54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

💥💥💥
نور میزی کو دیکھ کر روئے جارہی تھی بھاگ کر اسکے پاس پہنچی اور اسکے ہاتھ کھولنے لگی اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ سالار نے اس سے اس حد تک ظلم کیا ہے جلدی سے اسکے ہاتھ کھول کر اسے بڑی مشکل سے چئیر پر بٹھایا اور پانی کا گلاس اسکے لبوں سے لگایا
میزی ایک ہی سانس میں سارا پانی غٹاغٹ پی گئی نہ جانے کب سے پیاسی تھی
او۔۔۔۔۔۔ اور دوں پانی۔۔۔۔۔۔؟؟
نور اسکے تیزی سے پانی پینے پر اس سے اٹکتے ہوئے پوچھنے لگی ساتھ میں رو بھی رہی تھی
میزی نے اثبات میں گردن ہلائی اور پھر نور نے اسے ایک اور گلاس پانی کا پلایا۔۔۔۔
پانی پینے کے بعد میزی کو تھوڑا سکون نصیب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟!؟ نور مجھے لے جاؤ یہاں سے وہ مجھے پاگل کردے گا ۔۔۔۔۔ نہ مارتا ہے نہ بخشتا ہے پلیز مجھے بچاؤ اس سے ۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔ اتنی ۔۔۔اتنی تو بڑی غلطی نہیں کی میں نے کہ ۔۔۔۔وہ مجھے ازیت پہ ازیت دئے جارہا ہے ۔۔۔۔پلیز نور میں تمہارے ۔۔۔۔۔ آ۔۔۔۔۔۔ گے ۔۔۔۔۔ہاتھ۔۔۔۔۔جوڑتی۔۔۔۔۔۔۔۔ لے ۔۔۔۔۔۔۔ج۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مم۔۔۔۔۔ مجھ۔۔. ۔۔
میزی کو جیسے ہی تھوڑی ہمت ملئ وہ نور کے آگے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانےلگی کہ وہ اسے یہاں سے لے جائے ۔۔۔۔۔ بولتے ہوئے اچانک میزی بے ہوش ہوگئی ۔۔۔۔ نور اسے دیکھ کر بوکھلا گئی اور دوڑتی ہوئی باہر آئی اور دوگارڈز کے ہمراہ واپس آکر انکی مدد سے میزی کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈال کر ہاسپٹل چلی گئی اور پھر راستے میں ہی گھر فون ملادیا ۔۔۔۔۔ اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے بوکھلاہٹ میں وہ پسینے سے بھیک چکی تھی سالار پر تو اسے بے انتہا غصہ تھا اس لئے اس کے بارے میں تو وہ غلطی سے بھی نہیں سوچنا چاہتی تھی۔۔
رنگ جا رہی تھی اور نور بے چینی سے منتظر تھی آخر کو اتنے سالوں بعد جو کسی اپنے کی آواز سننے والی تھی


سب لوگ اس وقت شام کی چائے ہمیشہ کی طرح ایک ساتھ تو پی رہے تھے مگر ہر کوئی اپنے ہی خیالوں میں گم تھا
ابو جان مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی
صدیق مرزا اپنی چائے کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے بولے
کہو ۔۔۔ کیا کہنا ہے تمہیں۔۔۔۔
دادا جان ہمہ تن گوش ہوئے
میں نے سوچا ہے کہ کیوں نہ کراچی میں اپنے بزنس کی ایک اور برانچ کھول لی جائے ۔۔۔۔۔ میرے خیال سے تو بہتر رہے گا کیونکہ کچھ سالوں سے ہمیں پرافٹ کافی رسیو ہوا ہے اور ویسے بھی جتنا جڑیں پھیلیں اتنا ہی ہمارے بچوں کے لئے بہتر ہوگا اور ساتھ میں میں نے یہ بھی سوچا تھا اس برانچ سے حاصل ہونے والا آدھا پرافٹ ہم ٹرسٹ وغیرہ میں اور آدھا نور کے خواب پر لگا ئیں ۔۔۔ نور بچی چاہتی تھی کہ وہ ایک اسکول کھولے گی غریب بچوں کے لئے مگر شائد قسمت کو منظور ہی نہیں تھا کہ وہ اس کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھ سکے ۔۔۔۔۔۔
صدیق مرزا آنکھوں میں امڈ آنے والے بے ساختہ آنسؤوں کو پیچھے دھکیل کر غمزدہ لہجے میں بولے ۔۔۔۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے ابو جان۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
