Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 31
Rate this Novel
Episode 31
نور تجسس بھری آنکھوں سے سالار کے ہاتھوں کو دیکھ رہی جس میں قید اسکے نازک ہاتھ اسکی آنکھوں پر رکھے وہ سکون سے لیٹا ہوا تھا
پھر۔۔۔۔۔
تم نے اپنے چھوٹے چھوٹے نرم ہاتھوں سے میرے آنسو پوچھے۔۔۔۔۔ پھر بڑے مزے سے میرے سینے پر رکھ کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔
ہائے نور تم اتنی بے شرم تھی
پھر میں نے بھی تمہارے چھوٹے سے سر پر اپنا سر رکھ دیا
تم بڑے آرام سے بیٹھی ہوئی تھی مجھے حیرانگی ہو رہی تھی کہ تم پہلی بار میرے پاس آئی تھی اور ایسے بی ہیو کر رہی تھی کہ جیسے
کب سے میرے پاس آتی رہی ہو۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نور نے بے چینی سے پوچھا کہ اب آگے کیا ہوا ہوگا
پھر ۔۔۔۔۔۔ پھر میں تم سے اپنی دل کی تمام باتیں بتا نے لگا ۔۔۔۔۔ تم ٹکر مجھے گھور رہی تھی
میں نے تم سے پوچھا کہ میں اب کیا کروں انکے ساتھ جو مجھے چین سے جینے نہیں دیتے
کیا میں انکا جینا حرام کر دوں ۔۔۔۔ ان کو سزا دوں جیسے وہ مجھے سزا دیتے ہیں۔۔۔۔۔؟
تو پھر میں نے کیا کہا ۔۔۔۔؟؟
تیزی سے پوچھا اس نے سالار سے۔۔۔۔
تم پہلے تو مجھے دیکھتی رہی پھر غصے والا منہ بنا کر میرے گلے پر اپنے ہاتھ مارنے لگی۔۔
میں نے پوچھا کیا مطلب ۔۔۔۔؟؟؟
کیا میں انہیں ماروں۔۔۔۔؟؟؟
میں نے پھر سے تم سے پوچھا
تم نے زور زور سے سر ہاں میں ہلایا اور اپنے دو دانت باہر نکال کر ہنسنے لگ پڑی۔۔۔۔
نور نے خفت سے سرخ چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔
اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا کچھ عرصے تک ہم روز وہی ملتے میں تم سے اپنی ہر بات شئیر کرتا اور تم مجھے ٹکر ٹکر دیکھتے ہوئے سنتی اور میرے سوالوں کے جواب بھی دیتی تھی
سالار نے بات ختم کرتے ساتھ ہی اٹھ کر بیٹھا اور نور کی طرف دیکھا جو کچھ شرمندگی اور کچھ شرم سے
لال ہوئی رخ موڑے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
سالار نے اسے اپنے اوپر بیتے ظلم زیادہ کھول کر نہیں بتائی تھی وہ جانتا تھا کہ عین بہت نازک دل کی مالک ہے وہ برداشت نہیں کر ہائے گی
سالار نے نور کا چہرہ اپنی طرف کیا
نور کی نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھیں
سوئیمنگ کرو گی میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا۔۔۔۔۔؟؟؟….. سچ میں ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔ آپ مجھے سوئیمنگ کرنے دیں گے ۔۔۔۔۔؟؟؟
سالار کے بولنے کی دیر تھی کہ نور نے جھٹ سے پرجوش لہجے میں جیسے یقین کرنا چاہا کی آیا سالار نے اسے سوئیمنگ کا ہی کہا ہے نہ۔۔۔۔
نور کے بچپن سے خواہش تھی وہ پانی کے اندر جائے اس کے اندر جاکر اڑ سکے (نور کی عجیب خواہش)
ہاں۔۔۔ بلکل ضرور اگر تم چاہو تو ابھی یہاں پر ہی سوئیمنگ کر سکتے ہیں ہم ۔۔۔۔۔
سچی ۔۔۔۔۔۔ ہاں نہ میں ضرور کرو گی سوئیمنگ۔۔پر ۔۔۔۔۔ پر مجھے سوئیمنگ کرنی نہیں آتی ۔۔۔۔
نور نے پرجوش ہوکر ہاں کہا ہر جیسے اسے یاد آیا کہ اسے تو تیرنا ہی نہیں آتا تو منہ بسور کر منع بھی کردیا۔۔۔
