Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 13 Part 2
Rate this Novel
Episode 13 Part 2
واہ مان گئے سہیل خان تمہیں اب تو سالار شجاعت کتنے ہی کیوں نہ ہاتھ پاؤں مار لے اب تو وہ ہم سے جیت ہی نہیں پائے گا
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں نہیں آخر اسکا پالا سہیل خان سے جو پڑا ہے کل کا آیا ہوا
منہ مجھ سے مقابلہ کرے گا۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے۔۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی وسکی کے دو سپ لئے
ویسے ہے وہ بلکل اپنے باپ جیسا۔۔
ایاز رندھاوا جو کہ اسکا دوست اور بزنس پارٹنر بھی تھا ستائش
بھرے لہجے میں وسکی کا گلاس اٹھا تے ہوئے بولا
یہ دونوں اس وقت سڈنی کے نائیٹ کلب میں انجوائیمنٹ کے لئے آئے تھے
نہیں باپ جیسا نہیں اسکے باپ میں تو اتنی ہمت نہیں تھی یہ تو اس سے بھی زیادہ تیز اور چالاک بندہ ہے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب کیا کر جائے
ان جانے میں ہی یہ دونوں اپنے دشمن کی تعریف کر رہے تھے
اسکا باپ تو بیوقوف تھا۔۔۔۔۔۔ گالی۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے گیم میں پھنس گیا
اور اپنا قیمتی نقصان کروا بیٹھا لیکن یہ تو بلکل ٹیڑھی کھیر ہے
ایاز رندھاوا نے جل کر کہا
مشکل سہی پر نا ممکن نہیں۔۔۔۔۔ سہیل خان کے لئے کچھ بھی نا ممکن نہیں
سہیل خان نشے میں چور وسکی کا گلاس غٹاغٹ چڑہاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔
یار کیا اب سارا نشہ اسی سے چڑھائے گا یا کوئ حسین انتظام بھی کیا ہے یا نہیں۔۔۔۔ ایاز رندھاوا دائیں آنکھ دباتے ہوئے کمینگی
سے بولا
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمینہ سالا چل تجھے بھی عیش کروا ہی دوں نیا مال ایا ہے بلکل ان ٹچ ۔۔۔ آ تجھے بھی شرف دلا ہی دوں
دونوں بھدے انداز میں قہقہہ مارنے لگے اور ایک دوسرے کے پیچھے چل دیے
ایک خوبصورت گھر کے ٹیرس پہ اس وقت روشنیوں کا راج تھا
جو رات کے اس کالی اندھیر نگری میں جگ مگ کر رہی تھیں
ٹیرس کو بہت اچھی طرح ڈیکوریٹ کیا گیا تھا ہر طرف مرد اور
خواتین اپنی اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھے حسین سے حسین چہرے ایک طرف سے دوسری طرف اڑتے پھر رہے تھے ہر
کسی نے نا مناسب لباس زیب تن کر رکھا تھا جو کہ انکے جسم کو چھپا نے کی بجائے اور عیاں کر رہے تھے
یہ مسٹر سہیل خان کی چہیتی بیوی کی آرگنائز کی گئی پارٹی تھی جو وہ مہینے میں کم از کم پانچ سے چھ مرتبہ ضرور آرگنائز کرتی تھیں
نہایت ہی بے ہودہ قسم کی تنگ میکسی پہنے ہونٹوں پر لال رنگ کی لپ اسٹک لگائے گولڈن بالوں کو جوڑے میں مقید کئے اپنے
مہمانوں سے گفتگو میں بزی تھی
ہائے بے بی تم آج بھی نہیں بدلی۔۔۔۔۔۔ آج بھی اسی طرح حسین ہو جیسے جوانی میں ہم سب پر قہر ڈھاتی تھی اور جسے سہیل کابچہ اڑا لے گیا اور ہم ہاتھ مسلتے رہ گئے
زاؤ نے اپنی مقامی زبان میں بولتے ہوئے مسز سہیل کو سر سے پیر تک گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنا دکھ بیاں کیا
اسکی بات پر اس نے بے ساختہ قہقہ لگایا
اور نہیں تو کیا میں کسی ایرے غیرے کی نصیب کہاں بن سکتی تھی جو میرے لائق تھا وہ ہی کامیاب ہوا اپنی کوشش میں۔۔۔۔
اس نے غرور سے پر لہجے میں اسے اسکے منہ پہ ہی بے عزت کر دیا
زاؤ غصے سے لب بھینچ گیا شراب لینے کا بہانہ کرکے وہاں چلا گیا
اسکے جاتے ہی اس نے منہ بنا کر ہنکارہ بھرا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑا آیا دو ٹکے کا زاؤ اور ساتھ ہی اسکی دوستوں نے اس سمیت
قہقہ لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کھڑے زاؤ نے اسے خون چھلکاتی نظروں سے دیکھا تھا
ہونہہ بڑا زعم ہے نہ تمہیں ماہ ہوش سہیل خان اپنے حسن و دولت پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کوئی بات نہیں کبھی نہ کبھی تمہارا یہی حسن دولت تمہیں لے ڈوبے گا اور یہ تماشہ دیکھنے میں سب سے پہلے موجود ہوں گا
زاؤ زور سے گلاس میز پہ پٹختے اسے خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا
سالار اس وقت ائیر پورٹ سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا اسکے ساتھ اسکا پرسنل سیکریٹری کریم تھا
خبر پکی ہے نہ کریم۔۔۔۔؟؟؟؟؟
جی سر بلکل پکی خبر ہے ۔۔۔۔۔,,!!