ہمممم۔۔۔۔۔۔۔ خیال برا نہیں ہے بیٹا بلکہ بہت اچھا ہے جانتے تو ہم بھی تھے کہ نور اسکول کھولنا چاہتی تھی مگر اس موضوع پر بات نہیں ہو پارہی تھی اچھا کیا جو تم نے ہی آغاز کرلیا ۔۔ ٹھیک ہے تو پھر اس منصوبے پر جلد سے جلد عمل کیا جائے ۔۔۔۔۔۔
دادا جان اپنی پیالی خالی کرکے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولے کیونکہ انکی بھی یہی خواہش تھی مگر پھر وہی کہ نور کے زکر سے پھر کہیں غمگین ماحول نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ابو جان ضرور۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیق مرزا بڑے ہونے کے ناطے بات رکھ چکے تھے اور تائید بھی مل گئی تھی باقیوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا وہ بھی دل سے اس آئیڈیے کو سرا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے تو پھر میں آج ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ صدیق مرزا کچھ کہتے بیچ میں ہی لاؤنج میں رکھے فون نے چیخنا شروع کردیا۔۔۔۔۔۔۔
میں دیکھتی ہوں آپ رہنے دیں تایا جان ۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ صدیق مرزا اٹھ کر فون رسیو کرتے رباب جو ٹرے میں خالی چائے کی پیالیاں اٹھا کر لے جا رہی تھی انہیں روکتے ہوئے بولی
ہمممممم۔۔۔۔۔۔۔۔
رباب ٹرے ٹیبل پر رکھ کر مڑی اور فون اٹھا کر کان سے لگایا
اسلام وعلیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ یہاں کا رول تھا کہ ہیلو کی بجائے سلام کیا جائے ویسے تو سب کبھی کبھی کٹوتی کر جاتے تھے مگر زیادہ تر سلام ہی کیا جاتا
اسلام وعلیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
دوسری طرف سے جب کوئی نہ بولا تو رباب نے دوسری بار زرا زور سے سلام کیا کیونکہ اسے گاڑیوں کا شور سنائی دے رہا تھا
دوسری طرف نور اتنے سالوں بعد رباب کی آواز سن کر سن ہوگئی وہ بس اسکی اسلام وعلیکم کی گردان ہی سنے جا رہی تھی
کون ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟
کس سے بات کرنی ہے آپ کو ۔۔۔۔۔۔ دیکھیں جو کوئی بھی ہیں اب اگر نہ بولے تو میں نے فون رکھ دینا ہے
رباب نے جھنجلا تے ہوئے دھمکی دی کہ وہ فون ہی رکھ دے گی اسے لگ رہا تھا کہ برہان اسے جان بوجھ کر تنگ کر رہا ہے کیونکہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس وقت وہ سب کو شام کی چائے سرو کرتی ہے
نن۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نے جب فون رکھ نے کا سنا تو فورا” سے بولی کی مبادہ رباب فون رکھ ہی نہ دے
کک۔۔۔,۔ کون۔۔۔۔۔۔ کون بول رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
رباب آواز تو پہچان گئی تھی مگر پھر بھی جب نور مر چکی ہے تو وہ کیسے فون کر سکتی ہے
اس لئے اٹکتے ہوئے پوچھا کہ کون ہے
نن۔۔۔۔۔۔۔ نور۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
فون سے نکلنے والی ایک بار پھر سے آواز نے رباب کے چودہ طبق روشن کر دئے تھے
نور نے چند باتیں کی تھیں جو بھی تھا پر فی الحال اس وقت میزی کو ٹھیک کرنا تھا
کال کب کی ڈراپ ہوچکی تھی مگر رباب تھی کہ ابھی تک فون کان سے لگائے ساکت کھڑی تھی
کس کا فون تھا بیٹا سب خیر تو ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔
اکبر مرزا رباب کے سکتے کو دیکھ کر پریشان سے آگے بڑھے اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