سالار کچھ دیر پہلے کی کیفیت سے نکلنا چاہتا تھا یہ سچ تھا کہ اس نے نور سے ساری باتیں شئیر کرکے سکون محسوس تو کیا ہی تھا مگر کچھ بری اور تلخ درد بھری یادیں بھی یاد آئیں تھیں ساتھ ۔۔۔۔ اس لئے وہ ان سے نکلنا چاہتا تھا اور اپنی عین کے ساتھ خوبصورت لمحے بتانا چاہتا تھا۔۔۔۔
نور کے منہ بسور نے پر سالار کو اس پر بے انتہا پیار آیا تھا اور پھر اپنا پیار اسکے ماتھے پر بوسا دے کر ظاہر بھی کیا تھا
نور اسکی حرکت پر سر جھکا گئی تھی
تم اسکی فکر مت کرو عین۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔ میں ہوں نہ تو پھر تم آج ہی سوئیمنگ کرو گی وہ بھی میرے ساتھ ڈیپ واٹر ۔۔۔۔۔
نور یہ سن کر پھر سے کھل گئی تھی اور سالار کے کھنچنے پر جلدی سے اٹھتی ہوئی اسکے ساتھ چلی ۔۔۔۔ سالار نے اسے فل سوئیمنگ سوٹ
پہنایا اور اور ساتھ ہی آکسیجن ماکس بھی پہنادیا۔۔۔۔۔
پھر دونوں سیڑھیوں سے اوپر آئے اور اوپری سطح پر کھڑے ہوگئے
عین تم ڈرنا مت اوکے ۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں
تم بس مجھے سختی سے پکڑ کر رکھنا اور جو جو میں نے انسٹرکشنز دی ہیں انہیں سختی سے فالو کرنا ۔۔۔۔ہمممم۔۔۔۔ اوکے نہ ۔۔۔۔۔ جنم۔۔۔۔
ہم۔ہم۔۔۔۔۔۔۔ منہ ہر ماسک کی وجہ سے عین صرف ہم۔۔۔۔۔ کی پرجوش آواز نکالی ۔۔۔۔
چلو پھر ۔۔۔۔ شروع کرتے ہیں۔۔۔۔۔
پھر سالار اسے لئے اسکی خوابوں کی دنیا میںے گیا ۔۔۔۔ اسے ایک سیکنڈ کے لئے بھی سالار نے نہیں چھوڑا تھا اسکو کمر سے پکڑے وہ سمندر میں تیر رہا تھا ۔۔۔۔ نور بہت زیادہ خوش تھی رنگ برنگی مچھلیوں کو اپنے قریب انہیں چھوکر محسوس کرتے ہوئے نور جوش سے کانپ رہی تھی جسے سالار بخوبی محسوس کر سکتا تھا
پھر دونوں نے ایسے ہی تھوڑی تھوڑی دیر کے سوقفے سے سوئیمنگ کر رہے تھے
بلاشبہ نور ساری انسٹرکشنز بلکل سہی طور پر فالو کر رہی تھی مگر سالار کو پھر بھی اسکی سیفٹی کے لئے کرنا تھا کیونکہ عین کو کچھ بھی ہوجائے اس کو کہاں گوارا تھی
ادھر سہیل خان اپنی اکلوتی بیٹی کی انگیجمنٹ کی سیریمنی کے لئے ہر طرح سے پیسہ بہا رہا تھاوہ کسی بھی طرح کی کمی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا آخر کو اسکی لاڈلی بیٹی کی جو منگنی تھی ۔۔۔۔۔ میزی بھی پرجوش سی ہر تیاری میں خوشی خوشی حصہ لے رہی تھی
شئیر سالار یہ انگیجمنٹ تمہاری زندگی کی سب سے یاد گار انگیجمنٹ ہوگی جسے تم کبھی بھی نہیں بھلا سکوگے ۔۔۔۔
ہا ہا۔۔۔۔۔
آج کی رات ہونا ہے کیا کھونا ہے کیا ۔۔۔۔۔ پانا ہے کیا۔۔۔۔
ہاہایا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔ ہاں جوان وقت آگیا ہے۔۔۔۔ اب تم جلد از جلد پیرس پہنچو ۔۔۔۔۔ جس وقت کا تم سب نے انتظار کیا تھا وہ دشمن ہمیں خود
دے رہے ہیں ۔۔۔۔ بس اب جلدی اپنے پلین پر عمل کرنے کا وقت آچکا ہے ۔۔۔۔
اور یہ سالار صاحب کہاں ہیں کیا ۔۔۔۔۔ کر کیا رہے ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔ ایک اسے بندہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔ ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں گلہ ہی نہ کاٹ دے ۔۔۔۔۔۔
وہ شخص جلدی جلدی خود سے ہی بات کر رہا تھا اسے دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا کہ وہ کسی اور سے بات کر رہا ہو مگر یہ اسکا اپنا اسٹائل تھا جو وہ ہمیشہ اپنے سامنے ہی ظاہر کرتا تھا ورنہ سب کے سامنے تو وہ سنجیدہ مزاج شخص تھا