ٹھیک ہے تو چلو چل کر دھماکے کی تیاری کرتے ہی آخر اتنے سالوں بعد جو دیدار ہوگا
سالار کے چہرے پہ عجیب مسکراہٹ کا بسیرا تھا
تو وہ دن آہی گیا جس کا مجھے بے صبری سے انتظار تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔My Dear۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ آنکھوں میں جلا دینے والی چمک ابھری جو کالی گاگلز کے پیچھے پوشیدہ تھی
یہ کیا بات ہوئی کل تو مجنوں عاشق دیوانے پاگل اور نہ جانے کیا کیا بنے ہوئے تھے اور آج صبح ہی صبح بھاگ گئے
حالانکہ تم نے تو ان دلہنوں کی طرح میک اپ بھی نہیں کیا تھا
جن کے اتر نے کے بعد چیخیں مارنے کو دل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ہمیشہ کی طرح یہ چاروں نور کے کمرے میں بیٹھے آجکل کے حالات پر گفت و شنید کر رہے تھے جبکہ اظفر ہمیشہ کی طرح
کھانے میں بزی۔۔۔۔۔۔
اس لئے وہ یہاں موجود نہیں تھا اگر ہوتا بھی تو کیا فائدہ یہاں بھی اس نے بس کھانا کھانا اور کھانا ہی ہوتا تھا
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکل صحیح کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ تو تمہاری بار ایسا ہوگا نہ ایسا تم فل میک اپ کئے وہ
والی لپ اسٹک لگا کر جو چڑیلیں بننے کے لئے اکثر Hollywood
فلموں میں لگاتی ہیں اور ظاہر ایسے کرتی ہیں کہ کسی کا خون
چوس کر آرہی ہوں
جب تمہارا شوہر تمہیں صبح تمہاری اصلی حالت میں دیکھے گا
تو وہی اسکا دل stopہوجانا ہے کہتے ساتھ ہی برہان نے ہنسنہ شروع کر دیا
نور اور مشاء منہ چھپا کر اپنی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھیں
کیااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔ کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
پہلے تو رباب نے زوردار چیخ مار کر پر زور احتجاج کیا جس پر سب نے اپنے اپنے کانوں میں انگلیاں دے ڈالیں
پھر خطرناک تیور لئے اٹھتے ہوئے چبا چبا کر برہان کو دیکھتے ہوئے کہا
میں خون پینے والی چڑیل کی طرح لگتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نن۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں تھوڑی نہ کہا ہے وہ تو میں نے Hollywood کی جوانی میں چھپی ہوئیں بڈھی ہیروئنوں کو کہا ہے
تم تو اتنی حسین ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنننننننننی حسین ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے برہان کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے جبکہ رباب سر ہلاتے ہوئے اپنی آستینیں چڑھاتی لڑاکا عورتوں کی طرح اسکی طرف بڑھ رہی تھی
مشاء اور نور تو گھر میں ہی لائیو WWE دیکھنے کے لئے بے تاب ہو رہیں تھیں
دوسری طرف برہان رباب سے بچنے کے لئے تدبیریں سوچ رہا تھا
آخر مکھیوں کے چھتے میں جو ہاتھ دے مارا تھا
اب اسے اپنی شامت صاف صاف نظر آرہی تھی
نہیں نہیں میں تو خون پینے والی چڑیل ہوں نہ تو اب میں تمہیں چڑیل بن کے رہوگی اور کیوں نہ اپنا پہلا شکار تمہیں
ہی بنا کر اپنے کام کی شروعات کروں جو مجھ جیسی
چڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یلیں کرتی ہیں آنکھیں پٹپٹا کر معصومیت سے دانت پیستے ہوئے کہا
برہان تو اپنے لئے انا لللہ و انا پڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی رباب برہان کے پاس آئی برہان دو تین جستوں میں ہی روم سے بھاگ گیا
اسکے پیچھے رباب بھی بھاگی آخر بدلہ بھی تو لینا تھا نہ۔۔۔۔۔.