بولتی کیوں نہیں ہو بیٹا بتاؤ نہ۔۔۔۔۔۔۔
سکندر مرزا نے بھی بے قراری سے استفسار کیا اور ساتھ ہی دل میں دعا کی کہ سب خیر ہو اب مجھ میں اور صدمہ سہنے کی زرا سی بھی ہمت نہیں ہے
نن۔۔۔۔۔۔۔۔ ن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نو۔۔۔۔۔۔ نور کا۔۔۔۔۔۔۔۔
نور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فون ۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سب ہی کو جھٹکا لگا تھا آخر رباب نے بات ہی ایسی کی تھی
سب منہ کھولے رباب کی بات غور سے سن رہے تھے جو نور نے رباب کو سرسری سا بتایا تھا میزی کی حالت اور ہاسپٹل جانے کے بارے میں پھر سب ہی گھر کی تمام عورتوں سمیت ہاسپٹل کی طرف دوڑے تھے


جیسے ہی تھکے ہارے سالار نے ڈور کھولا تو سامنے پڑتی نظر نے اسے شاکڈ کردیا تھا
عین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عین۔کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کہاں ہے میری عین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیننننننن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
کچھ پل تک تو سالار ایسے ہی اٹھ ہوئے رنگ کے ساتھ کھڑا رہا پھر بھاگ کر بیڈ کے پاس آیا اور پھر پورا کمرہ چیک کرنے کے بعد وہ پورے گھر میں پاگلوں کی طرح دوڑے جارہا تھا
اسے خدشہ تھا کہ کہیں سہیل خان نے تو نہیں ۔
اگر اسکے پیچھے تم ہوئے نہ سہیل خان تو اس بار میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے مار دوں گا
اسکی دھاڑ کی آواز پر کچھ ملازم دوڑتے ہوئے اسکے پاس آئے تھے
بتاؤ کہاں ہیں میری عین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے ایک ملازم کا گریبان پکڑ کر اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا
صاحب ۔۔۔۔۔۔ وہ ہمیں لگا کہ وہ۔۔۔۔۔۔۔بھ۔۔۔۔ بھوت
ہیں تو اس لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
کیا کہا تم نے ۔۔۔۔۔۔ میری عین بھوت۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سالار نے نا سمجھی سے سرد آواز میں اسے گھور کے پوچھا
ووووو۔۔۔۔۔۔۔ صاحب ۔۔۔۔۔۔ ووہ۔۔۔۔۔۔ بی بی جی کسی زخمی لڑکی کو لے کر ہاسپٹل گئی ہیں گارڈز کے ساتھ۔۔۔۔۔۔
ملازم نے ہکلاتے ہوئے اسے سب بتایا کہ کیا ہوا اور عین کہاں گئی
سالار نے اسے ایک جھٹکے سے دور پھینکا اور گارڈز کو کال کی جس پر پہلے تو سالار نے انکی کلاس لی کہ اسے کیوں نہیں انفارم کیا پھر ہاسپٹل کا نام پوچھ کر فون بند کرکے گاڑی کی طرف بھاگا
میزی کو تم کیوں لے کر گئی عین اسکی سزا تمہیں ضرور ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے تمہیں مجھ سے چھیننے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔۔ سالار کی عین کو۔۔۔۔۔۔۔سالار شجاعت کی خوشیوں کو چھیننا چاہا تھا
سالار غصے سے آگ بگولا ہوئے انتہائی فاسٹ سپیڈ پر گاڑی ہاسپٹل کی طرف دوڑا رہا تھا
سالار کو عین کے خود چل کر جانے کی اتنی حیرانگی نہیں ہوئی تھی کیونکہ آج صبح ہی سالار کو پتہ چل گیا تھا کہ عین کو ہوش آچکا ہے اور وہ اب صرف ایکٹنگ کر رہی ہے
جب عین سالار کے واشروم جانے کے بعد اٹھ کر بیٹھی تھی تب چادر اسکے سینے تک ڈالی ہوئی تھی مگر جب سالار واشروم سے نکلا تھا تب جلدی میں چادر جو بیٹھنے کی وجہ سے پیٹ تک آگئی تھی وہ ٹھیک نہیں کرسکی اور یہی چیز تھی جو سالار نے خاص نوٹ کی تھی اور وہ دل سے بے انتہا خوش بھی ہوا تھا کہ اسکی عین کو ٹھیک ہو گئی ہے اور ڈرامے کر رہی ہے