ابھی وہ اپنی چئیر سے اٹھا ہی تھا کہ کوئی جلدی سے دروازہ کھول کر اندر آیا
مسٹر xyz چلیں فلائٹ کا ٹائم ہوچکا ہے
سفیان نے آتے ہی اسے یاد دلایا تھا مگر آگے سے اسکی گھورتی سنجیدہ آنکھوں میں دیکھ کر اپنی بے وقوفی پر جی بھر کر غصہ بھی آیا
سوری وہ ایکچلی ۔۔۔۔۔۔۔ جلدی میں ناک کرنا بھول گیا تھا میں ۔۔۔۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔۔۔۔
پھر وہ باہر نکلتے ہوئے تیزی سے گاڑی میں جا بیٹھا اور سفیان کو ساتھ لئے ائرپورٹ کی طرف گاڑی بڑھا دی
نور واپس آکر بہت خوش تھی ۔۔۔۔۔ خوشی تو جیسے اسکے چہرے سے چپک کے رہ گئی تھی
ہائے کتنا مزا آیا نہ آج ۔۔۔۔۔ کتنی پیاری پیاری مچھلیاں تھی نہ وہاں ۔۔۔۔۔اففف۔۔۔ اور اتنی نرم تھی کہ مجھے لگا اگر میں نے زور سے پکڑ لیا تو کہیں وہ ٹوٹ ہی نہ جائیں ۔۔۔۔۔۔ نہیں ٹوٹتی تو چیزیں ہیں ۔۔۔۔ وہ تو جیتی جاگتی جاندار مخلوق ہیں اللہ کی پیاری مخلوق۔۔۔۔۔۔ پر بے چاری ۔۔۔۔۔۔ دیکھیں نہ بول ہی نہیں سکتیں ۔۔۔۔۔۔
سالار بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے نور کی پشت اپنے سینے پہ ٹکائے کب سے اسکی چہکتی آواز میں سوئیمنگ کی پوری روداد سن رہا تھا اور عین کی معصومیت بھری باتوں پہ بہت پیار بھی آرہا تھا
بیچ بیچ میں وہ کبھی اس کے گلابی سفید
رخسار پر بوسے دینے لگ جاتا تو کبھی اسکے بالوں کو ہاتھ میں لپیٹ کر ہلکا سا کھینچتا کہ عین اسکی طرف متوجہ ہو مگر وہ تھی کہ اس پر تو کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا تھا
آپ کو پتہ ہے میں نے سنا ہے کہ انگریزوں کے ملکوں میں وہ سنو لینڈ بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ وہاں لوگ برف میں اچھلتے کودتے ہیں ۔۔۔۔۔ مستیاں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ کتنا مزا آتا ہوگا نہ۔۔۔۔۔
نور مسکراتے ہوئے جوش سے سالار کی طرف دیکھتے ہوئے بولی مقصد یہ تھا کہ وہ اسے وہاں بھی لے کے جائے ۔۔۔۔۔
مگر سالار کا دھیان تو اسی پر الجھا ہوا تھا اسکی باتوں کو وہ سن تو رہا تھا مگر اسکی ساری توجہ اسکے ہلتے لبوں پر تھی
عین ۔۔۔ جنم۔۔۔۔۔۔ ہمیں کل واپس بھی جانا ہے یہاں سے اور اب ہمیں ٹائم بلکل بھی ویسٹ نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ ہمممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے نور کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے کہا
مگر نور تو نور تھی وہ تو اب پھیل ہی گئی تھی
اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ تو سالار کا ہی تھا
نہیں پہلے آپ بتائیں نہ کیا ایسی کوئی جگہ ہے جہاں سارا نقلی نقلی ہو مگر لگ اصلی رہا ہو
تم پہلے جو یہ اصلی کا تمہارا شوہر بیٹھا ہوا ہے
اس پر توجہ دے لو تم پھر باقی بعد میں اصلی نقلی سب دیکھ لیں گے ۔۔۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔ پہلے یہ تو بتائیں کہ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی سالار نے اسکی بولتی بند کر دی تھی ۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