آج نہیں چھوڑوں گی تمہیں ۔۔۔۔۔۔ آج تو تم زندہ بچ کر دکھا دو میرے ہاتھوں سے نکمے انسان تمہارا سارا خون نہ پیا تو میرا نام رباب اکبر مرزا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان آگے آگے رباب پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے
ہائے اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتھے پھنسا دتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں رباب میری پیاری کزن دیکھو تم غصہ مت کرو ورنہ تمہارے حسین دودھ ملائی جیسے چہرے پہ جھریاں پڑ جائیں گی۔۔۔۔۔
برہان نے اسے جیسے ڈرانا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے تمہیں کسی نے بتایا نہیں برہان چڑیلیں جب انسانوں کا خون پیتی ہیں نہ تو اور جوان اور حسین ہو جاتی ہیں بڈھی نہیں اب میں تمہارا خون پیوں گی اور زیادہ حسین ہو جاؤں گی
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے شکار۔۔۔۔۔!!
رباب فل فارم میں آچکی تھی اسے برہان کو ستانے میں پورا پورا
لطف آرہا تھا
برہان اس سے بچتے بچاتے باہر گارڈن میں نکل گیا
باہر بہت اندھیرا تھا جس کا فائدہ اٹھا تے ہوئے برہان پودے کے پیچھے جاکے چھپ گیا
رباب جب باہر آئی تو اسے برہان کہیں نظر نہیں آیا
اسے بہت مزا بھی آرہا تھا
واہ کیا سین بنا دیا میں نے یہ تو بلکل horror فلموں کی طرح لگ رہا ہے اب اسے اور نیچرل بناتی ہوں رباب ایکٹنگ کی دلدادہ
کریکٹر میں گھس گئی اور چڑیلوں کی طرح حلیہ بنا نے لگی
چپل اس نے وہی اتار دی بال کھول کر ہاتھ سے بے ترتیب کرکے
اپنے چہرے پہ گرالئے عینک بھی وہ اتار چکی تھی آدھا دوپٹہ زمین پہ لٹکا کر پاؤں ٹیڑھا کرکے اور آنکھیں ڈراؤنی بناتے ہوئے
اپنی آواز کو خوف کا رنگ دے کر برہان کو پکار نے لگی
بر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آجاؤنہ۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو میں کتنے سالوں سے تمہارا انتظار کرتے ہوئے بھٹک رہی تھی
لیکن اب میرا انتظار ختم ہو چکا ہے میں کب سے تمہارے خون کی پیاسی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برہان۔۔۔۔۔۔
میری برسوں پرانی ہی اس کو مٹانے آجاؤ۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔آؤ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ برہان۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اسکی اس طرح کے حلیے اور آواز کو دیکھ کر برہان سچ مچ ڈر گیا
کہیں سچی میں تو اس پر کسی چڑیل کا سایہ تو نہیں پڑگیا
ہے بھی تو کھلے بالوں کے ساتھ ننھے سر وہ بھی اس وقت رات کو۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تو میں نہیں بچوں گا یہ چڑیل تو میری ہڈیاں تک چبا جائے گی
برہان خوف سے بڑبڑایا
رباب جو بنا نیچے دیکھے چل رہی تھی پاؤں کے نیچے پتھر اڑا تو
یہ گئی سیدھے برہان کے اوپر اور ساتھ ہی ماری زوردار چیخ
آاااااااہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان کیوں پیچھے رہتا اسکے ساتھ ساتھ اسکا بھی ڈھول پھٹا
آااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکبر مرزا جو لائبریری سے نکل رہے تھے کسی کے چلا نے کی آواز پر ٹھٹک کر رک گئے لائبریری کے پیچھے ہی گارڈن تھا جس سے آواز صاف سنائی دیتی تھی فورا” بھاگ کر گارڈن میں آگئے
کون ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
گرجدار آواز میں پوچھا
میں کہہ رہا ہوں کون ہے یہاں۔۔۔۔۔
برہان سے پہلے رباب کو ہی ہوش آیا فورا”سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا اور اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا بولا
جبکہ برہان تو اسکی اتنی قربت پر سانس روکے آنکھیں پھاڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا
مگر رباب میڈم پہ تو جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہوا
لیکن برہان بچارے کی تو حالت ہی پتلی ہوچکی تھی اور اوپر سے اکبر چچا کی آواز سن کے تو اسکے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے
اسے تو یہ سوچ کر ہی وحشت ہو رہی تھی کہ اگر چچا نے دیکھ لیا تو کیا ہوگا کیا سوچے گے وہ میرے بارے میں اور اس میڈم کو تو دیکھو کیسے میرے اوپر لیٹی ہوئی ہے جیسے اپنے بستر پر لیٹی ہو
لڑکا ہو کر میری جان منہ کو آرہی ہے اور یہ لڑکی ہو کر بلکل اپنے حواسوں میں ہے
کس قسم کی بے شرم لڑکی اللہ تعالہ آپ نے پیدا کر دی اب میرا کیا ہوگا ان فیوچر مجھے تو لگ رہا ہے کہ شرمیلی وائف کا رول
مجھے ہی نبھانا پڑے گا یہ سوچتے ہی اس نے بے ساختہ جھر جھری لی۔۔۔۔۔
رباب نے اسے گھور کے دیکھا کیا کر رہے ہو آرام سے نہیں رہ سکتے۔۔۔۔
برہان کو تو غصہ ہی چڑھ گیا فورا”سے اسکا ہاتھ ہٹا کر گھور کے
ہلکی آواز میں بولا
شٹ اپ بے شرم لڑکی اپنے بستر پر نہیں ہو تم میرے اوپر ہو
تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔۔۔ برہان نے اسے گھرکا اور حیرانی سے پوچھا
نہیں بلکل نہیں میری چھمو۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباب نے شرارتوں سے اسکی ناک دباتے ہوئے کہا اور بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی۔۔۔۔
اسے برہان کی آج ہوئی ہوائیاں دیکھ کر گلا پھاڑ پھاڑ کے قہقہے مارنے کا دل کر رہا تھا مگر اپنے باپ کے ہاتھوں کٹ پڑنے کے ڈر سے خاموش رہنا پڑا۔۔۔۔
ہائے برہان دیکھو نہ کتنی رومینٹک فلموں والی سیچوئشن بن گئی ہے ہیرو ہیروئن چھپ کر باغ میں ملنے آتے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے لڑکی کے خاندان والے بھی آجاتے ہیں اور دونوں پکڑے جانے کی ڈر سے چھپتے ہیں اور اسی چکر میں گر جاتے ہیں اور پھر اچانک سے چاروں طرف ہوئیں چلنے لگتی ہیں
مدھم مدھم رومینٹک میوزک چلنے لگ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔۔۔ہے نہ
برہان۔۔۔۔۔؟؟؟
رباب اسے مزید تنگ کرتے ہوئے لہک لہک کر کہا
برہان منہ کھولے حیرت کی تصویر بنا اسے گھورے جا رہا تھا
تمہیں زرا بھی ڈر نہیں لگ رہا کہ میں کہیں تمہارے ساتھ کچھ ایسا ویسا نہ کردوں۔۔۔۔۔؟؟
برہان نے کچھ سوچتے ہوئے اس سے پوچھا
رباب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں کہیں سے بھی کسی قسم کی شیطانیت نظر نہیں آرہی تھی وہاں تو صرف عزت ہی عزت تھی رباب کے لئے۔۔۔۔۔۔۔
نہیں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میرے برہان میں ایسی کوئی گری ہوئی حرکت کرنے کی خواہش تک نہیں ہے گم تو میری بہت عزت کرتے ہو۔۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا کبھی کر تو کیا سوچ بھی نہیں سکتے یہاں تک کہ مزاج میں بھی تم ایسا کبھی نہیں کروگے جسے میں کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔
تم تو میرے محافظ ہو برہان میری عزت کے لٹیرے نہیں۔۔۔۔۔!
میں تو تم پہ آنکھ بند کر کے یقین رکھتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ تم برہان ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے برہان ۔۔۔۔۔ صرف میرے برہان۔۔۔۔۔۔
رباب اکبر مرزا کے شریف برہان۔۔۔۔۔۔۔۔
گردن اکڑا کر کہا گیا
یہ سب وہ دل میں ہی بولی منہ سے بول کر خان جو گھٹتی تھی
برہان نے جب اسے اپنے ہی خیالوں میں گم پایا تو جھٹکے سے اتارا اور خود کھڑا ہوگیا کیونکہ وہ اکبر چچا کو کچھ نہیں ملنے پر واپس جاتے ہوئے دیکھ چکا تھا
او۔۔۔۔۔۔۔ دو پیسوں کی ایکٹنگ کرنے ولی دو نمبر کی تین چوتھائی ایکٹریس اٹھ جائیے آپ کے والد محترم اب جا کے
ہیں اس سے پہلے کہ اب کی بار وہ بندوق کے ساتھ تشریف آوری
فرمائیں نکل لو یہاں سے ورنہ انڈین فلموں کی طرح غیرت کی
بھینٹ چڑھ جائیں گے
برہان تو کہہ کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ رباب چت لیٹ کر آسمان کو دیکھنے لگی اور آسمان میں برہان کی تصویر دیکھ کر ہنسنے لگی پاگلوں کی طرح۔۔۔۔
میری چھمک چھلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. چھمو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔!!
جاری۔۔۔۔۔۔۔