سالار نے بھی پھر اپنے دماغ میں پلین تیار کرلیا تھا کہ وہ عین کو رات میں اتنا مجبور کر دے گا کہ وہ خود اٹھ کر بیٹھے گی اور پھر وہ اسے اپنے انداز میں بوکھلا کر رکھ دے گا
مگر یہاں تو عین نے سالار کے سارے ارمانوں پر ہی پانی پھیر دیا تھا
سالار اب عین پر بے انتہا غصے تھا کہ وہ بنا اس سے ملے گئی اور وہ بھی میزی کو چھڑوا کر لے گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب سالار کا سارا غصہ عین کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سب لوگ جیسے ہی ہاسپٹل پہنچنے تو نور کو اپنے سامنے زندہ سہی سلامت پاکر تو مانو انکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا
شمائلہ بیگم تو اپنے جگر کے گوشے کو بار بار چوم رہی تھیں اور اپنی آنکھوں کی پیاس بھی آرہی تھیں باقی سب کا بھی یہی حال تھا مگر اب وہ سب غصے میں تھے کیونکہ رباب نے برہان کو بھی فون کر کے ہاسپٹل بلا لیا تھا اور جب برہان وہاں پہنچا تھا تو اصل صورتحال کا اندازہ ہونے پہ اس نے کلمہ شہادت پہلے سے ہی پڑھ لیا تھا پھر کیا تھا برہان صاحب اب کٹہرے میں کھڑے انکے تمام سوالوں کے جواب دے رہا تھا تمام کتھا سننے کے بعد تو ان سب کا غصے سے برا حال تھا اور تو اور سالار سے تو وہ اس طرح کی امید کرسکتے مگر تم تم سے ہمیں ایسی امید بلکل بھی نہیں تھی
برہان سر جھکائے ان سب کی ڈانٹ سن رہا تھا
سالار کہاں ہے بلاؤ کوئی اسے۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان کے کہنے پر برہان نے فون ملایا مگر دوسری طرف کوئی رسپونس نہیں
اوہ تو طوفان خود آرہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان سمجھ گیا تھا کہ وہ یہی آرہا ہے یقیننا”اس کی عین گھر سے اٹھ کر کہیں چلی جائے اور وہ لاعلم رہ جائے ایسا ہو نہیں سکتا تھا
یا اللہ اب سب خیر ہو بس ۔۔۔۔۔۔۔


سالار ایک جھٹکے سے بریک لگاتا گاڑی سے اترا اور ریسیپشن سے پتہ کرتا تیز تیز قدم اٹھاتا اسی طرف چل دیا
نور تب سے بڑی اکڑ کے بیٹھی ہوئی تھی مگر جب سالار سامنے سے آتا ہوا دکھا تو اسکی ساری طراری ایک پل میں ہوا ہوگئی
سالار سرد تاثر لئے بنا کسی کو دیکھے دلیری سے آگے بڑھ رہا تھا
نور تو اس کے انداز دیکھ کر ہی ڈر گئی تھی
سالار سیدھا عین کے پاس آیا
اور اسکا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے اٹھایا
چلو گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
یہ کہہ کر سالار اسے لئے آگے بڑھنے لگا کہ دادا جان نے اسے آج پہلی بار غصے سے روکا تھا
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے انکی غصیلی آواز پر اپنے قدم روکے ضرور تھے مگر پلٹا نہیں تھا
نور کا ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہنے کے ساتھ ہی اسکے ہاتھ سے دادا جان نے نور کا ہاتھ الگ کیا تھا
سالار کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے حیرانی آئی تھی کہ جس شخص نے اسکی سانسیں اسے تھمائیں تھیں آج وہی انسان اس سے اسکی عین کا ہاتھ چھڑوا رہا تھا
تم اسے نہیں لے کر جا سکتے ۔۔۔۔۔
دکھ تو دادا جان کو بھی ہوا تھا مگر سالار نے اس بار کیا ہی ایسا تھا کہ وہ اب چپ تو بلکل بھی نہیں رہ سکتے تھے
