نہ ہو انسان ہی ہو گیا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری عین کو چھو نے کی بھی۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں جان سے ماردوگا۔۔۔۔۔ یہ حق صرف میرا ہے اسے صرف میں ہی چھوسکتا ہوں اور کوئی بھی نہیں میری عین کی نیند کا فائدہ اٹھا رہے تھے تم۔۔۔۔۔
دھیمی آواز میں غراتے ہوئے وہ بھالو کو کہتا کوئی پاگل ہی لگ رہا تھا
بھلا بھالو ایک بے جان شے سے کوئ ایسا تصور کر سکتا ہے
مگر نہیں یہاں تو سالار ہے عین کے لئے حد درجہ پوزیسو
اسے ایک ٹوئے کا بھی عین کے پاس ہونا تک برداشت نہیں
کسی وقت وہ اسکے بھی دوست ہوا کرتے تھے لیکن اب وہ اسکے دشمن تھے
اس نے بھالو کو زور سے دیوار پہ دے مارا تھا اور پھر اسے پاؤں سے کچلنے لگا کچھ دیر بعد اسے پاؤں سے ٹھوکر مار کر دور اچھالا اور پھر عین کی طرف بڑھ کر اسے آرام سے اپنی گود میں اٹھایا اور اپنے پورشن کی طرف چل دیا
ایک عجیب سی بے چینی اسکے اندر سرائیت کر گئی تھی
کمرے میں پہنچ کر اسے احتیاط سے بیڈ پر لٹایا اور بنا اسے دیکھے فورا”سے واپس عین کے کمرے کی طرف چل پڑا
حقارت اور غصے سےبھالو اٹھایا اور اپنے کچن میں آگیا سالار نے اسے نیچے فرش پر پھینکا اور چولھا جلایا
واپس اسے اٹھایا اور زور سے اپنے ناخن گاڑ کر اسے جلتے چولھے پر پٹخھا بھالو کو فورا”ہی آگ لگ گئی
جیسے جیسے اب بھالو کو لگ رہی تھی ویسے ویسے سالار کے اندر چھائی بے چینی ختم ہو رہی تھی اتنے سب میں ہی اسکا تنفس بری طرح پھول چکا تھا جو کہ اب آہستہ آہستہ نارمل ہو رہا تھا
جب بھالو مکمل طور پر جل چکا تو جلتے ہوئے چولھے کو چھوڑ کر اپنے روم میں آیا اور کپڑے چینج کرنے ڈریسنگ روم میں چلا گیا
ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر کے اوپر سفید کھلی بنیان پہنے باہر آیا اور عین کے بائیں طرف جہاں کچھ دیر قبل بھالو تھا. بلکل اسی طرح اسکے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گیا اور عین کے دونوں ہاتھ اپنے اطراف حمائل کر لئے اور آنکھیں موند لیں
یہ صرف میرا حق ہے نہ عین اور کسی کا نہیں نہ۔۔۔۔۔۔
بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔!!!
ہلکی آواز میں بڑبڑا کر کچھ ہی دیر میں اسکی دھڑکنوں کو محسوس کرتے ہوئے اسکی قربت کے نشے میں چور گم ہو چکا تھا
ہمیشہ کی طرح اس نے سب بھلا دیا تھا اور عین کی خوابوں کی دنیا میں اتر گیا۔۔۔۔۔
صبح نور کی آنکھ اپنے اوپر بوجھ کو محسوس کرتے کھلی تھی ویسے بھی اب اسکے اٹھنے کا ٹائم بھی ہو چکا تھا
پہلے تو اسے لگا کہ کسی نے اسکے اوپر بلڈوزر رکھ دیا ہو مگر جب دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں تو حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگا عین کو۔۔۔۔۔
سالار بڑے مزے سے اسکے سینے پر سر رکھے سو رہا تھا وہ سوتے ہوئے کسی معصوم بچے کی طرح لگ رہا تھا
یہ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ یہاں کیا کر رہے ہیں
نن۔۔۔۔۔۔ نہیں مم میں یہاں کیا ۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔۔ ؟؟؟
عین حیران پریشان سی خود سے سوال کر رہی تھی
تمہیں تمہارا سالار یہاں لایا ہے جنم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
عین ابھی اسی الجھن میں تھی کہ اچانک سالار نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا
عین نے سالار کی آنکھوں کی طرف دیکھا سالار کی آنکھیں سرخ ہؤئی تھیں کچھ نیند لینے کا خمار تھا اور کچھ عین کی قربت کا
عین نے گھبراتے ہوئے اسے اپنے ہاتھوں سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی مگر بے سود۔۔۔۔۔۔۔
بلکہ الٹا سالار اٹھ کر اپنے ہاتھوں کو اسکے ہاتھوں میں الجھا کر اسکے چہرے پہ جھک گیا ان دونوں کے چہروں کے بیچ کا فاصلہ
انچ بھر کا تھا
عین اسکی اتنی نزدیکی پر بوکھلا ہی گئی اسکے گال لال سرخ ہوگئے
سالار اسکی شرم و گھبراہٹ کو بہت محظوظ ہو کے دیکھ رہا تھا
عین نے اپنے ہاتھوں کو اسکے ہاتھوں سے چھڑانے کی کوشش کی تو سالار نے مسکراتے ہوئے اسکے چہرے پہ پھونک ماری
اسکے پھونک مارنے پر عین نے اپنی آنکھیں فورا”بند کر لیں
اسکی پھونک میں اتنی شدت تھی کہ عین کو اور زیادہ گھبراہٹ ہونے لگی
سالار نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا اور پھر اسکی لرزتی ہوئی پلکوں کو دیکھتے ہوئے اسکے چہرے پہ جھک کر رہا سہا فاصلہ بھی مٹادیا
عین کے نرم سفید لال گال پر اپنے لب رکھ کے اسے دانتوں سے تھوڑا کاٹا جس سے عین کی بے ساختہ چیخ نکلی
پھر اسکے کان کی طرف جھک کر خمار بھری سرگوشی کی۔
یہ تو چھوٹی سی سزا ہے عین جنم آئندہ میں تمہارے آس پاس کسی بھالو والو کو نہ دیکھوں آئی سمجھ اور پھر اسکی کان کی لو پر بھی اپنے نرمی سے پرحدت لب رکھ دیے۔۔۔۔
جبکہ عین تو اسکی بھالو والی بات پر ہی حیران تھی
سالار نے اسکی ہرنی جیسی آنکھوں میں ناسمجھی دیکھی تو وضاحتا”بولا
تمہیں چھو نے کا تمہارے پاس رہنے کا صرف اور صرف میرا حق ہونا چاہیے نہ کہ کسی بھالو کا آئندہ میں تمہیں کسی کو بھی اپنے سینے سے لگائے سوتا ہوا نہ دیکھوں سوائے عین کے سالار کے
سمجھی جنم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟!!!
سالار نے اپنے لبوں پر مسکراہٹ رکھتے ہوئے اسے وارن کیا جبکہ اسکی آنکھوں میں سرد مہری تھی جسے دیکھ کر عین خوفزدہ ہو گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔!!!!!!!