تم جانتے ہو سالار تم نے کیا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اتنا بڑا جھوٹ بولا تم نے ہم سب سے ۔۔۔۔ کہ نور ۔۔۔
آگے کے الفاظ وہ نہیں بول پائے
جانتے ہو کتنا تڑپا ہوں میں اسکے لئے مگر تم۔۔۔۔ تم نے تو ہمیں توڑ دیا سالار ۔۔۔۔
بہت تکلیف دی ہے تم نے ہم سب کو ۔۔۔۔۔۔
دادا جان غم سے چور تھکے تھکے سے بولے
ابو جان نور ہمارے ساتھ جائے گی میں نے تو اسے ابھی جی بھر کر دیکھا بھی نہیں ہے
سالار تب سے اب تک خاموش کھڑا تھا مگر انکی عین کو روکنے کی بات پر اس نے سرد نظریں انکی طرف موڑیں
پھر عین کو دیکھا
تم رکنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
غراتی سرگوشی میں سالار نے عین کے کان میں تقریبا”منہ گھسا کر بولا تھا
عین تو اسکی حرکت پر فورا” سے پیچھے ہوئی تھی اور اپنا ہاتھ چھڑوا تے ہوئے بولی تھی
ہاں ۔۔۔۔۔ مم۔۔۔۔۔ میں رکوں گی امی کے پاس ۔۔۔۔
ڈرتے ڈرتے اس نے ہمت کرکے بول ہی دیا تھا مگر اسے اپنی غلطی کا احساس تب ہوا جب سالار ایک سیکنڈ بھی رکے بنا کچھ بولے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا
عین کی آنکھ میں آنسو جھلملائے تھے اسے جاتے ہوئے دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نور بیٹا کیا کر رہی ہو یہاں کھڑے ہو کر چلو نیچے دونوں بچیاں جب سے تمہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر بے حال ہو گئی ہیں
نور کھڑکی کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے خیالوں میں گم تھی کہ شمائلہ بیگم نے اسے پیار سے کہا
نور کو یہاں آئے ایک مہینہ ہو چلا تھا مگر سالار تھا کہ جب سے گیا تھا تب سے واپس نہیں آیا تھا برہان سے اسے پتہ چلا تھا کہ وہ لندن چلا گیا ہے
ضرور اس چڑیل کے پاس ہی گئے ہوں گے جس سے دوسری شادی کر رہے تھے
بے ساختہ اسکے آنسو بہے تھے جو اس نے بے دردی سے رگڑے تھے اور زخمی مسکراہٹ سجائے نیچے چلی آئی تھی جہاں سب اسکا انتظار کر رہے تھے اور خاص کر کے تانیہ اور ماہ نور جو کہ اب اسکی جان بن گئی تھیں وہ تھیں ہی اتنی پیاری کہ دل کرتا بس ان سے باتیں ہی کرتا جائے ۔۔۔۔۔۔
ان دونوں کے بارے میں سوچ کر عین کے لبوں پر خوبصورت سی مسکان آئی تھی
برہان وقتا” فوقتا” سالار سے کونٹیکٹ میں تھا جس میں وہ صرف سہیل خان سے ریلیٹڈ ہی بات کرتا اور کسی بارے میں نہیں لیکن جب برہان نے اسے یہ خبر سنائی کہ سہیل خان اور ماہ وش پکڑے گئے ہیں اور انہیں پھانسی کی سزا سنا دی گئی ہے تو اس کے بعد تو سالار نے اس سے بھی اپنا رابطہ منقطع کر دیا تھا
میزی کا ہاسپٹل میں علاج چل رہا تھا وہ دماغی طور پر بہت اپسیٹ ہوچکی تھی
دن یونہی گزرتے جارہے تھے مگر آکر کوئی رکا ہوا تھا تو وہ عین تھی جو سالار بے رخی برداشت نہیں کر پارہی رہی تھی
اسے رہ رہ کر رونا آرہا تھا کہ کیوں اس نے رکنے کا کہا تھا مگر پھر دوسرے ہی پل ڈھیٹ بن جاتی کہ اچھا ہی ہوا کم سے کم میرے سامنے تو وہ اپنی اس سو کالڈ دوسری بیوی سے رومانس جھاڑ کر مجھے جلا تو نہیں پائیں گے
نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف سالار ابھی تک عین پر غصے تھا اور اوپر سے عین نے جو ہاسپٹل میں کیا تھا تب تو اسے اور ہی آگ لگی تھی
اب نہ جانے یہ لاواہ کب اور کیسے پھٹنا تھا
مگر سالار اچھی طرح سوچ چکا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔!!